مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کے صرف ہم ذمہ دار نہیں ،تاخیر کیوں ہوتی ہے، چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثارنے اصل وجہ بتادی،تاخیر ختم کرنے کیلئے بڑے اقدام کا اعلان کردیا

  ہفتہ‬‮ 13 جنوری‬‮ 2018  |  22:04

کراچی(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ججز کی دیانت داری پر کوئی شبہ نہیں کرے بے اعتباری کی فضا ختم ہونی چاہیے۔ ہائیکورٹ 90 روز میں کیسز کے فیصلے کرے۔ ڈسٹرکٹ ججز کو 30 دن میں فیصلہ کرنے کا پابند بنایا گیا۔ یہی قانون سپریم کورٹ کے ججز پر بھی لاگو ہوگا۔ ہمیں قوم کو بتانا ہے کہ انصاف کبھی بک نہیں سکتا۔ ہم نے قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے من مرضی کا نہیں۔انصاف میں تاخیر کی ذمہ داری صرف عدلیہ پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ قانون میں سقم کی وجہ

سے کیسز میں تاخیر ہوتی ہے۔ہفتہ کوکراچی میں جوڈیشل کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ فیصلوں میں تاخیر کے صرف ہم ذمہ دار نہیں، سہولیات ملنے تک تمام تر ذمہ داری ہم پر عائد نہیں کی جاسکتی ، قانون کو اپ گریڈ کیا جائے اس کے بعد اگر ججز کوتاہی کریں گے تو میں ذمہ دارہوں گا۔انہوں نے کہاکہ نے کہا کہ قانون میں سقم کی وجہ سے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ ملک کی پارلیمنٹ سپریم ہے، قانون بنانا اسی کی ذمہ داری ہے۔ نئے قوانین نہ بنے تو ہماری اصلاحات کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔، پارلیمنٹ قانون بنائے، اگر ججز کی کوتاہی ہوئی تو ذمہ داری لوں گا۔ ایک سول جج کے پاس روزانہ 150 کیسز آتے ہیں۔ سول جج کو کیس کی سماعت کے لئے2سے4منٹ ملتے ہیں۔عدالتوں میں وہ سہولتیں دستیاب نہیں جو ہونی چاہئیں۔ سہولتیں ہم نے نہیں سب جانتے ہیں کس نے دینی ہیں۔ عدالتی نظام میں ریفارمز کی ذمہ داری پارلیمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھول جائیں کہ کوئی آپ کو کوئی قانونی تبدیلیاں کرکے دے گا۔ ہمیں خود ہی اس قوم کو فوری اور سستا انصاف دلانے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جج کی غیر جانبداری پر کوئی شک نہیں، اس حوالے سے کوئی معافی نہیں، مجھے اپنے ججز سے توقع ہے کہ سیکھنا، پڑھنا اور اپلائی کرنا ہماری ڈیوٹی میں شامل ہے۔میرا اگر کوئی دوست قانون کو نہیں پڑھتا تو اس میں اسی کی کوتاہی ہے اور اسے کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا میں کسی جج کو عدالت میں طلب نہیں کرسکتا، کیوں کہ آپ پر عدالتی فیصلے لاگو نہیں ہوسکتے۔ اس لئے آپ کو مزید احتیاط کی ضرورت ہے اور لوگوں کو قانون کے مطابق سستا اور فوری انصاف دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنا گھر کو ان آرڈ کرنا ہے، کسی ایک جج کی کوتاہی سارے نظام کے لئے نفرت اور ندامت کا باعث بن جاتی ہے۔چیف جسٹس نے ججز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فیصلوں میں احتیاط کریں اور لوگوں کو باتیں کرنے کا موقع نہ دیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ججز کی دیانت داری پر کوئی شبہ نہیں کرے،بے اعتباری کی فضا ختم ہونی چاہیے،ججز کے پاس ایک مقدمے کے لیے صرف چند منٹ ہوتے ہیں جب کہ لاکھوں کی تعداد میں مقدمات زیر سماعت ہیں پھر بھی میں ججز سے التجا کرتا ہوں کہ مقدمات دوبارہ عدالتوں میں نہیں آنے چاہئیں ان کا جلد از جلد فیصلہ کریں۔چیف جسٹس نے ججز کو حکم دیا کہ جن ججز کے پاس 3 ماہ سے مقدمات زیر التوا ہیں وہ انہیں 30 دن میں نمٹائیں بصورت دیگر کارروائی کریں گے جب کہ بار کونسل بھی ہڑتالوں کا کلچر ختم کریں۔قبل ازیں کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ہم مقننہ نہیں اس لیے ہم قانون سازی نہیں کرسکتے، قانون بنانا اور اصلاحات کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ انصاف میں تاخیر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، لوگوں کو ملک میں سستا انصاف ملنا چاہیے،ہمیں بخوبی اندازہ ہے زیر التوا کیس کے فیصلے کے وسائل نہیں، ہم ایک کوشش کرسکتے ہیں کہ قانونی دائرے اور موجودہ ججز کے ساتھ ہر جگہ قانون کے مطابق جلد کام کریں۔ ماتحت عدالتوں میں مقدمات کے بروقت فیصلے سے اعلی عدلیہ پر بوجھ کم پڑے گا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ دنیا میں لوگ عدالت میں جانے کے ڈر سے مسئلہ خود حل کرتے ہیں لیکن پاکستان میں معاملہ عدالت لے جانے پر لوگ خوش ہوتے ہیں کہ عدالت میں دیکھ لوں گا۔ جلد انصاف کی فراہمی کے لیے مجھے سب سے اچھا کام پنجاب میں نظر آیا ہے، پنجاب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کارلایا گیا ہے اور ماڈل کورٹس بنائی گئی ہیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جیل میں ایک دن گزارنا بھی مشکل ہے اور لوگ برسوں پڑے رہتے ہیں، سپریم کورٹ میں معاملہ آنے پر پتا چلتا ہے وہ بے گناہ ہیں،کسی کومورد الزام نہیں ٹھہرا رہا لیکن بدقسمتی سے فوج داری مقدمات میں تفتیش غیر معیاری ہوتی ہے۔ استغاثہ کی ذمہ داری جدید طریقوں کو استعمال کرنا ہے لیکن کیس میں استغاثہ نہ ہونے کی وجہ سے ملزم آزاد ہوجاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ عدلیہ سے انصاف نہیں ملا۔جسٹس ثاقب نثارنے کہاکہ کئی ایکڑ کی اراضی نمبر دار کی زبان پر منتقل ہوجاتی ہے، کروڑوں روپے کی پراپرٹی کی ملکیت زبانی طور پر بدل دی جاتی ہے۔ ہم کس دورمیں جی رہے ہیں کیا کسی نے سوچا ہے کہ زبانی حساب کتاب کیسے ختم کرنا ہے۔ ایک عام جج صاحب کے پاس 150 مقدمات کی فہرست ہوتی ہے، اس لحاظ سے اسے ہر کیس میں ڈھائی سے 3 منٹ دینے ہوتے ہیں۔ اس میں انہیں سماعت بھی کرنی ہے اور فیصلہ بھی لکھنا ہے یہی وجوہات مقدمے میں تاخیر کا باعث ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں