کہانی کے دو ورژن

  جمعہ‬‮ 5 جنوری‬‮ 2018  |  0:01

میاں برادران کے سعودی عرب جانے کے پیچھے دو کہانیاں ہیں‘ ہم پہلی کہانی کو شہباز شریف ورژن کہہ سکتے ہیں اور دوسری کو نواز شریف ‘ ہم سب سے پہلے شہباز شریف ورژن کی طرف آتے ہیں۔ہمیں شہباز شریف ورژن کو سمجھنے کےلئے تین حقائق ماننا پڑیں گے‘پہلی حقیقت‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ میاں شہباز شریف کے نہیں میاں نواز شریف کے تعلقات ہیں ‘ عرب ممالک کے شاہی خاندان میاں شہباز شریف کو

میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی کی حیثیت سے جانتے ہیں‘ دوسری حقیقت‘ پاکستان پوری عرب دنیا کےلئے اہم ترین ملک ہے‘عرب پاکستان کی فوج‘ پاکستان کے ایٹم بم اور پاکستان کے جغرافیے کو اپنا دفاع سمجھتے ہیں اورتیسری حقیقت ‘ عرب ممالک کی اکثریت وہابی العقیدہ ہے اور یہ پاکستان کے اہلحدیث اور اہل دیوبند کو اپنا بازو سمجھتے ہیں‘یہ بھی حقیقت ہے عرب ممالک اور ایران کے درمیان ساڑھے تیرہ سو سال سے اختلافات ہیں‘ عرب فقہی اختلافات کی وجہ سے پاکستان کے اہل تشیع کو پسند نہیں کرتے‘ پاکستان میں شیعہ سنی تقسیم بھی موجود ہے اور یہ بھی سچ ہے پاکستان کے اہل تشیع ایران اور سنی سعودی عرب کے قریب ہیں‘ ایران اور سعودی عرب پاکستان کے دونوں فرقوں کو امداد بھی دیتے ہیں‘ یہ دونوں ملک دونوں مسالک کے مدارس کو بھی سپورٹ کرتے ہیں اور یہ طالب علموں کو وظائف بھی دیتے ہیں‘ پاکستان میں بریلوی حضرات بھی کثیر تعداد میں ہیں‘ یہ لوگ اہل تصوف ہیں‘ عرب تصوف کی ہندوستانی‘ سنٹرل ایشین اور ایرانی روایات کو تسلیم نہیں کرتے چنانچہ عرب بریلویوں اور بریلوی عربوں کو پسندنہیں کرتے تاہم بریلوی حضرات فقہی اختلافات کے باوجود تصوف کی وجہ سے اہل تشیع کے قریب ہیں‘ سعودی عرب ان دونوں کی اس قربت کو بھی پسند نہیں کرتا‘ شریف فیملی نظریاتی

طور پر بریلوی اور سیاسی لحاظ سے اہلحدیث ہے‘ یہ پیر پرست بھی ہیں اور یہ تبلیغی جماعت کو بھی پسند کرتے ہیں‘ یہ سرفراز نعیمی (مرحوم) سے بھی متاثر ہیں‘ یہ میاں محمد بخشؒ کا کلام بھی سنتے ہیں اور یہ مولانا طارق جمیل کے واعظ پر بھی سردھنتے ہیں۔پاکستان کے ایک برس کے حالات نے ملک میں بے شمار نئی تبدیلیوں کی بنیاد رکھی‘ سعودی شاہی خاندان اور متحدہ عرب امارات کے امیر نواز شریف سے ناراض ہو گئے‘ امریکا اور پاکستان کے تعلقات بھی خراب ہو گئے اور پاکستان میں اہلحدیث گروپ پیچھے اور بریلوی آگے

آ گئے‘

عربوں کو ان حالات میں پاکستان میں ایک نئے لیڈر کی ضرورت ہے‘ عرب فقہی اختلافات کی وجہ سے بھٹو خاندان کے ساتھ کمفرٹیبل نہیں ہیں اور عمران خان اور سعودی شاہی خاندان کے درمیان حافظ طاہر اشرفی کے علاوہ کوئی رابطہ نہیں چنانچہ شریف خاندان آج بھی عربوں کےلئے اہم ہے‘ میاں نواز شریف نے ان حالات میں 20دسمبرکو اچانک میاں شہباز شریف کو اگلا وزیراعظم ڈکلیئر کر دیا‘ میاں شہباز شریف کی سوشل میڈیاٹیم نے اس اطلاع کو عالمی خبر بنا دیا‘ٹاک شو ہوئے‘

یہ ٹاک شوز اوریہ کمپیئن سفارت خانوں تک پہنچی اور سفیروں نے میاں شہباز شریف کے ساتھ ملاقاتیں شروع کر دیں‘ میاں شہباز شریف واٹس ایپ کے ذریعے سعودی سفیرنواف سعید المالکی سے رابطے میں تھے‘ یہ سعودی سفیر کو پنجاب کی ترقیاتی سکیموں کے بارے میں خبریں اور فوٹیج بھجواتے رہتے تھے‘ نواف سعید المالکی وزیراعلیٰ کی پرفارمنس سے بھی متاثر تھے‘ رہی سہی کسرمحمد علی درانی نے پوری کر دی‘ یہ میاں شہباز شریف اور سعودی سفارت خانے کے درمیان رابطہ ہیں‘

سعودی سفیر کو واٹس ایپ پیغامات اور محمد علی درانی کی ”سفارت کاری“ سے یہ تاثر ملا‘ میاں شہباز شریف کو تمام ”این او سی“ مل چکے ہیں‘ یہ حدیبیہ پیپر مل کیس سے بھی بچ گئے ہیں‘ فوج بھی ان کے ساتھ خوش ہے‘ عوام بھی ان کی پرفارمنس سے مطمئن ہیں اور میاں نواز شریف نے بھی میاں شہباز شریف کو تخت پر بٹھانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے چنانچہ میاں شہباز شریف 2018ءمیں پاکستان کے وزیراعظم ہوں گے‘ سعودی سفیر نے یہ خبر شاہی خاندان کو دے دی اور شاہی خاندان نے میاں شہباز شریف کے ساتھ تعلقات کا دروازہ کھولنے کا فیصلہ کر لیا‘ سعودی سفیر نے وزیراعلیٰ کو ولی عہد کا پیغام پہنچایا اور دورے کی دعوت دے دی‘

جہاز آیا اور میاں شہباز شریف خوشی خوشی سعودی عرب روانہ ہو گئے لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی پاکستان میں کہرام برپا ہو گیا‘ عمران خان اور آصف علی زرداری نے ”این آر او“ کا واویلا شروع کر دیا‘ دفاعی تجزیہ کاروں نے میڈیا کو بتانا شروع کر دیا شہباز شریف کو کسی قسم کا این اوسی نہیں ملا‘ نیب نے بھی رائیونڈروڈ کا نیا ریفرنس دائر کرنے کی بریکنگ نیوز دے دی اور میاں نواز شریف کے قریبی ساتھیوں نے بھی شہباز شریف کی ”وزارت عظمیٰ“ کی خبروں کی تردید کر دی‘ سعودی عرب اس صورتحال سے پریشان ہوگیا‘

سعودی سفیر نے 29دسمبرکو حافظ طاہر اشرفی کے ذریعے عمران خان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا‘ این آر او کی تردید کی اور انہیں کھل کر تسلی دی‘ دوسری طرف میاں شہباز شریف کا طیارہ ریاض کی بجائے جدہ پہنچا اور حکومت نے انہیں عمرے کی سعادت دینا شروع کر دی‘شاہی خاندان نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کےلئے میاں نواز شریف کو بھی بلا لیا‘ یہ بھی ریاض پہنچ گئے‘ ولی عہد کی میاں شہباز شریف کے ساتھ ملاقات طے تھی لیکن شہزادہ محمد بن سلمان ملاقات منسوخ کر کے گھوڑوں کی دوڑ دیکھنے چلے گئے‘

لوگ درمیان میں پڑے اور ولی عہد اتوار کی رات میاں برادران سے ملاقات کےلئے راضی ہو گئے‘ ملاقات ہوئی لیکن ملاقات میں چار سعودی وزراءبھی موجود تھے‘ ملاقات کے بعد میاں شہباز شریف کو پاکستان اور میاں نواز شریف کو مدینہ بھجوا دیا گیا اور یوں غلط فہمی کی بنا پر کھلنے والا یہ باب بند ہو گیا۔ہم اب نواز شریف ورژن کی طرف آتے ہیں‘میاں نواز شریف شاہ عبداللہ کے قریب تھے‘ شاہ کے صاحبزادے بھی نواز شریف کا احترام کرتے تھے‘ شاہ عبداللہ نے 30 شادیاں کیں اور ان کے 35بچے ہیں‘

چار شہزادے شاہ عبداللہ کے دور میں زیادہ اہم تھے‘ تین کے شریف فیملی کے ساتھ اچھے تعلقات تھے‘ شاہ سلیمان اور ولی عہد محمد بن سلمان مرحوم شاہ عبداللہ کے خاندان سے خوش نہیں ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں شاہ عبداللہ کے دور میں بڑے لیول پر کرپشن ہوتی رہی‘ کنگ عبداللہ سعودی عرب پر توجہ دینے کی بجائے بین الاقوامی سیاست میں بھی مصروف رہے‘ توجہ کے اس فقدان نے سعودی عرب کو نقصان پہنچایا‘ یہ سمجھتے ہیں ہم جب تک سعودی عرب کے دشمنوں کو ختم نہیں کریں گے‘

ہم جب تک اپنی معیشت کو تیل کے انحصار سے نہیں نکالیں گے‘ ہم جب تک دفاعی لحاظ سے ناقابل تسخیر نہیں ہوں گے اور ہم جب تک معاشرے کو نہیں کھولیں گے ہم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکیںگے چنانچہ شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیر دفاع بنتے ہی یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی‘ ایران میں انقلابی طاقتوں پر سرمایہ کاری‘ قطر پر پابندیوں اور شام اور عراق میں براہ راست مداخلت شروع کر دی‘ عورتوں کو ڈرائیونگ کی محدود اجازت بھی دے دی گئی اور ان کا نوکریوں میں بھی کوٹہ بڑھا دیا گیا‘

ولی عہد نے صدر ٹرمپ کے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ بھی کر لیا‘ سعودی عرب امریکا سے 110 بلین ڈالر کا اسلحہ خریدے گا‘ صحرا میں ہاف ٹریلین ڈالر کی لاگت سے ماڈرن شہر بنانے کا اعلان بھی ہوگیا‘ وژن 2030ءبھی دے دیا گیا‘ یہ اعلان بھی ہو گیا سعودی عرب 2020ءمیں تیل کی آمدنی پر انحصار ختم کر دے گا‘ دنیاکی سب سے بڑی آئل کمپنی ”آرام کو“ کے شیئرز بھی لانچ کرنے کا فیصلہ ہو گیا‘ یہ دو ٹریلین ڈالر مالیت کی کمپنی ہے اور شہزادہ محمد بن سلمان نے شاہی خاندان سے کرپٹ عناصر اورملک سے کرپشن کے خاتمے کا اعلان بھی کر دیا‘ سعودی عرب کا شاہی خاندان پندرہ ہزار افراد پر مشتمل ہے‘

یہ تمام لوگ کسی نہ کسی شکل میں سرکاری نظام کا حصہ ہیں‘ شہزادہ محمد نے ان کے اثاثوں کا تخمینہ بھی لگوانا شروع کر دیا۔ ”کرپشن فری سعودیہ“ کے پہلے فیز میں38 اہم ترین لوگ گرفتار ہوئے‘ ان میں11شہزادے بھی شامل تھے‘گرفتار شدگان میں کنگ عبداللہ کے چار صاحبزادے ہیں‘ متعب بن عبداللہ نے گرفتاری کے 23دن بعد حکومت کو ایک بلین ڈالر دیئے اور یہ رہا ہو گئے‘ باقی شہزادے بھی تعاون کےلئے تیار ہیں‘ شہزادوں کے اربوں ڈالر کے اثاثے‘ بینک اکاﺅنٹس اور جائیدادیں ضبط ہو چکی ہیں‘

سعودی میڈیا کا دعویٰ ہے شاہ عبداللہ کے صاحبزادوں بالخصوص میشال عبداللہ نے حکومت کو ان تمام لوگوں کے نام‘ پتے اور رقوم کی تفصیلات دے دی ہیں جو شاہی خاندان کےلئے منی لانڈرنگ کرتے رہے یا شاہی خاندان ماضی میں انہیں مالی مدد دیتا رہا‘ اس فہرست میں لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری‘ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاءاور میاں نواز شریف کا نام بھی شامل تھا‘شہزادوں نے میاں نواز شریف پر الزام لگایا یہ تین ارب ریال کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔

سعودی عرب نے 3نومبرکو سعد الحریری کو ریاض بلایا اور انہیں حراست میں لے لیا‘ یہ 15دن حراست میں رہے‘ رقم واپس کی اورلبنان واپس چلے گئے‘میاں برادران کو بھی اس سلسلے میں سعودی عرب بلایا گیا تھا‘ یہ بھی اب سعدالحریری کی طرح ہر قسم کے تعاون کےلئے تیار ہیں اور ان کے بعد خالدہ ضیاءکی باری آئے گی۔یہ کہانی کے دو مختلف ورژن ہیں‘ ان میں سے کون سا درست ہے یہ حقیقت کھلنے میں زیادہ دن نہیں لگیں گے‘ جنوری میں ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا تاہم یہ سچ ہے سعودی عرب میں کوئی این آر او نہیں ہوا‘ کیوں؟ کیونکہ بات این آر او سے بہت آگے نکل چکی ہے‘ گلیوں میں اب ڈونلڈ ٹرمپ جیسا بھینسا پھر رہا ہے اور اس کے ہوتے ہوئے کوئی این آر او نہیں ہو سکتااور مبصرین کا خیال ہے میاں نواز شریف بحران کی اس گھڑی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں