یہ سادگی بہت مہنگی پڑے گی

  جمعہ‬‮ 3 اگست‬‮ 2018  |  0:01

میں ایوان صدر‘ وزیراعظم ہاﺅس اور وزیراعظم آفس سمیت ملک کے تمام گورنر ہاﺅسز‘ چیف منسٹر ہاﺅسزاور کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی ہاﺅسز کے خلاف ہوں‘ یہ بڑی بڑی عمارتیں‘ نوکروں کی فوجیں اور ہاﺅسزکا کروڑوں روپے کا بجٹ ہمارے حالات‘ عوام کی غربت اور اسلامی فلاسفی سے میچ نہیں کرتا‘دنیا کے جس ملک میں لوگ روٹی‘ پانی اور دواءکےلئے ترس رہے ہوں وہاں یہ ایوان ظلم اور زیادتی ہیں چنانچہ میں سمجھتا ہوں ہمیں

بھارت کی طرح 1947ءسے سادگی کو اپنا شعار بنا لینا چاہیے تھا لیکن ہم نے قرض کی مے کو اپنا لائف سٹائل بنا لیا‘ ہم نے ستر سال کشکول لے کر بھیک مانگی اور اس بھیک کا کڑاہی گوشت کھا گئے لیکن یہ بھی بہرحال اس ماضی کا حصہ ہو

چکا ہے جسے شاید قدرت بھی تبدیل نہیں کرسکتی‘ عمران خان اب سادگی اختیار کرنا چاہتے ہیں‘ یہ حکومت کے بڑے بڑے ایوانوں میں یونیورسٹیاں‘ ہوٹل اور میوزیم بنانا چاہتے ہیں‘یہ ضرور بنائیں لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے یہ شاید اب ممکن نہ ہو‘ کیوں؟ ہمیں اس کیوں کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ان ایوانوں کا پس منظر جاننا ہو گا۔پاکستان کا دارالحکومت 1967ءمیں کراچی سے اسلام آباد شفٹ ہوا‘ ایوب خان صدر تھے‘ صدر کی رہائش کےلئے ایوان صدر اور صدارتی دفتر کی ضرورت تھی‘ ملک کی قدیم شراب ساز کمپنی مری بروری کے پارسی مالکان نے راولپنڈی میں اپنے گھر کی انیکسی ایوب خان کو گفٹ کر دی‘ یہ انیکسی صدارتی رہائش گاہ بن گئی‘ صدر کا دفتر راولپنڈی مال روڈپر سوہان سنگھ حویلی میں قائم کر دیا گیا‘ یہ دفتر اور یہ ایوان 1998ءتک قائم رہے‘ جمہوریت آتی تھی تو یہ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاﺅس بن جاتے تھے‘ آمریت آتی تھی تو یہ دونوں عمارتیں صدر اور آرمی چیف کے پاس چلی جاتی تھیں‘ذوالفقار علی بھٹو‘صدر چودھری فضل الٰہی‘ جنرل ضیاءالحق‘ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف بھی وقتاً فوقتاً یہ عمارتیں استعمال کرتے رہے‘اسلام آباد کا

ایوان صدر اور وزیراعظم ہاﺅس اس دوران بنتا رہا‘ غلام اسحاق خان پہلے صدر تھے جنہوں نے 1988ءمیں موجودہ ایوان صدر میں رہائش اختیار کی جبکہ وزیراعظم ہاﺅس1990ءکی دہائی میںمکمل ہوا‘ دونوں ایوانوں کی تکمیل کے بعد راولپنڈی کا ایوان صدر آرمی چیف ہاﺅس بن گیا اور صدارتی دفتر میں فاطمہ جناح یونیورسٹی بنا دی گئی‘ہم اب اس کیوں کی طرف آتے ہیں‘ یہ دونوں عمارتیں جب موجود تھیں تو حکومت نے اسلام آباد میں اربوں روپے سے سینکڑوںایکڑ کے ایوان کیوں بنائے؟

اس کی تین وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ کارسرکار تھی‘ پارلیمنٹ ہاﺅس اور وفاقی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں تھے‘ صدر اور وزیراعظم کو راولپنڈی سے روزانہ اسلام آباد لانا مشکل تھا‘ وفاقی وزراءاور وفاقی سیکرٹریز بھی سارا دن راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان دوڑتے بھاگتے رہتے تھے‘کام کا حرج بھی ہوتا تھا‘ وقت بھی ضائع ہوتا تھا اور ناکوں کی وجہ سے عام شہریوں کو بھی تکلیف ہوتی تھی‘ دوسری وجہ غیر ملکی مہمان تھے‘ دنیا کے مختلف سربراہان پاکستان کے دورے پر آتے تھے‘

انہیں بینکویٹ دیا جاتا تھا‘ حکومت کو ان بینکویٹس کےلئے عارضی بندوبست کرنا پڑتا تھا‘ کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے تھے اور تیسری وجہ صدر اور وزیراعظم کا سٹاف تھا‘ دونوں کا سٹاف سو سے دو سو افراد پر مشتمل ہوتا ہے‘ آپ سیکورٹی عملے کو بھی اس میں شامل کر لیں تو یہ تعداد پانچ سوسے ایک ہزار تک پہنچ جاتی ہے‘ حکومت کے پاس سٹاف کو ٹھہرانے کےلئے جگہ نہیں تھی‘ یہ لوگ دور دور سے آتے تھے‘ ان کے پٹرول اور گاڑیوں پر لمبا چوڑا خرچ ہوتا تھا

چنانچہ فیصلہ ہوا وزیراعظم اور صدر کی رہائش اور دفاتر ایسی جگہ بنائے جائیں جہاں سیکرٹریٹ‘ وزراءکے دفاتر ‘منسٹر انکلیو‘ پارلیمنٹ ہاﺅس‘ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن ”واکنگ ڈسٹینس“ پر ہوں‘ ایوانوں کا سائز اتنا بڑا ہو جس میں صدر اور وزیراعظم کا پورا سٹاف بھی سما سکے‘ غیر ملکی مہمانوں کو بینکویٹ بھی دیا جا سکے‘ سرکاری ملاقاتیں بھی ہو سکیں اور صدر اور وزیراعظم کو روزانہ لانے اور واپس لے جانے کی کوفت اور خرچ سے بھی بچا جا سکے‘ ملک کا موجودہ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاﺅس اس نقطہ نظر سے تعمیر کیا گیا تھا۔

عمران خان یہ دونوں عمارتیں میوزیم یا یونیورسٹی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘یہ گورنر ہاﺅسز کو بھی فروخت کرنا چاہتے ہیں‘ یہ ضرور کریں لیکن فیصلے سے پہلے ان چند سوالوں کا جواب بھی تلاش کر لیں‘ کل جب غیر ملکی مہمان آئیں گے تو آپ انہیں بینکویٹ کہاں دیں گے‘ کیا یہ بندوبست فائیو سٹار ہوٹلوں میں کیا جائے گا‘ اگر ہاں تو کیا اس پر رقم خرچ نہیں ہوگی اور کیا وہ اخراجات آج کے اخراجات سے زیادہ نہیں ہوں گے اور کیا اس سے ہوٹلوں پر دباﺅ نہیں بڑھ جائے گا اور ہوٹلوں میں سربراہان مملکت کی سیکورٹی بھی کمپرومائز نہیں ہو گی؟

دوسرا وزیراعظم اور صدر کا سٹاف کہاں بیٹھے گا‘ کیا وزیراعظم کے سٹاف کےلئے بنی گالہ میں دفتر اور رہائش گاہیں تعمیر کی جائیں گی‘ کیا وزیراعظم روزانہ تین بار بنی گالہ سے دفتر آئیں گے اور جائیں گے اورکیاہر بار راستے کی ٹریفک بند کی جائے گی؟آپ یہ بھی سوچ لیں اس سے لوگوں کو کتنی تکلیف ہو گی؟ وفاقی سیکرٹری اور وزراءجب روزانہ فائلیں لے کر بیس کلو میٹر کا سفر طے کریں گے تو اس سے ٹریفک اور سیکورٹی میں کتنا خلل پڑے گا؟

آپ اگر وزیراعظم ہاﺅس کو یونیورسٹی میں تبدیل کر دیتے ہیں تو کیا یہ اس ریڈزون میں ممکن ہے جس میں پارلیمنٹ‘ وفاقی سیکرٹریٹ اور سپریم کورٹ ہے؟ کیا ہم روزانہ ریڈزون میں تین چار ہزار ایسے لوگ افورڈ کر سکتے ہیں جن کی سیکورٹی کلیئر نہیں؟آپ گورنر ہاﺅس کو بھی ہوٹل یا یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں‘ آپ یہ بھی بنا دیں لیکن سوال یہ ہے غیر ملکی مہمان جب کراچی اور لاہور جائیں گے تو آپ ان کے بینکویٹ کہاں کریں گے اور کیا یہ دونوں عمارتیں یونیورسٹیوں یا ہوٹلوں کو ذہن میں رکھ کر تعمیر کی گئی تھیں؟

اور کیا آپ ہوٹل کے نئے مالکان کو ڈیڑھ ڈیڑھ سو سال پرانی عمارتوں کو ”ری شیپ“ کرنے یا گرانے کی اجازت دے دیں گے اور اگریہ بھی ممکن ہو جائے تو پھرآپ گورنرز اوران کے سٹاف کو کہاں ٹھہرائیں گے‘ کیا ان کےلئے نئی رہائش گاہیں بنائی جائیں گی اور کیا انہیں روزانہ گھروں سے لایا اور واپس چھوڑا جائے گا‘کیا ان پر اخراجات نہیں آئیں گے اورکیا ان کی سیکورٹی کےلئے نئے اور مشکل بندوبست نہیں کرنا پڑیں گے؟ میرا خیال ہے یہ ”سادگی“ ممکن نہیں اور اگر یہ زبردستی فرما دی گئی تو اس میں غریب قوم کے مزید اربوں روپے ضائع ہو جائیں گے چنانچہ میری عمران خان سے درخواست ہے آپ اپنے اس اعلان سے چپ چاپ یو ٹرن لے لیں ‘

یہ وہ وعدہ ہے جس سے بے نظیر بھٹو‘ میاں نواز شریف اور پرویز مشرف نے بھی یوٹرن لے لیا تھا‘ آپ بنی گالہ میں رہیں یا پھر منسٹر انکلیو میں یہ سادگی قوم کو بہت مہنگی پڑے گی‘ بار بار ٹریفک بھی رکے گی اور سٹاف کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو گا‘میں آپ کو کم خرچ اور بالانشینی کے دو طریقے بتاتا ہوں‘آپ ان سے سادگی بھی قائم کر لیں گے اور قومی خزانے میں بھی پانچ دس ارب ڈالر آ جائیں گے‘ آپ وزیراعظم ہاﺅس اور گورنر ہاﺅسز کو غیر ملکی مہمانوں کی رہائش‘ بینکویٹ اور میٹنگز کےلئے وقف کر دیں‘

آپ اپنا اور گورنرز کا تمام سٹاف بھی ان ہاﺅسز کی کالونیوں میں رکھیںلیکن آپ خود وزیراعظم آفس میں شفٹ ہو جائیں‘ آپ وہاں دن کو کام کریں‘شام کو ایکسرسائز کریں اور رات کو آرام کریں‘ اس سے وفاقی سیکرٹریوں‘ وزرائ‘ سفراءاور ایم این ایز کا سفر بھی کم ہو جائے گا‘ وزیراعظم کی سیکورٹی اور پروٹوکول کا خرچ بھی بچے گا‘ عوام بھی ناکوں اورروٹس کی کوفت سے بچ جائیں گے اورمنسٹر کالونی میں وزیراعظم کی نئی رہائش گاہ کے اخراجات بھی نہیں ہوں گے ورنہ دوسری صورت میں روزانہ ٹریفک بھی بند ہو گی‘

اخراجات بھی بڑھیں گے اور لوگ بھی جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دیں گے‘دوسری تجویز‘ آپ خزانہ بھرنے کےلئے پاکستان کے غیر ملکی اثاثوں پر توجہ دیں‘ امریکا‘ لندن‘ پیرس‘ سعودی عرب‘ ملائیشیا اور انڈونیشیا میں پاکستان کی اربوں ڈالر کی پراپرٹیز دہائیوں سے خالی پڑی ہیں‘ آپ نجکاری بورڈ سے فہرستیں منگوائیں اور یہ تمام پراپرٹیز نیلام کرا دیں‘ آپ کو دو سے تین بلین ڈالرز فوراً مل جائیں گے‘ آپ اس کے بعد مہنگی جگہوں پر قائم تمام سفارت خانوں کی فہرستیں بنوائیں‘

یہ سفارت خانے نسبتاً سستی جگہوں پر شفٹ کرائیں اور یہ عمارتیں بھی بیچ دیں‘ آپ کو ان سے بھی اڑھائی تین ارب ڈالر مل جائیں گے یوں آپ کو پانچ دس ارب ڈالر حاصل ہو جائیں گے۔کیا نئی حکومت ان تجاویز پر عمل کرے گی؟ میرا خیال ہے‘ نہیں‘کیوں؟ کیونکہ ملک میں پچھلے چار برسوں میں حقائق‘ منطق اور دلیل تینوں فوت ہو چکے ہیں‘ قوم اب جذبات اور پرسیپشن پر چل رہی ہے‘یہ دونوں علتیں قوموں کےلئے ہمیشہ زہرقاتل ثابت ہوتی ہیں‘ آپ ملک میں دلیل کی ذلت ملاحظہ کیجئے‘

وہ علی موسیٰ گیلانی جس نے 9 ہزار کلو گرام ایفی ڈرین بیچ دی تھی‘ جس سے یہ پورا سکینڈل شروع ہوا تھا وہ آج بھی آزاد پھر رہا ہے اور وہ حنیف عباسی جو سات سال عدالت کو بتاتا رہا میری کمپنی نے کوٹہ لیا تھا‘ ہم نے دوائی بنائی تھی اور اس کا یہ ریکارڈ ہے وہ الیکشن سے چاردن پہلے جیل پہنچ گیا‘چلئے ہم مان لیتے ہیں یہ فیصلہ قانون کے عین مطابق ہوا لیکن حکومت نے پورے خاندان کے اکاﺅنٹس بند کر دیئے ہیں‘یہ کہاں کا انصاف ہے؟ چلئے ہو سکتا ہے یہ بھی قانون کے عین مطابق ہو لیکن آپ زیادتی ملاحظہ کیجئے ملک کا کوئی بینک حنیف عباسی کی بیگم اور بچوں کے نئے اکاﺅنٹس کھولنے کےلئے تیار نہیں ہو رہا‘

یہ کہاں لکھا ہے؟ قانون اس کی کہاں اجازت دیتا ہے چنانچہ مجرم حنیف عباسی کی اہلیہ اور بچے اپنے اس حق کےلئے کہاں ٹکر ماریں‘ یہ کہاں جائیں لیکن میں پہلے عرض کر چکا ہوں ملک میں حقائق‘ منطق اور دلیل تینوں فوت ہو چکے ہیں‘ سچ اب وہ ہے جو سوشل میڈیا پر ہے یا پھر وہ جو رات کے اندھیرے میں جنم لیتا اور رات کے اندھیرے ہی میں پروان چڑھتا ہے‘ مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے وہ وقت اب دور نہیں جب لوگ دوسروں کے کلمے پر بھی یقین نہیں کریں گے ‘ ہمیں سچ کا لفظ بھی صرف ڈکشنریوں میں ملے گااور ہم میں سے ہر وہ شخص جو حق‘سچ اور انصاف کی بات کرے گا وہ سیدھا جیل جائے گا یا پھر ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے گا‘ وہ پاکستان اب زیادہ دور نہیں رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں