کلبھوشن کو پھانسی نہیں ہو گی

  جمعرات‬‮ 28 دسمبر‬‮ 2017  |  0:01

پاکستان کے خفیہ اداروں نے 3 مارچ 2016ءکو بلوچستان کے ضلع خاران کی تحصیل ماشکیل سے بھارت کا ایک جاسوس گرفتار کیا‘ جاسوس کے سامان سے اس کا بھارتی پاسپورٹ بھی برآمد ہوا‘ یہ پاسپورٹ حسین مبارک پٹیل کے نام سے بنا تھا‘ ایڈریس پونا کا تھا اور یہ شخص اس پاسپورٹ کے ذریعے 17 مرتبہ بھارت گیا اور بھارت سے ایران آیا تھا‘ یہ دوبئی اور تھائی لینڈ بھی آتا اور جاتا رہا تھا‘ حسین مبارک پٹیل نے گرفتاری کے فوری بعد تین

حقائق کا اعتراف کر لیا‘ اس کا کہنا تھا میں سرونگ نیول آفیسر ہوں‘ میرا رینک کمانڈر ہے‘ میں 2022ءمیں ریٹائر ہوں گا اور میرا اصل نام کلبھوشن یادیو ہے‘ دو‘میں ایران کے شہر بندر عباس اور چاہ بہار میں را کا سربراہ ہوں‘ میں بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو رقم فراہم کرتا ہوں‘ بم بنانے کا سامان دیتا ہوں اور میں انہیں ٹریننگ دیتا ہوں اور تین”سی پیک“ رکوانا میرا بنیادی مقصد ہے‘ کلبھوشن یادیو سے پوچھا گیا ”آپ نے سینئر آفیسر ہونے کے باوجود پاکستان آنے کی غلطی کیوں کی؟“ یادیو کا جواب تھا‘ میں اوور کانفیڈنس کا شکارہو گیا تھا‘ میںماضی میں کراچی تک آجاتا رہا تھا‘ میں نے دیکھا پاکستان کا سسٹم بہت ڈھیلا ہے‘ ملک کے اندر داخل ہونا اور واپس جانا مشکل نہیں چنانچہ میں پاکستان میں آتا جاتا رہا یہاں تک کہ میں پاکستانی اداروں کے ٹریپ میں آگیا اور پکڑا گیا‘ کلبھوشن یادیو سے پوچھا گیا ”آپ اپنا پاسپورٹ جیب میں ڈال کر پاکستان کیوں آگئے؟“ یادیو کا جواب تھا ایران میں بہت سختی ہے‘ وہ ہر چیک پوسٹ پر غیر ملکیوں کے کاغذات چیک کرتے ہیں‘ میں ٹیکسی میں پاکستانی سرحد تک آ یا تھا چنانچہ ایرانی چیک پوسٹوں کےلئے پاسپورٹ جیب میں رکھنا میری مجبوری تھی‘ کلبھوشن یادیو سے پوچھا گیا ”آپ نے ہمیں تفتیش کے بغیر تمام معلومات کیوں دے دیں“ کلبھوشن یادیو نے بہت دلچسپ جواب دیا‘ اس کا کہنا تھا‘ میں آفیسر ہوں‘ میں جانتا ہوں میں پھنس چکا ہوں‘ میں اب بچ نہیں سکوں گا‘ میں اگر آپ سے کوئی چیز

چھپاﺅں گا تو میں ٹارچر کا نشانہ بنوں گا اور یہ سیدھی سادی حماقت ہو گی‘میں یہ بھی جانتا ہوں میں اگر اپنی شناخت کرا دوں‘ میں خود کو آفیسر ثابت کر دوں تو مجھے آفیسر کی مراعات بھی مل جائیں گی اور دوسری رعایتیں بھی چنانچہ میں نے مار کھائے بغیر اعتراف کر لیا‘ کلبھوشن یادیو

نے اس کے بعد بھارت‘ ایران اور پاکستان میں موجود اپنے تمام کانٹیکٹ بھی پاکستانی اداروں کے حوالے کر دیئے‘ یادیو کی انفارمیشن پر بلوچستان اور سندھ سے چار سو لوگ گرفتار ہوئے‘

ان لوگوں سے دستاویز‘ نقشے‘ ڈیٹونیٹرز اور رقم بھی برآمد ہوئی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی تفصیل بھی۔ کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا گوادر‘ پسنی اور جیونی کی بندرگاہوں کو ٹارگٹ کرنا میرے منصوبوں میں شامل تھا‘ میں نے مختلف مقامات پر ریڈارز کو بھی نشانہ بنوایا‘ تربت اور کوئٹہ میں دہشت گردی بھی کرائی‘ ایس پی اسلم چودھری کو بھی قتل کرایا اور میں تحریک طالبان پاکستان کو فنڈنگ بھی کرتا رہا‘ کلبھوشن یادیو نے بتایا‘ وہ 2003ءسے بلوچستان ونگ میں کام کر رہا ہے‘ یہ آخر میں اس ونگ کا سربراہ بن گیا اور بھارت نے بلوچستان میں بدامنی کےلئے دہشت گردوں میں چار سو ملین ڈالر تقسیم کرائے۔

پاکستان نے 29 مارچ 2016ءکو کلبھوشن یادیو کی اعترافی ویڈیو جاری کر دی‘ بھارت میں کہرام مچ گیا‘ بھارتی حکومت دو تین ماہ تک اس کے وجود سے انکار کرتی رہی لیکن جب اسے محسوس ہوا یہ زیادہ دیر تک حقائق کو دنیا سے پوشیدہ نہیں رکھ سکے گی توپھر اس نے کلبھوشن یادیو کو ریٹائرڈ نیول آفیسر تسلیم کر لیا‘ پاکستان نے اس کے بعد بھارت کے سامنے دو سوال رکھ دیئے‘ یہ اگر کلبھوشن یادیو ہے تو پھر حسین مبارک پٹیل کون ہے اور یہ اس کے پاسپورٹ پر سفر کیوں کرتا رہا

اور کیا بھارت کا سسٹم اس قدر کمزور ہے کہ کوئی بھی شخص جعلی نام سے اصلی پاسپورٹ بنوا سکتا ہے اور یہ 17 بار ملک سے آ اور جا سکتا ہے اور سسٹم اصلی شناخت تک نہیں پہنچ پاتا اور دوم اگر کلبھوشن یادیو ریٹائر ہو چکا تھا تو اس کی پنشن بک کہاں ہے اور اس کی پنشن کس بینک میں جمع ہوتی رہی اور یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کلبھوشن یادیو سے حسین مبارک پٹیل کیوں بن گیا؟ بھارت کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا چنانچہ پاکستان فوج نے کلبھوشن یادیو کو آرمی ایکٹ 1923ءکے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل(ایف جی سی ایم) کر دیا ‘ یہ بریگیڈیئر کی عدالت میں پیش ہوا‘

اسے برطانیہ‘ بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دولت مشترکہ کے ان تمام ممالک کے برابر عدالتی سہولتیں دی گئیں جہاں ”کامن لائ“ موجود ہے‘ کلبھوشن کو10 اپریل 2017ءکو بریگیڈیئر لیول کی عدالت سے سزائے موت ہو گئی‘ کلبھوشن نے اس سزا کے خلاف میجر جنرل کی عدالت میں اپیل کر دی‘ اسے اس کی خواہش پر سول وکیل فراہم کر دیا گیا‘ یہ ہائی کورٹ کا وکیل تھا اور یہ اس نوعیت کے مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہوتا رہا تھا‘ کلبھوشن نے اپیل میں درخواست کی ”مجھ سے غلطی ہو گئی‘

مجھے انسانی ہمدردی کے تحت معاف کر دیا جائے“ میجر جنرل کی عدالت نے اپیل مسترد کر دی‘ کلبھوشن یادیو نے اس کے بعد آرمی چیف کو اپیل کر دی‘ یہ اپیل اس وقت آرمی چیف کے دفتر میں موجود ہے‘ یہ بھی اگر اپیل مسترد کر دیتے ہیں تو کلبھوشن یادیو کے پاس صدر کا آخری آپشن بچے گا اور اگر صدر بھی اپیل مسترد کر دیتے ہیں تو پھر کلبھوشن یادیو کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا لیکن میرا خیال ہے یہ نوبت نہیں آئے گی‘ پاکستان کلبھوشن یادیو کو پھانسی نہیں لگائے گا‘ کیوں؟ اس کی دو وجوہات ہیں‘

پہلی وجہ عالمی عدالت انصاف ہے‘ عالمی عدالت نے 18مئی 2017ءکو پاکستان کو پھانسی سے روک دیا ‘ عالمی عدالت زندگی کی حامی ہے‘ اس نے 1949ءکے بعد کسی کو پھانسی نہیں دی‘ یہ کلبھوشن کو بھی پھانسی نہیں دینے دے گی اور ہم کیونکہ عالمی عدالت کے دستخط کنندہ ہیں لہٰذا ہمارے پاس عالمی عدالت کا فیصلہ ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں‘ دوسرا کلبھوشن یادیو بھارتی دہشت گردی کا زندہ چہرہ ہے‘ یہ چہرہ اگر مر گیا تو سارا ایشو مر جائے گا اور یہ پاکستان کو سوٹ نہیں کرتا‘ یہ ایشو مسلسل زندہ رہے‘

کلبھوشن یادیو کی فیملی پاکستان آتی رہے اور یہ ایشو عالمی میڈیا اور بھارتی میڈیا کا موضوع بنتا رہے‘ یہ پاکستان کو سوٹ کرتا ہے اور پاکستان یہ کام کرتا رہے گا‘ یہ اس وقت تک کلبھوشن کو مرنے نہیں دے گا جب تک دنیا بھارت کی اصلیت نہیں جان لیتی‘ پاکستان کلبھوشن کے خاندان کو بھی اس وقت تک پاکستان آنے کی دعوت دیتا رہے گا جب تک یہ لوگ پھٹ نہیں پڑتے اور یہ عالمی میڈیا کو سارے حقائق نہیں بتا دیتے‘ یہ اپنی حکومت کی بربریت دنیا کے سامنے کھول نہیں دیتے۔

ہم اب کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ کی پاکستان آمد کی طرف آتے ہیں‘ کلبھوشن یادیو کے والدین نے اپریل میں دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں ویزے کےلئے درخواست دی تھی‘ پاکستانی دفتر خارجہ نے 10 نومبرکو والدین کی بجائے اہلیہ کو ملاقات کی پیشکش کر دی‘ بھارت نے اہلیہ کے ساتھ والدہ کی درخواست کر دی‘ پاکستان مان گیا‘ بھارت نے درخواست کی ہمارا ایک آفیسر بھی ملاقات کے دوران موجود ہوگا‘ پاکستان نے آفیسر کو بھی اجازت دے دی لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا‘ بھارتی سفارت کار کلبھوشن یادیو کو صرف دیکھ سکے گا‘

اس سے ملاقات نہیں کر سکے گا‘ پاکستان نے بھارت کو لکھا پاکستانی اور انٹرنیشنل میڈیا وہاں موجود ہو گا آپ اپنا میڈیا بھی بھیج سکتے ہیں‘ فیملی وزارت خارجہ میں بیٹھ کر میڈیا سے گفتگو کرے‘ ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن بھارت نے اپنا میڈیا بھجوانے سے بھی انکار کر دیا اور پاکستان سے بھی خاندان کو میڈیا سے دور رکھنے کی درخواست کر دی‘ پاکستان نے یہ درخواست بھی مان لی اور بھارت نے خاندان کی سیکورٹی کےلئے تین خط لکھے‘ پاکستان نے فول پروف سیکورٹی اور باعزت ملاقات کی یقین دہانی بھی کرا دی‘

بھارت نے اس کے علاوہ بھی تین فرمائشیں کیں لیکن پاکستان نے صاف انکار کر دیا‘ یہ فرمائشیں اور یہ انکار بھی ریکارڈ کا حصہ ہے‘ بہرحال کلبھوشن کی والدہ اوانتی کا یادیو اور اہلیہ چیتن یادیو25 دسمبر کو پاکستان آئیں‘ وزارت خارجہ نے تین دن قبل کلبھوشن کےلئے خصوصی کیبن بنوایا‘ فیملی کے کپڑے تبدیل کرائے گئے‘ ان کی تلاشی ہوئی‘ بیوی کے جوتوں میں چپ تھی‘ جوتے رکھ لئے گئے اور انہیں عزت کے ساتھ کلبھوشن کے سامنے بٹھا دیا گیا‘ کلبھوشن نے والدہ سے کہا‘ آپ گورنمنٹ کو سمجھائیں میں سرونگ آفیسر ہوں‘

میری گورنمنٹ مجھے اون کرے‘ والدہ نے پوچھا ”تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں‘ تمہیں ٹارچر تو نہیں کیا گیا“ کلبھوشن نے جواب دیا ”میں آرام سے ہوں‘ مجھے ہرگز ٹارچر نہیں کیا گیا“ والدہ نے پوچھا ”تمہارے سر کے پیچھے زخم کا نشان کیسا ہے؟“ کلبھوشن نے جواب دیا ”یہ زخم پرانا ہے‘ اس کا قید سے کوئی تعلق نہیں“ میٹنگ بہت اچھی رہی‘ میٹنگ کے بعد کلبھوشن کی والدہ نے ترجمان ڈاکٹر فیصل‘ انڈین ڈیسک کی ڈائریکٹر ڈاکٹر فریحہ بگٹی اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور یہ لوگ شام کے وقت بھارت واپس لوٹ گئے۔

پاکستان نے کلبھوشن کے معاملے میں کمال کر دیا‘خاندان کو کلبھوشن سے ملا کر عالمی سطح پر بھارت کی پوزیشن خراب کر دی‘ پاکستان نے ملاقات کے سلسلے میں بھارت سے جو وعدہ کیا وہ سو فیصد پورا کیا لیکن بھارت حسب روایت مطمئن نہیں‘ یہ پاکستان پر مسلسل حملے کر رہا ہے‘ پاکستان کا خیال ہے بھارت نے اگر یہ واویلا بند نہ کیا تو ملاقات کے سلسلے میں ساری خط و کتابت اور کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کی ویڈیوریلیز کر دی جائے گی یوں بھارت پوری دنیا کے سامنے ننگا ہو جائے گا‘یہ کیس مستقبل میں کیا شکل اختیار کرے گا یہ فیصلہ ابھی دور ہے تاہم جہاں تک آج کا تعلق ہے تو ہمیں ماننا ہوگا ہماری وزارت خارجہ اور پاک فوج نے کمال کر دیا‘ ویل ڈن جناب!۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں