فاٹا نے دہشت گردی کے ہاتھوں بڑے زخم کھائے ہیں،خورشیدشاہ

  جمعرات‬‮ 14 ستمبر‬‮ 2017  |  15:27

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا فاٹا نے دہشت گردی کے ہاتھوں بڑے زخم کھائے ہیں اسے خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جائے جبکہ فاٹا رکن پارلیمنٹ شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ فاٹا کو کے پی میں ضم نہ کیا گیا تو مشکلات پیدا ہونگی، انگریز کا قانون فاٹا میں نہ ہوتا تو حکیم اللہ محسود ، بیت اللہ محسود اور عمر خالد خراسانی پیدہ نہ ہوتے، اگر فاٹا کے پی میں ضم نہ کیا گیا تو صوبائیخودمختاری کا مطالبہ کریں گے قبائلی عوام کو ،اسلام آباد ہائیکورٹ کی

بجائے پشاور ہائی کورٹ تک رسائی دی جائے ،فاٹا اصلاحات پر عمل در امد کے لیے حکومت کو 9 نومبر تک مہلت دیتے ہیں9 نومبر کے بعد اسلام آباد میں دما دمست احتجاج کریں گے، نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو نے کہا حکومت پیر پیر سے کام لینا چھوڑ دیں اور فاٹا کو پختونخواہ صوبے میں ضم کیا جائے،محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بد قسمتی سے پختون سیاسی جماعتیں پختونوں کے حقوق اور فائدے کے لئے کبھی متفق نہیں ہو سکیں۔ جمعرات کو عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ خوش آئند بات ہے کہ فاٹا کہ تقدیر بدلنے کے لئے ہم سب اکھٹے ہوئے ہماری پارٹی مطالبہ کرتی ہے فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جائے فاٹا نے دہشت گردی کے ہاتھوں بڑے زخم کھائے ہیں ۔ فاٹا رکن پارلیمنٹ شاہ جی گل آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی نشنل پارٹی کی حمایت پر انکا شکر گزار ہیں ۔ انہوں نے کہا فاٹا کو جلد از جلد کے پی میں ضم کیا جاے،فاٹا کو کے پی میں ضم نہ کیا گیا تو مشکلات پیدا ھونگی ۔ قبائیلی عوام نے ملک کی بقا کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا فاٹا کی حثیت تبدیل نہ کی گئی تو پورے ملک کے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اگر انگریز کا قانونفاٹا میں نہ ہوتا تو حکیم اللہ محسود ، بیت اللہ محسود اور عمر خالد خراسانی پیدہ نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا اگر فاٹا کے پی میں ضم نہ کیا گیا تو صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کریں گے دوسری جنگ عزیم میں بھی کسی قوم پر اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا پچھلے ایک دہائی سے قبائلیوں پر ہو رہا ہے قبائلی آج بھی پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہیں ہم نے فاٹا کے عوام سے ووٹ لیا ہے, اسی لیے ہمیں علم ہے کہ وہ کیا چاہتا ہیں اگر فاٹا رفارمز نہ کیگئی تو ہمارا استقبال اب پتھروں سے کیا جائے گا ۔شاہ جی گل آفریدی نے کہا قبائلی نہیں چاہتے کہ ان کے علاقے کو علاقہ غیر کہا جائے کوئی بھی ملک ایسا نہیں جو اپنے علاقے کو علاقہ غیر کہا جاتا ہو یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ ہمیں دھمکیا ں دے رہا ہے اتنی قربانیوں کے بعد بھی ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں قبائلی علاقوں کو انضمام نہ کرنا ملک دشمنی ہے۔انہوں نے کہا فا ٹا ریفارمز میں رواج ایکٹ کے تحت قبائلی عوام کے اسلام آبادہائی کورٹ نا منظور ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کی بجائے پشاور ہائی کورٹ تک رسائی دی جائے ،فاٹا اصلاحات پر عمل در امد کے لیے حکومت کو 9 نومبر تک مہلت دیتے ہیں9 نومبر کے بعد اسلام آباد میں دما دمست احتجاج کریں گے۔ کل جماعتی کانفرنس سے ایم کیو ایم کے رہنما بیرسٹر سیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ فاٹا میں اصلاحات لانا وقت کی ضرورت ہے قبائلی عوام کو اپنے تقدیر کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے اگر قبائلیعوام کے امنگوں کے مطابق فاٹا کے تقدیر کا فیصلہ نہ کیا گیا تو خدشہ ہے آنے والے دنوں کوئی نیا بحران شروع ہوجائے سیاست سے بالاتر ہو کر فاٹا کے تقدیر کا فیصلہ کرنا ملک و قوم کے مفاد ہے۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو نے اپنے خطاب میں کہا کہ فاٹا سے متعلق ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ فاٹا کو پختونخواہ میں ضم کیا جائے اگر قبائلی نظام بہتر ہوتا تو انگریز اپنے لاگو کرتے قبائیلی ازم کو فاٹا میں اس لئےفروغ دیا گیا تاکہ اس علاقے کا استحصال کیا جائے صوبے میں ضم ہونے سے کوئی کسی کے روایات کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے والافاٹا کے مسلے کو ادھر ادھر جوڑنے کی ضرورت نہیں اس معاملے میں کسی بھی قسم کی مشکلات پیدا کرنے والے قبائیلی عوام سے زیادتی کر رہے ہیں اگر قبائلی پاکستان کے دیگر شہروں میں پاکستان کے قانون کے تحت زندگی گزار سکتے ہیں تو فاٹا میں کیوں نہیں حکومت پیر پیر سے کام لینا چھوڑدیں اور فاٹا کو پختونخواہ صوبے میں ضم کیا جائے۔محمود خان اچکزئی نے اے این پی کے زیر اہتمام اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے پختون سیاسی جماعتیں پختونوں کے حقوق اور فائدے کے لئے کبھی متفق نہیں ہو سکیں فاٹا کو انتہائی حساس ترین مسلہ سمجھتا ہوں فاٹا کے مسلے کو اتنا آسان نہ لیا جائے 1946 جب پاکستان کی تشکیل کا اعلان کیا گیا اس میں فاٹا شامل نہیں تھا مہمند، شمالی اور جنوبیوزیرستان ڈیورینڈ لائین کے معاہدے کے بعد تشکیل دے دیے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں