سیویا کا ایک دن

  جمعہ‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  0:01

آرکائیوڈی انڈیا القصر کے مرکزی دروازے کے سامنے ہے‘ سپین نے سولہویں صدی کے آغاز میں ہندوستان میں اپنی پہلی کالونی بنائی اورتاجر تجارتی سامان لے کر انڈیا جانے لگے‘ بادشاہ نے جہازوں اور جہازرانوں کا ریکارڈ رکھنے کےلئے سیویا میں کمپلیکس بنا دیا‘ یہ شروع میں انڈین کاسا کہلاتا تھا‘امریکا سے تجارت شروع ہوئی تو امریکی ریکارڈ بھی یہیں رکھا جانے لگا‘ اٹھارہویں صدی میںتجارت ختم ہو گئی تو حکومت نے اس عمارت کو آرکائیو ڈی انڈیا کا نام دے دیا‘

یہ دنیا کے چند بڑے آرکائیوز میں شمار ہوتی ہے‘ اس میں پانچ سو سال کے دوران امریکا اور انڈیا جانے والے لوگوں‘ تجارتی سامان‘ آمدنی‘ اخراجات اور تجارتی جہازوں کا ڈیٹا ہے‘ یہ ڈیٹا کتنا زیادہ ہے آپ اس کا اندازہ الماریوں سے لگا

لیجئے‘ گائیڈ نے بتایا اگر آرکائیو ڈی انڈیا کی تمام الماریاں قطار میں کھڑی کر دی جائیں تو یہ نو کلو میٹر تک پھیل جائیں گی‘ یہ کلونیل طرز کی سپینش عمارت ہے اور یہ دل میں کھب جاتی ہے‘ سیویا کا جدید محل آرکائیو ڈی انڈیا سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ہے‘یہ محل 1929ءکی نمائش کےلئے بنوایا گیا تھا‘ یہ سرخ اینٹوں کی سرخ عمارت ہے اور یہ دائیں سے بائیں دور تک پھیلی ہے‘ سپین کے پچاس صوبے ہیں‘ محل میں بھی پچاس کمرے ہیں اور ہر کمرہ ایک صوبے سے منسوب ہے‘ ملک کے چار حصے ہیں چنانچہ محل میں مصنوعی نہر بنا کر اس پر چار پل بنا دیئے گئے‘ پورے محل کے فیس پر نیلی ٹائلیں اور سنگ مر مر کے چھوٹے ستون ہیں‘ یہ مورش کلچر اوراسلامی تہذیب کی نشانی ہیں‘ عمارت مشہور آرکی ٹیکٹ اوسوریو نے ڈیزائن کی‘اوسوریوکا مجسمہ محل کے سامنے ایستادہ ہے لیکن اس شاندار ٹریبوٹ کے باوجود اوسوریوکی زندگی کا آخری حصہ المیے میں گزرا‘ بادشاہ یہ محل جلد سے جلد مکمل دیکھنا چاہتا تھا لیکن آرکی ٹیکٹ اپنے ڈیزائن پر کمپرومائز کرنے کےلئے تیار نہیں تھا‘ طاقت اور پروفیشنل ازم کا مقابلہ ہوا اور طاقت جیت گئی‘ بادشاہ نے کانٹریکٹ منسوخ کر دیا‘

آرکی ٹیکٹ اپنی پوری زندگی کی کمائی محل پر لگا چکا تھا‘ کمائی ایک دن میں ڈوب گئی اور آرکی ٹیکٹ کسمپرسی کے عالم میںانتقال کر گیا لیکن اس کا ڈیزائن آج بھی سپین کو اربوں روپے کما کر دے رہا ہے‘ محل کے صحن میں برآمدے کے ساتھ ساتھ سپین کی تاریخ کے اہم واقعات کے موزیک ہیں‘ یہ باریک پتھروں کی پینٹنگز ہیں‘ میں سقوط غرناطہ اور کولمبس کی روانگی کے موزیک پر رک گیا‘ غرناطہ کے بوتھ میں ابوعبداللہ محمد الحمرا کی چابی فرڈیننڈ کے حوالے کر رہا تھا اور ملکہ ازابیلا مسکرا رہی تھی‘

میں نے آہ بھری اور آگے بڑھ گیا جبکہ کولمبس کے بوتھ میں کولمبس جہازوں کو روانگی کا حکم دے رہا تھا‘ محل کی بغل میں چند سو میٹر کے فاصلے پر دنیا کی سگریٹ کی پہلی فیکٹری تھی‘ یہ بھی ایک وسیع عمارت ہے‘ تمباکو‘ مکئی اور آلو امریکا سے یورپ آئے تھے‘ دنیا 1500ءتک ان کی شکل اور ذائقے سے نابلد تھی‘ ریڈانڈین تمباکو کے پتوں کا خشک چورا تمباکو کے پتے میں لپیٹ کر سلگاتے تھے اور اس کے کش لیتے تھے‘ یہ لوگ اسے سگار کہتے تھے‘

کولمبس امریکا سے ہزاروں سگار لے کر آیا‘ سگار سپینش اشرافیہ کےلئے نئی چیز تھے چنانچہ یہ دھڑا دھڑبکنے لگے‘ امراءسگار پیتے تھے اور اس کا آخری حصہ گلی میں پھینک دیتے تھے‘ غریب لوگ وہ حصہ اٹھا کر کھولتے تھے‘ سگار کا تمباکو کاغذ میں لپیٹتے تھے اور سلگا کر پینا شروع کر دیتے تھے‘ یہ بیڑی کہلاتی تھی‘ بیڑی کو ہسپانوی زبان میں سگریٹی یعنی غریب آدمی کا سگار کہا جانے لگا‘ تاجروں نے اس ٹرینڈ کو کیش کرانے کا فیصلہ کیا‘ وہ تمباکو امپورٹ کرنے لگے اورعام لوگ یہ تمباکو کاغذ میں لپیٹ کر پینے لگے‘

یہ ٹرینڈ 1750ءمیں سگریٹ فیکٹری میں تبدیل ہو گیا‘ سیویا میں پہلی سگریٹ فیکٹری بنی‘ بارہ سو خواتین بھرتی کی گئیں اور یہ ہاتھ سے سگریٹ بنانے لگیں‘ فیکٹری مالکان نے اربوں روپے کمائے‘ یہ فیکٹری 1950ءتک چلتی رہی‘ بند ہوئی تو حکومت نے اس میں آرٹ‘ کلچر اور زبان کی یونیورسٹی بنا دی‘ میں عمارت کے سامنے کھڑا تھا‘ عمارت کے سروں پر چرچ اور جیل تھی‘ چرچ میں کارکن خواتین عبادت کرتی تھیں جبکہ جیل میں سگریٹ چرانے والی خواتین بند کر دی جاتی تھیں‘ فیکٹری مالکان نے چوری سے بچنے کےلئے عمارت کے گرد خندق کھود رکھی تھی‘ وہ خندق آج تک موجود ہے۔

سیویا کا کیتھڈرل شہر کی اہم ترین عمارت ہے‘ یہ عمارت ماضی میں مسجد ہوتی تھی‘ عیسائیوں نے اشبیلیہ کے زوال کے بعد مسجد شہید کر دی تاہم مسجد کا مینار‘ صحن‘ دیوار کا ایک حصہ‘ مین گیٹ اور برآمدہ بچ گیا‘ یہ پانچوں آج بھی وہاں موجود ہیں‘یہ چرچ دنیا کا تیسرا بڑا کیتھڈرل ہونے کے باوجود شہید مسجد کا مقابلہ نہیں کر پا رہا‘ مسجد کا مینار پوری دنیا میں سیویا کا شناختی نشان ہے‘ آپ جب اور جہاں سیویا ٹائپ کریں گے اشبیلیہ کی شہید مسجد کا مینار سامنے آ جائے گا‘

مراکش کے مسلمان مسجد کےلئے چورس مینار بناتے ہیں‘ مینار پچاس بائی پچاس فٹ کا ایک کمرہ ہوتا ہے اور یہ کمرہ منزل بہ منزل اوپر اٹھتا چلا جاتا ہے‘ انتہائی بلندی پر پہنچ کر مینار کی چھت ڈال دی جاتی ہے اور چھت پر نسبتاً چھوٹا نوک دار مینار بنا یا جاتا ہے‘ مینار سازی کا یہ فن مراکش سے اندلس آیا‘ اس میں مقامی معماروں نے کھڑکیاں‘ جھروکے اور جالیاں بنائیں اور یوں یہ اصل سے زیادہ خوبصورت ہو گیا‘ عیسائی فاتحین نے 1401ءمیں مسجد گرانا شروع کی اور یہ لوگ جب مینار تک پہنچے تو مینار کی خوبصورتی اور کروفر نے ان کے بازو شل کر دیئے‘ مینار بچ گیا اور یہ آج سپین میں اسلام کے سنہری دور کا نقیب بن کر کھڑا ہے‘

آپ اگر کیتھڈرل کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوں تو آپ مسجد کے صحن میں آ جاتے ہیں‘ صحن میں آج بھی مالٹے کے درخت‘ فوارہ اور گہری سبز بیلیں ماضی اور حال کی گانٹھ بن کر موجود ہیں‘ بائیں جانب کیتھڈرل کے ہال کے دروازے سے پہلے مسجد کا برآمدہ بھی موجود ہے اور یہ برآمدہ اپنے منہ سے بول رہا ہے آپ نے جس دن مجھے ہٹانے کی کوشش کی‘ آپ کا سارا چرچ گر جائے گا‘ برآمدہ دراصل چرچ کی بنیاد ہے‘ برآمدہ ہٹانے سے چرچ کی عمارت واقعی قائم نہیں رہ سکے گی چنانچہ شہید مسجد کی یہ آخری نشانیاں کیتھڈرل کےلئے چیلنج بن کر کھڑی ہیں‘ کیتھڈرل کا آلٹر (قربان گاہ) دنیا کا سب سے بڑا آلٹر ہے‘

حضرت عیسیٰ ؑکی پوری زندگی مجسموں کی شکل میں آلٹر میں موجود ہے اور یہ تمام مجسمے سونے کے ہیں‘ میں نے پوری دنیا میں کسی جگہ اتنا سونا نہیں دیکھا لیکن یہ سارا سونا اور یہ ساری دلفریبی شہید مسجد کے ایک مینار کا مقابلہ نہیں کر پاتی‘ کیتھڈرل آٹھ سو سال گزرنے کے باوجود سیویا کا شناختی نشان نہ بن سکا‘ شہر کا شناختی نشان آج بھی مسجد کا مینار ہے‘ کیتھڈرل کا مین گیٹ بھی آٹھ سو سال سے قائم ہے‘ یہ کبھی مسجد کا مرکزی دروازہ ہوتا تھا‘ یہ دروازہ بھی قائم ہے اور اس پر کندہ آیات بھی‘ بے شک اللہ کے نام کو کوئی طاقت نہیں مٹا سکتی۔

کولمبس کی قبر سیویا کے کیتھڈرل میں ہے‘ کرسٹوفر کولمبس ایک حیران کن کردار تھا‘ وہ 1451ءمیں اٹلی کے شہر جنوا میں پیدا ہوا‘ 19 سال کی عمر میں مہم جوئی شروع کی‘ دھکے کھاتا ہوا پرتگال پہنچا‘ شادی کی‘ بیٹا ڈیگو کولمبس پیدا ہوا‘ بیوی کا انتقال ہوا اور وہ بیٹے کو لے کر سیویا آ گیا‘ ہندوستان کا قریب ترین روٹ دریافت کیا اور فنانسنگ کےلئے بادشاہوںکے پیچھے بھاگنے لگا‘ وہ آسٹریا‘ پرتگال اور سیویا کے بادشاہوں سے ملا لیکن کسی نے اس فضول کام میں دلچسپی نہ لی‘

وہ تھک ہار کر سیویا میں بیٹھ گیاتاہم وہ ملکہ ازابیلا کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا‘ ملکہ نے اس سے وعدہ کر لیا اگر وہ غرناطہ فتح کرنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ اس کے منصوبے کو فنانس کر دے گی‘ وہ فنڈنگ کے لالچ میں عیسائیوں کے لشکر میں شامل ہو گیا‘ قسمت نے یاوری کی اور غرناطہ فتح ہو گیا ‘ وہ تین جہازوں سانتا ماریا‘ نینا اور پنٹا پر87لوگ لے کرتین اگست 1492کو سیویا سے نکلا‘دریا وادی الکبیر سے ہوتا ہوااٹلانٹک اوشن میں اترا اور 36 دن بعد بہاماس پہنچ گیا‘

یہ ایک بہت بڑا بریک تھرو تھا‘ وہ 15 مارچ 1493 کو واپس لوٹ آیا‘ 25ستمبر1493ءکو دوسری مرتبہ امریکا گیا‘ اس نے اس بار ڈومنیکا اور کیوبا دریافت کر لیا‘ یہ کامیابی سونے کی کان ثابت ہوئی اور ہسپانوی تاجر دھڑا دھڑ امریکا جانے لگے‘ کولمبس‘ تاجر اور سیویا کا شاہی خاندان نئی دریافت کو انڈیا کا قریب ترین راستہ سمجھ رہے تھے‘ کولمبس پوری زندگی امریکا کو انڈیا‘ ڈومنیکا کو چین اور کیوبا کو جاپان سمجھتا رہا‘ وہ شاندار جہازران لیکن ناکام ترین ایڈمنسٹریٹر تھا‘

وہ اپنی حماقتوں کی وجہ سے اپنے لوگوں کے ہاتھوں گرفتار تک ہو گیا‘ ملکہ ازابیلا نے فوج بھجوا کر اس کی جان بچا لی‘ حکومت نے اس کے سفر پر بھی پابندی لگا دی‘ وہ شدید ذہنی خلجان کا شکار ہوا اور 1506ءمیں والا ڈولیڈشہر میں انتقال کر گیا‘ اس کا بیٹا ڈیگو اس کی لاش سیویا لے کر آیا اور اسے شہر کے باہر دفن کر دیا‘ ڈیگو کی وفات کے بعد اس کی بیوی ماریا اپنے خاوند اور سسرکولمبس کی لاش ڈومنیکاساتھ لے گئی اور انہیں ڈومنیکا میں سانتو ڈومینگوکیتھڈرل میں دفن کر دیا‘

کولمبس اڑھائی سو سال ڈومنیکا میں دفن رہا‘ 1795ءمیں ڈومنیکا میں حالات خراب ہو گئے‘ کیوبا اس وقت سپینش کالونی تھا‘ حکومت نے اس کی لاش نکالی اور کولمبس کو ہوانا میں دفن کر دیا‘ 1898ءمیں جب کیوبا کے حالات بھی خراب ہو گئے تو کولمبس کی لاش ہوانا سے سیویا لاکر کیتھڈرل میں دفن کر دی گئی‘ کولمبس کا دوسرابیٹا ہرنانڈو بھی کیتھڈرل میں دفن ہے۔1877ءمیں سانتو ڈومینگو کیتھڈرل میں کھدائی کے دوران ایک باکس دریافت ہوا تھا جس کے اوپر کرسٹوفرکولمبس کا نام لکھا تھا اور اس کے اندر 13 بڑی اور 28 چھوٹی ہڈیاں تھیں‘

کھدائی کرنے والوں نے دعویٰ کیا کولمبس کی سپین(سیویا) لے جائی جانے والی باقیات اصل نہیں ہیں‘یہ بحث 125سال چلتی رہی‘ یہ مسٹری حل کرنے کےلئے2002ءمیں سانتوڈومینگوکیتھڈرل اور سیویاکیتھڈرل میں موجود دونوں قبروں کی کھدائی کی گئی‘ باقیات کا ڈی این اے کیا گیااور ثابت ہوگیا سیویا کیتھڈرل کی باقیات ہی اصل میں کرسٹوفرکولمبس کی باقیات ہیں‘ کولمبس واقعی سیویا کیتھڈرل میں دفن ہے لیکن لاش کی بار بار کی نقل مقانی سے کولمبس کی باقیات صرف ڈیڑھ سو گرام بچی تھیں اور میں اس وقت ان باقیات کے سامنے کھڑا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں