تحریک انصاف پر کس نے قبضہ کرلیا ہے؟پارٹی چھوڑنے والی ناز بلوچ کے سنگین الزامات، عمران خان کو اہم مشورہ دے ڈالا

  اتوار‬‮ 16 جولائی‬‮ 2017  |  22:45

کراچی(آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ناز بلوچ پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئی ہیں ۔ اتوارکوپیپلزپارٹی میڈیا سیل میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پیپلزپارٹی شعبہ خواتین کی صدر فریال تالپور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج دوبارہ اپنے گھر لوٹ آئی ہوں۔میرے والد نے بھٹو کے ہاتھ میں پارٹی جوائین کی۔انہوں نے کہاکہ ایک ایسی شخصیت جو عمران خان کے ساتھ رہی وہ آج پیپلزپارٹی میں شامل ہوں لوگ چونک گئے ہیں۔میری خدمات عمران خان سے زیادہ ملک کے لیے تھیں۔ ناز بلوچ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے فلسفے اور

نظریئے سے متاثر ہوکر پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ میرا اچھا وقت گزرا لیکن آج تحریک انصاف اپنے منشور اور مقصد سے ہٹ چکی ہے ، آج پارٹی پر یوتھ کی بجائے بزرگوں کا قبضہ ہے اور نوجوانوں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف پر کوئی کیچڑاچھالنا نہیں چاہتی جب کہ تبدیلی کا نعرہ لگاتے لگاتے خود پی ٹی آئی تبدیل ہوگئی ہے اور یہ اب وہ پارٹی نہیں رہی جس کے لیے ہم نے کام کا آغاز کیا تھا۔عمران خان بچی کھچی پارٹی کو بچا لیں۔نازبلوچ نے کہاکہ میں نے پی ٹی آئی کے لیے متحرک کام کیا سوشل میڈیا پر متحرک رہی لیکن پی ٹی آئی صرف پنجاب تک محدود ہے اور مرکز کی سیاست کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ سندھ خصوصا کراچی سے 2013کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے 8لاکھ ووٹ حاصل کیے لیکن اس کے باوجود عمران خان نے سندھ پر توجہ نہیں دی۔انہوں نے کہاکہ سندھ میں پی ٹی آئی کا ورکر پارٹی چھوڑرہا ہے،پی ٹی آئی کا سندھ اور کراچی کی طرف فوکس نہیں ہے کیونکہ عمران خان چندگھنٹوں کے لیے کراچی آتے ہیں تو انہیں کراچی کے ورکرز سے دور رکھا جاتا ہے میں نے عمران خان کی اس جانب توجہ دلائی کہ وہ کراچی اور ورکرز کو وقت دیں کیونکہ نظریاتی ورکرز مایوس ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے تحریک انصاف میں کام کرتے ہوئے حد سے زیادہ محرومیاں محسوس کیں جس کے بعد میں نے بار بار عمران خان سے درخواست کی کہ وہ پارٹی پر توجہ دیں مگر انہوں نے پارٹی کارکنوں کو نظر انداز کیا جبکہ اس کے برعکس پیپلز پارٹی ایسی جماعت ہے جس نے اپنے کارکنوں کو بھی وزارت عظمی کے منصب کیلئے منتخب کیا اور انہیں عزت دی۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے تنظیمی فیصلوں میں صرف مرد شامل ہوتے ہیں خواتین کو دور رکھا جاتا ہے ۔اس پارٹی میں نوجوان کارکن صرف سوشل میڈیا تک محدود ہیں۔نظریاتی کارکن قیادت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پی ٹی آئی چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل ہورہے ہیں۔نازبلوچ نے کہاکہ کراچی میں ضمنی الیکشن میں ہار کی وجہ پی ٹی آئی کے چار لوگوں کی میوزیکل چیئر ہے گھوم کر یہ ہی لوگ کراچی کے صدر بن جاتے ہیں ۔پی ٹی آئی قیادت کی عدم توجہ سے کراچی میں ان کو حاصل ہونے والا مینڈیٹ ضائع ہوگیا۔انہوں نے کہاکہ میرا تعلق سیاسی گھرانے سے ہے میرے والد بھٹو صاجب کے ساتھ کام کیا تھا۔میری سیاسی تربیت میرے والد نے کی۔آج پیپلزپارٹی میں شامل ہوکر خوش ہوں ۔پیپلزپارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جس میں تنظیمی اسٹرکچر ہے۔انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کے لیڈر عمران خان نہیں بلاول بھٹو زرداری ہیں۔میں بغیر کسی فائدے کے پیپلزپارٹی میں اپنی مرضی سے شامل ہوئی ہوں کارکن کے طور پر پارٹی کی ترقی کے لیے کام کروں گی ۔انہوں نے کہاکہ سعید غنی پیپلزپارٹی کے فعال رہنما ہیں انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا میرے سیاسی سوالوں کے جواب دیئے میں مطمئن ہوئی،اس کے بعد پی ٹی آئی چھوڑ کر پیپلزپارٹی شامل ہوئی ہوں۔ ناز بلوچ نے کہا کہ عمران خان یوتھ کی نمائندگی کا دعوی کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اگر اس ملک میں کوئی یوتھ کی نمائندگی کررہا ہے تو وہ بلاول بھٹو زرداری ہیں ۔ ناز بلوچ نے کہا کہ کراچی کی بیٹی ہونے کی حیثیت سے عمران خان کی قیادت میں اپنی خدمات انجام دیں جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی نے نوجوانوں اور تبدیلی کا نعرہ لگایا،لیکن تبدیلی کا نعرہ لگاتے لگاتے خود تبدیل ہوگئی،اس لیے پی ٹی آئی کو خیرباد کہتے ہوئے پیپلزپارٹی میں قدم رکھا۔ میں پی ٹی آئی پر الزامات نہیں لگانا چاہتی بس عمران خان سے کہتی ہوں پارٹی معاملات پر اب بھی توجہ دیں کہیں ایسا نہ ہوں کہ وقت نکل جائے۔انہوں نے کہا کہ میرا پی ٹی آئی سے سفر ختم ہوچکا، یہ وہ سحر نہیں جس کی تلاش تھی،شہید بے نظیر بھٹو کی خدمات کو میں نے پی ٹی آئی میں رہتے ہوئے بھی سراہا ۔اس موقع پروزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے نازبلوچ کو پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ نازبلوچ کی شمولیت سے پیپلز پارٹی مضبوط ہوگی،جب کہ ناز بلوچ اور میرے والد ایک ساتھ اسمبلی میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس 114 میں 4 سیاسی جماعتوں کو شکست دی، آئندہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی ملک بھر سے کامیاب ہوگی۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کے جانے سے پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ پانی کا مسئلہ سنگین ہے،مشکلات ہیں اسی لئے واٹرکمیشن رپورٹ بنی جس کا ہمیں احساس ہے۔سندھ میں پینے کے صاف پانی کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ تمام مسائل آربی اوڈی کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ گورنر سندھ کی صوبے کے ساتھ دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے۔گورنر سندھ وفاق کے نمائندے ہیں ان توجہ صوبے پر ہونی چاہیے لیکن وہ کئی نظر نہیں آرہی ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کرپشن کے خلاف ہے۔نیب کو صرف پلی بارگیننگ میں کامیابی ملی ہے۔نیب نے کرپشن کو ختم نہیں کیا۔1999 میں مشرف نے نیب کا قانون ایمرجنسی میں نافذ کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ نیب قانون جب سندھ اسمبلی میں پیش کیا تو اس کی تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی،گورنرنے جو اعتراض کیے ہیں اس پراسمبلی میں بات کریں گے۔انہوں نے کہاکہ نیب بل پر گورنرسندھ کاموقف نیا نہیں ہے۔سترہویں ترمیم میں اس قانون کو تحفظ فراہم کیا گیا۔گورنر صاحب کوبل واپس کرنے کا اختیار ہے۔صوبے کے گورنر ہونے کے باوجود انکا مفاد صوبے کے ساتھ نہیں ہے۔نیب کے لیے سپریم کورٹ نے ہی کہا تھا کہ نیب دفن ہوچکا ہے۔فریال تالپور نے کہاکہ پیپلز پارٹی آج پورے ملک میں پھیل رہی ہے۔آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔انہوں نے کہاکہ امید ہے ناز بلوچ والد کے مشن کو آگے بڑھائیں گی۔ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں ۔ناز بلوچ اپنی فیملی میں واپس آئی ہیں۔اس موقع پر،وقار مہدی،سعید غنی،سندھ کے وزیرداخلہ سہیل انور سیال اورراشد ربانی بھی موجود تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔