حضرت صالح ؑ کی اونٹنی

  جمعرات‬‮ 4 اکتوبر‬‮ 2018  |  0:01

آل ثمود قوم عاد کے بعد آئی‘ یہ بھی انتہائی خوشحال اور مضبوط لوگ تھے‘ قد طویل اور جسم انتہائی مضبوط تھے‘ وہ بستر پر علالت کے عالم میں نہیں مرتے تھے‘ چلتے پھرتے کام کرتے ہوئے ٹانگیں سیدھی کرتے تھے“ ہچکی لیتے تھے اور دنیا سے رخصت ہو جاتے تھے‘ وہ بھی عاد کی طرح پہاڑ کاٹ کر عمارتیں بنانے کے ماہر تھے‘ اللہ نے انہیں بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کے ریوڑوں سے نواز رکھا تھا‘ خوشحالی‘ پتھر کے تراشے ہوئے گھر اور جسمانی مضبوطی نے ان میں تکبر پیدا کر دیا‘

تکبر اور کفر دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہوتے ہیں‘ متکبر لوگ بہت جلد کافر ہو جاتے ہیں‘ وہ بھی کافر‘ بت پرست اور مشرک ہو گئے‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح

ؑ کو مبعوث فرمایا‘ آپ نے قوم ثمود کو اللہ کا پیغام دیا‘ قوم نے آپ سے معجزہ طلب کیا‘ آپ نے قوم سے پوچھا ”تمہیں کیا معجزہ چاہیے“ قوم نے کہا تم اگر نبی ہو تو سامنے چٹان (پہاڑ) سے اونٹنی برآمد کردو‘ وہ اونٹنی بچہ دے اور ہم سب کےلئے دودھ‘ حضرت صالح ؑ نے دعا فرمائی‘ چٹان پھٹی اور ایک خوبصورت اونٹنی برآمد ہو گئی‘ اونٹنی چلتے ہوئے قوم ثمود کے پاس آئی‘ بچہ جنا اور اس کے تھن دودھ سے بھر گئے‘ قوم ثمود لاجواب ہو گئی‘ اللہ تعالیٰ نے بعد ازاں اونٹنی کےلئے ایک چشمہ رواں کیا اور چرنے کےلئے نخلستان آباد کر دیا‘ اونٹنی اور اس کا بچہ سارا دن اس نخلستان میں چرتے رہتے تھے‘ ثمود کے سات قبیلے اونٹنی کا دودھ آپس میں تقسیم کر لیتے تھے‘ حضرت صالح ؑ نے چشمے کا پانی بھی تقسیم کر دیا‘ پانی ایک دن اونٹنی پیتی تھی‘ لوگ اس دن اس کا دودھ دھوتے تھے‘ وہ لوگ اگلے دن اونٹنی کا دودھ نہیں نکالتے تھے اور چشمہ اس دن قبیلے کے جانوروں کےلئے وقف ہوتا تھا لیکن پھر نافرمانی کے کیڑے نے ان کے دماغ پر دستک دی اور ثمود کے دو نوجوانوں قیدار اور مصدع نے اونٹنی کو قتل کر نے کا منصوبہ بنا لیا‘ شراب پی اور اونٹنی پر حملہ کر دیا‘ قیدار نے تیر چلایا جبکہ مصدع نے تلوار سے اس کی ٹانگیں کاٹ دیں‘ اونٹنی کے بچے نے دیکھا تو اس نے چیخ ماری اور اسی چٹان کے اندر چلا گیا جس سے اونٹنی نے جنم لیا تھا‘

اونٹنی کا قتل قوم ثمود کے خاتمے کا باعث بن گیا‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر تین دن کا عذاب اتارا‘ پہلے دن ان کے چہرے سرخ ہوئے‘ دوسرے دن زرد ہو گئے اور تیسرے دن سیاہ ہو گئے‘ پھر شہر میں زلزلہ آیا‘ ایک چنگاڑ کی آواز آئی‘ پہاڑ قاشوں میں تقسیم ہو ئے اور قوم ثمود صفحہ ہستی سے مٹ گئی‘ مفسرین کے خیال کے مطابق چنگاڑ حضرت جبرائیل کی چیخ تھی‘ حضرت صالح ؑ اپنے 120 ساتھیوں کے ساتھ نقل مکانی کر گئے اور یوں آل ثمود بھی تاریخ کے اوراق میں جذب ہو گئی۔

حضرت صالحؑ کی قوم کہاں آباد تھی‘ اس کے بارے میں دو روایات ہیں‘ پہلی روایت کے مطابق آل ثمود سعودی عرب میں مدینہ منورہ سے چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر آباد تھی‘ یہ تبوک کا علاقہ ہے‘ اردن کی سرحد پر واقع ہے اور یہ حضرت صالح ؑ کی نسبت سے مدائن صالح کہلاتا ہے‘یہ سرخ چٹانوں کا شہر ہے‘ پتھروں کے گھر‘ دروازے‘ کھڑکیاں اور قدیم ٹمپل آج تک موجود ہیں‘ چشمے اور نخلستان کے آثار بھی ہیں‘ حضرت صالحؑ قوم پر عذاب کے بعد حضرموت یا احقاف تشریف لے آئے تھے‘

یہ علاقہ اس وقت یمن اور آج عمان (صلالہ) کا حصہ ہے‘ حضرت صالحؑ نے یہیں انتقال فرمایا‘ صلالہ سے دو سو کلومیٹر دور ناسک کے مقام پر ان کا مزار بھی موجود ہے‘ دوسری روایت کے مطاق آل ثمود نے قوم عاد کے علاقے پر قبضہ کیا‘ یہ صلالہ کے مضافات میں آباد ہوئے‘ اونٹنی اسی علاقے کی ایک چٹان سے نکلی ‘ یہیں قتل ہوئی‘ ثمود یہیں عذاب کا نشانہ بنے اور حضرت صالحؑ عذاب کے بعد صلالہ سے دو سو کلومیٹر دور ناسک میں آباد ہوگئے اور ان کا یہیں انتقال ہوا‘

حقیقت کیا ہے یہ اللہ کی ذات جانتی ہے تاہم یہ طے ہے صلالہ اور مدائن صالح کے درمیان3ہزار ایک سو 11کلو میٹر کا فاصلہ ہے اور یہ لوگ بیک وقت دو مختلف مقامات پر نہیں رہ سکتے تھے‘ یہ دونوں مقامات ایک ملک کا حصہ بھی نہیں ہو سکتے تھے لیکن یہ عین ممکن ہے ثمود پر عذاب کے بعد زندہ بچ جانے یا ایمان لانے والے لوگ احقاف سے حجاز میں مدائن صالح شفٹ ہو گئے ہوں‘ وہاں پہاڑوں میں پتھر تراش کر گھر بنائے ہوں اور یہ بعد ازاں کسی قدرتی آفت کی وجہ سے مدائن صالح سے پیٹرا منتقل ہو گئے ہوں کیونکہ پیٹرا اور مدائن صالح کے مکانات بھی ایک جیسے ہیں اور دونوں کا آرٹ اور رہن سہن بھی ایک جیسا تھا اور یہ دونوں شہر ایک ہی روٹ پر چند سوکلو میٹر کے فاصلے پر ہیں‘

پیٹرا اردن میں وادی موسیٰ میں واقع ہے‘ وادی موسیٰ ماضی میں تبوک تک وسیع تھی‘ آج بھی ایک بڑی سڑک تبوک اور پیٹرا کو آپس میں جوڑتی ہے چنانچہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے آل ثمود احقاف (صلالہ) میں آباد تھی‘ عذاب کے بعد کچھ مومن حضرت صالح ؑ کے ساتھ ناسک میں آباد ہو گئے اور کچھ ایک دو نسلوں کے بعد مدائن صالح چلے گئے اور ان کی نسل بعد ازاں پیٹرا میں نقل مکانی کر گئی تاہم یہ بھی ممکن ہے آل ثمود مدائن صالح سے احقاف آئی ہو لیکن یہ امکان کم ہے‘ کیوں؟

کیونکہ عذاب کے بعد آل ثمود (مومنین) کو فلسطین (اردن‘ شام اور اسرائیل) قریب پڑتا تھا اور یہ دنیا کی مقدس اور قریب ترین جگہ چھوڑ کرپونے چار ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے بے آب وگیاہ احقاف میں کیوں آئیں گے؟ چنانچہ مجھے عمانی تھیوری زیادہ قرین قیاس محسوس ہوتی ہے‘ یہ اس ضمن میں دو شواہد بھی پیش کرتے ہیں‘ یہ شواہد حضرت صالحؑ کا مزار اور اونٹنی کی جائے قتل ہے‘ مجھے ان دونوں مقامات کی زیارت کی توفیق ہوئی‘ میں نے ڈاکٹر کاشف مصطفی اور امیر حمزہ کے ساتھ جمعہ 28 ستمبر کو حضرت صالحؑ کے مزار پر حاضری دی اور ہم اتوار 30 ستمبر کو اونٹنی کی جائے قتل پر گئے۔

حضرت صالحؑ کا مزار صلالہ سے دو سو کلومیٹر دور ناسک کے مقام پر ہے‘ یہ مزار خشک پہاڑوں کے درمیان چوٹی پر واقع ہے‘ مزار تک سیڑھیاں جاتی ہیں‘ عرب انبیاءکرام‘ صحابہ اور اولیاءکرام کی قبروں کو احتراماً بڑا بناتے ہیں‘ یہ قبر بھی لمبی تھی‘ مزار کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد کے علاوہ کچھ نہیں‘ مزار کے چاروں اطراف گہری کھائیاں ہیں اور کھائیوں کے بعد خشک سیاہ پہاڑ ہیں‘ سمندر وہاں سے زیادہ دور نہیں‘ راستے میں ملکہ سبا (بلقیس) کا محل بھی آتا ہے‘

کیا ملکہ بلقیس واقعی یہاں کی باسی تھیں؟یہ تاریخی لحاظ سے ثابت نہیں ہو سکا‘ سبا قوم یمن کے دارالحکومت صنعا ءسے 135 کلومیٹر کے فاصلے پر مارب میں آباد تھی‘ وہاں بھی ملکہ بلقیس کا ایک محل موجود ہے چنانچہ اللہ بہتر جانتا ہے‘ صلالہ میں سمہارم کے مقام پر آثار قدیمہ ہیں‘ یہ آثار ملکہ بلقیس سے منسوب ہیں‘ ہم سمہارم  بھی گئے جبکہ حضرت صالحؑ کی اونٹنی کی جائے قتل شہر کے درمیان واقع ہے‘ یہ ایک غار نما جگہ ہے‘ آپ سیڑھیاں اتر کر نیچے آتے ہیں تو سامنے ایک چٹان آتی ہے اور چٹان پر اونٹنی کے پاﺅں کے نشان ہیں اور پاﺅں کے نشان سے ذرا سے فاصلے پر خون کے سیاہ دھبے ہیں‘

مقامی لوگوں کا کہنا ہے پانی کا چشمہ اس چٹان کے دامن میں تھا‘ قوم ثمود کے بدبختوں نے جب اونٹنی کو قتل کیا تو اونٹنی نے شدت غم میں چٹان پر پاﺅں مارے‘ اللہ تعالیٰ نے پاﺅں کے نشان چٹان پر ثبت کر دیئے‘ اونٹنی کا لہو بھی قدرت نے بطور ثبوت چٹان پر درج کر دیا‘ چٹان کے دائیں ہاتھ ایک چھوٹا سا غار ہے‘ یہ غار چٹان پھٹنے سے وجود میں آیا تھا‘ مقامی لوگوں کا خیال ہے اونٹنی کا بچہ اس غار میں اتر گیا تھا‘ چٹان کے قدموں کی مٹی گیلی تھی‘ یوں محسوس ہوتا تھا چٹان کے اندر سے اب تک پانی رستا ہے اور یہ پانی مٹی کو گیلا رکھتا ہے‘

میں نے چٹان‘ اونٹنی کے پاﺅں اور خون کی ویڈیو بنا لی‘ اونٹنی کے پاﺅں اور خون کے نشان کے قریب روحانی کشش سی محسوس ہوتی تھی‘ آپ اگر روحانیت میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ کسی بھی مقدس جگہ کا آسانی سے اندازہ کر سکتے ہیں‘ آپ کسی نبی‘ صحابی یا ولی کے زیر استعمال جگہ پر جائیں‘ آپ کی روح کو وہاں سگنل ملنا شروع ہو جائیں گے‘ آپ کو یوں محسوس ہو گا آپ ایک موبائل فون ہیں اور وہ جگہ وائی فائی ہے اور وائی فائی کے سگنل آپ کے ریسیور پر دستک دے رہے ہیں‘

بعض اولیائ‘ صحابہ اور انبیاءنے اپنے وائی فائی پر پاس ورڈز لگا رکھے ہوتے ہیں‘ آپ پاس ورڈز جانے بغیران کے سگنل وصول نہیں کر پاتے جبکہ بعض شخصیات کے سگنلز ”پاس ورڈ فری“ ہوتے ہیں‘ آپ بس وہاں جائیں اور اپنے ریسیور کی کیپسٹی کے مطابق سگنلز وصول کر لیں اور آپ اپنا رانجھا راضی کر لیں‘ اونٹنی کے پاﺅں اور خون کا نشان بھی وائی فائی تھا اور ہمیں اپنی روحوں میں اس کی باقاعدہ وائبریشن محسوس ہو رہی تھی‘ ہم پر اونٹنی کی مظلومیت اور اللہ کی ناراضگی دونوں کی ہیبت اتر رہی تھی‘

ہم نے جھرجھری لی اور باہر آ گئے‘ صلالہ کا قدیم شہر البلد اس جگہ سے زیادہ دور نہیں تھا‘ یہ نشان اگر حقیقی ہیں تو پھر البلد آل ثمود کا شہر ہو گا‘ وہ یہیں کہیں دائیں بائیں آباد تھے اور اللہ تعالیٰ کی بھجوائی اونٹنی اپنے بچے کے ساتھ اسی جگہ چرتی تھی اور یہیں کہیں اللہ کا فضل اترتا تھا اور حضرت جبرائیل امین اللہ کا پیغام لے کر یہیں کہیں حضرت صالحؑ کے پاس تشریف لاتے تھے‘ ہم جوں جوں یہ سوچتے جا رہے تھے‘ ہماری روحوں کے اندر گھنٹیاں بجتی جا رہی تھیں‘ ہم سرشاری کی کیفیت میں ڈوبتے جا رہے تھے۔ نوٹ :چٹان‘ اونٹنی کے پاﺅں اور خون کی ویڈیو

۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں