گروندر

  جمعہ‬‮ 9 فروری‬‮ 2018  |  0:01

گروندر آئس لینڈ کے دارالحکومت سے 170کلومیٹر کے فاصلے پر ہے‘ مسافر عام حالات میں وہاں اڑھائی گھنٹے میں پہنچتے ہیں لیکن ہمیں پانچ گھنٹے لگ گئے‘ کیوں؟ دو وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ برف باری تھی‘ رک یاوک سے گروندر تک ہر چیز برف میں دفن تھی‘ راستے کے گھوڑے اور بھیڑیں تک برف میں منجمد ہو چکی تھیں‘ اس دن بھی وقفے وقفے سے برف باری ہورہی تھی چنانچہ ہم مخدوم عباس جیسے خوفناک ڈرائیور کے باوجود احتیاط کے

ساتھ چلتے رہے‘ دوسرا ہم راستے میں کیرو  رک گئے‘ کیرو آتش فشانی علاقہ ہے‘ 54 کلو میٹر کے علاقے میں بارہ بڑے آتش فشاں ہیں‘ آپ کو پورے علاقے میں دور دور تک آتش فشانی چٹانیں‘ جلے ہوئے سیاہ پتھر اور ٹھنڈے لاوے کی لکیریں دکھائی

دیتی ہیں‘ یہ لکیریں‘ یہ پتھر اور یہ چٹانیں ثابت کرتی ہیں زمین کا یہ حصہ کبھی آتش فشانی جہنم تھا‘ علاقے کے درمیان میں آتش فشاں کا مرکزی دہانہ تھا‘ آج سے ساڑھے چھ ہزار سال قبل یہاں آتش فشاں پھٹا‘ لاوا ابلا‘ چٹانیں اور پتھر دور دور تک بکھرے اور آخر میں یہاں خوفناک گڑھا پڑ گیا‘ یہ گڑھا کیرو کہلاتا ہے‘ یہ 270 میٹر لمبا‘ 170 میٹر چوڑا اور 55 میٹر گہرا ہے‘ پیندے میں پانی ہے‘ کیرو گرمیوں میں وسیع وعریض باﺅلی بن جا تا ہے جبکہ یہ سردیوں میں برف کا تنور لگتا ہے‘ گڑھے کے اندر کونے میں سیڑھیاں بھی ہیں‘ آپ سیڑھیاں اتر کر پانی کی سطح تک جا سکتے ہیں‘ لوگ گرمیوں میں گڑھے کے کناروں پر بیٹھ جاتے ہیں اور نیچے تک جھک کر نیلا پانی دیکھتے ہیں لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو برف باری بھی ہو رہی تھی اور یخ طوفانی ہوائیں بھی چل رہی تھیں‘ درجہ حرارت منفی تھا مگر ہم لوگوں نے اس کے باوجود گڑھے کے کناروں پر واک کی‘ ہم پھسلن کی وجہ سے دوبار گڑھے میں گرتے گرتے بھی بچے مگر جنون ہمیں چلاتا رہا‘ آتش فشانی گڑھے کے گرد یہ میری دوسری واک تھی‘ میں نے پہلی واک آک لینڈ میں کی تھی‘ نیوزی لینڈ کے اس شہر میں

بھی کیرو جیسا آتش فشانی گڑھا موجود ہے‘ وہ گڑھا بلندی پر ہے‘ آپ وہاں واک کرتے ہوئے پورا آک لینڈ شہر دیکھ سکتے ہیں لیکن کیرو ویرانے میں ہے‘ ہمیں گڑھے کی پشت پر چھوٹی سی آبادی دکھائی دی لیکن وہ برف اور دھند میں ملفوف ہونے کی وجہ سے دھندلی دھندلی سی تھی‘ میں نے کیرو کی طرف منہ کر کے ایک لمبی یخ ٹھنڈی سانس لی اور پھر ہم گروندر کےلئے روانہ ہوگئے‘ راستے میں برف کے سوا کچھ نہیں تھا‘ برف کے صحرا کے درمیان سیاہ رنگ کی لکیر تھی‘

یہ لکیر ہماری سڑک تھی اور اس سڑک پر کالے رنگ کی جیب دوڑ رہی تھی‘ ہمیں راستے میں کہیں کہیں کافی شاپس مل جاتی تھیں‘ مقامی لوگوں نے گھروں میں کافی شاپس اور ریستوران کھول رکھے ہیں‘ یہ گھروں میں مرغیاں‘ بھیڑیں اور سور بھی پالتے ہیں اور مسافروں کو کافی‘ ہوم میڈ کیک اور سٹیکس بھی کھلاتے ہیں‘ راستے کا ہر گھر گرم اور آرام دہ تھا‘ بجلی‘ گرم پانی اور سڑک ہر گھر تک موجود تھی‘ موبائل کے سگنلز بھی تھے اور تمام گھروں میں گاڑیاں اور ٹریکٹر بھی تھے‘

یہ تمام چیزیں آئس لینڈ کے لوگوں کی خوشحالی کی دلیل تھیں‘ راستے میں اکثر مقامات پر سمندر سڑک کے قریب آ جاتا تھا‘ برفیلے ساحلوں پر سفید لہریں اور غضب ناک سمندر کا شور یہ تینوں مل کر ماحول کو ہولناک بنا رہے تھے‘ میں نے ایسا منظر صرف فلموں میں دیکھا تھا‘ تاحد نظر سفید برف‘ برف کے درمیان لکیر جیسی سیاہ سڑک اور سڑک پر گاڑی اور دور دور تک کوئی بندہ اور نہ بشر‘ بس برف اور برف کے درمیان کھڑے لمبے لمبے بالوں والے گھوڑے‘ آئس لینڈ کے فارمرز گھوڑوں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں‘

یہ برفیلی ہواﺅں کا مقابلہ کرنے کےلئے سر جوڑ کر دائرے میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی جسمانی حدت کی مدد سے پوری سردیاں گزار لیتے ہیں‘ آئس لینڈ کا گھوڑا دنیا کے ان جانوروں میں شامل ہے جو کھڑے کھڑے نیند پوری کر لیتا ہے‘ اسے سونے کےلئے لیٹنا نہیں پڑتا‘ حکومت نے پوری سڑک کے ساتھ باڑ لگا رکھی ہے چنانچہ بھیڑیں اور گھوڑے سڑک پر نہیں آتے‘ یہ سڑک سے چند میٹر کے فاصلے پر کھڑے ہو کر گزرتی گاڑیوں کو حیرت سے دیکھتے رہتے ہیں‘

یہ شاید ہم انسانوں کو جانور سمجھتے ہیں اور شاید ہماری افراتفری ان کےلئے تفریح ہے‘ میں اکثر سوچتا ہوں کاش ہم جانوروں کی سوچ پڑھ سکتے‘ کاش دنیا میں کوئی ایسی مشین ہوتی جو انسانوں کے بارے میں جانوروں کی سوچ بیان کر سکتی تو شاید زندگی کے بارے میں ہمارا نظریہ وسیع ہو جاتا‘ میں اپنے دوست عرفان جاوید کو اکثر کہتا ہوں جانور ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں‘ آپ اس پر بھی کوئی شارٹ سٹوری یا ناول لکھیں لیکن یہ ہمیشہ ہنس کر ٹال جاتے ہیں‘ کاش یہ کسی دن گھوڑے کی آنکھ سے انسان کو دیکھیں اور پھر اس پر افسانہ تحریر کریں‘ وہ افسانہ یقینا ماسٹر پیس ہوگا۔

گروندر کے راستے میں گلیشیئر بھی آتا ہے‘ یہ گلیشیئر اس علاقے کا بلند ترین مقام ہے‘ ہم گلیشیئر تک پہنچے تو برفانی طوفان شروع ہوگیا ‘ عذاب کی طرح برف برسنے لگی‘یوں محسوس ہو رہا تھا آسمان ٹکڑوں میں ٹوٹ ٹوٹ کر زمین پر گر رہا ہے‘وہاں دھند اور سردی کے علاوہ کچھ نہیں تھا‘ ہم تصویریں بنانے کےلئے گاڑی سے باہر نکلے تو یوں محسوس ہوا ہمیں ہوا اٹھا کر لے جائے گی اور ہماری لاشیں اس کے بعد گرمیوں میں کسی آبشار سے ملیں گی‘ ہم ڈر گئے اور بھاگ کر دوبارہ گاڑی میں پناہ لے لی‘

اس رات برفانی طوفان کی پیشن گوئی تھی‘ وادی میں گھنٹے بعد 70 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طوفان آ رہا تھا‘ ہم نے جلد سے جلد کوئی نہ کوئی ٹھکانہ ڈھونڈنا تھا‘ ہم بہرحال دوڑتے بھاگتے ہوئے گروندر پہنچ گئے‘ گروندر میں ایک ہی ہوٹل تھا‘ ہم ہوٹل پہنچ گئے‘ دروازہ کھولا‘ اندر داخل ہوئے اور باہر طوفان آ گیا‘ پورا ہوٹل ہوا کے کندھے پر سوار ہو گیا‘ گروندر کا یہ واحد ہوٹل ایک پاکستانی کی ملکیت نکلا‘ منیرملک تلہ گنگ سے تعلق رکھتے ہیں‘ یہ سعودی عرب رہے‘

وہاں سے آئس لینڈ پہنچے‘ اپنا کاروبار شروع کیا اور گروندر میں ہوٹل خرید لیا‘ یہ فیملی کے ساتھ ہوٹل میں رہتے ہیں‘ گروندر میں یہ واحد پاکستانی فیملی ہے‘ شہر کے عوام نے ان سے پہلے کبھی کوئی پاکستانی دیکھا تھا اور نہ ہی پاکستان کا نام سنا تھا‘ منیر ملک سے مل کر خوشی ہوئی‘ رات کے وقت باہر طوفان سر پٹختا رہا اور وہ ہمیں سعودی عرب سے آئس لینڈ تک کی کہانی سناتے رہے‘ وہ مشکل وقت کے بعد وہاں پہنچے تاہم بہت مطمئن ہیں۔گروندر آئس لینڈ کا مشہور ترین علاقہ ہے‘

یہ زمین کی ساخت اور قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے پوری دنیا کے فوٹو گرافروں کی آخری منزل ہے‘ آپ کو یہ علاقہ ہالی ووڈ کی بے شمار فلموں میں بھی نظر آتا ہے اور تصویروں کی نمائشوں میں بھی‘ کرک جوفل  پہاڑ پوری دنیا میں مشہور ہے‘ یہ پہاڑ گروندر کو جزیرہ نما  بناتا ہے‘ آپ کو اس جگہ پہاڑ‘ سمندر اور برف تینوں ملتے ہیں‘ پورا علاقہ آبشاروں میں گھرا ہوا ہے‘ وادی گرمیوں میں جل ترنگ بن جاتی ہے‘ یقینا یہاں سبزہ بھی ہوتا ہو گا لیکن فروری کے پہلے ہفتے میں وہاں برف ہی برف تھی‘

کرک پہاڑ کبھی زیر آب ہوتا تھا‘ سمندر کا پانی اسے صدیوں تک تراشتا رہا‘ پھر کوئی زلزلہ تھا یا آتش فشاں جس نے اسے سمندر سے اگل دیا‘ آپ کو پہاڑ پر تہہ در تہہ پانی کے آثار نظر آتے ہیں‘ پہاڑ کے ٹاپ پر آتش فشانی گڑھے بھی ہیں‘ آپ اگر گروندر میں موجود ہیں تو آپ کو کرک پہاڑ سمندر میں تیرتے ہوئے جہاز کی طرح دکھائی دیتا ہے‘ مجھے رات کے وقت یوں محسوس ہوتا تھاجیسے ابھی چند لمحوں میں سیٹی بجے گی اور پہاڑ بحری جہاز بن کر چل پڑے گا‘ گروندر کے بائیں جانب پہاڑی سلسلہ ہے‘ یہ سینا فل جوکول  کہلاتا ہے‘

پہاڑی سلسلے کے اوپر گلیشیئرز ہیں‘ یہ پانی کا منبع ہیں اور اس منبع سے درجنوں ندیاں اور آبشاریں نکلتی ہیں‘ ہم نے اگلی صبح پہاڑ کے ساتھ ساتھ سفر کیا‘ ہماری بائیں جانب پہاڑ تھا اور دائیں جانب سمندر‘ ہم کبھی سمندر کی طرف دیکھتے تھے اور کبھی پہاڑوں سے پھسلتی برف اور آبشاریں‘ وہ سارا منظر پوسٹ کارڈ کی طرح دکھائی دیتا تھا‘ ہمارے راستے میں دو چھوٹے چھوٹے ٹاﺅن بھی آئے‘ یہ دونوں ٹاﺅنز آبشاروں کی وجہ سے مشہور ہیں‘ سیاح گرمیوں میں یہاں آتے ہیں‘ ہوٹلوں میں رکتے ہیں اور پہاڑوں پر ہائیکنگ کرتے ہیں‘

ہم آخر میں سمندر کے ایک ایسے کنارے پر آ رکے جس نے ہماری نظریں اور قدم دونوں جکڑ لئے‘ وہ جگہ سٹورڈن  کہلاتی ہے‘ سمندری پانی اور لہروں نے چٹانیں کاٹ کر ساحل پر درجنوں فن پارے بنا دئیے ہیں‘ ہم وہاں پہنچ کر مبہوت ہو گئے‘ ہمارے سامنے سمندر تھا‘ سمندر میں سرخ پتھر کی چٹانیں تھیں‘ چٹانوں میں قدرتی کھڑکیاں‘ دروازے اور پل بنے ہوئے تھے‘ سمندر کا پانی اچھل کر ان کھڑکیوں دروازوں کے اندر آتا تھا‘ چٹانوں سے ٹکراتا تھا‘ اپنی گستاخی کی معافی مانگتا تھا اور واپس چلا جاتا تھا‘

ہم برف پر کھڑے ہو کر بلندی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے‘ ہمارے دائیں بائیں درجنوں فوٹو گرافر کھڑے تھے‘ وہ کلک کلک کے ساتھ ان مناظر کی تصویریں بناتے جا رہے تھے‘ وہ مقام صرف مقام نہیں تھا‘ وہ سیاحت کے مذہب کی عبادت گاہ تھا‘ فن‘ سیاحت اور خوشی کی عبادت گاہ‘ وہاں پہنچ کر یوں محسوس ہو ا جیسے میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں میں جس کی تلاش میں پوری دنیا میں مارا مارا پھر رہا ہوں‘ جس نے میرے دل‘ دماغ اور پیروں میں آگ لگا رکھی ہے اور جو مجھے پوری دنیا میں دوڑائے پھرتا ہے‘سٹورڈن کو دیکھ کر میرے دل‘ میرے دماغ میں ٹھنڈ سی پڑ گئی‘ میں نے لمبی سانس لی اور میرے منہ سے الحمد للہ نکل آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں