شاہ محمود قریشی نے خاموشی سے عمران خان پر سب سے خطرناک وار کر دیا، انتہائی سنگین انکشافات

  ہفتہ‬‮ 12 اگست‬‮ 2017  |  20:44

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شاہ محمود قریشی نے خاموشی سے عمران خان پر سب سے خطرناک وار کر دیا، تفصیلات کے مطابق قومی اخبار روزنامہ امت کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف میں یہ بحث چل رہی ہے کہ عائشہ گلالئی کو شاہ محمود قریشی اور سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر کی مدد حاصل تھی، روزنامہ امت کی رپورٹ کے مطابق عائشہ گلا لئی کو ان الزامات لگانے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی اور سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر کی حمایت حاصل تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں سینئر ترین

رہنماؤں نے عائشہ گلا لئی کو ان بے ہودہ پیغامات کو منظر عام پر لانے کے لیے کہا۔ عائشہ گلالئی نے احتساب کمیشن پشاور میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔دریں اثناء تحریک انصاف کی منحرف رکن عائشہ گلالئی نے احتساب کمیشن کی جانب سے ممکنہ طور پر بلائے جانے پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے وہ وکلا سے مشاورت بھی کر رہی ہیں جبکہ عائشہ گلالئی عدالتی حکم پر اپنا موبائل ڈیٹا بھی دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس حوالے سے خصوصی تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرف سے احتساب کمیشن پشاور میں عائشہ گلالئی کے خلاف کرپشن کی درخواستیں دی گئی ہیں لیکن ان درخواستوں کے ساتھ کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔ عائشہ گلالئی کے خلاف دی گئی درخواستوں میں کہاگیا ہے کہ وہ مختلف ترقیاتی کاموں میں کمیشن کی صورت میں رشوت لینے کی مرتکب ہوئی ہیں، ان کے خلاف تحقیقات کرکے کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان درخواستوں کا احتساب کمیشن میں ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ان پر کس حد تک کارروائی ممکن ہے جبکہ احتساب کمیشن نے درخواستیں دینے والوں کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں کہ اگر ان کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت موجود ہیں تو احتساب کمیشن کو فراہم کریں تاکہ کارروائی کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔عائشہ گلالئی اس صورتحال کو دیکھ رہی ہیں اور اس سلسلے میں عائشہ گلالئی ملک کے معروف وکلاء سے رابطے میں ہیں۔ اگر احتساب کمیشن پشاور نے عائشہ گلالئی کو بلایا تو وہ وہاں پیش ہونے کے بجائے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں گی، جہاں وہ اپنی بے گناہی کو ثابت کریں گی اس کے علاوہ صوبہ خیبرپختونخوا کی اعلیٰ شخصیات کی کرپشن کے ثبوت بھی عدالت کو دیں گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں