کیا یہ کمپیوٹرائزیشن تھی

  جمعرات‬‮ 25 جنوری‬‮ 2018  |  0:01

زینب کا قاتل گرفتار ہوگیا‘ کیسے گرفتار ہوا؟ یہ داستان کم دلچسپ نہیں‘ یہ اپنی دو بٹن والی جیکٹ‘ داڑھی منڈوانے اور گھر سے اچانک غائب ہونے کی وجہ سے پکڑا گیا‘ کریڈٹ کس کو جاتا ہے؟ کریڈٹ روایتی پولیسنگ کو جاتا ہے چنانچہ پنجاب کے انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور چیئرمین ڈاکٹر عمر سیف کی 6برس کی بھاگ دوڑ اور اربوں روپے کے سافٹ ویئرز کہاں ہیں‘ پولیس کی وہ سائنسی بنیادیں بھی کہاں ہیں جن پر قوم کے اربوں روپے خرچ

ہوئے؟ زینب کیس یہ سارے سوال بھی پیدا کر گیا‘ میرا خیال ہے وزیراعلیٰ جب تک ڈاکٹر عمر سیف کا مواخذہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا احتساب نہیں کریں گے یہ پولیس کے سسٹم کو ٹھیک کر سکیں گے اور نہ ہی پنجاب میں جرائم کا تدارک ہو سکے گا۔آپ یقینا حیران ہوں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور پولیس کا آپس میں کیا تعلق ہے؟دونوں میں اربوں روپے کا تعلق ہے‘ قصور میں چھوٹی بچیوں کے اغواءاور قتل کا سلسلہ شروع ہوا‘ 10 جنوری2018ءتک 12 بچیاں اور دو بچے ہلاک ہو گئے‘ آٹھ بچیوں کے جسم سے ایک ہی شخص کا ڈی این اے ملا‘ یہ تمام وارداتیں اور ڈی این اے باقاعدہ رپورٹ ہوتے رہے لیکن وزیراعلیٰ اور آئی جی دونوں قصور سے 50کلو میٹرکے فاصلے پر موجود ہونے کے باوجود ان تمام وارداتوں سے ناواقف رہے‘ زینب کا کیس بھی اگر میڈیا نہ اٹھاتا تو اس بے چاری کی لاش بھی باقی بچیوں کے ساتھ مٹی کا رزق بن جاتی اور ملزم عمران علی مزید دس بیس بچیاں قتل کر دیتا‘ اگر چیف جسٹس بھی سوموٹو نوٹس نہ لیتے‘ وزیراعلیٰ بھی ایکٹو نہ ہوتے اور میڈیا بھی زینب کے ایشو کو زندہ نہ رکھتا تو یہ کہرام چند دنوں میں ماضی کا قصہ بن جاتا اور یوں انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی نااہلی پر پردہ پڑا رہتا لیکن زینب نے جہاں پورے معاشرے کا کھوکھلا پن ظاہر کر دیا وہاں اس نے پولیس کی کمپیوٹرائزیشن اور پنجاب آئی ٹی بورڈ کا پول بھی کھول دیا‘ پنجاب حکومت نے 1999ءمیں آئی ٹی بورڈ بنایا‘ ڈاکٹر عمر سیف 2011ءمیں بورڈ کے چیئرمین بنے‘ ان چھ برسوں میں آئی ٹی بورڈ نے 275 منصوبے مکمل

کئے‘ پولیس اور لاءاینڈ آرڈر کےلئے 22 سافٹ ویئر بنے‘ ان پر اربوں روپے خرچ ہوئے لیکن آپ پولیس کمپیوٹرائزیشن کا کمال دیکھئے‘ قصور میں بارہ بچیاں ریپ ہو کر قتل ہو گئیں لیکن اربوں روپے کے سسٹم نے کوئی الرٹ

جاری نہیں کیا‘ بچیوں کے ریپ کی اطلاع ڈی آئی جی‘ آئی جی اور وزیراعلیٰ تک نہیں پہنچی‘ سسٹم نے الرٹ جاری کیوں نہیں کیا اور یہ انفارمیشن اوپر تک کیوں نہیں پہنچی‘ اس کا کون ذمہ دار ہے؟ ہمیں یہ ماننا ہوگا آج کمپیوٹرائزیشن اور ڈیٹا کے بغیر پولیسنگ ممکن نہیں‘

ڈیٹا جرائم بھی روکتا اور مجرم کو گرفتار بھی کراتا ہے‘ آپ فرض کیجئے ایک گینگ ملتان پہنچا‘ یہ دو دن خواتین کے پرس چھینتا رہا‘ یہ وارداتیں رپورٹ ہوئیں‘ وہ گینگ تین دن بعد بہاولپور چلا گیا وہاں بھی وارداتیں ہوئیں‘ رپورٹ ہوئیں‘ سسٹم کیا کرے گا؟ سسٹم فوری طور پر وارننگ جاری کرے گا‘ یہ حکومت کو بتائے گا یہ وہی گینگ ہے جو پہلے ملتان میں وارداتیں کرتا رہا‘ وارننگ کے بعد بہاولپور کی پولیس الرٹ ہو جائے گی‘ یہ شہریوں کو بھی اطلاع دے دے گی اور یہ ناکے بھی بڑھا دے گی‘

سسٹم پولیس کو یہ بھی بتا ئے گا مجرم کس علاقے میں رہ رہے ہیں‘ ان کا حلیہ کیا ہے اور ان کی واردات کا طریقہ کار کیا ہے‘ ملزم اگر بہاولپور سے ڈی جی خان چلے جاتے ہیں تو سسٹم ان کا ٹرینڈ دیکھ کریہ بھی بتا دے گا مجرموں کا اگلا ٹارگٹ رحیم یار خان ہو گا یوں شہری بھی بچ جائیں گے اور پولیس بھی مجرموں تک پہنچ جائے گی لیکن پنجاب میں کیا ہوا؟ پنجاب میں آئی ٹی بورڈ سے پہلے تھانوں میں 25 رجسٹر ہوتے تھے‘ پولیس تمام کارروائی ان رجسٹروں پر کرتی تھی‘

کمپیوٹرائزیشن ہوئی اور پولیس اب یہ کام رجسٹروں کے بجائے کمپیوٹر پر کر رہی ہے جبکہ تفتیش سے لے کر مجرم کی گرفتاری تک باقی تمام کام چھتروں اور رائفلوں کے ذریعے ہو رہے ہیں‘ کیا ہم اس عمل کو کمپیوٹرائزیشن کہہ سکتے ہیں؟ آپ نے کمپیوٹر خرید لئے‘ عملے کو کمپیوٹر استعمال کرنا اور ٹائپ کرنا سکھا دیا اور آپ نے کروڑوں روپے کے ”سرورز“ لگا دیئے اور بس! کیا اربوں روپے کے اس زیاں کا نام پولیس کمپیوٹرائزیشن ہے؟۔ آپ المیہ ملاحظہ کیجئے‘ پولیس کے پاس دس سافٹ ویئرز ہیں‘ یہ دس سافٹ ویئرز ایک دوسرے کے ساتھ بھی لنک نہیں ہیں‘ پولیس سارا دن ایک سافٹ بند کرتی اور دوسرا کھولتی رہتی ہے‘ پولیس چھ برسوں میں ڈیٹا انٹری سے آگے نہیں بڑھ سکی‘ آئی ٹی بورڈ نے کروڑوں روپے میں کرائم میپنگ کا سافٹ ویئر بنایا لیکن یہ سافٹ ویئر قصور کی بچیوں کےلئے میپنگ نہ کر سکا‘ زینب کا مجرم روایتی پولیسنگ اور اپنی غلطیوں سے پکڑا گیا‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور پولیس کمپیوٹرائزیشن 13دنوں میں ملزم تک نہیں پہنچ سکی‘کیوں؟

میں نے زینب کیس کے بعد آئی ٹی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر عمر سیف سے رابطہ کیا‘ ان سے پوچھا آپ کے سسٹم نے بارہ بچیوں کے بعد الرٹ جاری کیوں نہیں کیا‘ ڈاکٹر صاحب نے تسلیم کیا ”ہمارے سسٹم میں یہ فالٹ موجود ہے“ میں نے پوچھا ”پھر اس سسٹم کا کیا فائدہ“ ڈاکٹر صاحب نے جواب میں اپنا بروشر بھجوا دیا‘ میں نے بروشر کا مطالعہ کیا تو میں ڈاکٹر عمر سیف کی کاوشوں سے ”متاثر“ ہوئے بغیر نہ رہ سکا‘ آئی ٹی بورڈ نے چھ برسوں میں 275 پراجیکٹس مکمل کئے لیکن بروشر میں کسی ”ایپ“ کا کوئی لنک موجود نہیں‘

میں نے ڈاکٹر صاحب کو تحریری سوال بھجوادیئے‘ میں نے ان سے پوچھا‘آپ نے اب تک کرائم پری ڈکشن پلیٹ فارم پر کتنی رقم خرچ کی‘ پلیٹ فارم نے آج تک جرائم کی کتنی پیشن گوئیاں کیں‘ آپ نے سمارٹ فوڈ لائسنسنگ سسٹم بنایا‘ مجھے مہربانی فرما کر اس ایپلی کیشن کا لنک بھجوا دیں‘ آپ کے ریستوران انوائس مانیٹرنگ سسٹم پر راولپنڈی کے کتنے ریستوران ایکٹو ہیں اور آپ نے اس سسٹم کے تحت راولپنڈی سے 2017ءمیں کتنا ریونیو اکٹھا کیا‘ میں نے ان سے یہ بھی پوچھا آپ بیک وقت بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں‘

آپ آئی ٹی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہیں اور آپ پلان 9 کے سربراہ بھی ہیں‘ آپ کے پاس تین عہدے کیوں ہیں اور آپ کس کس ذمہ داری کی کتنی تنخواہ وصول کر رہے ہیں اور میں نے پوچھا آپ کا کرائم میپنگ سسٹم پنجاب کے کس کس ضلع میں کام کر رہا ہے؟ میں نے عمر سیف کو یہ سوال 18 جنوری کو بھجوائے تھے‘ انہوں نے اگلے دن جواب کا وعدہ کیا لیکن یاددہانی کے باوجود یہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکے‘کیوں؟ آپ خود سمجھ دار ہیں۔

پنجاب میں بنیادی طور پر کمپیوٹرائزیشن کے نام پر چھ سال سے دھول اڑائی جا رہی ہے‘ یہ لوگ اربوں روپے برباد کر چکے ہیں‘ دنیا کلاﺅڈ‘ بگ ڈیٹا اور بلاک چین کے دور میں داخل ہو چکی ہے‘ ہم ایک ایسے زمانے میں موجود ہیں جس میں موبائل فون سب کچھ بن چکا ہے لیکن پنجاب کا آئی ٹی بورڈ آج بھی25 سال پرانے آئیڈیاز پر سافٹ ویئر کا چورن بنا رہا ہے‘ کیوں؟ پنجاب آئی ٹی بورڈ نے پلان 9 کے نام سے سٹارٹ اپس پر بھی کروڑوں روپے ضائع کر دیئے ‘

دنیا میں کوئی ملک نیوز پورٹلز کو فنڈنگ نہیں دیتا لیکن پنجاب آئی ٹی بورڈ نے ای کامرس اور مزاحیہ نیوز پورٹل جیسے پراجیکٹس پر عوام کا پیسہ ضائع کر دیا‘آپ سٹارٹ اپس کا ڈیٹا نکال لیں‘ آپ کامیاب سٹارٹ اپس کا تخمینہ لگا لیں اور آپ بورڈ سے یہ پوچھ لیں ان سٹارٹ اپس نے آج تک کیا کمایا‘ کیا کامیابی حاصل کی! آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی‘ یہ رقم اگر بگ ڈیٹا اور سوشل سٹارٹ اپس پر لگائی جاتی تو آج پنجاب کی پولیس سمیت تمام سرکاری محکموں کے پاس گڈ گورننس کی درجنوں مثالیں موجود ہوتیں‘

یہ رقم اگر ٹھیک طریقے سے خرچ ہوتی تو آج پنجاب کے سارے تھانے اور جرائم کا سارا ڈیٹا آن لائین ہوتااور یہ ڈیٹا الرٹ بھی جاری کر رہا ہوتا‘ یہ رقم اگر ٹھیک استعمال ہوتی ڈی پی اوز موبائل فون پر تھانوں کی کارکردگی دیکھ رہے ہوتے‘ آئی جی روزانہ ایس ایچ اوز تک پورے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو دیکھ رہا ہوتا اور وزیراعلیٰ جب چاہتے وہ چند سیکنڈ میں دیکھ لیتے صوبے کے کس شہر میں سب سے زیادہ جرائم ہو رہے ہیں‘ لاہور کے کس علاقے میں سٹریٹ کرائم ہو رہے ہیں اور کون سا ایس ایچ او اچھا اور کون نکما ہے لیکن افسوس اربوں روپے ضائع ہو گئے‘

پنجاب حکومت اب پانچ سال بعد یہ سارا سسٹم ڈمپ کرے گی اور نیا سسٹم بنانے کےلئے مزید اربوں روپے خرچ کرے گی‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اس حماقت کا ذمہ دار کون ہے اور کیا نیب کو پنجاب کے آئی ٹی بورڈ کا احتساب نہیں کرنا چاہیے؟ نیب فائلیں کھولے‘ یہ حیران رہ جائے گا۔میرا خیال ہے نیب سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب کو نوٹس لینا چاہیے‘ یہ یورپ کے کسی تھانے میں رک کر اس کا سسٹم دیکھیں اور واپس آ کر اپنے آئی ٹی بورڈ سے پوچھیں رومانیہ اور پنجاب کے سسٹم میں اتنا فرق کیوں ہے؟ اور یہ کوئی فرم ہائر کر کے آئی ٹی بورڈ کے تمام منصوبوں کی سکروٹنی بھی کرا لیں‘

یہ اگر ممکن نہ ہو تو یہ صرف اتنا پوچھ لیں پولیس سسٹم الرٹ جاری کیوں نہیں کرتا‘ جرائم کا ڈیٹا انیلسیزکیوں نہیں ہوتا‘ پنجاب کی کس ویب سائیٹ کے کتنے یوزر ہیں‘ کون سی ”ایپ“ کتنی ڈاﺅن لوڈ ہوئی اور پلان 9 کے کس پراجیکٹ نے کتنا ریونیو جنریٹ کیا ‘ آپ چند گھنٹوں میں فیصلے تک پہنچ جائیں گے‘ آپ نے اگر یہ نہ کیا تو آپ کےلئے آنے والے دنوں میں ایل ڈی اے میں حمزہ شہباز اور خواجہ سعد رفیق اور آئی ٹی بورڈ میں ڈاکٹر عمر سیف کے کمالات کافی ثابت ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں