ری ڈیزائننگ

  جمعرات‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2017  |  1:33

ہم ایک بار پھر ماضی کی طرف جاتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو ملک کے مقبول اور مضبوط ترین وزیراعظم تھے‘ ملک کی 9 سیاسیجماعتوں نے اتحاد بنایا‘ 1977ءکے الیکشن ہوئے‘ دھاندلی ہوئی‘ اپوزیشن سڑکوں پر نکلی‘ بھٹو صاحب کی انا نے تیل کا کام کیا‘ سیاسی جنگ ہوئی اور فوج نے5جولائی 1977ءکو اقتدار پر قبضہ کر لیا‘ بھٹو کو گرفتار کر کے مری پہنچا دیا گیا‘ آج کے مورخین کا خیال ہے فوج بھٹو کو پھانسی نہیں دینا چاہتی تھی‘ یہ لوگ ان

کو صرف بے دست و پا کر کے چھوڑ دینا چاہتے تھے لیکن یہ بھٹو کی ضد‘ مقبول ہونے کا زعم اور بین الاقوامی لیڈر ہونے کی غلط فہمی تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پھانسی کا پھندا بنتی چلی گئی‘ فوج نے انہیں 28 جولائی کو رہا بھی کر دیاتھا لیکن بھٹو صاحب نے باہر نکل کر جرنیلوں کے خلاف تقریریں شروع کر دیں‘ وہ بآواز بلند کہتے تھے‘ میں ان لوگوں کی مونچھوں کے ساتھ اپنے بوٹوں کے تسمے باندھوں گا‘ وہ عوام کو بھی اکسارہے تھے‘ بھٹو صاحب کی ان تقریروں نے جرنیلوں کو ڈرادیا چنانچہ وہ دوبارہ گرفتار کر لئے گئے‘ احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کی ایف آئی آر سامنے آئی اور بھٹو صاحب کے خلاف قتل کا مقدمہ چلنے لگا‘ لاہورہائی کورٹ میں پانچ رکنی بینچ بنا‘ مولوی مشتاق حسین بینچ کے سربراہ تھے‘ بھٹو صاحب کو جب بھی عدالت لایا جاتا تھا‘ وہ عدالت کے اندر اور باہر ججوں کے خلاف تقریر ٹھونک دیتے تھے‘ وہ عدالت پر ”میرے خلاف فیصلہ کیا نہیں کروایا جا رہا ہے“ جیسے الزامات بھی لگا دیتے تھے‘ وہ خفیہ ہاتھوں‘ ایجنسیوں‘ جرنیلوں اور مارشل لاءحکومت پر بھی اعتراض کرتے تھے‘ وہ ان لوگوں کو اپنے مقدمے کے پیچھے قرار دیتے تھے‘ آج مورخ اقرار کرتا ہے فوج اور عدلیہ میں بھٹو کے بے شمار فین موجود تھے‘ وہ بھٹو صاحب کو نکلنے کی گنجائش دینا چاہتے تھے لیکن بھٹو نے بار بار فوج اور عدلیہ پر تنقید کر کے دونوں اداروں کو اپنا مخالف بنا لیا‘ بھٹو نے

فوج اور عدالت کو یہ یقین بھی دلا دیاکہ میں جس دن باہر آﺅں گا‘ میں جس دن اقتدار میں آ گیا اس دن فوج اور جج دونوں نہیں بچیں گے چنانچہ دونوں اداروں کو اپنی بقا خطرے میں محسوس ہونے لگی‘ یہ دونوں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا دیا

یوں ذوالفقار علی بھٹو جیسا جینئس تاریخ میں عبرت بن کر رہ گیا‘ ذوالفقار علی بھٹو اگر اس وقت نرم رویہ اختیار کر لیتے‘ وہ جلا وطن ہو جاتے یا وہ ملک کے اندر رہ کر درمیانی سیاست کرتے رہتے تو جنرل ضیاءالحق جلد الیکشن کرانے پر مجبور ہو جاتے‘

اسمبلیاں بحال ہو جاتیں اور ذوالفقار علی بھٹو دوبارہ اقتدار میں آ جاتے لیکن بھٹو صاحب کی انا نے اداروں کےلئے گنجائش نہ چھوڑی ‘ گنجائش کی یہ کمی بھٹو کو بھی کھا گئی‘ جمہوریت کو بھی اور سسٹم کو بھی‘ ملک آج تک بھٹو کی ضد کے اثرات سے باہر نہیں آ سکا‘ یہ دوبارہ ٹریک پر نہیں آیا۔میاں نواز شریف بھی آج اسی ٹریک پر چل رہے ہیں‘ فوج اور عدلیہ میں میاں نواز شریف کے بے شمار چاہنے والے موجود ہیں‘ یہ دونوں ادارے جمہوریت اور سسٹم کو حقیقت بھی مانتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں طاقتور پارلیمنٹ طاقتور ملک کی ضامن ہوتی ہے‘

یہ میاں نواز شریف کے خلاف فیصلے کو بھی کمزور فیصلہ سمجھتے ہیں اور یہ میاں نواز شریف کو گنجائش بھی دینا چاہتے ہیں لیکن میاں نواز شریف اپنے خیالات اور اقدامات سے یہ گنجائش تنگ سے تنگ کرتے جا رہے ہیں‘ یہ فوج اور عدلیہ دونوں کے وجود کےلئے دھمکی بنتے جا رہے ہیں لہٰذا مجھے خطرہ ہے میاں صاحب کی یہ حکمت عملی انہیں دوسرا بھٹو بنا دے گی‘ مجھے یہ بھی خطرہ ہے ملکی ادارے دوسری بار ”ہم یا یہ“ پر چلے جائیں گے اور یہ حقیقت ہے رائفل بردار شخص کو جب اپنی زندگی خطرے میں محسوس ہوتی ہے تو وہ فائر کرتے دیر نہیں لگاتا‘

وہ مشکوک جھاڑیوں کو بھی توپ سے اڑا دیتا ہے اور میاں نواز شریف تو سیدھا سادا مورچہ ہیں اور اس مورچے سے روزانہ فائرنگ بھی ہو رہی ہے چنانچہ یہ کتنی دیر برداشت ہو جائیں گے‘ حکومت کو یہ غلط فہمی ہے یہ سینٹ کے الیکشن تک برقرار رہے گی‘ میاں نواز شریف قومی اسمبلی میں 163 ارکان اکٹھے کر کے پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ رہ جائیں گے اور یہ 2018ءکے الیکشن لڑ لیں گے‘ یہ اگر ہو گیا تو یہ اس صدی کا سب سے بڑا معجزہ ہوگا اور یہ معجزہ ثابت کر دے گا میاں نواز شریف پاکستان کی تاریخ کے خوش قسمت ترین سیاستدان ہیں لیکن سچی بات ہے مجھے یہ معجزہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

میاں نواز شریف کی موجودہ مشکلات کی دو جڑیں ہیں‘ اسحاق ڈار اور میاں نواز شریف کے ناتجربہ کار بچے‘ اسحاق ڈار میاں نواز شریف کے چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ بھی تھے‘ معاشی مشیر بھی اور ان کے رازدار بھی‘ میاں نواز شریف اور ان کے بچوں نے جب بھی اور جہاں بھی رقم ٹرانسفر کی یا جہاں بھی پراپرٹی خریدی اسحاق ڈار ان کے مشیر تھے‘ میاں نواز شریف سپریم کورٹ کے فیصلے تک اسحاق ڈار پر اندھا اعتماد کرتے تھے‘ یہ اپنے وکلاءکو بھی یہ کہہ کر روانہ کر دیتے تھے ”آپ وہ کریں جو ڈار صاحب کہہ رہے ہیں“

اور میاں صاحب ”حضور یہ ہیں وہ ذرائع“ کی تقریریں بھی ڈار صاحب کے اعتماد پر کرتے رہے تھے لیکن جب ٹیسٹ کا وقت آیا تو ڈار صاحب کی ایک بھی دستاویز ججوں کے سوالوں کا مقابلہ نہ کرسکی‘ یہ کوئی ٹھوس منی ٹریل نہ دے سکے‘ لوگ آج یہ بھی کہہ رہے ہیں میاں نواز شریف کا اقامہ بھی ڈار صاحب کے خفیہ لاکر سے ”لیک“ ہوا تھا‘ ڈار صاحب احتساب عدالت کا دباﺅ بھی برداشت نہ کر سکے‘ ان کا ایک ماہ میں 25 پاﺅنڈ وزن کم ہو گیا‘ یہ بیمار بھی ہو گئے‘ یہ آخری بار 29ستمبر2017ءکو نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں شریک ہوئے‘ انہوں نے ڈیڑھ منٹ مانگا‘

کونے میں گئے اور پوچھا ”سرمیرا کیا قصور ہے“ بتایا گیا ”آپ اپنے کیس پر توجہ دیں‘ آپ سچے ہیں‘ آپ عدالت کو قائل کر لیں گے“ لیکن ان کی ایک ہی رٹ تھی آپ مجھے مشورہ دیں میں کیا کروں‘ انہیں ٹالنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ڈٹے رہے یہاں تک کہ انہیں ہنس کر کہا گیا ”فیرڈار صاحب نس جاﺅ“اور ڈار صاحب واقعی نس گئے‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور میاں شہباز شریف ان کا استعفیٰ چاہتے ہیں لیکن ڈار صاحب کا خیال ہے میں سیٹ سے ہٹ گیا تو میرے ماتحت ادارے ہمارے خلاف گواہی دے دیں گے یوں ہم پھنس جائیں گے‘ میاں نواز شریف اس نازک صورتحال میں اسحاق ڈار کو ناراض کرنے کا رسک نہیں لے سکتے

چنانچہ یہ آج بھی ”جو ڈار صاحب کہہ رہے وہ مان لیں“ کا حکم جاری کر کے آگے روانہ ہو جاتے ہیںاور سسٹم بیٹھتا چلا جا رہا ہے۔میاں نواز شریف کو آج چند حقیقتیں مان لینی ہوں گی‘ ملک میں سیاست ”ری ڈیزائن“ ہو رہی ہے‘ سیاست کی آخری ری ڈیزائننگ 1980ءسے 1985ءکے دوران ہوئی تھی‘ سیاست سے تمام پرانے چہرے نکال کر نئے چہرے داخل کر دیئے گئے تھے‘ ملک کی ساری موجودہ لاٹ 1985ءکی پیداوار ہے‘ جنرل پرویز مشرف نے 2002ءمیں ری ڈیزائننگ کی کوشش کی لیکن وہ 2007ءتک خود سسٹم کےلئے تھریٹ بن گئے چنانچہ وہ اپنی ڈیزائننگ کے ساتھ فارغ ہو گئے‘

ملک کی دونوں پرانی جماعتوں کو پانچ پانچ سال موقع دیا گیا لیکن یہ بدقسمتی سے اپنی ذات سے آگے نہ بڑھ سکیں‘ یہ لوگ اپنی پروٹیکشن‘ اپنے مقدموں سے نکلنے میں مصروف رہے‘ یہ لوگ نئے ادارے بنانے کی بجائے پرانے اداروں کو ختم کرنے میں بھی جت گئے چنانچہ حالات یہاں تک پہنچ گئے‘ ملک کو اب نئی سیاسی ڈیزائننگ کی ضرورت ہے اور یہ ری ڈیزائننگ اس وقت ہو رہی ہے تاہم ملک کی دونوں پرانی جماعتوں کے پاس ایک ایک آپشن موجود ہے‘

پیپلز پارٹی جماعت کی عنان بلاول بھٹو اور پاکستان مسلم لیگ ن میاں شہبا زشریف کے حوالے کردے لیکن دونوں جماعتوں کے قائدین تخت چھوڑنے کےلئے تیار نہیں ہیں چنانچہ یہ دونوں پارٹیاں تخت سمیت ختم ہو رہی ہیں‘ یہ ایم کیو ایم بن رہی ہیں‘ دوسرا میاں نواز شریف کو یہ بھی ماننا ہوگا یہ غلط سیاست کرتے رہے ہیں‘ یہ ایم پی اے اور ایم این اے کی سیاست تک محدود تھے‘ یہ اگر سیاست کو باقاعدہ ادارہ بناتے‘ یہ پارٹی کو یونین کونسل تک آرگنائز کرتے‘

یہ علاقے کی قیادت کو نیچے سے اٹھاتے تو آج پارٹی باقاعدہ ادارہ بن چکی ہوتی اور طیب اردگان کی طرح کروڑوں لوگ میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوتے لیکن میاں نواز شریف نے وہ وقت ضائع کر دیا‘ یہ پارٹی اور جمہوریت کو مضبوط ادارہ بنانے کی بجائے ملک کے مضبوط اداروں کو کمزور کرنے میں لگ گئے اور یہ آخر میں اس انجام تک پہنچ گئے‘ یہ اس وقت لڑنا چاہتے ہیں لیکن میرا خیال ہے یہ لڑ نہیں سکیں گے‘ یہ جیلوں کی سختیاں بھی برداشت نہیں کر سکیں گے‘

میاں نواز شریف کے ساتھی اور پارٹی بھی دباﺅ میں ہے‘ خواجہ سعد رفیق کے خلاف پیراگان ہاﺅسنگ سوساٹی کا کیس کھل گیا ہے‘ سعد رفیق اور حمزہ شہباز عنقریب ایل ڈی اے سٹی کیس میں بھی پھنس جائیں گے‘ پانچ وزراءکے اقامے بھی تیار ہیں‘ وزیراعظم کا کیس بھی خوفناک شکل اختیار کر لے گا چنانچہ میاں نواز شریف کےلئے بہتر ہے یہ درمیان کا راستہ اختیار کریں‘ یہ پارٹی کے پیٹرن انچیف بن جائیں‘ یہ عملی سیاست سے دست بردار ہو جائیں‘ میاں شہباز شریف کو آگے کریں‘ پارٹی میں میرٹ قائم کریں‘ مقدمے بھگتیں‘ جرمانے ادا کریں اور یہ سسٹم کو چلنے دیں‘ یہ اگر اسی طرح مزاحم ہوتے رہے تو میاں صاحب کے ساتھ ساتھ یہ پورا سسٹم بھی چلا جائے گا‘ ملک میںکچھ نہیں بچے گا‘ ہم ایک بار پھر پٹڑی سے نیچے ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں