تبت بہرحال تبت ہے

  جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018  |  0:01

آپ اگر لہاسا سے ماﺅنٹ ایوریسٹ جانا چاہتے ہیں تو آپ کو شیگیٹسی میں رکنا پڑے گا‘ یہ تبت کا دوسرا بڑا شہر ہے‘ آبادی سات لاکھ ہے‘ شیگیٹسی پہنچنے میں آٹھ گھنٹے لگتے ہیں‘ دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ پہاڑوں کے درمیان سے گزرتا ہے‘ اس راستے میں 56 کلو میٹر لمبی یمدروک جھیل‘ڈیم اور گلیشیئر آتا ہے‘ یہ تینوں دیکھنے کے لائق ہیں جبکہ دوسرا راستہ براہ راست سڑک ہے‘ چین نے یہ سڑک ”ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ“ کے تحت

بنائی ‘ یہ پانچ ہزار کلو میٹر لمبی ہے اور یہ شنگھائی کو کھٹمنڈو سے جوڑتی ہے‘ یہ سڑک تبت کے مرکزی دریا یارلانگ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے‘ یارلانگ دنیا کا بلند ترین دریا ہے‘ یہ 2900 کلو میٹر لمبا ہے‘ یہ تبت

سے بھارت میں داخل ہو کر براہما پترا بن جاتا ہے‘ تبت کو دنیا کا واٹر ٹینک یا واٹر بینک بھی کہا جاتا ہے‘ بھارت ہو‘ پاکستان ہو یا پھر بنگلہ دیش‘ برما‘ نیپال‘ بھوٹان اور چین ان تمام ملکوں کی آبی ضرورت تبت پوری کرتا ہے‘ ہمارے دریائے سندھ کا ماخذ بھی تبت میں ہے چنانچہ اگر چین اپنے گلیشیئرز کا رخ موڑ دے تو بھارت اور پاکستان دونوں خشک سالی کا شکار ہو جائیں ‘ تبت سے پانچ مرکزی دریا نکلتے ہیں‘ یہ پانچوں دریا خوبصورتی اور معدنیات کا خزانہ ہیں‘ یہ سارک ممالک کی ہریالی اور زندگی کا منبع ہیں‘ ہم نے جاتے ہوئے پہلے اور واپسی پر دوسرے راستے کا انتخاب کیا۔تبت میں دس جھیلیں ہیں‘ بودھ ان جھیلوں کو متبرک سمجھتے ہیں‘ یہ ان کا طواف کرتے ہیں‘ یہ ان کے پانی کو آب زم زم جتنی عزت بھی دیتے ہیں‘ ہم تین گھنٹے میں یمدروک جھیل پہنچ گئے‘ یہ پانچ ہزار میٹر کی بلندی پر دنیا کی بلند اور صاف ترین جھیل ہے‘ یہ جھیل 56 کلو میٹر لمبی ہے‘ ہم نے راستے میں بودھوں کو جھیل کا طواف کرتے دیکھا‘ یہ دعائیں اور سجدے کرتے ہوئے جھیل کے گرد پیدل چل رہے تھے‘ جھیل کا یہ چکر 20 دنوں میں مکمل ہوتا ہے‘ میں نے زندگی میں بے شمار جھیلیں دیکھی ہیں لیکن یمدروک جھیل

سے زیادہ صاف پانی آج تک نہیں دیکھا‘ یمدروک سرمئی بنجر پہاڑوں کے درمیان نیلے رنگ کا بڑا سا ٹب محسوس ہوتی تھی‘ میں نے اس کے کنارے یوگا کرنے کی کوشش کی‘ علی رضا اور انجم فیاض نے تصویریں بنا لیں‘ یہ تصویریں جس نے بھی دیکھیں وہ انہیں اصل ماننے کےلئے تیار نہیں ‘ یہ ہر دیکھنے والے کو ”فوٹو شاپ“ محسوس ہوتی ہیں‘ جھیل کے کنارے تبتی خانہ بدوشوں نے پڑاﺅ کیا ہوا تھا‘ یہ سیاہ یاک اور بھورے رنگ کے قدآدم کتوں کے ساتھ بیٹھے تھے‘ تبتی کتے شیر جتنے اور شیر جیسے لگتے ہیں‘

یہ شاید دنیا میں کتوں کی سب سے بڑی نسل ہے‘ خانہ بدوش پہاڑی پتھر اور یاک کی ہڈیوں کے منکے بیچ رہے تھے‘ یہ اپنی پیلی رنگت‘ گھٹے ہوئے جسم اور سرخ گالوں کی وجہ سے دور سے پہچانے جاتے ہیں‘ یہ انگریزی کے چندلفظ بھی سیکھ گئے تھے چنانچہ یہ ہر سیاح کا راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے تھے‘ ہمیں راستے میں چھوٹے سے عارضی بازار میں رکنے کا موقع بھی ملا‘ یہ بازار بھی خانہ بدوشوں نے آباد کیا تھا‘ یہ لوگ کتوں‘ بچوں اور عورتوں کے ساتھ تصویریں اتروانے کا معاوضہ لیتے تھے‘

یہ یاک کے گوشت کا سوپ‘ پنیر اور نمک لگا خشک گوشت بھی بیچ رہے تھے اور روایتی موسیقی پر ڈانس بھی کر رہے تھے‘ ہم راستے میں کیرولا  گلیشیئر کے پاس بھی رکے‘ گلیشیئر سڑک کے عین کنارے پہاڑ پر ایستادہ تھا‘ سڑک کے تین اطراف خشک سرمئی پہاڑ تھے اور چوتھی جانب سفید دودھ کا بنا پہاڑ تھا‘ گلیشیئر سے آبشاریں نکل رہی تھیں‘ یہ آبشاریں ندیاں بن کر یمدروک جھیل کی طرف دوڑ رہی تھیں اور یمدروک جھیل آگے چل کر یارلانگ دریا بن رہی تھی اور یہ دریا تبت کی ساری خوبصورتی سمیٹ کر بھارت کی طرف دوڑ رہا تھا‘

فضامیں ایک طراوت‘ ایک کھلا پن تھا‘ دور دور تک سناٹے کی آواز بھی تھی‘ بودھ اگر اس جگہ کو مقدس سمجھتے ہیں تو یہ غلط نہیں ہیں‘ وہاں کی فضا میں واقعی ایک تقدس ‘ایک کنوارہ‘ ان چھوا تقدس تھا‘ ہم گلیشیئر کے بعدڈیم کے پاس بھی رکے‘ یہ ڈیم بھی انسانی صناعی کا کمال ہے‘ دنیا کی چھت پر ڈیم بنانا‘ پھر اس ڈیم میں ٹربائنیں لگا کر بجلی پیدا کرنا اور پھر اس بجلی کو ٹرانسمیشن لائنیں بچھا کر شہروں تک پہنچانا کیا یہ کمال نہیں؟ یہ واقعی کمال تھا اور ہم اپنی کھلی آنکھوں سے یہ کمال دیکھ رہے تھے‘

چین نے شیگیٹسی تک سڑک‘ ٹرین اور ہوائی جہاز پہنچا کر بھی پوری دنیا کو حیران کر دیا‘ ہمیں گائیڈ نے بتایا یہ سڑک دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماﺅنٹ ایوریسٹ کے بیس کیمپ تک جاتی ہے‘ آپ گاڑی میں بیٹھ کر بیس کیمپ تک جا سکتے ہیں‘ آپ اندازہ کیجئے ہمارے ملک میں کوہ پیماﺅں کو” کے ٹو“ اور نانگا پربت کے بیس کیمپ تک پہنچنے میں سات دن لگ جاتے ہیں جبکہ چین نے ماﺅنٹ ایوریسٹ تک سڑک اور نوڈلز دونوں پہنچا دی ہیں‘ کیا یہ قابل تعریف نہیں‘ چین دریا کے ساتھ ساتھ درخت بھی لگاتا چلا جا رہا ہے‘

یہ خصوصی درخت ہیں‘ یہ تبت کو تیزی سے سبز کر رہے ہیں‘ عمران خان کو اپنے ”سونامی ٹری پراجیکٹ“ کےلئے ایک بار تبت ضرور جانا چاہیے‘ یہ وہاں درخت دیکھ کر حیران رہ جائیں گے‘ چین کا یہ منصوبہ مکمل ہو گیا تو شاید دس برس بعد تبت خشک پہاڑوں کی جگہ جنگل بن جائے اور وہاں آکسیجن کی کمی ختم ہو جائے‘ بودھ اپنی ہر مقدس جگہ کے گرد مختلف رنگوں کی جھنڈیاں اور رنگ برنگی صاف چادریں بھی لٹکا دیتے ہیں‘ ہم نے جھیل‘ گلیشیئر اور ڈیم تینوں پر جھنڈیاں دیکھیں‘ یہ تینوں مقامات ان کےلئے مقدس تھے۔

شیگیٹسی میں دو بڑی درسگاہیں ہیں‘ تاشی لیمپو مونیسٹری پہلے دلائی لامہ نے 1447ءمیں بنائی تھی‘ یہ پوٹالہ پیلس کی طرح پہاڑ کے گرد اوپر سے نیچے کی طرف بنائی گئی ہے‘ ہمارا ہوٹل مونیسٹری کے دامن میں تھا‘ ہم ساری رات مونیسٹری دیکھتے رہے‘ بودھ شیگیٹسی میں بھی سڑک پر سجدے کرتے اور گھسیٹتے ہوئے پہنچتے ہیں‘ ہم رات کھانا کھانے کےلئے باہر نکلے تو ہم نے سڑک پر سینکڑوں لوگوں کو گھسیٹتے دیکھا‘ یہ مونیسٹری چینی انقلاب کے بعد پینچو لامہ کی رہائش گاہ بن گئی تھی‘

پینچو لامہ دلائی لامہ کے بعد بودھوں کی معتبرترین شخصیت ہوتا ہے‘ یہ چینی انقلاب کے بعد چین کے ساتھ مل گیا تھا‘ چین نے اس کے ساتھ معاہدہ کر کے تبت پر قبضہ کیا تھا‘ یہ 1989ءمیں انتقال کر گیا‘ ہم ایک رات شیگیٹسی میں رہے‘ آکسیجن بہت کم تھی چنانچہ ہم جان بچانے کےلئے اگلے دن لہاسا واپس آ گئے‘ ہم نے واپسی پر یارلانگ ریور کے ساتھ ساتھ ہائی وے کا راستہ اختیار کیا‘ یہ سڑک فرینڈ شپ ہائی وے کہلاتی ہے اور یہ لہاسا کو کھٹمنڈو سے ملاتی ہے‘ یہ دنیا کی چھت کو بھارت‘ نیپال اور بھوٹان کی سرحدوں سے بھی جوڑتی ہے‘

سیاح تبت کے راستے صرف نیپال میں داخل ہو سکتے ہیں‘ بھوٹان اور بھارت کی سرحدیں صرف خصوصی مہمانوں کےلئے کھولی جاتی ہیں تاہم چین کاخیال ہے وہ وقت دور نہیں جب سیاح دنیا کی چھت سے ہوتے ہوئے بھارت‘ نیپال‘ بھوٹان اور پاکستان میں داخل ہو سکیں گے یا پھر ان ملکوں سے ہوتے ہوئے تبت اور وہاں سے چین پہنچیں گے‘تبت حقیقتاً ایک حیران کن تجربہ تھا‘ ہم دنیا میں ہزاروں مقامات‘ شہروں اور ملکوں میں جا سکتے ہیں لیکن تبت‘ منگولیا اور سائبیریا جانے کےلئے دماغی خلل چاہیے‘یہ عام اور آرام دہ زندگی گزارنے والے لوگوں کے بس کی بات نہیں‘ یہ مجھ جیسے پاگل ہی کر سکتے ہیں۔

ہم لوگ 17 مئی کو گھر سے نکلے ‘ 18 مئی کو بیجنگ پہنچے‘ 18 مئی کی رات زینیگ سے تبت ٹرین میں سوار ہوئے‘ 19 مئی کی شام تبت پہنچے اور 24 مئی کی صبح لہاسا سے فلائیٹ لے لی‘ میرے دوست جدہ روانہ ہو گئے جبکہ میں ایک دن کےلئے شیان  چلا گیا یوں ہم نے تقریباً چھ دن تبت میں گزارے‘ یہ دن مشکل تھے‘ تبت میں آکسیجن نہ ہونے کے برابر تھی‘ نعیم ارشد آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بیمار ہو گئے‘ یہ بیڈ پر لیٹ کر چھ گھنٹے آکسیجن لیتے رہے‘ باقی لوگوں کی حالت بھی خراب تھی‘

یہ لیٹتے تھے تو نیند نہیں آتی تھی‘ نیند آ جاتی تھی تو آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہڑبڑا کر اٹھ پڑتے تھے‘ سحر اور افطار کا مناسب بندوبست نہیں تھا‘ چلتے چلتے گر جاتے تھے اور دنیا کی چھت پر ہونے کی وجہ سے سورج کی کرنیں بھی بہت تیز تھیں‘ یہ ڈرل مشین کی طرح جلد میں سوراخ کرتی تھیں‘ہمیں سائے میں ٹھنڈ لگتی تھی اور دھوپ میں گرمی‘ رات کوکمبل کے بغیر بھی نہیں سویا جاتا تھا اور کمبل کے ساتھ بھی‘ اے سی چلاتے تھے تو ٹھنڈ لگتی تھی‘ بند کرتے تھے تو پسینہ آ جاتا تھا‘

گلے اور ناک سے خون بھی نکلتا تھا اور پیٹ میں مروڑ بھی پڑتے تھے‘ سر درد سے پھٹا جاتا تھا‘ ریڑھ کی ہڈی میں بھی درد ہوتا تھا‘ گلہ بھی پک گیا تھا‘ دانتوں میں بھی درد تھا اور پاﺅں بھی اٹھائے نہیں اٹھتے تھے‘ غرض یہ ایک مشکل سفر تھا‘ تبت کی ہر گاڑی‘ ہردکان‘ ہر ہوٹل اور ہر ریستوران میں آکسیجن کے سلینڈر ہوتے ہیں‘ ہم شیگیٹسی تک منہ پر آکسیجن لگا کر پہنچے تھے‘ تبتی لوگ بھی گندے ہیں‘ واش روم بہت غلیظ تھے‘ یہ لوگ فرش میں سوراخ کر کے اسے ٹوائلٹ بنا دیتے ہیں‘

ایک لائین میں چھ چھ سوراخ ہوتے ہیں اور درمیان میں پردہ نہیں ہوتا‘ لوگ آتے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے کندھے کے ساتھ کندھا جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں‘ یہ درمیان میں ایک دوسرے سے حال احوال بھی پوچھتے رہتے ہیں اور موبائل کے ذریعے گھر والوں کو کھانے کا آرڈر بھی دیتے رہتے ہیں‘ یہ لوگ اس ضروری کام کے بعد ہاتھ دھونا مناسب نہیں سمجھتے چنانچہ ہم تبتی لوگوں سے ہاتھ ملانے کے بعد دوڑ کر اپنے ہاتھ دھوتے تھے‘ ہم جیب میں ٹشو پیپر ٹھونس کر بھی باہر نکلتے تھے‘

تبتی مسلمانوں کا کھانا لاجواب تھا‘ یہ لوگ کھانے میں اندھا دھند مرچیں ڈال دیتے ہیں لیکن ان تمام مصیبتوں اور مشکلوں کے باوجود ہمیں کہنا پڑے گا تبت‘ تبت ہے اور اگر زندگی مہلت اور وسائل دے توانسان کو کم از کم ایک بار تبت ضرور جانا چاہیے‘ یہ لائف ٹائم تجربہ ہے‘ ہمیں اس سے محروم نہیں ہوناچاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں