نواب ثناء اللہ زہری کیخلاف تحریک کامیا ب کروانے ،لیگی حکومت کے خاتمے میں آصف زرداری کا کردار کھل کر سامنے آگیا

  ہفتہ‬‮ 13 جنوری‬‮ 2018  |  19:13

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک ) سابق وزیراعلیٰ چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک کو کامیا ب کر وانے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم کر نے میں پا کستان پیپلز پارٹی کے شریک چےئر مین سابق صدر آصف علی زرداری کا کردار کھل کر سامنے آگیا ،تفصیلا ت کے مطابق ہفتے کو جب بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ختم ہوا اور نو منتخب وزیراعلی میر عبدالقدوس بزنجو وزیر اعلی بلوچستان کی سرکاری گاڑی میں سوار ہو نے کے لئےاسمبلی کی بلڈنگ سے باہر نکلے تو سابق صدر آصف علی زرداری کے انتہائی قریبی ساتھی پیپلز پارٹی کے

مرکزی رہنماء سینیٹر عبدالقیوم سومرو وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے انہیں دیکھ کر صحافیوں سمیت دیگر افراد حیرت میں مبتلا ہوگئے جس کے بعد عبدالقیوم سومرو وزیر اعلی کے ہمراہ روانہ ہوگئے ۔ واضح رہے گزشتہ روز بلوچستان میں سابق وزیر اعلی نواب ثنا ء اللہ زہری کی حکومت گرانے کے حوالے سے سابق صدر آصف علی زرداری نے کردار ادا کر نے کا دعویٰ کیا تھا ،جبکہ وزیراعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے روز بھی عبدالقیوم سومرو کوئٹہ میں موجود تھے اور انہوں نے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں تین روزتک قیا م بھی کیا تھا۔بلوچستان اسمبلی میں نئے قائد ایوان کا انتخاب مکمل میر عبدالقدوس بزنجو وزیراعلی بلوچستان منتخب ہوگئے ،بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی کی زیر صدارت 50منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کے آغا ز پر قصور واقعے میں جاں بحق ہونے والی بچی زینب ،ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغرخان اور کوئٹہ جی پی او چوک بم دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی جبکہ گزشتہ مہینے کوئٹہ میں پیش آنے والے چرچ حملے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ۔اجلاس کی باقاعدہ کارروائی کے آغاز پر سپیکر نے ارکان اسمبلی کو نئے قائد ایوان کو منتخب کرنے کے طریقکار کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پولنگ کے لئے ایوان میں دو الگ الگ ڈویژنز بنائے گئے ہیں جن میں سے لابی اے میں میر عبدالقدوس بزنجو اور بی میں سید لیاقت آغا کے حامی جاکر اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے ۔ اس موقع پر انہوں نے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران جو ارکان ایوان میں ووٹ کاسٹ کرنا چاہتے ہیں وہ آجائیں جس کے بعد انہوں نے اسمبلی کے عملے کو ہال کے تمام داخلی دروازے بند کرنے کی ہدایت کی ۔جس کے بعد نئے قائدا یوان کے انتخاب کے لئے ارکان نے ووٹ کاسٹ کئے ۔ووٹنگ کے اختتام پر ووٹوں کی گنتی کی گئی جس کے بعد سپیکر نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ میر عبدالقدوس بزنجو نے41جبکہ سید لیاقت آغا نے13ووٹ حاصل کئے سپیکر نے اس موقع پر میر عبدالقدوس بزنجو کی کامیابی کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے انہیں نشست سنبھالنے کی دعوت دی ۔ میر عبدالقدوس بزنجو نے اپنی نشست سنبھالی تو قائد ایوان کے عہدے کے لئے میر عبدالقدوس کے مد مقابل انتخاب لڑنے والے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے آغا سید لیاقت نے نو منتخب وزیراعلیٰ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنی اور اپنی جماعت کی جانب سے انہیں مبارکباد دیتا ہوںاور مجھے فخر ہے کہ میں نے پشتونخوا میپ کی طرف سے میر عبدالقدوس بزنجو کا مقابلہ کیا اور اس مقابلے میں وہ کامیاب ہوگئے یہ جمہوری عمل اور جمہوری روایات کا حصہ ہے پشتونخوا میپ نے اس صوبے میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے لئے ہمیشہ کوششیں کیں اور آج اس نے ثابت کردیا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں او رہمارے اراکین کا ضمیر زندہ ہے نہ ہم سیف ہاؤس میں رہتے ہیں نہ ہم ہمارا ضمیرمردہ ہے اس وقت ملک میں جو روش چل نکلی ہے اور جس کیاشروعات ہمارے صوبے سے کی جارہی ہیں میں نومنتخب قائد ایوان کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں کہتا ہوں کہ خدا راہ اس اسمبلی کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دیں کیونکہ یہ افواہیں ہیں کہ اس اسمبلی کی مدت پندرہ سے بیس روز ہے ۔پاکستان مسلم لیگ(ق) کے میر عبدالقدوس نوشیروانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہوچکا اب نئے قائد ایوان کو چاہئے کہ وہ ان مسائل کا جائزہ لیں جن کا ہم نے سامنا کیا سابق دور حکومت میں ہماری جماعت کو خصوصیت کے ساتھ مسائل کا سامنا رہا میرے حلقے میں ترقیاتی فنڈز بروقت ریلیز نہیں کئے گئے ابھی تک صوبائی ترقیاتی پروگرام میں رکھے گئے منصوبوں کے لئے فنڈز ریلیز نہیں کئے گئے صوبے میں اس وقت35ہزار آسامیاں خالی ہیں میں نومنتخب وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ وہ تمام محکموں کے سیکرٹری صاحبان کو کہہ کر تفصیلات طلب کرلیں اور ان آسامیوں پر تعیناتیاں عمل میں لائیں۔جے یوآئی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ میں اپنی جانب سے اپنی جماعت، اپوزیشن اور اس پورے ایوان کی جانب سے نومنتخب وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو اور آغا لیاقت کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے خوش اسلوبی سے جمہوری عمل آگے بڑھایا۔انہوں نے کہا کہ آج بہت خوشی کا دن ہے کیونکہ 2013ء میں جو حکومت بنی تھی اس سے ہمیں سب سے بڑا گلہ اور شکوہ یہی تھا کہ یہ اپنے فیصلے یہاں نہیں کرتی او راس کے اکثر فیصلے رائیونڈ اور مری میں ہوتے ہیں حالانکہ رائیونڈ اور مری والوں کی اپنی اقدار ، اپنی روایات اور اپنی ترجیحات ہیں جو ہماری ترجیحات سے الگ ہیںوہ ہمیں کچھ نہیں سمجھتے ہم نے ہمیشہ یہ بات کی کہ آپ اس سرزمین کے فرزند ہواور فیصلہ بھی اسی سرزمین کے فرزند مل کر کریں ہمارے صوبے میں انتہائی قابل اہل اور ملک کے دیگر حصوں سے نسبتا بہتر لیڈرشپ موجود ہے دو سال تک چہ میگوئیاں ہوتی رہیں کہ حکومت کسی معاہدے کے تحت بنی ہے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اس معاہدے کو چھپانے اور اپنے دور اقتدار کو آگے بڑھانے کے لئے کام کرتے رہے انہوں نے اپنے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے بلوچستان کے اہم مسائل پر کمپرومائز کیا جب حکومت میں شامل لوگوں کی اپنے درمیان کھینچا تانی ہوگی تو پھر صوبے کے مسائل پر کون توجہ دے گااور یہاں 2013ء سے یہی ہوتا رہا حکومتی جماعتیں آپس میں کھینچا تانی کرتی رہیں جس کی وجہ سے اس صوبے اور اس صوبے کے عوام کے حقیقی مسائل پس پشت چلے گئے این ایف سی ، سی پیک اور دیگر مسائل کو پس پشت ڈال کر یہ لوگ آپس میں لگے رہے ہم اپوزیشن والے پہلے دن سے اس حکومت کے ان اقدامات کی نشاندہی کرتے آئے ہیں انہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میر صاحب یہ بہت ظالم کرسی ہے یہ آپ کو وہاں تک پہنچادے گی جہاں بعد میں آپ دیکھیں گے تو اکیلے ہوں گے ساتھ کوئی نہیں ہوگا اس لئے آپ شروع دن سے تمام مسائل کو سمجھ کر ان کے حل کے لئے اقدامات اٹھائیںانہوں نے کہا کہ تمام پارلیمانی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ نون کے اراکین نے انتہائی وسیع النظر ی کا مظاہرہ کیا ہم سب نے جمہوریت کے لئے آپ کا ساتھ دیا ہے اگر آپ نے ان اراکین کی لاج نہیں رکھی تو یہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے اس لئے آپ تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں ۔ مسلم لیگ(ن) کے میر جان محمد جمالی نے قائد ایوان کے انتخاب میں حصہ لینے والے دونوں امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہماری اپنی روایات ہیں ہم باقی لوگوں کی طرح نہیں جو ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو یہاں دہرائی نہیں جاسکتی وہ اراکین جنہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو کے حق میں ووٹ دیا ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیںاور ان اراکین کا بھی جنہوں نے آغا لیاقت کو ووٹ دیا آغا لیاقت نے جمہوریت اور جمہوری عمل کے تحت مخالفت کی ہم ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں انہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو پر اعتماد کا اظہار کرنے پر اپوزیشن اراکین اور مسلم لیگ(ن) کے اراکین کے ساتھ ساتھ پشتونخوا میپ ، نیشنل پارٹی ، مجلس وحدت المسلمین اور آزار اراکین کا نام لے کر ان کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ چار سال سات ماہ تک ہم جس حکومت کا حصہ رہے وہ بتائے کہ کیا ہم نے صوبے کے لئے کام کیا یا ہم محدود ہو کر رہ گئے صوبے کو پسماندہ رکھنے میں افسر شاہی بھی شریک رہی ہے میر عبدالقدوس بزنجو قلیل مدت میں گڈ گورننس پر توجہ دیں ماضی کی غلطیوں کا تدارک کریںسی پیک جیسے اہم منصوبے پر عملدرآمد کرائیں انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک گوادر کو پینے کا پانی نہیں د ے سکے وہاں ڈی سلینیشن پلانٹ فعال نہیں کراسکے اس پر توجہ دی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ریکوڈک اور سیندک کے معاملات کو بھی دیکھیں کیونکہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت یہ سب اب ہمارے اختیار میں ہے انہوں نے قائد ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد جائیں تو ٹیم بنا کر جائیں کیونکہ وہاں اگر اکیلے جائیں گے تو اکیلے رہ جائیں گے ۔ اسلام آباد کو پیغام دیں کہ بلوچستان کے پارلیمنٹرین باعزت ہیں ہم اپنے فیصلے خود کرسکتے ہیں اور ایسے لیڈر لاسکتے ہیں جو صوبے کے مفاد میں کام کریں ۔مجلس وحدت المسلمین کے آغا رضا نے کہا کہ میں جمہوری عمل کے نتیجے میں قائد ایوان منتخب ہونے پر میر عبدالقدوس بزنجو کو مبارکباد دیتا ہوں انہوں نے کہا کہ جمہوریت قوت برداشت ، جمہورکی بات کرنے کانام ہے نہ کہ اپنا فیصلہ دوسروں پر مسلط کرنے ۔ ہمیں دھمکیاں ملیں پیسوں کی آفرز ہوئیں مگر ہم نے جمہوری سلسلے کو آگے بڑھانے کے لئے پیش قدمی کی ساتھیوں سے رابطے کئے اور ہم کامیاب ہوئے ہم نے پہلے کہا تھا کہ ہم 41ارکان یکجا ہیں یہ کوئی ہوا میں تیر نہیں مارا تھا ہمارا ہوم ورک پورا تھا ہم نے جس آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے اسی کے تحت تحریک عدم اعتماد لائے ہیں تو یہ کیسے غیر جمہوری عمل ہوسکتا ہےہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے ہم تبدیلی کے لئے آگے بڑھے ہیں وزیراعلیٰ سینئر ز کے مشورے اور ماضی کے تجربات کی روشنی میں مسائل کے حل کے لئے کوششیں کریں ۔نیشنل پارٹی کے رکن میر خالد لانگو نے اپنے خطاب کا آغا بلوچی زبان میں کرتے ہوئے میر عبدالقدوس بزنجو کو مبارکباد دی اور اس امید کااظہار کیا کہ وہ بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے اور مسائل کے حل کے لئے اقدامات کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں جب نیب کی حراست میں تھا تو ان 71دنوں میں بہت اچھے اور برے تجربات ہوئے ۔انہوں نے معروف شاعر عطا شاد کی ایک نظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میری زمین پر ایک کٹورے پانی کی قیمت سو سال وفا ہےمیرا ساتھ کسی نے نہیں دیا میں آج یہاں اس ایوان میں کہہ رہا ہوں کہ کوئی بھی کرپشن سے پاک نہیں یہاں پر لوگوں نے کرپشن کی اور این آراو کئے دبئی بھاگ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ مشتاق رئیسانی کی گرفتاری کے بعد میں کراچی کے ایک کافی شاپ میں اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا کافی پی رہا تھا اور ٹی وی والے خبر دے رہے تھے کہ خالد لانگو افغانستان بھاگ گئے میں کیوں بھاگوں گا مجھے تکلیف اس وقت ہوئی جب میرے اپنے کیپٹن نے بھی نجی محفلوں میں یہ بات کہنی شروع کردی کہ خالد نے پانچ ارب روپے کما لئے ہیں ، خالد لانگو نے تین کروڑ کی گھڑی پہنی ہے ان باتوں سے مجھے بہت تکلیف ہوئیاگر میں164(A)کرلیتا تو آج بہت سے لوگ جیل میں ہوتے 60۔ میر خالد لانگو نے کہا کہ اگرچہ میں اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف گیا اور میں نے نہ صرف تحریک عدم اعتماد لانے والے محرکین کا ساتھ دیا بلکہ اپنی پارٹی کے ساتھ بے وفائی کرتے ہوئے آج بھی میں نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا مگر میں نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ میں جب مشکل میں تھا میرے لئے کسی نے کچھ نہیں کیا خود میرے کیپٹن نے بھی کچھ نہیں کیا صرف یہ ( قدوس بزنجو ، میر سرفراز بگٹی )تھے جنہوں نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کے دباؤ میں آکر یہ سب نہیں کررہا بلکہ یہ میری اپنی سوچ ہے اور مجھے کوئی دباؤ میں نہیں لاسکتا ۔مسلم لیگ(ن) کے پرنس احمد علی بلوچ نے نو منتخب قائد ایوان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کے بڑھنے کی وجہ سے سابقہ قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی اگر وہ تمام علاقوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے تو یہ تبدیلی نہ آتے امید کرتا ہوں کہ بلوچستان کے بے شمار مسائل اور اس کی فلاح و بہبود نئے قائدا یوان کے ایجنڈے میں شامل ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ نئے قائد ایوان ریکوڈک ، تعلیم ، صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی نئی روایت قائم کریں ۔ مسلم لیگ (ن)کے میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ میر عبدالقدوس بزنجو کو نیا قائد ایوان منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوںاور ساتھ ہی لیاقت آغا جنہوں نے جمہوری طریقے سے ان کا مقابلہ کیا وہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جب سابق وزیراعلیٰ نے دیکھا کہ اراکان کی اکثریت ان سے الگ ہورہی ہے تو انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ہم اس جمہوری روایت کو ہمیشہ برقرار رکھیں گے انہوں نے کہا کہ دوستوں نے جو قربانیاں دی ہیں ان کی قدر کرتے ہیں نئے قائد ایوان کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ 2017-18ء کے دو سہ ماہی گزر چکے ہیں اب تک صرف22ارب روپے ریلیز ہوئے ہیں جن میں صرف4ارب استعمال ہوپائے ہیں صوبے کی ترقی کے لئے ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے ۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین کی حکمرانی ، قومی برابری اور جمہوریت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا شیوہ ہے ۔ہم توقع رکھتے ہیں کہ نئے قائد ایوان تمام پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور وہ اسمبلی کو مدت پوری کرنے دیں گے اگر ایسا نہیں ہوگا تو ہم اس کی نوبت نہیں آنے دیں گے کہ اسمبلی تحلیل ہو ہم نے تحریک عدم اعتماد کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئر مین محمودخان اچکزئی ارکان اسمبلی مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر نواز شریف یا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کسی نے بھی نواب ثناء اللہ زہری کو استعفے کا مشورہ نہیں دیاہم چاہتے تھے کہ وہ مقابلہ کریں اور اس تمام سازش کو بے نقاب کریں یہ انوکھی قسم کی تحریک عدم اعتماد تاریخ کا حصہ رہے گی لیاقت آغا کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے پارٹی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے قائدا یوان کے انتخاب میں حصہ لیا انہوں نے کہا کہ تمام ادارے حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں جیسے کہ چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ وہ جمہوریت کے حق میں ہیں اور سیاست سے ان کا تعلق نہیں اسی طرح ان کے تمام ماتحت افسران کو بھی اسی بات پر عمل کرنا چاہئے ہم نے سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر صوبے میں امن قائم کیا شاہراہوں کو محفوظ اور تعمیر کیا عوام کو تحفظ دینے میں کامیاب رہے ہم نئے قائدا یوان سے بھی گزارش کریں گے کہ وہ اس کو برقرار رکھیں ۔عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ملک اور صوبے میں امن بحال کرنے کے لئے شہادتیں دی ہیں 2013ء میں جو حکومت بنی اس کے بعد ہم نے دونوں وزرائے اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ دیا کہ وہ صوبے میں امن قائم کریں اور ترقی لائیں لیکن جس طرح کی انتقامی کارروائیاں گزشتہ ساڑھے چار سال میں ہوئی ہیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہم اپنے حلقے میں ایک سپاہی بھی تبدیل نہیں کرسکتے تھے جبکہ جاتے جاتے ہمارے ضلع میں پوری انتظامیہ تبدیل کردی گئی میں شیخ جعفرخان مندوخیل کا مشکور ہوں جنہوں نے میرے کہنے پر ایک نائب تحصیلدار تبدیل کیا تھا اس کے علاوہ ہمارے حلقے میں کوئی کام نہیں ہواانہوں نے کہا کہ بیورو کریسی میں بھی غبن اور کرپشن ہورہی ہے کونسا میگا منصوبہ ہے جو ان چار سالوں میں بلوچستان کو دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز عوام کی امانت ہوتے ہیں لیکن ان میں خیانت ہوئی ہمیں انصاف چاہئے اس اسمبلی میں تمام ارکان برابر ہیں لیکن پھر بھی فرق کیا گیااور کسی حلقے کو بہت زیادہ نوازا گیا تو کسی کو بالکل ہی محروم رکھا گیا آج تک پرانی تاریخوں میں بھرتیاں کی گئیں تقرریاں اور تبادلے ہوئے کیا حکومت نے جمہوریت اور آئین کے تقاضے پورے کئے جو یہ تمام اقدامات کئے گئے ۔ مسلم لیگ(ن) کے رکن سابق نگران وزیراعلیٰ سردار صالح بھوتانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میر عبدالقدوس بزنجو اپنے دور میں ایسے اقدامات اٹھائیں کہ بلوچستان کے عوام تبدیلی محسوس کرسکیںاور انہیں احساس ہو کہ حکومت عوام کے لئے درد رکھتی ہے مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ بلوچستان کے منتخب ارکان اسمبلی اپنی حکومت منتخب کی ہے جبکہ ماضی میں یہاں حکومتیں مری یا اسلام آبادمیں بنی ہیں ہم نے اپنی مرضی سے حکومت بنانے کی روایت قائم کی ہے اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے سابق وزیراعلیٰ نے اپنے دور کی 24فیصدمدت صوبے میں گزاری جبکہ وہ 76فیصد صوبے سے باہر رہے جس کی وجہ سے وہ صوبے کو توجہ نہیں دے پاتے تھے انہوں نے چند مخصوص علاقوں کے دورے کئے اربوں روپے کے فنڈز بغیر استعمال ہوئے سرنڈرکردیئے گئے اب بلوچستان کے عوام مزید اس رویے کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔نئے وزیراعلیٰ سے گزارش ہے کہ وہ صوبے کو وقت دیں فنڈز کا استعمال کریں اور کرپشن کی روک تھام کے لئے اقدامات کریں ۔یہاں بیورو کریسی بھی ترقی کی رفتار میں رخنہ ڈالتی ہے ان سے بھی درخواست ہے کہ وہ صوبے کی ترقی کی رفتار کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھائیں انہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبے میں امن وامان کو ترجیح دیں تاکہ صوبے میں عوام کی جان ومال کو محفوظ کیا جاسکے انہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں مگر یہ تعاون صرف صحیح کاموں تک محدود ہوگا۔مسلم لیگ(ق) کے پارلیمانی لیڈر شیخ جعفرخان مندوخیل نے نو منتخب وزیراعلیٰ کو مبارکبا د دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ گڈ گورننس پر توجہ دیں گے سید لیاقت آغا بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے جمہوری عمل کو مضبوط کیا ہمیں پرانی باتوں کو دہرانے کی بجائے مستقبل کے چیلنجزپر توجہ دینا ہوگی ۔ گڈ گورننس کو بہتر بنانا ہوگا امن وامان کا قیام وفاق سے صوبے کے حقوق ، سی پیک کے تحت بلوچستان کے منصوبوں پرعملدرآمد کرانا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو ریکوڈک پر بریفنگ دی جائے سیندک پر فیصلہ کابینہ کی مشاورت سے ہونا چاہئے تھا انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کو غیر جمہوری قرار دینا درست نہیں بلکہ یہ جمہوریت کاحصہ ہے۔مسلم لیگ(ن) کے سردار در محمد ناصر نے میر عبدالقدوس بزنجو کو منتخب اور سید لیاقت آغا کو جمہوری انداز میں مقابلہ کرنے پر مبارکباد دی انہوں نے نواب ثناء اللہ زہری کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک سے قبل مستعفی ہوکر دوستوں کو کسی مشکل میں نہیں ڈالا مجھ پر اور میرے حلقے پر ان کے بڑے احسانات ہیں مسلم لیگ(ن) کی انیتا عرفان ، کشور احمد جتک، عبدالماجد ابڑو، غلام دستگیر بادینی اور جے یوآئی کے مفتی معاذ اللہ ،حاجی عبدالمالک کاکڑ ، میر اظہار حسین کھوسو ،محمدخان لہڑی ،مفتی گلاب خان کاکڑ نے بھی نومنتخب قائد ایوان کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ بلوچستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے ۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سردار اختر مینگل نے کہا کہ آج کا جمہوری عمل مکمل ہونے پر لیاقت آغا کو مبارکباد دیتا ہوں کہ ان کی مشکلات ختم ہوگئیں قدوس بزنجو کوکامیابی پر مبارکباد نہیں بلکہ ان کے لئے جن مشکلات کا آغاز ہوا ہے وہ زیادہ اہم ہیں آج کا دن میرے اور میری جماعت کے لئے انتہائی مشکل ہے ایسی کوئی بات نہیں کہ ہم نے کوئی جرم کیا مگر آج تک کسی حکومت کو توڑنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا تاریخ میں صرف ایک بار حکومت بنانے کے لئے ووٹ دیا اور حکومت بنائی تھی ۔ تیس سال کے سیاسی کیریئر میں اپوزیشن میں رہ رہ کر وقت گزارا ہے مگر آج جمہوری عمل کا حصہ بن کے بھی ایک جرم کا احساس کررہا ہوں جو چیلنجز نومنتخب وزیراعلیٰ کو درپیش ہیں وہ اس ملک کے قیام سے ستر سال سے جاری ہیں قدوس بزنجو سے یہ امید نہیں رکھتا کہ وہ چھ ماہ کے قلیل عرصے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہادیں گےبلوچستان میں جہاں نہ تو کوئی مسجد مندر گرجا امام بارگاہ سڑکیں یہاں تک کہ سکول بھی محفوظ نہیں ایسے میں قدوس بزنجو چند ماہ میں امن نہیں لاسکیں گے جب اپنی مدتیں پوری کرنے والے ایسا نہ کرسکے تو قدوس بزنجو کے لئے زیادہ مشکلات ہوں گی بلوچستان نیشنل پارٹی سیاسی جمہوری جماعت ہے جو حق خو د ارادیت پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لئے جدوجہد کررہے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہر مشکل اور ہر چیلنج کا مقابلہ جمہوری انداز میں کیا جب میر عبدالقدوس بزنجو نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے ان سے کہا تھاکہ وہ مجھے اس بات کی ضمانت دیں کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور نئی حکومت کے قیام پر وہ اسمبلیاں نہیں توڑیں گےڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے بھی کہا کہ آرمی چیف جمہوری عمل جاری رکھنے کا اعلان کرچکے ہیں قدوس بزنجو بھی یقین دہانی کراچکے ہیں تو اس پر صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ طاقتیں جنہوں نے ہمیشہ غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کی بساط لپیٹی وہ بہت مضبوط ہیں جب وہ بھاری مینڈیٹ والے وزیراعظم ، پارلیمنٹ ، بڑے صوبے اور وزیراعظم کو کسی خاطر میں نہیں لاتے تو ہم ان کے سامنے بے بس ہیں اگر وہ کوئی فیصلہ کرلیں تو ان کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت یہاں جتنے ارکان اور جتنی جماعتیں موجود ہیںوہ سب جمہوریت کا نام لیتے ہیں لیکن کیا جمہوریت صرف حکومت بنانے ، اسمبلی یا اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا نام ہے یا وہ طریق کار بھی ہے جس کے تحت ہم منتخب ہوتے ہیں بحیثیت جماعت ہم سیاسی جماعتیں یہ بتائیں کہ کیا ہم جمہوریت کی تعریف پر پورا اترتے ہیں کیا انتخابات میں ٹھپے مارنا جمہوریت ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تیسری مرتبہ عدم اعتماد کی تحریک لانی بھی ایک مثال ہے ایک ہی جماعت کے لوگ اپنی جماعت سے بغاوت کرکے اپوزیشن سے مل کر تحریک لاتے ہیں آج حالات جس نہج پہ ہیں اس کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں ۔ یہ وہ انصافیاں ہیں جو روز اول سے جاری ہیں اور ان ناانصافیوں کی وجہ سے بلوچستان کے حالات اس نہج تک پہنچے ہیںانہوں نے کہا کہ ان لوگوں کا حال پوچھیں جو اس سرزمین کے وارث ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں کیا ہم ان ماؤں کے دکھ کو سمجھ سکتے ہیں جو اپنے بیٹوں کے انتظار میں ہیں ہم سب یکساں ذمہ دار ہیں ہم صرف اپنے لئے شیروانی اور واسکٹ بنانے ، وزیراعلیٰ ، وزراء بنانے کی حد تک سوچتے ہیں یہ سوچ تبدیل نہیں کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی ایک جانب ہمارے لوگ تعلیم صحت پینے کے پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تو دودسری جانب ہر سال پینتیس ارب روپے لیپس ہوجاتے ہیں قدرتی آفات ، بھوک ، افلاس ، پسماندگی ، بنیادی سہولتوں کے فقدان نے جہاں ہمارے لوگوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا دوسری جانب وہی لوگ حکمرانوں کی زیادتیوں کا شکار ہیںنئے وزیراعلیٰ کو امن وامان کے قیام ، عوام کو تعلیم صحت اور پانی کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھانے ہوں گے گوادر جس کا نام پوری دنیا میں لیا جارہا ہے مگر وہاں کے عوام پانی سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ آج اس فلور سے میں نے وزیراعلیٰ سے اس بات کی ضمانت چاہوں گا کہ وہ بلوچستان میں کم سے کم ایک کینسر ہسپتال کے قیام کا اعلان کریں حکومت کو صوبے میں جہاں بھی ہسپتال کے لئے زمین کی ضرورت ہوگی میں میری جماعت کے لوگ دینے کے لئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن کا حصہ تھے ، ہیں اور اپوزیشن کا کردار اد اکرتے رہیں گے۔پرویز مشرف جیسے آمر کے غیر جمہوری اقدام کا مقابلہ کیا اگر قدوس بزنجو یا ان کی حکومت نے کوئی غیر جمہوری اقدام کیا تو ان کے سامنے بھی کھڑے ہوں گے۔پشتونخوا میپ کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کا واقعہ کس طرح ہوا یہ سب کو معلوم ہے ہم نے 2013ء میں کامیابی کے بعد اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود صوبے کے وسیع مفاد میں مری معاہدے کے تحت اپنی وزارت اعلیٰ کی قربانی دی تحریک عدم اعتماد اسی منصوبے کی کڑی ہے جو تین سال پہلے ڈی چوک سے شروع ہوا تھا جو لوگ اقتدار میں تھے اور وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے ساتھ تھے جب انہیں حکم ہوا کہ کروٹ بدل لو تو انہوں نے کروٹ بدل لی وزیراعلیٰ اور رحیم زیارتوال میں خامیاں ہوسکتی ہیںتاہم اس تمام مسئلے پر بیٹھ کر بھی بات ہوسکتی تھی پاکستان میں اندرونی اور بیرونی صورتحال سب کو معلوم ہے سینٹ کے گزشتہ انتخابات میں جوکچھ ہوا اس کے بعد لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں سب بکاؤ مال ہیں انہیں خرید لیا جائے گا انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت کرنے والوں کے قول اور فعل میں تضاد ہے پاکستان فیڈریشن ہے جس کی بلوچستان ایک اکائی ہے ہم تمام اکائیوں کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں صوبے میں فنڈز لیپس نہیں بلکہ سرینڈر کئے گئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ساڑھے چار سالہ دور میں جتنے ترقیاتی کام ہوئے وہ گزشتہ ستر سال میں نہیں ہوئے صوبے میں اب بھی ناکافی ترقی ہوئی ہے جس کی وجہ فنڈز کی کمی ہےانہوں نے کہا کہ ہم نے صوبے میں چھ نئی یونیورسٹیز ، 14کالجز ، سینکڑوں مڈل اور ہائی سکول بنائے ہیں اگر عوام کے خزانے سے کرپشن کی ایک پائی بھی ثابت ہوجائے تو ہر سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ کردار شاید کچھ لوگوں کو قابل قبول نہیں تھا انہیں وہ لوگ قابل قبول ہیں جو کرپشن کریں مجھے نہ 2002ء میں اور نہ 2013ء میں کسی کی جانب سے کوئی پیغام ملا کہ آپ کامیاب ہیں اور نہ ہی میں نے الیکشن میں پیسے خرچ کئے ہیں اسی عوامی لیڈرشپ کہتے ہیں ہم اپوزیشن بینچوں پر جائیں گے اور ہمیں پتہ ہے کہ جولوگ اب اقتدار میں ہیں وہ ہمارے حقوق غصب کرنے کی کوشش کریں گےلیکن ہمارے واحد محافظ وزیراعلیٰ ہیں ہم نے اپنے اربوں روپے کے ڈیمز بنائے کوئٹہ میں پانی کے مسئلے کے حل کے لئے منصوبے پر کام شروع کیا یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے صرف ایک حلقے میں کام کیا ہے انہوں نے کہا کہ میں پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ فلور کراسنگ کرنے والے رکن اسمبلی منظور کاکڑ کو 163اے کے تحت ڈی سیٹ کریں گے ۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت ، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے جدوجہد کی ہے جو لوگ کھلاڑی اور مداری کے چکر میں پھنس گئے ہیں اور یہاں پیسہ لگانا چاہ رہے ہیں تو ہم ان کا بھی مقابلہ کریں گے پاکستان اور بلوچستان کسی کی میراث نہیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں