سڑک کا حق

  جمعہ‬‮ 24 ‬‮نومبر‬‮ 2017  |  0:20

میں بات آگے بڑھانے سے قبل آپ کے سامنے دو احادیث رکھنا چاہتا ہوں‘ پہلی حدیث کا تعلق صحیح بخاری سے ہے‘ حدیث 2465‘ صفحہ نمبر585 اور جلد سوم ہے‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا‘راستوں میں بیٹھنے سے باز رہو‘ صحابہؓ نے عرض کیا‘ ہم وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں‘ وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے‘ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں‘ آپؐ نے فرمایا اگر وہاں بیٹھنے کی مجبوری ہے توپھر راستے کا حق ادا کرو‘ صحابہؓ نے عرض کیا‘ یا

رسول اللہ ﷺ راستے کا حق کیا ہے؟ فرمایا‘ نگاہیں جھکا کر رکھنا‘ دوسروں کو اذیت نہ پہنچانا‘ لوگوں کے سلام کا جواب دینا‘ نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا“۔ آپ دوسری حدیث بھی ملاحظہ کیجئے‘ یہ حدیث ابو داؤد کی ہے‘ کتاب 15 اور حدیث کا نمبر 2623 ہے‘ سیدنا معاذ بن انسؓ سے روایت ہے‘ ہم غزوے میں اللہ کے نبیؐ کے ہم رکاب تھے‘ لوگوں نے منزلوں پر پڑاؤ کرنے اور خیمے وغیرہ لگانے میں اتنی تنگی کا مظاہرہ کیا کہ راستہ بھی نہ چھوڑا‘ نبی کریمؐ نے اپنا ایک منادی بھجوایا جس نے لوگوں میں اعلان کیا جو شخص خیمہ لگانے میں تنگی کرے یا راستہ کاٹے تو اس کا جہاد نہیں۔یہ صرف دو احادیث نہیں ہیں‘ آپ صحاح ستہ کا مطالعہ کر لیں‘ آپ چاروں آسمانی کتابیں نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو ان میں راستوں اور شاہراہوں کی حرمت کے درجنوں احکامات مل جائیں گے‘ آپ دنیا بھر کی جنگوں کی تاریخ بھی نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو آدھی سے زیادہ جنگوں کی بنیاد راستے ملیں گے‘ آپ کسی دن گلی محلے کے جھگڑوں پر بھی تحقیق کر لیں آپ کو ان جھگڑوں میں بھی راستے کا ایشو ملے گا‘ آپ کو متاثرین یہ کہتے ملیں گے یہ بار بار ادھر سے گزر رہا تھا‘ میں نے پوچھا اور یہ مجھ سے لڑ پڑا‘ یہ میرا راستہ روک کر کھڑا ہوگیا تھا‘ یہ گلی میں چارپائی بچھا کر بیٹھ جاتا ہے‘ یہ میری دکان‘ میرے گھر کے سامنے موٹر سائیکل یا گاڑی پارک کر گیا تھا اور یہ ہمارے راستے میں کوڑا پھینک جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ‘ آپ کو

گلی محلے کے ہر جھگڑے کے پیچھے یہ اعتراضات ملیں گے‘ یہ اعتراضات ہر سال سینکڑوں جانیں لے جاتے ہیں‘آپ یورپ اور امریکا سمیت جدید دنیا کے تمام ممالک کا مطالعہ کریں آپ کو ان ملکوں میں گلیاں اور سڑکیں ہر وقت کھلی ملیں گی‘ صدر

ہو‘ پوپ ہو یا پھرکوئی سیاسی جماعت ملک کا کوئی گروپ‘ کوئی شخصیت سڑک نہیں روک سکتی جبکہ ہم جس دن اپنے ملک میں تحقیق کریں گے‘ ہم چند لمحوں میں اس حقیقت تک پہنچ جائیں گے ہمارے ملک میں چوروں‘ ڈکیتوں اور قاتلوں کے حقوق ہیں اگر نہیں ہیں تو راستوں اور شاہراہوں کے حقوق نہیں ہیں‘

ہمارے ملک کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی شخص کسی بھی وقت کوئی بھی گلی یا شاہراہ روک کر بیٹھ جاتا ہے اور ریاست اس کا منہ دیکھتی رہ جاتی ہے‘ محلے میں کسی کی شادی ہو وہ سڑک پر تمبو لگا دے گا‘ کوئی فوت ہو گیا لواحقین اس کی آخری تقریبات سڑک پر شروع کر دیں گے‘ مرحوم کے قل اور چالیسواں تک سڑک پر ہو گا‘ آپ کو جمعہ کے روز محلے اور شہر کی تمام بڑی گلیاں اور سڑکیں بند ملیں گی‘ شہر کی ہر جامع مسجد کے سامنے گاڑیاں اور موٹر سائیکل کھڑے ہوں گے‘

گلیوں میں تسبیحوں‘ مسواکوں اور ٹوپیوں کی ریڑھیاں لگی ہوں گی اور بیریئر ہوں گے‘ آپ وہاں سے پیدل بھی نہیں گزر سکیں گے‘ ملک کے ہر چھوٹے بڑے مذہبی تہوار کا پہلا نشانہ بھی سڑکیں اور گلیاں بنتی ہیں‘ ہم اس وقت تک درود وسلام‘ عزہ داری‘ عرس‘ قوالی اور ختم شروع نہیں کرتے ہم جب تک سڑک بند نہ کر لیں‘ ہم قربانی کے جانور بھی گلی اور سڑک پر باندھتے ہیں‘ ملک کے سارے الیکشن گلیوں اور سڑکوں پر ہوتے ہیں‘ امیدوار ملک کی ترقی اور خوشحالی کے نعرے‘ آوے ہی آوے شیر آوے‘ دلوں کی دھڑکن نواز شریف اور جب آئے گا عمران خان کے ترانے بھی سڑکوں پر گاتے اور سناتے ہیں

آپ ملک کے کسی شہر کے کسی بازار میں چلے جائیں آپ کو آدھی سڑک دکانوں کے منہ میں ملے گی‘ آپ پچاس فٹ چوڑی سڑک سے بھی گزر نہیں سکیں گے‘ آپ کسی درگاہ پر چلے جائیں آپ کو پوری گلی‘ پوری سڑک پر پھول بیچنے والوں اور فقیروں کا قبضہ ملے گا اور آپ چھٹی کے وقت کسی سکول‘ کسی کالج اور کسی یونیورسٹی کے سامنے چلے جائیں آپ اس وقت سو فٹ چوڑی سڑک سے گزر نہیں سکیں گے‘ہماری سڑکیں غریب کی جورو بن چکی ہیں‘یہ پورے شہر کی بھابھی ہیں‘ انہیں کوئی بھی روک سکتا ہے‘ انہیں کوئی بھی تاراج کر سکتا ہے۔

ہم ساٹھ برسوں میں اپنی سڑکوں کی حرمت نہیں بچا سکے تھے کہ ہم دس سال پہلے ایک نئی مصیبت کا شکار ہو گئے‘ ملک میں عدلیہ کی بحالی کی تحریک شروع ہوئی‘ دھرنوں کا نیا کلچر متعارف ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر کی تمام بڑی شاہراہیں ”خالہ جی کا ویڑا“بن گئیں‘ وکلاء نے سڑکیں بند کر کے افتخار محمد چودھری تو بحال کرا لئے لیکن پوراملک بند کرا دیا‘ یہ ملک آج تک نہیں کھلا‘ سکندر جیسا پاگل ہو‘ مولانا طاہر القادری ہوں‘ عمران خان ہوں‘ میاں نواز شریف ہوں‘

آصف علی زرداری ہوں یا پھر ناراض ڈاکٹرز‘ ناراض اساتذہ‘ ناراض طالب علم‘ ناراض کلرک‘ ناراض پائلٹس اور ناراض کسان ہوں ملک میں کسی شخص نے اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی اور پشاورکی سڑکوں کی جان نہیں چھوڑی‘ یہ لوگ دس‘ بیس اور پچاس کی تعداد میں آتے ہیں‘ سڑک بند کرتے ہیں اور پورے ملک کی مت مار کر رکھ دیتے ہیں‘یہ دس‘ بیس‘ پچاس لاکھ لوگوں کی زندگی عذاب کر دیتے ہیں‘ اسلام آباد اس ظلم کی بدترین مثال ہے‘ یہ شہر 2007ء سے مسلسل بند چلا آ رہا ہے‘

یہ کبھی عدلیہ کے نام پر‘ کبھی جمہوریت کے نام پر‘ کبھی مسنگ پرسنز کے نام پر‘ کبھی ملک بچانے کے نام پر‘ کبھی دھاندلی کا حساب لینے کے نام پر‘ کبھی حکومت کو نکالنے کے نام پر‘ کبھی دہشت گردی کے مقابلے کے نام پر‘ کبھی احتساب‘ انصاف اور حساب کے نام پر اور کبھی کون سچا اور کون کھرا عاشق رسولؐ ہے کے نام پر بند ہوتاآ رہا ہے‘ میں دس سال سے وفاقی دارالحکومت کی مرکزی سڑکوں کو بند دیکھ رہا ہوں‘ یہ شہر دس سال سے کنٹینروں کے آسیب کا شکار ہے لیکن ریاست ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے‘

اسلام آباد اس وقت بھی بند ہے‘ فیض آباد پر دھرنا جاری ہے اور دھرنے کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی زندگی عذاب ہو چکی ہے‘ فیض آباد کے اردگرد آباد پانچ لاکھ لوگ راتوں کو سو نہیں پارہے‘ بچے سکول‘ ملازم دفتر‘ تاجر منڈیوں اور مسافر ائیر پورٹ نہیں پہنچ پا رہے‘ سفارت کار‘ بین الاقوامی میڈیا اور دنیا بھر کے مبصرین 18 دنوں سے یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں لیکن ریاست کے ہاتھ بغلوں سے باہر نہیں آ ر ہے‘ دھرنے میں اتنے لوگ موجود نہیں ہیں حکومت نے جتنی پولیس فورس اور ایف سی وہاں کھڑی کر رکھی ہے‘

حکومت دھرنے کی حفاظت پر روزانہ 50 لاکھ روپے خرچ کر رہی ہے‘ اب تک 14 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں‘ یہ دھرنا اگر آخری ہوتا تو بھی شاید لوگ صبر کر لیتے لیکن یہ دھرنا بازی کے سلسلے کی ایک ننھی سی کڑی ہے‘ یہ سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہے گا‘ یہ سڑکیں‘ یہ شہر اس کے بعد بھی بند ہو گا‘ ملک میں ابھی دودھ میں پانی ڈالنے والوں کو بھی ملاوٹ کی اجازت چاہیے‘یہ بھی اسلام آباد آئیں گے‘ احتساب عدالت نے ابھی میاں نواز شریف کو سزا سنانی ہے‘

پاکستان مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کی بے گناہی کا مقدمہ بھی سڑکوں پر لڑے گی‘ آصف علی زرداری نے بھی گرفتار ہونا ہے‘ زرداری صاحب کی معصومیت کا فیصلہ بھی اسلام آباد کی سڑکوں پر ہوگا‘ حکومت نے بھی فارغ ہونا ہے اور اس کی بحالی کی جنگ بھی سڑکوں پر لڑی جائے گی اور سپریم کورٹ نے ابھی عمران خان کے کیس کا فیصلہ بھی سنانا ہے‘ ملک میں ابھی اسلامی نظام بھی نافذنہیں ہوا‘ مریم نواز کی سیاسی لانچنگ بھی باقی ہے چنانچہ عشق کے بے شمار امتحان ابھی پیچھے ہیں‘ یہ سڑکیں ابھی مزید بند ہوں گی‘ اسلام آباد کے شہریوں کی جان مزید ہلکان ہوگی۔

ہمارے پاس اب دو آپشن ہیں‘ ہم سڑکوں کو مظاہروں کیلئے وقف کر دیں‘ لوگ آئیں‘ سڑکیں بند کریں اوراپنے مطالبات کی منظوری تک سڑکوں پر قابض رہیں یا پھر ہم سڑکوں کا حق ادا کریں‘ ہم ملک کی تمام بڑی شاہراہیں روکنے والوں کیلئے کڑی سزائیں طے کر دیں‘ ریاست کسی شخص یاکسی گروہ کو سڑک روکنے کی اجازت نہ دے‘ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے‘ یہ اگر حقیقتاً یہ مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو یہ قومی اسمبلی میں بل پیش کرے‘ اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملائے‘ نیا قانون بنائے اور سڑک روکنے والے کسی شخص کے ساتھ اس کے بعد کوئی رعایت نہ کی جائے‘

ریاست پوری طاقت کے ساتھ سڑک بھی کھولے‘ مجرموں کو بھاری جرمانہ بھی کرے اور کم از کم پانچ سال کیلئے جیل میں بھی پھینکے‘ یہ تماشہ اب بہرحال بند ہونا چاہیے‘ خدا کی پناہ ہماری ریاست اگر سڑک نہیں کھلوا سکتی تو پھر یہ ریاست کس نام کی ہے؟ ہم اگر سڑکوں کی حرمت کی حفاظت نہیں کرسکتے توہم اپنے ملک کو ملک کیوں کہتے ہیں اور حکومت اگر چند ہزار لوگوں کے قبضے سے سڑک نہیں چھڑوا سکتی تو یہ خود کو حکومت کیوں کہتی ہے؟۔

نوٹ:کراچی کے تعلیمی ادارے Gradsy نے میرے نام سے ایک سکالرشپ سکیم شروع کی ہے‘ یہ لوگ ہر سال ایم بی اے‘ بی بی اے یا سی اے کے کسی ایک ضرورت مند طالب علم یا طالبہ کو سو فیصد وظیفہ دیں گے‘ آپ اگر باصلاحیت ہیں‘ آپ میرٹ پر آتے ہیں اور آپ کراچی میں رہتے ہیں لیکن آپ یونیورسٹی کی فیس ادا نہیں کر سکتے تو آپ یونیورسٹی کے صدر سید علی عباس عابدی صاحب سے [email protected] اور 0322-2255969 پر رابطہ کرلیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں