شریف فیملی کیخلاف جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیش ہونے کا خواہشمند انعام الرحمان سحری کون ہے؟اس کے بین الاقوامی سطح پر وارنٹ گرفتاری کیوں جاری ہوئے؟حیرت انگیزانکشافات

  اتوار‬‮ 18 جون‬‮ 2017  |  20:29
اسلام آباد(آئی این پی)شریف خاندان کے خلاف مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے دعویداراور اب پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیش ہونے کے خواہشمند ریلویز پولیس کا سابق ایس پی انعام الرحمان سحری نیب زدہ نکلا اور سابق صدر پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) سے بھی مستفید ہوا،انٹرپول نے ملزم انعام الرحمان سحری کی گرفتاری کیلئے ریڈوارنٹ جاری کررکھے ہیں ،نیب نے سال2007میں انعام الرحمان سمیت پانچ ملزمان کی بیرون ملک سے گرفتاری کیلئے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا
،انعام الرحمان تاحال بیرون ملک روپوش ہے ۔ذرائع کے مطابق شریف فیملی کے خلاف مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے اور شواہد رکھنے کے دعویدار ریلویز پولیس کے سابق ایس پی انعام الرحمان سحری جو جے آئی ٹی میں شریف خاندان کے خلاف بطور گواہ پیش ہونا چاہتا ہے وہ خود کرپشن میں ملوث رہا ہے اور نیب نے سال 2002میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں انعام الرحمان سحری کے خلاف کرپشن کی انکوائری اور تحقیقات مکمل کر کے کرپشن ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا تھا جس میں ان کے اثاثوں کی مالیت کو ان کی انکم سے کہیں زیادہ قرار دیا گیا تھا اور ان پر خردبرد کے الزامات عائد کئے گئے تھے جس کے بعد انعام الرحمان سحری گرفتاری سے بچنے کیلئے روپوش ہوااور بیرون ملک فرار ہوگیا تھا ، احتساب عدالت کی طرف سے ملزم کو اشتہاری قراردیا گیا تھا جس پر سال2007میں نیب نے ملزم کی گرفتاری کیلئے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا اور باضابطہ طور پر اس کے ریڈ وارنٹ جاری کروائے تھے ۔ 4ستمبر2007کو نیب کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق انٹرپول نے نیب کی درخواست پر مجموعی طور پر پانچ ملزمان کی گرفتاری کیلئے انکے ریڈوارنٹ جاری کئے تھے،ان ملزمان پر کرپشن ، فراڈ ، جعل سازی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام تھا ان ملزمان میں ریلویز پولیس کے سابق ایس پی انعام الرحمان سحری ، او جی ڈی سی ایل کی خریداری کمیٹی کے ممبر راحیل جلال مولا،پاکستان ایگریکلچر اینڈ ریسرچ کونسل کے ڈاکٹر سی ایم انور خان ، پی آر سی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مظفر نشاط اور پی آر سی کے اسسٹنٹ ٹیکنیکل آفیسر اسلم پرویز درانی شامل ہیں ۔پی آر سی کے افسروں کا کونسل کیلئے مارکیٹ ریٹ سے زائد قیمت پر گاڑیاں خرید کر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے جبکہ او جی ڈی سی کی خریداری کمیٹی کے ممبر راحیل جلال مولا قریشی نے ٹھیکوں کی نیلامی کیلئے قومی خزانے کو 112ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا تھا ۔دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی اور سابق صدر پرویز مشرف کے درمیان ہونے والے قومیمفاہمتی آرڈیننس (این آر او) سے انعام الرحمان سحری بھی اسی طرح مستفید ہوا جس طرح سابق سیکرٹری خزانہ جاوید طلعت ، سابق سیکرٹری تجارت سلمان فاروقی ، سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رحمان اے ملک ،آڈیٹر سی ایم اے ابرار حسین جوکھر اورسی ڈی اے کے تین سابق ڈی سی چوہدری محمد اسلم ، محمد امین اور شوکت علی این آر او سے مستفید ہوئے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

0

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔