ہٹوں پر بکنے والے پتر

  منگل‬‮ 5 دسمبر‬‮ 2017  |  14:49

ہم اسرار احمد تنولی سے شروع کرتے ہیں‘ یہ اسلام آباد پولیس میں کانسٹیبل ہیں‘ ایم فل کے طالب علم ہیں‘ مانسہرہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ فروری میں ان کی شادی طے ہے‘ یہ 25 نومبر 2017ءکو فیض آباد کی ڈیوٹی پر تھے‘ دھرنا زوروں پر تھا‘ اسرار احمد تنولی سٹیٹ کی رٹ اسٹیبلش کرنے کےلئے آگے بڑھے‘ یہ مظاہرین کے نرغے میں آئے‘ یہ نہتے تھے‘ مظاہرین نے انہیں ڈنڈوں اور ٹھڈوں سے مارنا شروع کر دیا‘ یہ شدید زخمی ہو گئے‘ سٹیج

سے اعلان ہوا ”کافر پولیس والے کی آنکھیں نکال دو“ بپھرے ہوئے ہجوم نے غلیل کے ساتھ ان کے چہرے پر پتھر مارنا شروع کر دیئے‘ ایک پتھر ان کی دائیں آنکھ میں لگا‘ آنکھ شدید زخمی ہو گئی‘ یہ تڑپ تڑپ کر بے ہوش ہو گئے‘ پولیس اہلکاروں نے بڑی مشکل سے ان کی جان بچائی‘ ہسپتال پہنچایا گیا‘ ڈاکٹروں نے دائیں آنکھ مکمل ضائع ہونے کی تصدیق کر دی‘یہ اس وقت پولیس لین میں زخمی پڑے ہیں اور یہ اپنے ساتھیوں سے ریاست کے معانی پوچھ رہے ہیں۔ کانسٹیبل سکندر علی دوسری مثال ہیں‘ یہ بھی 25 نومبر کی صبح ریاست کی رٹ اسٹیبلش کرنے فیض آباد گئے تھے‘ یہ پچاس ساٹھ مظاہرین کے نرغے میں آئے‘ مظاہرین ان پر ڈنڈے برسانے لگے‘ سٹیج سے اعلان ہوا‘ یہ یزیدی ہیں‘ یہ کافر فورس کے اہلکار ہیں‘ مظاہرین سکندر علی کو گھسیٹتے ہوئے سٹیج تک لے گئے‘ سٹیج سے اعلان ہوا مارو‘ کافروں کو مارو‘ یہ اعلان حکم تھا‘ مظاہرین سکندر پر پل پڑے‘ سکندر علی کو ڈنڈوں اور آہنی راڈوں سے مارا گیا‘ سر پر چوٹیں آئیں‘ خون بہنا شروع ہوا‘ یہ گہری بے ہوشی میں چلے گئے‘ مظاہرین میں سے کسی نے اعلان کیا” یہ مر گیا ہے‘ اسے اب چھوڑ دو“ مظاہرین نے سکندر علی کو مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا‘ اللہ تعالیٰ کو سکندر کی زندگی عزیز تھی چنانچہ یہ بچ گئے‘ یہ اس وقت آئی سی یو میں ہیں‘ سر میں 35 ٹانکے لگے ہیں‘ یہ چند لمحوں کےلئے ہوش میں آتے ہیں‘ سسکی لیتے ہیں اور دوبارہ بے ہوش ہو جاتے ہیں‘

یہ پورے خاندان کے واحد کفیل ہیں‘ والدین انتقال کر چکے ہیں‘ سکندر علی کے جسم کا کوئی ایسا حصہ نہیں جس پر ریاست کی رٹ کے نشان موجود نہ ہوں‘ کانسٹیبل عابد علی تیسری مثال ہیں‘ یہ کاﺅنٹر ٹیررازم فورس کے جوان ہیں‘ یہ ٹریننگ مکمل کر کے تازہ تازہ فورس میں

شامل ہوئے‘ یہ 25 نومبر کو پولیس کے ہراول دستے میں شامل تھے‘ ہجوم نے میٹرو سٹیشن‘ بس اڈے اور سیف سٹی کے کیمروں پر حملے شروع کئے‘ عابد علی ریاست کا یہ نقصان برداشت نہ کر سکے‘

یہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے ہجوم کے راستے میں کھڑے ہو گئے‘ ہجوم نے انہیں گھیر لیا‘ یہ ریاست کی رٹ بچاتے رہے اور ہجوم ان کی ٹانگوں پر ڈنڈے برساتا رہا‘ ہجوم نے انہیں بھی ادھ موا کر کے چھوڑ دیا‘ عابد علی دونوں ٹانگوں سے محروم ہو چکے ہیں‘ یہ بھی اس وقت پولیس لین میں اس ریاست کا انتظار کر رہے ہیں جس کی حرمت پر انہوں نے اپنی دونوں ٹانگیں قربان کر دیں اور انسپکٹر عبدالجبار چوتھی مثال ہیں‘ یہ 37 برس قبل پولیس سروس میں کانسٹیبل بھرتی ہوئے‘ آہستہ آہستہ انسپکٹر کے رینک تک پہنچے‘ یہ اس وقت تھانہ کھنہ میں ایڈیشنل ایس ایچ او ہیں‘ نارووال سے تعلق رکھتے ہیں‘

چار بچوں کے والد ہیں‘ خاندان کے واحد کفیل ہیں‘ یہ بھی 25 نومبر کو ہجوم کے قابو آ گئے‘ ہجوم انہیں گھسیٹ کر سٹیج تک لے گیا‘ سٹیج سے اعلان ہوا ‘یہ کافر ہے‘ یہ یزیدی فوج کا سپاہی ہے‘ یہ بھی بچ کر نہ جائے‘ ہجوم نے عبدالجبار پر کیلوں والے ڈنڈوں اور راڈز سے حملہ کر دیا‘ یہ نیم مردہ حالت میں ہسپتال پہنچائے گئے‘ یہ بھی اس وقت ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہیں‘ ان کے جبڑے اور سر کا اوپروالا حصہ ٹوٹ چکا ہے‘ چھاتی اور آنکھ پر کاری زخم ہیں‘ یہ بھی آئی سی یو میں لیٹ کر ریاست کا انتظار کر رہے ہیں۔

یہ صرف چار مثالیں ہیں‘ ایسی 180 مثالیں موجود ہیں‘ 25 نومبر کو ریاست کی رٹ پر پولیس کے 147 اور ایف سی کے 73 اہلکاروں نے زخم کھائے‘ تشدد کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکاروں میں 100 کانسٹیبل اور 47 افسر شامل ہیں جبکہ پنجاب کے 3 اہلکار بھی لبیک یا رسول اللہ کے کارکنوں کا نشانہ بنے‘ آپ پی آئی ایم ایس‘ پولی کلینک اور پولیس لین جا کر دیکھیں آپ سے ریاست کے ان سپاہیوں کی حالت نہیں دیکھی جائے گی‘ یہ کون لوگ ہیں؟یہ وہ لوگ ہیں جو آج بھی ریاست کو ریاست سمجھتے ہیں‘

جو اس کی رٹ کو سلامت دیکھنا چاہتے ہیں اور جو حکومت اور عدالت کے حکم کو آخری حکم سمجھ کر اس پر عملدرآمد کراتے ہیں‘ یہ لوگ اصل ریاست ہیں لیکن ریاست نے 25 نومبر2017ءکو ان کے ساتھ کیا کیا؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا‘ حکومت نے حکم پر عملدرآمد کا آرڈر کیا‘پولیس کے پانچ ہزار پانچ سو 8 اہلکار فیض آباد پہنچے‘ مظاہرین کا گھیراﺅ کیا اور آپریشن شروع کر دیا‘ یہ لوگ سٹیج تک پہنچ گئے‘ دھرنے والے فرار ہو نے لگے‘ دھرنے کے قائدین نے صلح صفائی کی کوشش شروع کر دی‘

یہ پولیس سے محفوظ راستہ مانگنے لگے اور پھر اچانک بازی پلٹ گئی‘ انہیں سینئرز کا حکم آیا آپ پیچھے ہٹ جائیں‘ یہ کنفیوز ہو گئے‘ اس دوران ہزار نئے مظاہرین کا ریلا آیا‘ مظاہرین کے نئے ریلے کے پاس ڈنڈے بھی تھے‘ راڈز بھی اور آنسو گیس کے شیل بھی‘ یہ نیا ریلا پولیس پر پل پڑا اور اڑھائی سو پولیس اہلکاروں کو روند کر رکھ دیا‘ یہ پولیس اہلکار آج تک پریشان ہیں‘ یہ آج تک ریاست سے اپنا جرم‘ اپنا گناہ پوچھ رہے ہیں‘ یہ اپنے سینئرز سے پوچھ رہے ہیں کیا ہم ریاست کا حصہ نہیں تھے؟

کیا ہم ریاست کا حصہ نہیں ہیں؟ اگر ہم ہیں تو پھر ریاست نے ہمیں اون کیوں نہیں کیا؟ یہ ہمارے پیچھے کیوں نہیں کھڑی ہوئی؟ کانسٹیبل عابد علی اپنے ملنے والے ہر شخص سے صرف ایک گلہ کرتا ہے‘ یہ کہتا ہے مجھے اپنی دونوں ٹانگیں ٹوٹنے کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا دکھ مجھے یہ جان کر ہواکہ ہماری ریاست نے ان لوگوں کو تھانوں سے نکال کر‘ ان کو پیسے دے کر گھر واپس بھجوایا جنہوں نے میری ٹانگیں توڑی تھیں‘ یہ تمام پولیس اہلکار مسلمان بھی ہیں‘ یہ صوم وصلوٰة کے پابند بھی ہیں‘

یہ ختم نبوت پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور یہ پاکستان کی حرمت پر کٹ مرنا اپنے لئے اعزاز بھی سمجھتے ہیں‘ یہ حکومت اور عدلیہ دونوں کے احکامات پر من وعن عمل بھی کرتے ہیں لیکن ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا‘ ہم نے انہیں 25 نومبر کو ان لوگوں کے حوالے کر دیا جو عدالت کو مانتے ہیں‘ حکومت کو اور نہ ہی ریاست کو‘ جو آئے‘ 21 دن تک عوام کے راستے روکے‘ میٹرو سٹیشن تباہ کیا‘ گاڑیوں کو آگ لگائی‘ لوگوں کی دکانیں اور پلازے جلائے اور ڈی جی رینجرز کے ہاتھ سے لفافے لے کر واپس چلے گئے جبکہ ریاست کی حرمت اور رٹ کےلئے مرنے والے ہسپتالوں اور پولیس لین میں پڑے رہ گئے‘ کیوں؟۔

ہمیںفیصلہ کرنا ہوگا کیا عابد علی‘ عبدالجبار‘ سکندر علی اور اسرار احمد تنولی کسی کے بیٹے نہیں ہیں‘ کیا یہ اس ریاست کے ملازم نہیں ہیں‘ کیا یہ 25 نومبر کو ریاست کے حکم پر ریاست کی رٹ اسٹیبلش کرنے کےلئے فیض آباد نہیں گئے تھے‘ کیا مولانا خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے ساتھ ان کی کوئی ذاتی لڑائی تھی اور کیا ختم نبوت کی شق کے ساتھ انہوں نے چھیڑ چھاڑ کی تھی؟ آخر ان کا جرم کیا تھا؟ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے یہ لوگ اگر 25 نومبر کو بغاوت کر دیتے‘

یہ ہائی کورٹ‘ حکومت اور سینئرز کے احکامات ماننے سے انکار کر دیتے اور یہ ریاست کی رٹ منوانے سے تائب ہو جاتے تو کیا ہوتا؟ کیا یہ دھرنے والوں کے ہیرو نہ بن جاتے‘ کیادھرنے والے انہیں پھولوں میں نہ تول دیتے‘ کیا یہ بھاری تحائف وصول نہ کرتے اورکیا ان کے اعضاءبھی سلامت نہ رہتے؟مجھے یقین ہے یہ اگر ریاست سے بغاوت کر دیتے تو دھرنے والے ریاست کے ساتھ معاہدے میں ان کی بحالی کی شق بھی شامل کرا لیتے اور یوں یہ دنیا اور آخرت دونوں میں سرفراز ہو جاتے لیکن یہ لوگ مشکل اس کی گھڑی میں ریاست کے ساتھ کھڑے رہے‘

یہ یزیدی اور کافر کہلا کر بھی‘ یہ ڈنڈے اور راڈز کھا کر بھی‘ یہ زخمی ہو کر بھی میدان میں ڈٹے رہے‘ یہ ریاست کی سائیڈ پر موجود رہے لیکن ریاست نے آخر میں کیا کیا؟ ریاست نے انہیں ”اون“ تک کرنے سے انکار کر دیا‘ وزیراعظم ہوں‘ وزیر داخلہ ہوں یا پھر چیف جسٹس آف پاکستان ہوں کسی کو ان کی عیادت تک کی توفیق نہیں ہوئی‘ ریاست نے الٹا ان کا میڈیکل الاﺅنس‘ ٹی اے ڈی اے اور تنخواہیں تک روک لیں‘ آپ ریاست کا المیہ ملاحظہ کیجئے‘ ریاست صرف سرحدوں کے مخافظوں کو ریاست سمجھتی ہے‘

ہم صرف ان کو غازی اور شہید سمجھتے ہیں‘ وہ بے شک قوم کے محسن ہیں‘ وہ بے شک شہید اور غازی ہیں لیکن کیا پولیس کے اہلکار قوم کے بیٹے نہیں ہیں‘ کیا یہ ریاست کا حصہ نہیں ہیں‘ کیا یہ وطن کا فخر نہیں ہیں اور کیا ان کے آنسو‘ آنسو اور ان کا لہو لہو نہیں ہے‘ یہ پوچھتے ہیں یہ غازی اور یہ شہید کیوں نہیں ہیں‘ قوم ان کو سلام پیش کیوں نہیں کرتی‘ ریاست ان کے جنازوں میں شریک کیوں نہیں ہوتی اور حکومت ان کی خدمت‘ ان کی قربانیوں پر انہیں سیلوٹ کیوں نہیں کرتی‘یہ پوچھتے ہیں کیا ریاست نے غازیوں اور شہیدوں کو بھی تقسیم کر دیا ہے‘ کیا ریاست نے اپنے بیٹوں کےلئے بھی تیرے اور میرے کی کیٹگری بنا دی ہے اور کیا یہ لوگ ماﺅں کے وہ پتر ہیں جو ہٹوں پر دستیاب ہیں‘ آپ جب چاہیں اور جتنے چاہیں خرید لیں اور آپ جب چاہیں ان کے سروں کا سودا کر لیں‘ آپ ان کے قاتلوں کے ساتھ معاہدہ کر لیں‘ یہ بس اتنا پوچھتے ہیں۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں