بحر مُردار کے کنارے

  منگل‬‮ 6 مارچ‬‮ 2018  |  0:01

بحرمُرداریعنی ڈیڈ سی ہماری پہلی منزل تھی‘ میں نے یہ سفر سعودی عرب کے تین نوجوان پاکستانی بزنس مینوں کے ساتھ کیا‘ نعیم ارشد بورے والا سے تعلق رکھتے ہیں‘ انجم فیاض کلر سیداں اور علی رضا راولپنڈی کے رہنے والے ہیں‘ یہ تینوں سعودی عرب گئے‘ کمپنی بنائی‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور یہ عملی زندگی میں کامیاب ہو گئے‘ یہ اس وقت کامیاب بزنس مین ہیں‘ یہ لوگ جدہ سے اردن پہنچے اور میں پاکستان سے پہنچ گیا‘ ہم ائیر پورٹ سے

سیدھے ڈیڈ سی نکل گئے‘ یہ عمان سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ درمیان میں مودابا  کا شہر ہے‘ یہ شہر موزیک انڈسٹری کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘مودابا کے کاریگر مختلف رنگوں کے پتھروں کے باریک ٹکڑے

جوڑ کر تصویریں‘ نقشے اور پینٹنگز بناتے ہیں‘یہ شہر ہزاروں سال پرانے اس فن کا دارالحکومت ہے‘ آپ کوموزیک ویٹی کن سٹی سمیت دنیا کے تمام قدیم کلیساﺅں میں ملتے ہیں‘ مصور دو ہزار سال سے پتھروں کے باریک ٹکڑے جوڑ کر چرچ کی دیواروں اور چھتوں پر انجیل مقدس کے مختلف واقعات پینٹ کرتے چلے آ رہے ہیں‘ یہ پینٹنگز ”موزیک“ کہلاتی ہیں‘ یہ فن مودابا سے فلسطین اور فلسطین سے پوری دنیا تک پہنچا‘ ہم مودابا سے گزرتے ہوئے ڈیڈ سی پہنچ گئے‘ عرب اسے بحرمیت کہتے ہیں‘ یہ قدیم زمانے میں بحر لوط بھی کہلاتا تھا‘ یہ دنیا کا پست ترین مقام ہے‘ سطح سمندر سے 1300 فٹ نیچے ہے‘ ڈیڈ سی دنیا کا واحد سمندر ہے جس میں کسی قسم کی حیات نہیں پائی جاتی ‘ اس میں مچھلی ہے اور نہ ہی کوئی پودا حتیٰ کہ اس میں کائی تک نہیں اگتی‘ آپ کو اس میں موج بھی دکھائی نہیں دیتی‘ اس پر کشتی‘ موٹر بوٹ اور بحری جہاز بھی نہیں چل سکتے‘ کیوں؟ کیونکہ ڈیڈ سی میں نمکیات کی مقدار 23 سے 25 فیصد ہے‘ عام سمندر میں یہ مقدار چار سے چھ فیصد ہوتی ہے چنانچہ بھاری نمکیات کی وجہ سے ڈیڈ سی میں زندگی ممکن ہے اور نہ ہی کشتی رانی‘ آپ جوں ہی سمندر میں کشتی

ڈالتے ہیں یہ فوراً الٹ جاتی ہے‘ یہ دنیا کا واحد سمندر ہے جس میں کوئی زندہ شخص اور جانور ڈوب نہیں سکتا‘ سمندر کا بھاری پانی ہر جسم کو فوراً سطح پر لے آتا ہے‘ لوگ اس میں چھلانگ بھی نہیں لگاتے‘ یہ بس پانی میں بیٹھ جاتے ہیں اور پانی انہیں سطح پر لے آتا ہے جس کے بعد لوگ دیر تک سطح آب پر بیٹھے رہتے ہیں‘ بحرمیت کا کسی دوسرے سمندر سے کوئی رابطہ نہیں‘ قریب ترین سمندر بحیرہ روم ہے‘ خلیج عقبہ اردن کو ٹچ کرتی ہے لیکن عقبہ اور ڈیڈ سی کے درمیان ساڑھے تین سو کلو میٹر کا فاصلہ اور 1300فٹ کی اونچائی ہے یوں یہ سمندر‘ سمندر کم اور 351 مربع میل لمبی جھیل زیادہ محسوس ہوتا ہے‘

گہرائی 1300فٹ‘ لمبائی 50 میل اور چوڑائی گیارہ میل ہے‘ اسرائیل نے 1967ءمیں اس کے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا تھا یوں اس کا جنوب مشرقی علاقہ اردن اور مغربی علاقہ اسرائیل کے پاس ہے‘ بیت المقدس اس سے صرف 15 میل کے فاصلے پر ہے‘ آپ ڈیڈسی پر کھڑے ہو کر بڑی آسانی سے فلسطینی علاقے دیکھ سکتے ہیں‘ رات کے وقت بیت المقدس کی روشنیاں بھی دکھائی دیتی ہیں‘ سمندر کا پانی بخارات بن کر اڑتا رہتا ہے چنانچہ فضا میں ایک خواب ناک سی دھند چھائی رہتی ہے‘

ہوا میں نمکیات بھی ہیں اور گرمی بھی‘ آپ جوں ہی ڈیڈ سی کے قریب پہنچتے ہیں درجہ حرارت بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آپ کنارے پر پہنچ کر کوٹ اور جیکٹس اتارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ پوری دنیا سے لوگ قدرت کے اس عجوبے کو دیکھنے آتے ہیں‘ بحر میت کی مٹی اور پانی کو جلد کےلئے شافی سمجھا جاتا ہے‘ لوگ سمندر کا کیچڑ جمع کر کے کنارے پر لاتے ہیں‘ لوگ یہ کیچڑ جسم پر ملتے ہیں اور سمندرکے پانی میں بیٹھ جاتے ہیں‘ پانی اور کیچڑ جسم کے مساموں میں داخل ہو کر جلد کو جوان کر دیتا ہے تاہم یہ کیچڑ دھونا بہت مشکل ہوتا ہے‘

نمکیات دیر تک جسم سے چپکے رہتے ہیں‘ لوگ سمندر سے نکل کر تین تین بار میٹھے پانی سے غسل کرتے ہیں اور پھر کہیں جا کر نارمل ہوتے ہیں‘ اردن کی بے شمار کمپنیاں ڈیڈ سی کے نمکیات سے جلد کی مصنوعات بناتی ہیں‘ ان میں ”ڈیڈ سی مڈ ماسک“ زیادہ مشہور ہے‘ یہ پراڈکٹس پوری دنیا میں جاتی ہیں۔ہم دوپہر کے وقت ڈیڈ سی پہنچے‘ علی رضا اور انجم فیاض دونوں سمندر میں اتر گئے لیکن میں نے رسک نہیں لیا‘ نعیم صاحب بھی میرے پاس بیٹھ گئے‘ میں پانی میں کیوں نہیں اترا‘ اس کی دو بڑی وجوہات تھیں‘

پہلی وجہ میرا خوف تھا‘ مجھے تیراکی نہیں آتی‘ میں خشکی کا جانور ہوں لہٰذا میں پانی سے پرہیز کرتا ہوں اور دوسری وجہ میرا ایمان تھا‘ یہ سمندر دراصل اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نتیجہ ہے‘ حضرت لوط ؑ کی پانچ بستیاں جن میں سدوم‘ عمورہ اور زغر زیادہ مشہور تھیں‘ یہ ڈیڈی سی کی جگہ آباد تھیں‘ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے‘ یہ جد الانبیاءکے ساتھ عراق کے شہر ”ار“ سے نکلے ‘ یہ پہلے موجودہ ترکی کے شہر شانلی عرفہ پہنچے‘ عرفہ کے بادشاہ نمرود نے حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں جلانے کی کوشش کی‘

یہ اس کے بعد سفر کرتے ہوئے سدوم کے قریب پہنچے‘ حضرت ابراہیم ؑ فلسطین تشریف لے گئے لیکن حضرت لوط ؑ اپنی اہلیہ کے ساتھ سدوم میں رک گئے‘ سدوم کے لوگ دو علتوں کے شکار تھے‘ یہ راہزنی کرتے تھے‘ سدوم شام کے راستے میں تھا‘ یہ لوگ سڑک سے گزرتے قافلوں کو لوٹ لیتے تھے‘ دوسرا یہ ”ہم جنسیت“ کا شکار تھے‘ مرد مردوں اور عورتیں عورتوں کے ساتھ جسمانی تعلقات رکھتی تھیں‘ حضرت لوط ؑ انہیں تبلیغ فرماتے رہے لیکن یہ لوگ باز نہ آئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کر لیا‘

حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کے ساتھ تشریف لائے‘ یہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس گئے‘ انہیں بڑھاپے میں اولاد نرینہ کی خوش خبری سنائی‘ صاحبزادے کا نام حضرت اسحاق ؑ تجویز کیا اور پھر یہ سدوم آ گئے‘ یہ مہمان بن کر حضرت لوط ؑ کے گھر میں ٹھہرے‘ سدوم کے ہوس کے پجاریوں نے حضرت لوط ؑ کے گھر کا محاصرہ کر لیا‘ یہ مہمانوں کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے تھے‘ فرشتوں نے اپنے آپ کو حضرت لوط ؑپر ظاہر کر دیا‘ انہیں اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچایا اور درخواست کی آپ ؑ اپنے اہل وعیال کے ساتھ بستی چھوڑ کر پہاڑ پر تشریف لے جائیں‘ آپ ؑ سے درخواست کی گئی آپ لوگ جاتے ہوئے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھیں گے‘

حضرت لوط ؑ اپنی اہلیہ اوردوصاحبزادیوں کے ساتھ پہاڑ کی طرف روانہ ہو گئے‘ فرشتوں نے اس کے بعد پوری آبادی ہتھیلی کی طرح پلٹ دی‘ انجیل کے مطابق گڑگڑاہٹ کی آواز آئی تو حضرت لوط ؑکی اہلیہ نے مڑ کر دیکھ لیا‘ اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی پر اسے پتھر کی چٹان بنا دیا‘ یہ چٹان آج بھی بحرمیت کے کنارے موجود ہے اور یہ دور سے ایک حیران پریشان خاتون دکھائی دیتی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے اگلے روز یہ چٹان دیکھنے کی توفیق بھی عطا کی‘ حضرت لوط ؑ اس کے بعد صاحبزادیوں کے ساتھ غار میں تشریف لے گئے‘ یہ غار بھی اس وقت موجود ہے‘ میں اس غار میں بھی گیا

آپ دونوں کی ویڈیوز میرے فیس بک پیج پر https://www.facebook.com/javed.chaudhry/videos/10156319262162174/ https://www.facebook.com/javed.chaudhry/videos/10156319300482174/ اس لنک پر کلک کر کے دیکھ سکتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط ؑ کا یہ واقعہ انجیل مقدس میں بھی بیان فرمایا اور قرآن مجید میں سورہ ہود‘ العنکبوت‘ الشعرائ‘ الاعراف اور الحجر میں بھی‘ یہ علاقہ دنیا کا پست ترین مقام ہے‘ بحرمیت اللہ تعالیٰ کے عذاب کی نشانی ہے‘ یہ سمندر اس سے پہلے یہاں موجود نہیں تھا‘یہ قوم لوط پر عذاب کے نتیجے میں ظاہر ہوا‘ اس میں حیات بھی اللہ کی ناراضگی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی‘ یہاں اسی لئے باقی علاقوں کے مقابلے میں گرمائش بھی زیادہ ہوتی ہے چنانچہ میرا ذاتی خیال تھا یہ جگہ مقام تفریح نہیں یہ مقام عبرت ہے‘

میرا دل ڈر رہا تھا‘ میں نے اس خوف کی وجہ سے سمندر کے پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا‘ میں جتنی دیر سمندر کے کنارے بیٹھا رہا میں استغفار بھی کرتا رہا‘ اللہ تعالیٰ سے اپنی غلطیوں‘ کوتاہیوں اور گناہوں کی معافی بھی مانگتا رہا اور یہ دعا بھی کرتا رہا‘ یا پروردگار! مجھے اپنے پیار حبیب کے صدقے اپنے پسندیدہ لوگوں کی فہرست میں رکھنا‘ یہ جگہ اللہ تعالیٰ کو اس قدر ناپسند تھی کہ اللہ تعالیٰ نے سدوم کی مناسبت سے ہم جنسیت کو سوڈومی  اور لواطت کا نام دے دیا‘

میں دل سے سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ کو چوری اور ہم جنسیت دونوں پسند نہیں ہیں لیکن جب یہ دونوں گناہ مل جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس شخص یا آبادی پر عذاب نازل فرما دیتا ہے لہٰذا میں نے آج تک کسی ایسے چور کو پرامن نہیں دیکھا جو ہم جنسیت میں بھی مبتلا ہو‘ یہ لوگ جلدی امراض کا شکار بھی ہوتے ہیں اور ان کی جسمانی حدت بھی نارمل لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے‘ یہ لوگ غیرفطری موت کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔میں نے خوف کے عالم میں نعیم ارشد کو ساتھ لیا اور ہم ڈیڈسی کے کنارے سے اٹھ کر ریستوران میں آگئے‘

ریستوران بلندی پر تھا‘ وہاں سے فلسطین صاف دکھائی دے رہا تھا‘ میں نے فلسطینی بستیاں دیکھیں اور دل سے ایک ہوک سی اٹھی‘ فلسطین مسلمانوں کی بے حسی کا اجتماعی نوحہ ہے اور یہ نوحہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مسلمان بے حسی کے خواب سے نہیں جاگتے‘ میری زندگی کی تین بڑی خواہشوں میں سے ایک خواہش بیت المقدس میں نماز جمعہ کی ادائیگی بھی ہے‘ میں نے فلسطین کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ”یا باری تعالیٰ مجھے اس زندگی میں ایک بار اپنا یہ گھر دکھا دے“

میرے اندر سے آواز آئی”اے گناہ گار شخص‘ اللہ تعالیٰ تمہیں وہ دن ضرور دکھائے گا“ میں نے آمین کہا اور ہم جبل نیبو کی طرف روانہ ہوگئے‘ یہ وہ مقام تھا جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو ارض مقدس (فلسطین) دکھائی تھی‘ حضرت موسیٰ ؑ کا انتقال بھی اسی علاقے میں ہوا تھا تاہم اللہ تعالیٰ نے ان کے مدفن پر پردہ ڈال رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں