قومی اسمبلی میں ایسا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ خوشی سےنہال، اب فاٹا میں کسی تنازعہ کا فیصلہ پولیٹیکل ایجنٹ یا تحصیلدار نہیں بلکہ کون کرے گا؟

  جمعہ‬‮ 12 جنوری‬‮ 2018  |  16:37

اسلام آباد (آئی این پی) قو می اسمبلی نے فاٹا اصلا حات کے تحت سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائراختیارفاٹا تک بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا،جمعیت علماء اسلام (ف) نے بل کی مخالفت کی،جمعیت علماء اسلام (ف) کی نعیمہ کشور کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے بجائے اسلام آ باد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کی ترمیم مستر د ی کردی گئی،ارکان نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائراختیارفاٹا تک بڑھانے کی بل کی منظور ی کو تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہاکہ فاٹاکو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی حمایت کرتے ہیں

اور اس کا انتظار کریں گے کہ مو جو دہ اسمبلی فاٹا کو خیبر پختونخوا میںضم کرنے کا بل بھی منظور کرے، فاٹا کے عوام کیلئے آج خوشی اور جشن کا دن ہے، قبائلیوں کی خواہش پر عمل ہوا ،ایف سی آر ختم کیا جا رہا ہے، مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور پر عمل کر کے فاٹا اصلاحات لائی، بل منظوری پر اللہ کے شکرگزار ہیں، آج پاکستان مکمل ہوا، فاٹا کے عوام کے لئے آ ج14اگست کا دن ہے، قبائلیوں کو حقوق مل رہے ہیں، آج پاکستان کی تکمیل ہو رہی ہے، اس سے پاکستان مضبوط ہو گا، پاکستان ترقی یافتہ بنے گا، پاکستان سے دہشت گردی ختم ہو گی اور یہ پرامن ملک بنے گا، قومی اسمبلی نے اپنی مدت میں بہت بڑا فیصلہ کیا جو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد گار رہے گا، یہ فاٹا اصلاحات کا ایک جزو پر عمل ہوا ہے، باقی سفارشات پر بھی عملدرآمد شروع کیا جائے، ایک کروڑ عوام آئین اور قانون کے دائرہ میں آئے ہیں، ماضی میں صرف نعرے لگائے جاتے رہے اور ایف سی آ ر کا100سالہ پرانا قانون ختم کرنا آسان نہیں تھا، یہ درست قدم لیا گیا ہے، فاٹا قدرتی طور پر خیبرپختونخوا کا حصہ ہے،ان خیالات کا اظہار قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ ،شاہ جی گل آ فریدی ،شہاب الدین،غازی گلاب جمال ،علی محمد خان ،صاحبزادہ طارق اللہ،شیخ صلاح الدین اور دیگر ان بل پر اظہار خیال کرے ہوئے کیا جبکہ وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو سعادت حاصل ہوئی ہے کہ یہ بل لایا،فاٹا اصلاحات کے حوالے سے 70سال تک سوئے رہے اورفاٹا کو نظرانداز کیا گیا، نہ صرف اعلیٰ عدالتوں کا فاٹا میں دائرہ اختیار کو بڑھایا جا رہا ہے بلکہ 25سفارشات نافذ کیجا رہی ہیں، ایف سی آر کا متبادل قانون لایا جا رہا ہے، فاٹا اصلاحات کے تحت فاٹا کو ترقی یافتہ بنا کر خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے گا، لیویز اور مقامی ٹیکس ختم کرنے کے اقدامات کئے ہیں، فاٹا کے عوام کیسا تھ دہائیوں تک غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا گیا، فاٹا اصلاحات کے تحت مزید اقدامات میں تاخیر نہیں کریں گے،وزیر مملکت سیفران غالب خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میںبہت بڑا فیصلہ ہے، مو جودہ حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے، میاں نواز شریف کا شکرگزارہیں انہوں نے انتہائی اہم فیصلہ ہے، یہ فاٹا ک عوام کی دیرینہ خواہش تھی، یہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے ایک زندہ مثال بنے گی، فاٹا کے عوام نواز شریف کیلئے دعا گو رہیں گے اور قیامت تک یاد رکھیں گے ۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قو می اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں وزیر قانون محمو د بشیر ورک نے فاٹا اصلاحات کے تحت سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک تو سیع دینے کے حوالے سے2017ایکٹ ایوان میںپیش کیا۔جمیعت علما ء اسلام (ف) نے بل کی مخالفت کی۔ سپیکر نے بل پرو وٹنگ کرائی۔جس کو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔بل منظور ہوتے ہی فاٹا ارکان خو شی سے کھڑے ہوگئے۔ارکان نے فاٹاارکان شاہ جی گل آ فریدی اوردیگر کو ان کی نشست پر جا کر مبارکباد پیش کی۔ بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ فاٹا کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں لایا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی فاٹاکو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی حمایت کرتی ہے اور اس کا انتظار کریں گے، یہ تاریخی اقدام ہو گا، ہم چاہتے ہیں کہ یہ کام کر کے جائیں، فاٹا کے عوامکی قربانیاں بہت زیادہ ہیں، یہ فاٹا کے عوام کو ان کا حق دیا جائے یہ تب مکمل ہو گا جب فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے گا، امید ہے کہ آئندہ اجلاس میں یہ بل پیش کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو سعادت حاصل ہوئی ہے کہ یہ بل آیا، 70سال سے سوئے تھے،فاٹا کو نظرانداز کیا گیا، یہ نہ صرف اعلیٰ عدالتوں کا فاٹا میں دائرہ اختیار کو بڑھایا جا رہا ہے،25سفارشات نافذ کیا جا رہا ہے، ایف سی آر کا متبادل قانون لایا جا رہا ہے، فاٹا جب مکمل ترقی حاصل کرے گا اس میں خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے گا، لیویز اور مقامی ٹیکس ختم کرنے کے اقدامات کئے ہیں، یہ سب کو تسلیم کرنا چاہیے کہ فاٹا کے عوام کیس اتھ دہائیوں تک غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا گیا، مزید اقدامات میں تاخیر نہیں کریں گے، منصوبے کے تحت اقدامات پر عمل کیا جائے گا،کیپٹن(ر)صفدر نے کہا کہ شہاب الدین نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کو خراج تحسین پیش کروں گا اور شکریہ ادا کروں گا جنہوں نے فاٹا اصلاحات پر حمایت کی، فاٹا کے عوام کیلئے آج خوشی اور جشن کا دن ہے، فاٹا اصلاحات کمیٹی کا شکرگزار ہوں، 90فیصد قبائلیوں کی خواہش پر عمل ہوا ،ایف سی آر ختم کیا جا رہا ہے، آہستہ آہستہ ضم بھی ہو جائے گا، مسلم لیگ (ن) نے اپنےمنشور پر عمل کر کے فاٹا اصلاحات لائی، سپیکر نے کہا کہ اس میں سرتاج عزیز، عبدالقادر بلوچ، زاہد حامد نے محنت کی اور ان کو سراہا جانا چاہیے، اپوزیشن جماعتوں نے بھی حمایت کی، نذیر خان نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کا شکرگزار ہوں جنہوں نے فاٹا اصلاحات پر عمل کیا۔ شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ بل منظوری پر اللہ کا شکرگزار ہوں، حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا شکرگزار ہوں،آج پاکستان مکمل ہوا، 14اگست ہمارے لئے آج کا دن ہے، قبائلیوں کو حقوق مل رہے ہیں، آج وہ کام اللہ نے ہم سے کرایا جو اللہ کا حکم تھا، معاشرہ کو انصاف دیا جائے، آج قبائلیوں کو انصاف دیا جا رہا ہے، آج پاکستان کی تکمیل ہو رہی ہے، اس سے پاکستان مضبوط ہو گا، سی پیک گیم چینجر ثابت ہو گا، پاکستان ترقی یافتہ ہو گا، پاکستان سے دہشت گردی ختم ہو گی اور یہ پرامن ملک بنے گا،غالب خان نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں ایسے فیصلے ہوتے ہیں جس نے تاریخ رقم کی ہے، پاکستان کی تاریخ میں بہت بڑا فیصلہ ہے، حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے، میاں نواز شریف کا شکرگزار ہوںڈ، یہ انتہائی اہم فیصلہ ہے، یہ فاٹا ک عوام کی دیرینہ خواہش تھی، یہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے ایک زندہ مثال بنے گی، عبدالقادر بلوچ اور فاٹا اصلاحات کمیٹی کے شکرگزار ہوں جنہوں نےفاٹا اصلاحات کیلئے کام کیا، عبدالقادر بلوچ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، فاٹا کے عوام نواز شریف کیلئے دعا گو رہیں گے اور قیامت تک یاد رکھیں گے، پاکستان کے عوام اور فاٹا کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں، میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں اس اہم فیصلہ میں شامل ہوں۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ قومی اسمبلی کی مدت میں بہت بڑا فیصلہ ہوا جو پاکستان کیتاریخ میں یاد گار رہے گا، اس پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ فاٹا اصلاحات کا ایک جزہ پر عمل ہوا ہے، باقی سفارشات پر بھی عملدرآمد شروع کیا جائے، آپ سب کی محنت کا ثمر مل گیا ہے، آج پاکستان مکمل ہوا، ایک کروڑ عوام آئین اور قانون کے دائرہ میں آئے ہیں، اس کے بہت بڑے نتائج سامنے آئیں گے۔ جی جی جمال نے کہا کہ تمام ایوان، سیاسی جماعتوں اور حکومت کا شکرگزار ہوں،یہ اتنا آسان کام نہیں تھا، ماضی میں صرف نعرے لگائے جاتے رہے، 100سالہ پرانا قانون ختم کرنا آسان نہیں تھا، فاٹا کے عوام کو بنیادی حقوق دیئے جا رہے ہیں، یہ درست قدم لیا گیا ہے، فاٹا قدرتی طور پر خیبرپختونخوا کا حصہ ہے۔ شیخ صلاح الدین نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کے تحت پہلا قدم ہے، فاٹا کے ارکان نے تاریخی کردار ادا کیا، یہ معاملہ متفقہ طور پر ہو جاتا تو اچھا ہوتا، مولانا فضل الرحمانکو بھی اعتماد میں لیا جاتا تو بہت بہتر ہوتا۔ علی محمد خان نے کہا کہ ہماری پارٹی نے تحریک پیش کی تھی کہ اعلیٰ عدالتوں کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھایا جائے یہ درت اقدام ہے جلد فاٹا خیبرپختونخوا میں ضم ہوگا۔جمعیت علماء اسلام کی رکن نعیمہ کشور نے بطور احتجاج اپنی ترمیم واپس لے کر ایوان سے واک آئوٹ کیا، متبادل نظام کو ئی نہیں دیا جا رہا ہے، ایف سی آر ختم کیا گیا ہے،ایل سی پی آئی سی ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانا آئین کے خلاف ہے، جمعیت علماء اسلام نے مخالفت کی۔(اح+وخ)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں