زینب کا قاتل پکڑا گیا، ننھی کلی کو مسلنے والے کا معصوم بچی سے کیا قریبی رشتہ تھا، وہ خبر جس کا ہر پاکستانی بے چینی سے انتظار کر رہا تھا

  جمعرات‬‮ 11 جنوری‬‮ 2018  |  16:28

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینئر وکیل احمد رضا قصوری نے دعویٰ کیا ہے کہ ننھی زینب کا قاتل پکڑا گیا ہے اور وہ اس کا قریبی رشتہ دار ہے۔ احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ آج ان کی سہ پہر پونے تین بجے چیف جسٹس آف پاکستان سے ان کے چیمبر میں ملاقات ہوئی تھی، وہ قصور کے بزرگ شہری کی حیثیت سے از خود نوٹس پرانکا شکریہ ادا کرنے گئے تھے۔ اس موقع پر انھیں‌ چیف جسٹس نے بتایا کہ قاتل کی گرفتاری کی خبر موصول ہوئی

ہے۔یاد رہے کہ زینب کے والد کی اپیل پر کل آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کا از خود نوٹس لیا تھا۔احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے یہ خبر دے رہے ہیں‌کہ شاید احتجاج کا سلسلہ رک جائے۔واضح رہے کہ ابھی اس دعویٰ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں‌ ہوئی ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے قصور میں سات سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے واقعہ کا نوٹس لیا تھا۔بدھ کو چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی۔7 سالہ زینب کی لاش گزشتہ روز برآمد ہوئی تھی جس پرپورا شہر سراپا احتجاج بن گیااور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق ہو گئے۔مشتعل مظاہرین نے ڈی دی آفس پر دھاوابول کر توڑ پھوڑ کی اور ٹائر جلا کر سڑکیں بھی بلاک کر دیں پولیس کے مطابق قصور کے علاقے روڈ کوٹ کی رہائشی 8 سالہ بچی زینب 5 جنوری کو ٹیوشن جاتے ہوئے اغواء ہوئی اور 4 دن بعد اس کی لاش کشمیر چوک کے قریب واقع ایک کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی۔پولیس کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیاجس کی تصدیق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہوئی۔ترجمان حکومت پنجاب کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نےایڈیشنل آئی جی ابوبکرخدا بخش کی سربراہی میں جےآئی ٹی تشکیل دیدی۔انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسران بھی ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہے ٗوزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ انکوئری کی نگرانی وہ خود کریں گے۔  8 سالہ بچی زینب کے والدین کا کہنا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری تک بیٹی کیتدفین نہیں کریں گے۔ بدھ کو عمرے کی ادائیگی کے بعد اسلام آباد پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی کے والد نے کہاکہ پولیس نے بچی کو ڈھونڈنے میں تعاون نہیں کیا، اگر پولیس فوری طور پر کارروائی کرتی تو ملزمان گرفتار ہو جاتے۔بچی کے والد نے کہا کہ جب تک ملزمان گرفتارنہیں ہوتے اس وقت تک بیٹی کی تدفین نہیں کریں گے۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے واقعے کا نوٹس لینے اور انصاف فراہمکرنے کی اپیل بھی کی۔زینب کے والد نے کہاکہ ہمارے ساتھ جو ظلم ہوا اس پر دل غم سے چور ہے ٗسیکیورٹی حکمرانوں کے لیے ہے ہم تو کیڑے مکوڑے ہیں، عام آدمی کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پچھلے 2 سالوں سے بچیوں کو گھر سے باہر بھیجنے سے خوفزدہ ہیں ٗمیرا ایک بیٹااور 2 بیٹیاں ہیں، زینب کو 4 کلمے یاد تھے اور پانچواں یاد کررہی تھی جبکہ وہ ہر وقت درود شریف بھی پڑھا کرتی تھی۔اس موقع پر میڈیا نے بچی کی والدہ سے بھی بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ غم کے مارے نہ بول سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میری بچی زینب ہی اب اس دنیا میں نہ رہی میں کیا کہوں، مجھے صرف انصاف چاہیے۔واضح رہے کہ قصور میں 8 سالہ بچی زینب کو زیادتیکا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا جبکہ ملزمان نے بچی کی لاش کو کچرے میں پھینک دیا ٗ اطلاعات کے مطابق 5 روز قبل زینب سپارہ پڑھنے گھر سے نکلی تھی تاہم گھر کے قریب بچی کو راستے میں اغوا کرلیا گیا ٗبچی کی گمشدگی پر اہل خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی تاہم گزشتہ رات کچرے کے ڈھیر سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔دوسری جانب بچی کے والدین عمرہ کی ادائیگی کیلئےمکہ مکرمہ گئے ہوئے تھے اور واقعہ کا علم ہونے کے فوراً بعد اسلام آباد پہنچے ٗکم سن زینب سے زیادتی و قتل کے خلاف شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور احتجاج کرنے والے مشتعل مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے

موضوعات: