اسحاق ڈار کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس میں پہلے ہی روز دھماکہ خیز حکم سنا دیا گیا

  پیر‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2017  |  10:25

اسلام آباد (آئی این پی )وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنس میں اچانک احتساب عدالت میں پیش ہوگئے عدالت نے ملزم کو گرفتار کرکے پیش نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار کو پچاس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا اور 27ستمبر کو سینیٹر اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے انہیں دوبارہ طلب کرلیا۔ 27ستمبر سے کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔پیر کو اسلام آباد احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کی۔ کیس کی

سماعت شروع ہونے سے قبل ہی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اپنے وکیل امجد پرویز کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے ان کی اسلام آباد اور لاہور کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے گئے لیکن وہ موجود نہیں تھے آج ملزم اچانک عدالت میں پیش ہوئے جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو گرفتار کرکے پیش کیوں نہیں کیا۔ اسحاق ڈار کی جانب سے عدالت میں دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے گئے عدالت میں اسحاق ڈار کی حاضری لگائی گئی۔ عدالت نے وزیر خزانہ کو حاضری یقینی بنانے کے لئے پچاس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ اسحاق ڈار کے وکیل کی جانب سے ریفرنس کی نقول فراہم کرنے کی استدعا پر عدالت نے مکمل ریفرنس کی کاپیاں ملزم کو فراہم کرنے کا حکم دیا جو 23والیم پر مشتمل ہے۔ عدالت نے کہا کہ 27ستمبر کو ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا جس کے بعد کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔جس پر اسحاق ڈار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کی جائے تاکہ ریفرنس کا تفصیلی مطالعہ کیا جاسکے۔ سات دن کے اندر مکمل ریفرنس کا مطالعہ مشکل کام ہے۔ عدالت نے اسحاق ڈار کے وکیل کی استدعا مسترد کردی۔ نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں عدالت نے نیب کی یہ استدعا مسترد کردی اور ملزم کو عدالت میں حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 27ستمبر تک ملتوی کردی۔وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کئے بغیر روانہ ہوگئے۔ صحافیوں نے اسحاق ڈار سے پوچھا کہ کیا آپ استعفیٰ دے دیں گے جس پر وزیر خزانہ نے خاموشی اختیار کی تاہم ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ مجھے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں اور میڈیا سے بات کئے بغیر روانہ ہوگئے۔ پیر کو اسحاق ڈار اپنے وکیل امجد پرویز کے ہمراہ جوڈیشل کمپلیکس پہنچےاور آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت پیشی سے واپسی پر صحافیوں نے اسحاق ڈار سے بات چیت کی کوشش کی تاہم انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا اس دوران میڈیا کے نمائندوںنے اسحاق ڈار سے پوچھا کہ کیا وہ وزارت سے استعفیٰ دے دیں گے جس کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ وزیر خزانہ صاحب آپ پریشان تو نہیں ہیں جس پر اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے کوئی پریشانی نہیں اس کے بعد وہ جوڈیشل کمپلیکس سے روانہ ہوگئے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں