اپنے قاتل کا انتخاب کر لیں

  منگل‬‮ 26 مارچ‬‮ 2019  |  0:01

سررابرٹ ایجرٹن پنجاب کا لیفٹیننٹ گورنر تھا‘ ایجرٹن نے 1886ءمیں نواب سر صادق محمد خان کے ساتھ مل کر بہاولپور شہر میں جدید تعلیم کا تعلیمی ادارہ بنایا‘ یہ ادارہ بعد ازاں سر صادق اور سرایجرٹن کی مناسبت سے ایس ای کالج کہلانے لگا‘ یہ جنوبی پنجاب میں انگریزی تعلیم کا پہلا کالج تھا‘ آپ اس سے نواب آف بہاولپور کے وژن اور ترقی پسندی کا اندازہ کر سکتے ہیں‘ انگریز نے 1882ءمیں پنجاب یونیورسٹی لاہور کی بنیاد رکھی تھی‘ یہ مدراس‘ ممبئی اور کلکتہ کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کی چوتھی یونیورسٹی تھی۔

انگریز نے یونیورسٹی سے پہلے گورنمنٹ کالج لاہور کے نام سے 1864ءمیں پنجاب میں پہلا کالج بنایا تھا‘ نواب آف بہاولپور ہندوستان کے پہلے نواب تھے جو خود چل کر رابرٹ ایجرٹن کے


پاس گئے‘ جگہ اور سرمایہ دیا اور اپنی زمین پر گورنمنٹ کالج کے بعد انگریزی کالج قائم کرایا‘ ایس ای کالج 133 سال کی تاریخ کے ساتھ آج بھی قائم ہے لیکن آپ علمی زوال ملاحظہ کیجئے‘ وہ کالج جس کی بنیاد دین دار نواب سر صادق محمد خان نے انگریز لیفٹیننٹ گورنر سر رابرٹ ایجرٹن کے ساتھ مل کر رکھی تھی اس میں 20 مارچ 2019ءکو ایک طالب علم نے انگریزی کے پروفیسر کو چھریاں مار کر قتل کر دیا‘ پولیس پہنچی تو دیکھا پروفیسر کی لاش فرش پر پڑی تھی جبکہ قاتل نوجوان اطمینان سے کرسی پر بیٹھا تھا‘ پولیس نے قاتل سے وجہ پوچھی‘ نوجوان نے بڑے اعتماد کے ساتھ جواب دیا ”یہ اسلام کے خلاف باتیں کرتا تھا“ کیا مقتول پروفیسر واقعی اسلام کے خلاف باتیں کرتا تھا؟ ہمیں یہ جاننے کےلئے ذرا سا گہرائی میں جانا ہو گا۔یہ پروفیسر خالد حمید اور طالب علم خطیب حسین کی کہانی ہے‘ پروفیسر خالد حمید انگریزی کے پروفیسر تھے‘ مذہبی‘ ادبی اور سماجی خاندان سے تعلق رکھتے تھے‘ چھ سال سعودی عرب میں پڑھاتے رہے‘ حج بھی کیا اور سات عمروں کی سعادت بھی حاصل ہوئی‘ پابند صوم و صلوٰة بھی تھے اور وسیع المطالعہ بھی‘ فکری لحاظ سے بھی متوازن اور گہرے تھے‘ وہ ہمیشہ اعتدال پسندی کی تبلیغ کرتے تھے۔

عمر ساٹھ سال تھی‘ اکتوبر 2019ءمیں ریٹائر ہو رہے تھے‘ کالج میں ہر سال سالانہ فنکشن ہوتا ہے‘ پروفیسر خالد حمید اس فنکشن کے آرگنائزر ہوتے تھے‘ یہ روایت کالج میں 125 سال سے چل رہی ہے‘ ادارہ مخلوط ہے‘ لڑکیاں بھی لڑکوں کے ساتھ پڑھتی ہیں‘ اینول فنکشن میں میوزک بھی بجایا جاتا ہے‘ ڈرامے بھی کئے جاتے ہیں اور ان میں لڑکے اور لڑکیاں پرفارم بھی کرتی ہیں‘ 2019ءکے اینول فنکشن کی تیاریاں چل رہی تھیں لیکن پھر ان تیاریوں میں خطیب حسین شامل ہو گیا۔

یہ نوجوان یزمان کے چک 90 کا رہائشی ہے‘ کالج میں بی ایس کے پانچویں سمسٹر کا طالب علم تھا‘ خطیب حسین کا خیال تھا یہ سالانہ فنکشن اور اس کا مٹیریل دونوں غیر اسلامی ہیں اور یہ ہمارے مذہب کی سیدھی سادی توہین ہے‘ اس نے ایک دو مرتبہ پروفیسر خالد حمید کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن پروفیسر اورطالب علم دونوں کی مذہبی تشریح میں فرق تھا‘ ایک کا مذہب معتدل تھا جبکہ دوسرے کے مذہب میں ہنسنا بھی حرام تھا لہٰذا ڈائیلاگ آگے نہ چل سکا۔

خطیب حسین اینول فنکشن سے ایک دن پہلے صبح کے وقت پروفیسر خالد حمید کے دفتر میں چھپ کر بیٹھ گیا‘ پروفیسر آئے‘ خطیب حسین نے انہیں گردن سے پکڑا اور ان کے سر‘ گردن اور چھاتی پر چھریاں مارنا شروع کر دیں‘ وہ پروفیسر کو اس وقت تک مارتا رہا جب تک ان کی جان نہ نکل گئی‘ خطیب حسین نے پروفیسر کی لاش فرش پر پھینکی اور خود خون آلود ہاتھوں کے ساتھ اطمینان سے کرسی پر بیٹھ گیا‘ یہ خبرنشر ہوئی اور پورے ملک میں سراسیمگی پھیل گئی۔

ہم اگر بہاولپور کے واقعے کو کرائسٹ چرچ کے سانحے اور یزمان کے خطیب حسین کو آسٹریلیا کے برینٹن ٹیرنٹ کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو غیر مسلم نیوزی لینڈ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا فرق کھل کر ہمارے سامنے آ جائے گا‘ ہمیں خطیب اور ٹیرنٹ میں بے شمار مشترک چیزیں بھی مل جائیں گی‘ ہم پہلے خطیب اور ٹیرنٹ کی مشترکہ چیزوں پر بات کرتے ہیں مثلاً ٹیرنٹ یہ سمجھتا تھا اس کا مذہب اور نسل مسلمانوں کی نسل اور مذہب سے بہتر ہے‘ خطیب حسین بھی اس مغالطے کا شکار ہے۔

یہ سمجھتا ہے پروفیسر خالد حمید حج‘ سات عمروں‘ پانچ وقت کی نماز اور دنیا جہاں کی تفاسیر کے مطالعے کے باوجود اچھا مسلمان نہیں جبکہ میں قرآن کی تفسیر اور تشریح پڑھے بغیر بہترین مسلمان ہوں لہٰذا یہ پروفیسر کو نہایت سفاکی کے ساتھ قتل کردیتا ہے‘ٹیرنٹ بھی اسی مغالطے کا شکار تھا‘ وہ عیسائیت کو اسلام سے بہتر مذہب اور آسٹریلیا کو پوری اسلامی دنیا سے بہترین سوسائٹی سمجھتا تھا چنانچہ اس نے مسجد میں50مسلمانوںکوشہید کر دیا‘ دنیا میں عبادت گاہیں اور تعلیمی ادارے دونوں مقدس ترین مقامات سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر نے آکسفورڈ اور کیمبرج اور چرچل نے ہائیڈل برگ اور گوٹن برگ یونیورسٹیوں پر حملہ نہیں کیا تھا‘ امریکا نے بھی 1945ءمیں ایٹم بم گرانے کےلئے جاپان کے دو ایسے شہروں کا انتخاب کیا تھا جہاں کوئی بڑی یونیورسٹی نہیں تھی‘ دنیا کی تمام جنگوں میں عبادت گاہیں بھی سلامت رہیں‘ یونیورسٹیوں اور پروفیسروں پر حملہ کرنے اور عبادت گاہوں میں گولیاں چلانے کےلئے انتہائی سفاک دل چاہیے ہوتا ہے اور ٹیرنٹ اور خطیب حسین دونوں کے سینوں میں یہ دل موجود تھا۔

ٹیرنٹ نے 15مارچ کو کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں میں گولیاں چلا کر 50 مسلمان شہید کر دیئے جبکہ خطیب حسین نے کالج میں اپنے ہی پروفیسر کو چھری سے قتل کر دیا‘ ٹیرنٹ کو بھی پچاس لاشیں گرا کر ملال نہیں ہوا اور خطیب حسین بھی اپنے کئے پر شرمندہ نہیں چنانچہ دونوں میں کوئی فرق نہیں‘ ایک نے مسجد میں 50 لوگ شہید کر دیئے اور دوسرے نے 50 عام لوگوں سے زیادہ قیمتی پروفیسر قتل کر دیا‘ ہمیں ماننا ہو گا ایک انگریز ہے اور دوسرا انگریزی کے پروفیسر کا قاتل ہے اور بس‘ دونوں میں مزید کوئی فرق نہیں۔

آپ ایک اورنکتہ بھی ملاحظہ کیجئے‘ خطیب حسین ایسے کالج کا طالب علم تھا جو ایک انگریز نے 133 سال پہلے ایک ایسے مسلمان حکمران کے ساتھ مل کر بنایا تھا جس نے جامعہ الازہر کی طرز پر ہندوستان میں پہلی اسلامی یونیورسٹی بنائی تھی‘ خطیب حسین نے انگریز کے بنائے کالج میں انگریزی کے پروفیسر کو قتل کیا جبکہ دوسری طرف برینٹن ٹیرنٹ نے اس ملک میں 50 مسلمانوں کو مسجدوں میں شہید کر دیا جس کے قانون نے ان مسلمانوں کو شہریت بھی دی اور مساجد بنانے کی اجازت بھی۔

یہ دونوں لوگ دو مختلف معاشروں کا فکری اور دینی انحطاط ہیں‘ مغرب ٹیرنٹ جیسے لوگوں کے ہاتھوں زخمی ہو رہا ہے اور اسلامی معاشرے خطیب حسین کا نشانہ بن رہے ہیں اور اب پاکستان محفوظ ہے اورنہ نیوزی لینڈ جیسے عیسائی معاشرے۔ہم اب ان دونوں واقعات کے بعد دونوں معاشروں کے ردعمل پر بات کریں گے‘ نیوزی لینڈ میں برینٹن ٹیرنٹ نے پندرہ مارچ کو جمعہ کی نماز کو نشانہ بنایا‘ اگلے دن وزیراعظم جیسنڈاآرڈرن نے سر ڈھانپ کر نیوزی لینڈ کی مسلمان کمیونٹی سے تعزیت کی۔

 پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ مسلمان امام کو دعوت دی گئی اور مولانانظام الحق تھانوی نے غیر مسلم پارلیمنٹ میں سورةبقرہ کی چار آیات کی تلاوت فرمائی‘ ملک میں سیمی آٹو میٹک اسلحے پر پابندی بھی لگا دی گئی‘ حکومت نے شہریوں سے مہلک ہتھیار خریدنے کےلئے باقاعدہ فنڈ بھی تخلیق کر دیا‘ سانحے کے بعد دوسرے جمعہ کی نماز کرائسٹ چرچ کے پارک میں ہوئی‘ ڈیڑھ ہزار مسلمان شریک ہوئے جبکہ پانچ ہزار غیر مسلم سر ڈھانپ کر نمازیوں کے پیچھے کھڑے رہے۔

پورے ملک میں اذان نشر کی گئی‘ مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کےلئے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی‘ پورے ملک میں خواتین نے سکارف اور مردوں نے ٹوپی پہنی‘ وزیراعظم نے نبی اکرم کا نام مبارک بھی لیا اور درود بھی پڑھا‘ پورے نیوزی لینڈ میں کوئی شخص قاتل کا نام بھی نہیں لیتا‘ کرائسٹ چرچ کے سانحے کی وجہ سے نیوزی لینڈ میں 62 اور پوری دنیا میں ساڑھے نو سو لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور دی پریس جیسے اخبار نے 22 مارچ کو پہلے صفحے پر عربی زبان میں سلام شائع کیا۔

آپ پچھلے دو ہفتوں میں نیوزی لینڈ کا میڈیا دیکھئے‘ آپ کو یہ غیر مسلم ملک اسلامی جمہوریہ محسوس ہوگا جبکہ آپ بہاولپور کے واقعے کے بعد اپنے معاشرے کا ردعمل بھی دیکھ لیجئے‘ حکومت‘ میڈیا اور معاشرے تینوں نے پروفیسر خالد حمید کے قتل کو عام قتل سے زیادہ اہمیت نہیں دی‘ حکومت کا کوئی رکن پروفیسر کے جنازے میں شریک نہیں ہوا‘ ملک کے کسی اعلیٰ ایوان میں پروفیسر کےلئے فاتحہ خوانی نہیں ہوئی‘ ہم نے نیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے نعیم راشد کو ایوارڈ دے دیا۔

اچھا کیا لیکن ہم نے پروفیسر خالد حمید کے قتل کو قتل تک نہیں سمجھا‘ آپ سوشل میڈیا کھول کر دیکھ لیجئے‘ ملک کے ہزاروں لوگ حقائق جانے بغیر پروفیسر خالد حمید کے قتل کو درست قدم قرار دے رہے ہیں‘ یہ اسلام آباد کے کسی پروفیسر کے خیالات کو پروفیسر خالد حمید کی گستاخی قرار دے کر سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں اور لوگ اسے سچ بھی سمجھ رہے ہیں‘آپ فرق دیکھئے برینٹن ٹیرنٹ کی ماں تک اس کا نام لینے کےلئے تیار نہیں جبکہ خطیب حسین تیزی سے ہیرو بن رہا ہے۔

ہمیں اس فرق کو اہمیت بھی دینا ہو گی اور اسے سمجھنا بھی ہو گا‘ ہم اگر یہ ٹرینڈ نہیں روکتے‘ ہم اگر شدت پسندانہ سوچ کو نہیں بدلتے تو پھر ہم دوہری جنگ کا شکار ہو جائیں گے‘ ہمیںبرینٹن ٹیرنٹ جیسے لوگ مسلمان سمجھ کر ماریں گے اور دوسری طرف مسلمان اسلام کی اپنی مرضی کی تشریح کر کے پروفیسر خالد جیسے مسلمانوں کو قتل کرتے رہیں گے اور یہ سلسلہ اگر شروع ہو گیا تو پھر ہمارے پاس صرف ایک آپشن بچے گا‘ ہم برینٹن ٹیرنٹ کے ہاتھوں قتل ہوں یا پھر ہم خطیب حسین کی شدت کا نشانہ بن جائیں‘ ٹیرنٹ ہمارے قتل کی خوشی منائے یا پھر خطیب حسین ہماری لاش کے قریب کرسی رکھ کر بیٹھ جائے۔

آئیے ہم ایک ہی بار اپنے قاتل کا انتخاب کر لیں یا پھر سوچنا‘ سمجھنا اور پڑھنا بند کر دیں اور بہن کی سری بن کر چپ چاپ زندگی گزار یں‘ ہمارے پاس اب قتل ہونے یا پھر بے حسی کی چادر اوڑھ کر سونے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔