کنایہ اینگل

  اتوار‬‮ 23 دسمبر‬‮ 2018  |  0:01

وہ نومولود بچے کے رونے کی آواز تھی‘ بھکشوؤں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ان کی نظریں آواز کے تعاقب میں دوڑ پڑیں‘ آواز ٹمپل کے مین گیٹ سے آ رہی تھی‘ بھکشوؤں کا استاد مین گیٹ پر پہنچا‘ دروازہ کھولا‘ دہلیز پر ایک کمبل تھا اور کمبل کے اندر ایک نومولود بچی تھی‘ استاد نے گلی میں دور دور تک دیکھا‘ ٹمپل کے گرد چھوٹی چھوٹی گلیوں میں بھی گیا لیکن اسے وہاں کوئی بندہ‘ کوئی بشر نہ ملا‘ شہر کی کوئی غریب‘ بے بس یا پھر عیاش ماں اپنی بچی ٹمپل کی دہلیز پر چھوڑ گئی تھی‘

استاد بچی کے والدین کو تلاش کرتے رہے لیکن کوئی وارث سامنے نہ آیا‘ ٹمپل کی خادموں نے بچی کا معائنہ کیا تو پتہ چلا


وہ قدرتی طور پر دونوں ٹانگوں سے محروم ہے‘ ٹمپل کی انتظامیہ کو بچی پر ترس آ گیا یوں وہ بھکشوؤں میں پلنے لگی‘ اس کا نام کنایہ سیسر  رکھ دیا گیا۔وہ تھائی لینڈ کے صوبے ناخن رتچشمہ کے ضلع ”پاک چونگ“ کا ٹمپل تھا‘ بچی ایک سال ٹمپل میں پرورش پاتی رہی‘ انتظامیہ نے سال بعد اسے بینکاک کے ایک ہسپتال میں داخل کرا دیا‘ کنایہ کو ہسپتال داخل کرانے کی دو وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ اس کا علاج تھا‘ ٹمپل چاہتا تھا ہسپتال میں بچی کو مصنوعی ٹانگیں لگا دی جائیں یا پھر اسے معذوری کی حالت میں چلنے پھرنے کی ٹریننگ دے دی جائے اور دوسری وجہ لواحقین کی تلاش تھی‘ ٹمپل چاہتا تھا خون کے نمونوں کے ذریعے بچی کے والدین تلاش کر لئے جائیں‘ ہسپتال نے بچی کو معذوری میں رہ کر چلنے پھرنے کی ٹریننگ دینا شروع کر دی‘ اس دوران اس کے والدین کی تلاش بھی جاری رہی لیکن والدین نے ملنا تھا اور نہ وہ ملے‘ بچی ہسپتال میں پانچ سال کی ہو گئی‘ پاک چونگ کا ٹمپل مردانہ تھا‘ وہ لوگ بچی کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے‘ ہسپتال میں بھی گنجائش نہیں تھی اور والدین بھی نہیں مل رہے تھے چنانچہ ٹھیک ٹھاک بحران پیدا ہو گیا‘ آپ اللہ کی کرنی دیکھئے‘ اس دوران امریکا کا ایک بے اولاد جوڑا بچہ گود لینے تھائی لینڈ آیا‘ وہ بچہ تلاش کرتا کرتا اس ہسپتال پہنچ گیا‘ کنایہ سیسر کو دیکھا اور اسے اس کی معذوری سمیت قبول کر لیا‘

ہم کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں امریکا‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا اور یورپ کے ہزاروں بے اولاد جوڑے ہر سال دنیا کے مختلف ملکوں سے یتیم بچے گود لیتے ہیں‘ ان ملکوں میں امریکا پہلے نمبر پر آتا ہے‘یورپ دوسرے اور کینیڈا تیسرے نمبرپر‘ان امیر ملکوں کے بے اولاد جوڑے تھائی لینڈ‘ فلپائن‘انڈیا‘ایتھوپیا‘ یوگنڈا‘ نائیجیریا اور کولمبیاسے بچے اڈاپٹ کرتے ہیں‘ یوکرین اور کوریا سے بھی بچے گود لئے جاتے ہیں‘تھائی لینڈ سے ہر سال 12 ہزار بچے گود لئے جاتے ہیں‘

یہ بچے یورپ‘ امریکا‘ کینیڈا اور آسٹریلیا جاتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر بچوں کی قسمت بدل جاتی ہے‘ تھائی لینڈ حکومت ہر سال یتیم اور بے آسرا بچوں کی فہرست جاری کرتی ہے‘ بچوں کو گود لینے کے متمنی خاندان یہ فہرست دیکھتے ہیں‘ یہ بچے منتخب کرتے ہیں‘ تھائی لینڈ آتے ہیں‘ بچوں سے ملتے ہیں اور پھر اپنی مرضی کا بچہ لے کر واپس چلے جاتے ہیں‘ ان بچوں کے پاس دوہری شہریت ہوتی ہے‘ یہ تھائی لینڈ کے شہری بھی ہوتے ہیں اور یہ نئے والدین کے نئے ملک کے سٹیزن بھی‘

آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے بے اولاد جوڑے صحت مند بچوں کی بجائے معذور بچوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں‘ اس کی دو وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ ذاتی اور دوسری سرکاری ہے‘ بے اولاد جوڑے معذور بچے کی پرورش کرتے ہوئے اپنے آپ کو زیادہ والدین محسوس کرتے ہیں اور دوسرا ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتیں معذور بچوں کو بے شمار سہولتیں اور رعایتیں دیتی ہیں یوں والدین کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں چنانچہ یہ لوگ معذور بچوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہم کنایہ کی کہانی کی طرف واپس آتے ہیں‘ امریکی جوڑے نے اسے پسند کیا اور یہ پانچ سال کی عمر میں امریکی ریاست آریگون کے شہر پورٹ لینڈ پہنچ گئی‘ کنایہ کے نئے والدین نے اسے سکول میں داخل کرا دیا‘ بچی نے آنے والے دنوں میں پورے شہر‘ پھر پوری ریاست اور آخر میں پورے امریکا کو حیران کر دیا‘ یہ نہ صرف چند ماہ میں امریکی لہجے میں انگریزی بولنے لگی بلکہ یہ بچوں کے مقابلے میں سو گنا باصلاحیت اور باہمت بھی نکلی‘ اللہ تعالیٰ نے اسے والدین‘ بہن بھائیوں‘ گھر‘ وطن اور ٹانگوں سے محروم کر رکھا تھا لیکن اس میں فٹ بال‘ سوئمنگ‘ سکیٹ بورڈنگ‘ ٹینس‘ رگبی‘ ریسنگ‘ بریک ڈانسنگ اور ماڈلنگ کا بے تحاشہ ٹیلنٹ تھا‘ یہ ویل چیئر پر بیٹھ کر کھیلتی تھی اور کمال کر دیتی تھی‘

اس نے سکول اور پھر کالج میں سو‘ دو سو اور چار سو میٹر ریس میں پہلی پوزیشن حاصل کی‘ یہ بہت جلد سپورٹس وئیر بنانے والی کمپنیوں کی نظر میں بھی آگئی اور یہ پندرہ سال کی عمر میں نائکی‘ بیلابونگ اور پینٹی پروپ کے اشتہارات میں آنے لگی‘ یہ بہت جلد پوری دنیا میں بھی مشہور ہو گئی‘کنایہ کا یہ سفر یہاں پر نہیں رکا‘ یہ اس کے بعد ”مونو سکینگ‘ میں بھی چلی گئی‘ یہ ایک انتہائی مشکل گیم ہوتی ہے‘ مونو سکینگ میں ایک شخص انتہائی سردی کے موسم میں برف سے جمے پہاڑ پر سکی کرتا ہوا واپس وادی میں آتا ہے‘

یہ اس وقت جنوبی کوریا میں مونو سکینگ کی ٹریننگ لے رہی ہے‘ یہ جنوری میں سکی کر کے پوری دنیا کو حیران کر دے گی۔کنایہ کی عمر اس وقت 23 برس ہے‘ لاس اینجلس میں مقیم ہے‘ یہ معذوری کے باجود ماہانہ 30 ہزار ڈالر کماتی ہے‘ آزاد اور خودمختار زندگی گزارتی ہے‘ اپنے والدین کی خدمت بھی کرتی ہے اور اس ٹمپل کو بھی رقم بھجواتی ہے جس نے اس کی ابتدائی زندگی کو سہارا دیا تھا‘ یہ جب ویل چیئر پر باہر نکلتی ہے تو لوگ اسے مڑ مڑ کر دیکھتے ہیں‘

یہ اس کی معذوری اور ہمت دونوں پر حیران ہوتے ہیں‘ کنایہ کا کہنا ہے میرے جیسے معذور لوگ اس دیکھنے کو ترس کی نظریں سمجھتے ہیں جبکہ میں اپنے آپ سے کہتی ہوں ”سویٹ کنایہ‘ تم ایک سلیبرٹی ہو‘ یہ لوگ تمہیں سلیبرٹی سمجھ کر دیکھتے ہیں“ اس کا کہنا ہے ”لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں‘ یہ اہم نہیں ہوتا‘ اہم یہ ہوتا ہے آپ زندگی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں‘ آپ زندگی کو کس نظر‘ کس اینگل سے دیکھتے ہیں‘ ہماری زندگی‘ ہماری زندگی ہے‘

اس کا ہر لمحہ ہماری امانت‘ ہماری جائیداد ہے‘ ہم اس جائیداد‘ اس امانت کو کس طرح استعمال کرتے ہیں‘ یہ اہم ہوتا ہے“ اس کا کہنا ہے ”ٹانگیں اللہ کی نعمت ہیں‘ انسان ٹانگوں کے بغیر ادھورا‘ نامکمل ہوتا ہے لیکن یہ ٹانگیں آپ کی زندگی کو محدود بھی کر دیتی ہیں‘ آپ زندگی اور اس کے فاصلوں کو اپنی ٹانگوں کی لمٹس سے ناپتے ہیں لیکن میرا ماٹو ہے نو لیگس‘ نو لمٹ (ٹانگیں نہیں تو فاصلوں کی قید بھی نہیں) چنانچہ میں خود کو لامحدود سمجھتی ہوں اور میں ہر وہ کام کرتی ہوں جس سے ٹانگوں والوں کو ان کی ٹانگیں روک لیتی ہیں‘

ٹانگوں والے اپنے لئے سکینگ‘ ریسنگ‘ فٹ بال‘ سوئمنگ‘ ٹینس‘ رگبی‘ باسکٹ بال‘ بریک ڈانس‘ماڈلنگ اور مونو سکینگ میں سے کوئی ایک یا دو گیمز پسند کرتے ہیں‘ یہ پوری زندگی صرف ایک دو کھیل کھیلتے ہیں لیکن قدرت نے کیونکہ مجھے ٹانگوں کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے چنانچہ میں خود کو لامحدود سمجھتی ہوں اور میں تمام کھیل بھی کھیلتی ہوں اور ان میں پوزیشنز بھی حاصل کرتی ہوں“ اس کا کہنا ہے ”لوگ معذوروں کو سپیشل پرسنز کہتے ہیں‘

ہم لوگ واقعی سپیشل پرسن ہوتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عام لوگوں کے مقابلے میں خصوصی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہوتا ہے‘ سننے والوں کی سننے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے لیکن بہروں کی قوت سماعت لامحدود ہوتی ہے‘ یہ آنکھوں‘ ناک اور ہاتھوں سے سنتے ہیں‘ یہ اپنے اندر کی آوازیں بھی سن لیتے ہیں اور یہ عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ انڈرسٹینڈ کرتے ہیں‘ بولنے والے لوگوں کے پاس لفظ محدود ہوتے ہیں‘ یہ ان محدود لفظوں کے ساتھ اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں جبکہ گونگوں کے پاس ابلاغ کی کوئی حد نہیں ہوتی‘ یہ اشاروں‘ جسمانی حرکتوں‘ ڈانس حتیٰ کہ سر کے بالوں کے ذریعے بھی بول سکتے ہیں‘

یہ آنکھوں سے بھی کمیونیکیٹ کر لیتے ہیں اور ٹانگوں والے تھک جاتے ہیں‘ یہ راستے میں سستانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جبکہ میرے پاس ٹانگیں نہیں ہیں چنانچہ میں تھکتی نہیں ہوں‘ میں ایک لامحدود سفر پر رواں دواں ہوں اور میں یہ سفر مکمل کر کے رہوں گی“۔ہمارے پاس زندگی کی بے شمار تعریفیں‘ بے شمار تشریحات ہیں‘ ہم لوگ زندگی کو مختلف زاویوں‘ مختلف اینگلز سے دیکھتے ہیں‘ ان اینگلز میں کنایہ کا اینگل‘ زندگی کے بارے میں کنایہ کا زاویہ بھی شامل ہے‘

ہماری صلاحیتیں‘ ہماری نعمتیں اور ہمارا مکمل جسم ہو سکتا ہے ہمارے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہو‘ ہم نے ہو سکتا ہے فاصلوں کو قدموں‘ آوازوں کو اپنی قوت سماعت اور کمیونیکیشن کو دو اڑھائی سو لفظوں تک محدود کر رکھا ہو‘ یہ سہولتیں ہو سکتا ہے ہمیں محدود کر دیتی ہوں اور یہ بھی ممکن ہے اللہ تعالیٰ ہم میں سے بعض لوگوں سے یہ نعمتیں‘ یہ سہولتیں چھین کر انہیں سپیشل بنا دیتا ہو‘ یہ انہیں لامحدود کر دیتا ہو‘ ہم زندگی میں جس حادثے‘ جس ڈیزاسٹر کو ”اینڈ آف دی ورلڈ“ سمجھتے ہوں ہو سکتا ہے وہ ڈیزاسٹر‘ وہ حادثہ ہمارے لئے نئی دنیا کے نئے راستے ہو‘

ہو سکتا ہے وہ ہمیں لامحدود صلاحیتوں‘ لا محدود کامیابیوں اور لامحدود خوشیوں تک لے جا رہا ہو‘ زندگی میں ایک کنایہ کا زاویہ بھی ہے‘ ہم میں سے ہر سپیشل انسان اس زاویئے پر چل کر خود کو لامحدود اور سپیشل بھی ثابت کر سکتا ہے اور عام لوگ بھی زندگی کے حادثوں کو اپارچیونٹی بنا سکتے ہیں‘ آپ اگر امیر سے غریب ہو گئے ہیں یا آپ جاب لیس ہو گئے ہیں تو آپ کنایہ کے اینگل سے سوچئے‘ ہو سکتا ہے آپ کی جاب‘ آپ کی امارت نے آپ کو محدود کر رکھا ہو‘ یہ آپ کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہو اور ہو سکتا ہے قدرت نے یہ رکاوٹ ہٹا کر آپ کو لامحدود کر دیا ہو‘ آپ کو ترقی کے راستے پر ڈال دیا ہو‘ آپ زندگی کو ایک بار کنایہ اینگل سے بھی دیکھیں‘ ہو سکتا ہے یہ اینگل ہی زندگی کا اصل اینگل ہو۔


loading...