رسول اللہ ﷺ کاعہد نامہ سینٹ کیتھرائن

  اتوار‬‮ 3 فروری‬‮ 2019  |  0:01

آپ اگر قاہرہ سے بائی روڈ شرم الشیخ کی طرف سفر کریں تو آپ کو بحیرہ احمر کے پار ایک وسیع صحرا ملے گا‘ صحرا کی ایک سائیڈ آخر میں بحیرہ روم‘ دوسری نہر سویز‘ تیسری بحیرہ احمر اور چوتھی سائیڈ اسرائیل سے جا ملتی ہے‘یہ صحرا سینا یا سنائی کہلاتا ہے‘ سینا میں مختلف سائز کی بے شمار پہاڑیاں ہیں‘ جنوبی حصے میں موجود بلند ترین پہاڑکوہ طورکہلاتا ہے‘ یہ پہاڑ ساڑھے سات ہزار فٹ بلند ہے‘ تیرہ سو قبل مسیح میں حضرت موسیٰ ؑ اپنی اہلیہ حضرت صفورا کے ساتھ کوہ طور کے قریب سے گزرے تھے‘

سردی تھی‘ آپؑ کو پہاڑ پر آگ نظر آئی‘ آپؑ نے اپنی اہلیہ کو رکنے کا حکم دیا اور آگ کی تلاش میں پہاڑ پر چڑھ گئے‘ حضرت


موسیٰ ؑ کو طور کے دامن میں جلتی ہوئی جھاڑی دکھائی دی‘ جھاڑی کے قریب پہنچے تو آپؑ کو اللہ تعالیٰ کا جلوہ نظر آ یا اورآپؑ کو نبوت مل گئی‘ یہودیوں نے اس واقعے کے ہزار سال بعد جھاڑی کے گرد ایک عبادت گاہ بنا دی‘ حضرت عیسیٰ ؑ تشریف لائے‘ یہ علاقہ عیسائی بادشاہوں کے قبضے میں آیا‘ رومن عیسائی بادشاہ قسطنطین نے 365ء میں یہاں ایک چھوٹا سا چرچ (چیپل) بنا دیا‘ چیپل کی تعمیر کے دو سو سال بعد 565ء میں رومن بادشاہ سیزر جسٹینین نے یہاں ایک بڑی خانقاہ تعمیر کر دی‘ یہ خانقاہ سینٹ کیتھرائن کہلاتی ہے‘ یہ آج تک سلامت ہے‘ حضرت موسیٰ ؑسے منسوب جھاڑی بھی اسی خانقاہ میں موجود ہے‘یہ مقام برننگ بش(برننگ بش کا تفصیلی واقعہ میرے گزشتہ کالم”کوہ طور سے اترتے ہوئے“ میں ملاحظہ فرما لیں) کہلاتا ہے‘ سینٹ کیتھرائن میں ایک لائبریری بھی ہے‘ یہ لائبریری دنیا کی دوسری قدیم ترین لائبریری ہے‘ اس میں دنیا کی قدیم معتبردستاویز موجود ہیں‘یہ دستاویز ڈاکومنٹس کہلاتے ہیں‘ ان ڈاکومنٹس میں نبی اکرمؐ سے منسوب ایک خط مبارک بھی موجود ہے‘ خط پر آپؐ کے دست مبارک کا نشان ہے‘ عیسائی اس خط کو نبی اکرمؐ کا کونینٹ ٹیسٹامنٹ  جبکہ مسلمان عہد نامہ کہتے ہیں‘ یہ دنیا میں واحد ایسی دستاویز ہے جس پررسول اللہ ﷺ کے دست مبارک کا نشان ہے۔ مصر تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف خلفاء کے قبضے میں رہا‘

یہ چرچ بھی ان ادوار میں مسلمانوں کے زیر نگین رہا لیکن خلفاء راشدین ہوں‘ بنو امیہ کا دور ہو‘ عباسیوں اور فاطمیوں کا عہد ہو‘ سلطان صلاح الدین ایوبی کا زمانہ ہو یا پھر خلافت عثمانی ہو‘ اسلامی ریاست کے ہر دور میں یہ چرچ بھی محفوظ رہا اور یہ عہد نامہ بھی‘ مسلمان حکمران بدلتے رہے لیکن ہر حکمران نے اس عہد نامے کا احترام بھی کیا اور اس کی تصدیق بھی‘ یہ معاہدہ ”تاریخ سینا القدیم“ جیسی معتبر کتاب میں بھی موجو دہے‘ عثمانی خلیفہ سلیم اول نے 1516ء میں مصر فتح کیا‘

سلیم اول نہ صرف خود سینٹ کیتھرائن پہنچا بلکہ اس نے اس عہدنامے کی تصدیق بھی کی‘ عثمانیوں کے دور میں گورنرمصر (پاشا آف مصر) ہر سال عہد نامے کی تصدیق اور معائنے کیلئے سینٹ کیتھرائن جاتا تھا‘عہد نامے کو چومتا تھااور اس کی تصدیق کیلئے ایک سرکاری خط جاری کرتا تھا‘ یہ تصدیق نامے بھی آج تک چرچ کی لائبریری میں موجود ہیں‘ میں اپنے 80 ساتھیوں کے ساتھ سینٹ کیتھرائن پہنچا اور اپنی گناہ گار آنکھوں سے عہد نامے کی زیارت کی‘

میرے ساتھی تھکے ہوئے تھے چنانچہ ہم بدقسمتی سے دنیا کی اس قدیم ترین لائبریری‘ عثمانی تصدیق ناموں‘ قرآن مجید کے قدیم نسخے اور خلفائے راشدین سے منسوب دوسری دستاویز نہ دیکھ سکے‘ میں نے وہاں کھڑے کھڑے محسوس کیا‘ہم بے صبرے لوگ بعض اوقات تھکاوٹ اور جلدبازی سے مغلوب ہوکرزندگی کی اہم ترین زیارتوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔یہ عہد نامہ کیا ہے اور یہ کیوں کیا گیا؟ اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں‘ ایک روایت کے مطابق خانقاہ سینٹ کیتھرائن کے چند متولی مدینہ آئے‘

نبی اکرمؐ نے ان کی میزبانی فرمائی‘ متولیوں نے رخصت ہونے سے پہلے عرض کیا‘ہمیں خطرہ ہے مسلمان جب طاقتور ہو جائیں گے تو یہ ہمیں قتل اور ہماری عبادت گاہوں کو تباہ کر دیں گے‘ آپؐ نے جواب دیا‘ آپ لوگ مجھ سے اور میری امت کے ہاتھوں سے محفوظ رہیں گے‘ متولیوں نے عرض کیا‘ ہم لوگ جب بھی کسی سے معاہدہ کرتے ہیں تو ہم وہ لکھ لیتے ہیں‘ آپ بھی ہمیں اپنا عہد تحریر فرما کر عنایت کر دیں تاکہ ہم مستقبل میں آپ کے امتیوں کو آپؐ کی یہ تحریر دکھا کر امان حاصل کر سکیں‘

آپؐ نے تحریر لکھوائی‘ تصدیق کیلئے کاغذ پر اپنے دست مبارک کا نشان لگایا اور عہدنامہ ان کے حوالے کر دیا‘ وہ لوگ واپس آئے اور یہ معاہدہ سینٹ کیتھرائن میں آویزاں کر دیا‘ مسلمان حکمرانوں نے اس کے بعد جب بھی مصر فتح کیا اور یہ سینا اور کوہ طور تک پہنچے تو خانقاہ کے متولی نبی اکرمؐ کا عہد نامہ لے کر گیٹ پر آ گئے‘ فاتحین نے عہد نامے کو بوسا دیا‘ خانقاہ اور مصر کے عیسائیوں کو پناہ دی اور واپس لوٹ گئے‘سینٹ کیتھرائن اسلامی دنیا کا واحد مقام ہے جو اس عہد نامے کی وجہ سے آج تک کسی مسلمان بادشاہ کے زیرقبضہ نہیں رہا‘

یہ خانقاہ ہر دور میں آزاد سمجھی گئی‘ یہ آج بھی آزاد ہے‘ وہ عہد نامہ کیا تھا‘ میں اس کا ترجمہ آپ کی نذر کرتا ہوں۔”یہ خط رسول اللہ ﷺ ابن عبداللہ کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے جنہیں اللہ کی طرف سے مخلوق پر نمائندہ بنا کر بھیجا گیاتاکہ خدا کی طرف کوئی حجت قائم نہ ہو‘ بے شک اللہ قادر مطلق اور دانا ہے‘ یہ خط اسلام میں داخل ہونے والوں کیلئے ہے‘ یہ معاہدہ ہمارے اوردورو نزدیک‘ عربی اور عجمی‘ شناسا اور اجنبی‘ عیسائیوں اور حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں کے درمیان ہے‘

یہ خط ایک حلف نامہ ہے اور جو اس کی خلاف ورزی کرے گا‘ وہ کفر کرے گا‘ وہ اس حکم سے روگردانی کا راستہ اختیار کرے گا‘ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والا خدا اور اس کے حکم کا نافرمان ہو گا‘ اس (خط) حکم کی نافرمانی کرنے والا بادشاہ یا عام آدمی خدا کے قہر کا حق دار ہوگا‘ جب کبھی عیسائی عبادت گزار اور راہب ایک جگہ جمع ہوں‘ چاہے وہ کوئی پہاڑ ہو یا وادی‘ غار ہو یا کھلا میدان‘ کلیساء ہو یا گھر میں تعمیر شدہ عبادت گاہ ہو تو بے شک ہم (مسلمان) ان کی حفاظت کیلئے ان کی پشت پر کھڑے ہوں گے‘

میں‘ میرے دوست اور میرے پیروکار ان لوگوں کی جائیدادوں اور ان کی رسوم کی حفاظت کریں گے‘ یہ (عیسائی) میری رعایا ہیں اور میری حفاظت میں ہیں‘ ان پر ہر طرح کا جزیہ ساقط ہے جو دوسرے ادا کرتے ہیں‘ انہیں کسی طرح مجبور‘ خوفزدہ‘ پریشان یا دباؤ میں نہیں لایا جائے گا‘ ان کے قاضی اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں‘ ان کے راہب اپنے مذہبی احکام اور اپنی رہبانیت کے مقامات میں آزاد ہیں‘ کسی کو حق نہیں یہ ان کو لوٹے‘ ان کی عبادت گاہوں اور کلیساؤں کو تباہ کرے اور ان (عمارتوں) میں موجود اشیاء کو اسلام کے گھر میں لائے‘

جو ایسا کرے گا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے حلف کی خلاف ورزی کرے گا‘ ان کے قاضی‘ راہب اور عبادت گاہوں کے رکھوالوں پر بھی جزیہ نہیں ہے‘ ان سے کسی قسم کا جرمانہ یا ناجائز ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا‘ بے شک میں ان سے وعدے کی پاسداری کروں گا‘ چاہے یہ زمین میں ہیں یا سمندر میں‘ مشرق میں ہیں یا مغرب میں‘ شمال میں ہیں یا جنوب میں‘ یہ میری حفاظت میں ہیں‘ ہم اپنے مذہبی خدا کی عبادت میں زندگی وقف کرنے والوں (راہبوں) اور اپنی مقدس زمینوں کو زرخیز کرنے والوں (چرچ کے زیر انتظام زمینوں) سے کوئی ٹیکس یا آمدن کا دسواں حصہ نہیں لیں گے‘

کسی کو حق نہیں کہ وہ ان کے معاملات میں دخل دے یا ان کے خلاف کوئی اقدام کرے‘ ان کے زمیندار‘ تاجر اور امیر لوگوں سے لیا جانے والا ٹیکس 12 درہم سے (موجودہ 200 امریکی ڈالر) سے زائد نہیں ہو گا‘ ان کو کسی طرح کے سفر (نقل مکانی) یا جنگ میں حصہ لینے (فوج میں بھرتی) پر بھی مجبور نہیں کیا جائے گا‘ کوئی ان سے جھگڑا یا بحث نہ کرے‘ ان سے قرآن کے احکام کے سوا کوئی بات نہ کرو ”اور اہل کتاب سے نہ جھگڑو مگر ایسے طریقے سے جو عمدہ ہو“ (سورۃ العنکبوت آیت 46)

پس یہ مسلمانوں کی جانب سے ہر طرح کی پریشانی سے محفوظ ہیں‘ چاہے یہ عبادت گاہ میں ہیں یا کہیں اور‘کسی عیسائی عورت کی مسلمان سے اس کی مرضی کے خلاف شادی نہیں ہو سکتی‘ اس کو اس کے کلیساء جانے سے نہیں روکا جا سکتا‘ ان کے کلیساؤں کا احترام ہو گا‘ ان کی عبادت گاہوں کی تعمیر یا مرمت پر کوئی پابندی نہیں ہو گی اور انہیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ قیامت تک اور اس دنیا کے اختتام تک اس حلف کی پاسداری کرے“۔

عہد نامے کے نیچے نبی اکرم ؐ کے دست مبارک کا نقش ہے‘ یہ نقش رسول اللہ ﷺ کے دستخط کی حیثیت رکھتا ہے۔مسلمانوں نے 1400 سال کی تاریخ میں اس عہد نامے کا احترام کیا‘ ہم نے ان برسوں میں کسی چرچ پر حملہ کیا‘ کوئی راہب قتل کیا اور نہ ہی کسی کلیساء کی زمین پر قبضہ کیا حتیٰ کہ صلیبی جنگوں کے دوران بھی اس معاہدے پر عمل ہوتا رہا‘ حضرت عمر فاروقؓ نے بیت المقدس کی فتح کے بعد کلیساء میں نماز پڑھنے سے انکار کر دیا تھا‘ حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں دمشق کے تمام چرچ اور عیسائی محفوظ رہے‘

اموی خلفاء نے جامع امیہ بنانے کا فیصلہ کیاتو عیسائیوں سے چرچ کی زمین باقاعدہ خریدی بھی گئی اور انہیں پورے دمشق میں ”جہاں چاہیں اور جتنے چاہیں“ چرچ بنانے کی اجازت بھی دی گئی‘ سپین میں بھی آٹھ سو سال عیسائی اور چرچ محفوظ رہے‘ مسجد قرطبہ میں چرچ کی زمین کا تھوڑا سا حصہ آ گیا تھا‘ خلیفہ نے تعمیر رکوا کر پادری سے باقاعدہ اجازت لی اور معاوضہ ادا کیا‘ سعودی عرب‘ عراق‘ مصر‘ ترکی‘ فلسطین‘ ایران اور سنٹرل ایشیا میں آج بھی پونے دو ہزار سال پرانے چرچ موجود ہیں‘

یہ چرچ ان ادوار میں بھی سلامت رہے جب مسلمان مسلمان کی خانقاہیں گرا دیتے تھے‘ جب مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان قتل ہو جاتے تھے‘ امیر تیمور نے 58 اسلامی ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی مگر کلیساء محفوظ رہے لیکن آج رسول ﷺ کے عاشقوں کے پاکستان میں عیسائی محفوظ ہیں اور نہ ہی ان کے چرچ‘کیوں؟ میں جب بھی یہ سوچتا ہوں میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں‘ میں رسول اللہ ﷺ کا عہد نامہ نکالتا ہوں‘ اسے بوسہ دیتا ہوں اور نم ناک آواز میں عرض کرتا ہوں ”یا رسول اللہ ﷺ‘ ہم شرمندہ ہیں‘ ہمیں معاف فرما دیں‘ آپؐ کی امت میں اب امتی نہیں ہیں صرف عاشق ہیں اور عاشق جان دے دیتا ہے لیکن حکم اور عہدنامہ نہیں مانتا“۔