ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے کا حتمی اعلان کردیا، پاکستان کا شدیدردعمل، کھری کھری سنادیں

  بدھ‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2017  |  23:55

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں ،وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کچھ امریکی صدور نے کہا کہ ان میں سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی ہمت نہیں لیکنبیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے،امریکی صدر نے اپنے متنازع فیصلے کے اعلان کے دوران کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کے لیے کاوشیں جاری رہیں گی۔انھوں نے کہا

کہ مشرق وسطیٰ کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اور امن کے لیے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔دریں اثناء حکومت پاکستان نے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کے منافی ہے ٗ امریکی اقدام سے علاقائی امن و استحکام متاثر ہونے کے علاوہ مشرق وسطی میں پائیدار امن کیلئے کی جانے والی تمام کوششیں رائیگاں جائینگی۔بدھ کو وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں پاکستان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرے جس سے القدس شریف کے قانونی اور تاریخیٰ حیثیت کے علاوہ چارٹر کو خطر ہ ہو۔پاکستان نے کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف دہائیوں سے قائم عالمی اتفاق رائے کو نقصان پہنچے گا بلکہ علاقائی امن و استحکام کے متاثر ہونے کے علاوہ مشرق وسطی میں پائیدار امن کیلئے کی جانے والی تمام کوششیں رائیگاں جائینگی۔پاکستانی حکومت اور عوام امریکی سفارتخانہ القدس شریف منتقل کرنے سے متعلق مجوزہ منصوبے کی غیر متزلزل مخالفت کرتے ہیں۔پاکستان اس سلسلے میں حال ہی میں او آئی سی کی جانب سے حتمی اعلامئے کی بھر پور توثیق کرتا ہے۔پاکستان نے فلسطینی عوام کیساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے 1967سے قبل کے سرحدوں کی بحالی اور دارلحکومت القدس شریف کیساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔دریں اثناء پاکستان نے امریکا کی جانب سے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے مجوزہ فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدام سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی کوششیں متاثر ہوں گی۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی خبروں تشویش ہے اور پاکستان امریکا کے کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا القدس کی قانونی و تاریخی حیثیت تبدیل کرنے سے اجتناب کرے، کیونکہ ایسے امریکی اقدام سے نہ صرف علاقائی امن و سلامتی کی کوششیں متاثر ہوں گی بلکہ مشرق وسطٰی میں پائیدار امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ ایسا قدم اس معاملے پر عالمی اتفاق رائے سے ہٹ کر ہو گا، امریکی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہو گا۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ امریکی سفارتخانے کے مقبوضہ المقدس منتقلی کے حوالے سے او آئی سی کے حتمی اعلامیے کی مکمل توثیق کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں