اور آپ یہ بھی پلے باندھ لیں

  اتوار‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2017  |  0:01

آپ یہ بھی پلے باندھ لیں ہماری اضافی دولت ہمیشہ ڈاکوؤں کا رزق بنتی ہے‘ ہم نے دولت کمائی‘ ہم نے ضرورت کے مطابق پیسہ استعمال کرلیا‘ ہمارے اکاؤنٹ میں جو بچ گیا وہ جلد یا بدیر کوئی نہ کوئی ڈاکو لے اڑے گا‘ ہم پر پہلا ڈاکہ ہمارے عزیز‘رشتے دار اور دوست ماریں گے‘ ہماری اضافی دولت ہمارا سالہ لے اڑے گا‘ بہنوئی کھا جائے گا‘ بھائی یا بہن لے لے گی‘ کوئی بیٹا یا بیٹی برباد کر دے گی یا پھر یہ کسی مطلبی‘

لالچی اور نالائق داماد کی ہوس کا لقمہ بن جائے گی‘ اگر ہماری اضافی دولت ان سے بچ گئی تو یہ کسی دوست کے اعتبار کی نذر ہو جائے گی‘ ہم یہاں سے بھی بچ گئے تو حکومت ڈاکو ثابت ہو جائے گی‘ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ ہمیں نوٹس دے گا‘ ہماری رقم ضبط کر لے گا اور ہم کورٹ کچہریوں اور سرکاری دفتروں کے دھکے بھی کھائیں گے‘ حکومت پالیسی تبدیل کرے گی اور ہم ایک ہی رات میں لکھ سے ککھ پتی ہو جائیں گے‘ ہم یہاں سے بھی بچ گئے تو پرائیویٹ اور سرکاری ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہمارا پیسہ مارلیں گی اور ہمارے ملک میں سٹاک ایکس چینج‘ انویسٹمنٹ سکیمیں اور کرائے دار بھی ڈاکو ہیں‘ ہاؤسنگ سوسائٹیاں خوبصورت اشتہارات دے کر روزانہ لاکھوں لوگوں کو لوٹتی ہیں‘ میں نے زندگی میں ہزاروں لوگوں کو عمر بھر کی کمائی سٹاک ایکس چینج اور انویسٹمنٹ سکیموں میں برباد کرتے دیکھا‘ ہمارے ملک میں قرآن مجید چھاپنے والی کمپنیاں بھی لوگوں کا سرمایہ لے کر بھاگ جاتی ہیں‘ مضاربہ اور ڈبل شاہ کے زخمی بھی ملک میں برہنہ پا پھر رہے ہیں‘ آپ کو ملک کا ہر چوتھا شخص منافع کے چکر میں اپنی رقم پھنساتا ہوا بھی ملے گا اور میں نے سینکڑوں لوگوں کو کرائے داروں کے ہاتھوں بھی لٹتے دیکھا‘ لوگ اپنی اضافی دولت سے پراپرٹی بناتے ہیں اور کرائے دار ڈاکو بن کر وہ پراپرٹی لوٹ لیتے ہیں اور میں نے لوگوں کو انسانی سمگلروں کے ہاتھوں لٹتے بھی دیکھا‘ لوگ بچوں

کو باہر بھجوانے کے چکر میں دولت اور بچوں دونوں سے محروم ہو جاتے ہیں‘ ہم اگر ان سے بھی بچ جائیں تو اصلی ڈاکو آ جا تے ہیں‘ آپ کے پاس اضافی مال ہو گا تو یہ مال دکھائی بھی دے گا اور دکھائی دینے والا مال عموماً ڈاکوؤں کی امانت ہوتا ہے اور ڈاکو جلد یا بدیر اپنی امانت لے جاتے ہیں اور آخری

ڈاکو مذہبی اور روحانی شخصیات ہوتی ہیں‘ آپ کو ملک کی تمام روحانی اور مذہبی شخصیات کے گرد امیر لوگ ملیں گے‘ یہ قربت دولت کی وجہ سے ہوتی ہے‘

پیر صاحب کی نظر مرید کی جیب پر ہوتی ہے اور یہ جیب کسی نہ کسی دن خالی ہو جاتی ہے‘ آپ سیاستدانوں کو بھی اس کیٹگری میں شامل کر سکتے ہیں لہٰذا آپ یہ بات پلے باندھ لیں آپ کے پاس اگر کچھ نہیں ہو گا تو آپ کے گھر چوری بھی نہیں ہو گی‘ آپ کو ڈاکوؤں سے بھی کوئی خطرہ نہیں ہو گا چنانچہ اللہ تعالیٰ جو دے وہ اپنے‘ اپنے خاندان اور اپنے عزیز رشتے داروں پر خرچ کر دیں‘ جو بچ جائے اس کا آدھا حصہ آخرت پر لگا دیں اور آدھا مشکل وقت کیلئے رکھ لیں لیکن مشکل وقت کیلئے رکھی ہوئی رقم کسی دوسرے شخص کے علم میں نہیں ہونی چاہیے‘

یہ محفوظ ہونی چاہیے‘ آپ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے یہ دولت بھی استعمال کر جائیں یا پھر خیرات کر جائیں ورنہ آپ کے بعد یہ بھی کسی نہ کسی ڈاکو کے کام آ جائے گی۔میں نے زندگی میں بہت کم لوگوں کو اولاد کے ہاتھوں خوش دیکھا‘ ملک کے بڑے بڑے علماء‘ دانش ور اور پیر حضرات بھی اولاد کے ہاتھوں ذلیل ہوتے ہیں چنانچہ اولاد جوں جوں بڑی ہوتی جائے آپ اس سے اپنی توقعات کم کرتے چلے جائیں‘ آپ یہ بات ذہن میں بٹھا لیں آپ اپنی اولاد کے صرف والد ہیں‘ آپ ان کے خدا نہیں ہیں‘

والد اولاد کو صرف کھلا پلا اور تعلیم دے سکتا ہے‘ یہ اس کا مقدر نہیں بنا سکتا‘ مقدر بہرحال اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور آپ اپنی اولاد کے والد رہیں خدا نہ بنیں‘ دوسرا آپ اپنی کمائی کا زیادہ حصہ اولاد کی تربیت‘ صحت اور تعلیم پر خرچ کریں‘ اس فہرست میں تربیت پہلے اور تعلیم آخری نمبر پر ہونی چاہیے‘ ہم میں سے اکثر لوگ بچے کی تعلیم پر کروڑوں روپے خرچ کر دیتے ہیں لیکن تربیت پر توجہ نہیں دیتے چنانچہ ان کے بچے بڑے ہو کر ان کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو پڑھا لکھا ملازم کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ کرتا ہے‘ یہ استعفیٰ دیتا ہے اور آگے چل پڑتا ہے‘

آپ بچے کی تربیت پر زیادہ اور تعلیم پر کم خرچ کریں آپ اولاد کا سکھ پا لیں گے۔ میں نے اس ملک میں لوگوں کو صرف دو جگہوں پر وقت کی پابندی کرتے دیکھا‘ ہمارے لوگ ہمیشہ اس شخص کے پاس وقت پر پہنچتے ہیں جو انہیں ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچا سکتا ہے یا پھر یہ اس شخص کے معاملے میں وقت کی پابندی کرتے ہیں جس سے انہیں فائدے کی امید ہو چنانچہ آپ اگر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے یا ٹھیک ٹھاک فائدہ نہیں دے سکتے تو آپ لوگوں سے وقت کی پابندی کی توقع رکھنا بند کر دیں‘

وعدے کا معاملہ بھی اس سے ملتا جلتا ہے‘ ہمارے لوگ صرف لالچ یا خوف میں وعدہ پورا کرتے ہیں‘ یہ اگر جانتے ہوں ہم بات سے پھرے تو وہ شخص ہماری ٹانگیں توڑ دے گا یا انہیں یہ معلوم ہو ہم نے اگر اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو ہمیں دس بیس لاکھ روپے کانقصان ہو گا تو یہ آپ کو تیر کی طرح سیدھے ملیں گے ورنہ دوسری صورت میں آپ وعدوں کی گٹھڑیاں اٹھا اٹھا کر پھرتے رہیں گے چنانچہ میرا مشورہ ہے آپ اگر کسی کی ٹانگیں نہیں توڑ سکتے یا آپ کسی کو دس بیس پچاس لاکھ کا فائدہ نہیں دے سکتے تو پھر آپ لوگوں سے وعدہ ایفائی کی توقعات بھی چھوڑ دیں‘ آپ صحت مند بھی رہیں گے اور خوش بھی۔

دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں‘ دلچسپ اور بور‘ ہمیں دلچسپ لوگ چاہیے ہوتے ہیں‘بور انسان کو خدا بھی پسند نہیں کرتا‘ آپ اگر چاہتے ہیں لوگ آپ کا انتظار کریں تو آپ دوسروں کیلئے دلچسپ بن جائیں‘ لوگ مکھیوں کی طرح آپ کے گرد منڈلانے لگیں گے اور اگر آپ چاہتے ہیں لوگ آپ کے ہاتھ چومیں‘ یہ آپ کو اپنا مرشد بنا لیں تو آپ لوگوں کیلئے مفید بن جائیں‘ آپ لوگوں کو فائدہ پہنچانا شروع کر دیں‘ لوگ آپ کی پیروں سے زیادہ عزت کریں گے‘ میرے ایک بزرگ دوست لوگوں میں بہت مقبول تھے‘

میں نے ان سے مقبولیت کی وجہ پوچھی‘ وہ ہنس کربولے ”میں لالچ نہیں کرتا‘ میں نے کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا چنانچہ لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں“ آپ بھی لالچ ترک کر دیں‘آپ بھی لوگوں کیلئے مفید ہو جائیں‘ آپ آگے آگے ہوں گے اور لوگ پیچھے پیچھے‘ میں نے آج تک کسی دکاندار کو کسی کادوست نہیں پایا‘ دکاندار چالیس سال آپ کے دوست رہیں گے لیکن جوں آپ نے ان سے کوئی چیز خرید لی وہ دکاندار بن جائیں گے‘میں نے زندگی میں کتابیں پڑھنے‘ فلمیں دیکھنے اور روزانہ ایکسرسائز کرنے والوں کو ہمیشہ مطمئن‘ مسرور اور صحت مند دیکھا‘

آپ اگر اس فہرست میں میوزک کو بھی شامل کر لیں تو آپ کو خوراک کے ساتھ سویٹ ڈش بھی مل جائے گی‘ آپ کی ذاتی زندگی میں پھر کسی چیز کی کمی نہیں رہے گی‘ ایکسرسائز‘ موسیقی‘ فلم اور کتاب بہترین دوست ہیں‘ آپ کو ان کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے دوست کی ضرورت نہیں رہے گی اور آپ اگر انہیں اپنا دوست نہیں بنا سکتے تو پھر آپ ہر پانچ سال بعد اپنے دوستوں کی فہرست میں ایک دوست کا اضافہ کرلیا کریں اور دو رشتے دار کم کر دیا کریں آپ کی زندگی بدل جائے گی‘

نیا دوست آپ کی زندگی میں نئی دلچسپیاں‘ نئی سوچ اور نئی عادتیں لے کر آتا ہے جبکہ رشتے دار جاتے جاتے بے شمار ڈپریشن اور فرسٹریشن لے جاتے ہیں یوں آپ کی زندگی میں سکھ بڑھ جاتا ہے اور آپ نے اگر کوئی دیرینہ تعلق ختم کرنا ہے تو آپ اس سے قرض لے لیں یا پھر اسے قرض دے دیں‘ پچاس سال کا تعلق پچاس دنوں میں ختم ہو جائے گا‘ میرا استاد کہا کرتا تھا‘ آپ کا کوئی دوست اگر مالی مشکلات کا شکار ہے تو آپ جتنی رقم آسانی سے دے سکتے ہیں آپ وہ اس کے حوالے کریں اور ساتھ ہی سر جھکا کر عرض کریں ”آپ یہ میری طرف سے قبول کریں‘ یہ پیسے آپ نے مجھے واپس نہیں کرنے ہیں“

اور آپ اگر مزید بھی دے سکتے ہیں تو آپ وہ رقم دیتے وقت اسے یہ بھی کہہ دیں ”میں اتنی رقم مزید دے سکتا ہوں آپ جب چاہیں وہ مجھ سے لے لیں“ آپ کا ریلیشن مضبوط ہو جائے گا اور جو دوست یہ رقم لے رہا ہے میرااسے مشورہ ہے وہ اس مدد کو قرض سمجھے اور جوں ہی اس کا مسئلہ حل ہو جائے وہ یہ رقم واپس کر دے اس کی قدر میں اضافہ ہو جائے گا اور میں نے زندگی میں آج تک کسی شخص کو عاجزی‘ وعدے کی پابندی اور شائستگی کے ہوتے ہوئے خسارے میں نہیں دیکھا‘

میں نے بچپن میں پڑھا تھا‘ نبی اکرم ؐ نے فرمایا‘ عاجزی اختیار کرو‘ تمہیں اگر اس کا صلہ زندگی میں نہ ملے تو تم مجھ سے جنت میں آ کر یہ لے لینا‘ میں نے جب یہ حدیث پڑھی تو میں نے یہ پلے باندھ لی‘ میں روزانہ صلہ جمع کرتا ہوں اور اللہ کے رسول ؐ پر درود بھیج کر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘ مجھے یقین ہے اگر حساب میں کوئی کمی رہ گئی تو میرے رسولؐ یہ کمی نفع کے ساتھ جنت میں پوری کر دیں گے اور اللہ اور اس کے رسولؐ کے نفع کا ہم جیسے گناہ گار اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں