پاکستان کا وہ مہنگا ترین منصوبہ جس پر 4 ہزار ارب روپے خرچ ہو گئےمگر وہ ناکام ہونے والا ہے

  جمعرات‬‮ 7 ستمبر‬‮ 2017  |  10:00

اسلام آباد (آن لائن) نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر 4000 ارب روپے سے زائد خرچ کرنے کے باوجود منصوبے پر ناکامی کی تلوار لٹکنے لگی، بھارت نے سازش کے تحت مقبوضہ کشمیر میں 13 بجلی کے منصوبے شروع کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے جس پر 15 ارب روپے سے زائد کے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اگر بھارت ان میںکامیاب ہوجاتا ہے تو ملکی میگا منصوبہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور 969 میگاواٹ ناکام ہوجائے گا منصوبے پر 85 فیصد سے زائد کام مکمل ہوچکا

ہے اور منصوبہ سے سالانہ 5150 ارب یونٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے سالانہ 55 ارب روپے ریونیو اکٹھا کیا جائے گا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر حکومتی موقف کے باعث یہ منصوبہ بھی تباہی کی جانب جارہا ہے اور اگر پاکستان بھارت کو معاہدے پر عملدرآمد کروانے میں ناکام ہوگیا تو پھر 969 میگاواٹ کا یہ منصوبہ کسی کام کا نہیں رہے گا اور ملک کے اربوں روپے ڈوب جائیں گے۔بھارتی منصوبوں سے ملک میں پانی کی قلت بھی پیدا ہوجائے گی پہلے ہی بھارت پیک سیزن کے علاوہ دیگر مہینوں میں پاکستان کا پانی روک لیتا ہے جس سے ملک میں پانی کی کمی شدت اختیار کر جاتی ہے اگر یہی رویہ رہا تو پھر آئندہ چند سالوں بعد ملک میں فی کیپٹا پانی 400 سے بھی کم رہ جائے گا جو کہ ڈیڈ لیول تصور کیا جائے گا۔واضح رہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پہلے ہی کافی تاخیر کا شکار ہے ، اس منصوبے نے 2008 ء میں پروڈکشن شروع کرنا تھی لیکن تاحال مکمل نہیں ہوسکا ہے منصوبے کا ڈیزائن 1989 ء میں مکمل کیا گیا تھا اس کے بعد منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلیاں کی گئیں اور منصوبے کی لاگت ریکارڈ پر پہنچ چکی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستانیوں سے اس منصوبے کی تکمیل کیلئے بجلی بل میں سرچارج کاٹا جا رہا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں