یہ دھڑے بندی

  جمعہ‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2017  |  0:01

یہ ہماراالمیہ ہے ہم جب کسی شخص کو پسند کرتے ہیں تو ہم اسے محبوب بنا لیتے ہیں‘ ایک ایسا محبوب جس کی برائیاں بھی اچھائیاں لگنے لگتی ہیں اور ہم جب کسی شخص کو ناپسند کرتے ہیں تو ہم اس کی سوکن بن جاتے ہیں‘ ایک ایسی سوکن جسے سوکن کے سجدے بھی دوزخ کی آگ محسوس ہوتے ہیں‘ ہماری زندگی میں صرف دو قسم کے لوگ ہیں فرشتے یا شیطان‘ ہم فرشتے اور شیطان کے کمبی نیشن یعنی انسان کو ماننے

کےلئے تیار نہیں ہوتے‘ یہ المیہ اگر صرف یہاں تک رہتا تو شاید ہم اپنے خسارے سنبھال لیتے لیکن ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کے سٹیٹس کو جس رفتار سے تبدیل کرتے ہیں وہ ناقابل یقین اور ناقابل برداشت ہے‘ ہماری زندگی میں ایک شخص ایک رات فرشتہ ہوتا ہے اور وہ اگلے دن شیطان بن جاتا ہے اور وہ شیطان چند ماہ بعد دوبارہ فرشتہ ہو جاتا ہے‘ ہماری یہ شفٹنگ حیران کن ہوتی ہے اور چودھری نثار اس شفٹنگ‘ فرشتے سے شیطان بننے کے اس عمل کی تازہ ترین مثال ہیں اور میں یہ مثال دیکھ کر حیران سے حیران ہوتا جا رہا ہوں‘ آپ غور فرمائیے آج وہ مسلم لیگ ن جو کل تک چودھری نثار کے سامنے دم نہیں مارتی تھی‘ جو چودھری نثار کے رویئے کو ان کا سٹائل کہتی تھی اور لوگ جب ان سے پوچھتے تھے چودھری نثار رابطے میں کیوں نہیں رہتے‘ یہ شام کے بعد کہاں غائب ہو جاتے ہیں‘ یہ موبائل فون کیوں نہیں رکھتے‘ یہ پورا ہاتھ کیوں نہیں ملاتے‘ یہ پارٹی کے سینئر ترین ارکان کو بھی لفٹ کیوں نہیں کراتے اور یہ عمران خان کے ساتھ نرم رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں تو پوری پارٹی یک آواز ہو کر اسے چودھری نثارکی ادا کہتی تھی‘ یہ لوگ کہتے تھے ”ایماندار اور بہادر شخص ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے“ لیکن جوں ہی میاں نواز شریف نے چودھری نثار سے اپنی نظریں پھیریں چودھری نثار‘ ان کی ادائیں‘ ان کی بہادری اور ان کی ایمانداری شیطانی کھیل بن گئی

اور یہ پورے ملک میں اکیلے ہو گئے‘ ہم بھی کیا لوگ ہیں اور ہمارا بھی کیا کریکٹر ہے واہ‘ میں ذاتی طور پر چودھری نثار کو پسند نہیں کرتا‘ یہ خبط عظمت کا شکار ہیں‘ یہ متکبر بھی ہیں لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں اپنی ناپسندیدگی میں ان کی اچھائیوں اور خوبیوں کو بھی مسترد کر دوں‘ میں

انہیں مکمل طور پر رد کر دوں‘ یہ زیادتی ہے اور یہ زیادتی صرف ملک کی مقبول ترین جماعت‘ جماعت کی لیڈر شپ اورلیڈر شپ کے بچے کر سکتے ہیں‘ یہ میرے جیسے گناہ گار کے بس کی بات نہیں۔

چودھری نثار اور حکومتی وزراءکے درمیان صرف موقف کا فرق ہے‘ پارٹی اس وقت دو دھڑوں میں تقسیم ہے‘ ایک دھڑاحکومتی ہے‘ اس دھڑے کے سربراہ میاں نواز شریف اور شریک سربراہ مریم نواز ہیں‘ حکومت کے 60 فیصد وزراءاور پارٹی کے ارکان اسمبلی اس دھڑے میں شامل ہیں‘ یہ دھڑا عالمی رائے عامہ کا حامی ہے‘ یہ سمجھتا ہے ہمیں پہلے اپنا ہاﺅس ان آرڈرکرنا چاہیے‘ ہمیں حقانی نیٹ ورک‘ لشکر طیبہ اور جیش محمد کوحقیقت مان کر ان سے جان چھڑا لینی چاہیے اور ہمیں بھارت اور افغانستان میں مداخلت بھی بندکر دینی چاہیے‘یہ لوگ اقتدار کے ساتھ اختیار بھی لینا چاہتے ہیں‘

یہ سمجھتے ہیں عدلیہ ہو‘ فوج ہو‘ نیب ہو‘ پارلیمنٹ ہو یا پھر خارجہ پالیسی ہو ملک کے تمام محکمے حکومت کے ماتحت ہونے چاہئیں‘ یہ آئین اور قانون کی بالادستی بھی چاہتے ہیں اور یہ قانون اور آئین کی اپنی مرضی کی تشریح بھی کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسرا دھڑا ان سے الٹ رائے رکھتا ہے‘ یہ دھڑا چودھری نثار اور میاں شہباز شریف پر مشتمل ہے‘ یہ لوگ سمجھتے ہیں ہمیں اختیار ضرور لینا چاہیے لیکن ہمیں اس سے قبل پرفارم کرنا چاہیے‘

ہم پرفارم کریں گے تو پوراسسٹم ہمارے ہاتھ میں آجائے گا ورنہ دوسری صورت میں ہم ہیوی سے ہیوی مینڈیٹ بھی لے آئیں تو بھی ہماراحشر بارہ اکتوبر 1999ءسے مختلف نہیں ہوگا‘ یہ دھڑا بھی اپنا ہاﺅس ان آرڈر کرنا چاہتا ہے لیکن یہ سمجھتا ہے ہمیں یہ کام خاموشی سے کرنا چاہیے‘ ہمیں دنیا کے سامنے اپنی خامیوں کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا چاہیے‘ یہ لوگ بھی قانون اورآئین کی بالادستی چاہتے ہیں لیکن یہ سمجھتے ہیں ہمیں قانون اور آئین کی بالادستی سے پہلے خود کو صادق اور امین ثابت کرنا چاہیے‘

ہم اگر خود کو الزمات سے بالاتر کر لیں گے تو قانون اورآئین خود بخود اپنی بالادستی کے ساتھ ہماری جھولی میں آ جائے گا ورنہ دوسری صورت میں ہم بار بار اس کے نیچے آ کر کرش ہوتے رہیں گے‘ فوج کی اکثریت اس دھڑے کو درست سمجھتی ہے‘ یہ سمجھتی ہے سیاستدان اختیار ضرور لیں لیکن یہ پہلے خودکو اہل ثابت کریں‘ اہلیت جانے بغیر پورا ملک ان کے حوالے نہیں کیا جا سکتا ۔ہم جس دن ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اس صورت حال کا تجزیہ کریںگے ہم چند دلچسپ نتائج تک پہنچیں گے‘

ہم یہ ماننے پرمجبور ہوجائیں گے میاں شہباز شریف اور چودھری نثار یہ دونوں میاں نواز شریف کے وفادار اور مخلص ترین ساتھی ہیں‘ یہ دونوں آج تک پارٹی کی قیادت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں‘ فوج میاں شہباز شریف کو 1998ءسے وزیراعظم بنوانے کی کوشش کر رہی ہے‘ جنرل مشرف نے 1999ءکی حکومت توڑنے سے قبل میاں شہباز شریف کو آگے بڑھنے کا اشارہ دیا تھا‘ یہ آفر جیل میں بھی ہوئی اور میاں صاحبان جب جدہ میں تھے تو اس وقت بھی بریگیڈیئر نیاز کے ذریعے شہباز شریف کو پیش کش کی گئی‘

یہ آفر 2014ءکے دھرنے کے دوران بھی ہوئی اور انہیں 2016ءکے آخر میں بھی اشارہ دیاگیا لیکن شہباز شریف نے اپنے بھائی کو دھوکہ دینے سے انکار کر دیا‘ یہ آج بھی اپنے بھائی کے ہر حکم کو آخری سمجھتے ہیں‘ این اے 120 کا الیکشن اس فرمانبرداری کی تازہ ترین مثال ہے‘ میاں نواز شریف نے انہیں سائیڈ پر ہونے کا کہا یہ الیکشن کے دوران ملک سے باہر چلے گئے‘ حمزہ شہباز کے بارے میں حکم دیا گیا‘میاں شہباز شریف نے اپنے بیٹے کو انڈر گراﺅنڈ کر دیا اور میاں نواز شریف نے مریم نواز کو پارٹی کا شریک سربراہ بنا دیا میاں شہباز شریف نے یہ بھی تسلیم کر لیا ‘

یہ وفاداری اور خلوص نہیں تو پھر خلوص اور وفاداری کسے کہتے ہیں؟ چودھری نثار بھی اس کسوٹی پر پورے اترتے ہیں‘ یہ اگر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک ہاں کر دیتے تو یہ ق لیگ کے سربراہ بھی ہوتے اور وزیراعظم بھی‘ یہ اگر 2014ءمیں بھی عمران خان کے ساتھ شامل ہو جاتے تو 28 جولائی آج کے بجائے 2014ءمیں آ جاتا اور یہ اگر آج بھی اعلان بغاوت کر دیں تو جنات انہیں ایک رات میں سو ایم این اے دے دیں گے لیکن یہ آج بھی میاں نواز شریف کو سمجھا رہے ہیں‘

یہ آج بھی حکومت کو غلطیوں سے روک رہے ہیں‘ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں چودھری نثار پانامہ کیس کے شروع میں میاں نواز شریف سے ملے اور ان سے کہا ”یہ کوئی عام کیس نہیں ہے‘ یہ ٹیکس اورمنی لانڈرنگ تک محدود نہیں رہے گا‘ یہ بڑا سیاسی بحران بن جائے گا‘ آپ اپنے بچوں کو ہمارے ساتھ بٹھائیں‘ یہ ہمیں کھل کر بتائیں یہ کیا کیا غلطیاں کرتے رہے ہیں اور ہم سب مل کر یہ کیس لڑیں گے“ لیکن میاں نواز شریف نے اس آفر کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا یوں پانامہ کیس صرف شریف فیملی تک محدود ہوتا چلا گیاجس کے آخر میں میاں نواز شریف اپنے خاندان سمیت فارغ ہو گئے‘

اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں‘ میاں نواز شریف کو اُس وقت چودھری نثار کی پیش کش کو سیریس لینا چاہیے تھا‘ یہ کیس اگر پوری پارٹی لڑتی تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا‘ شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنوانے میں بھی چودھری نثار نے اہم کردار اداکیا تھا‘ میاں نواز شریف نے نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی کو 45 دنوں کےلئے وزارت عظمیٰ کی پیش کش کی لیکن عباسی صاحب نے ”میں سیٹ وارمر نہیں ہوں“ کہہ کر انکار کر دیا‘ میٹنگ میں 13 لوگ شریک تھے‘

یہ 13 لوگ گواہ ہیں چودھری نثار نے شاہد خاقان عباسی سے کہا تھا ”عباسی صاحب وزارت عظمیٰ ایک دن کےلئے بھی وزارت عظمیٰ ہوتی ہے اور یہ اعزاز کی بات ہوتی ہے“ چودھری نثار نے بعد ازاں شاہد خاقان عباسی کو راضی بھی کیا لیکن آج موقف کے معمولی سے اختلاف کی وجہ سے شاہد خاقان عباسی اور چودھری نثار ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں‘ یہ دوری میاں نواز شریف کے رویئے میں بھی دکھائی دے رہی ہے‘یہ اب چودھری نثار کو اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں‘

یہ میاں شہباز شریف کی وفاداری کو بھی مشکوک سمجھ رہے ہیں۔مجھے خطرہ ہے اگر یہ دھڑے بندی جاری رہی اور میاں نواز شریف اور چودھری نثارکے اختلافات ختم نہ ہوئے تو میاں شہباز شریف سیاسی طور پر قتل ہو جائیں گے‘ میاں شہباز شریف ایک سیاسی سرمایہ ہیں‘ قوم نے انہیں یہاں تک پہنچانے میں بیس سال لگائے ہیں‘ انہوں نے نو برس میں صوبے کی حالت بدل کر رکھ دی‘ آپ اگرفرق دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ سندھ‘ بلوچستان اور کے پی کے سے پنجاب میں داخل ہوں آپ کوواضح تبدیلی محسوس ہو گی‘

یہ شخص بھی اگر چلا گیا یا یہ دھڑے بندی کا شکار ہو گیا تو پنجاب کو بھی سندھ بنتے دیر نہیں لگے گی اور یہ ملک کےلئے نقصان دہ ہو گا چنانچہ ہمیں سوکنوں سے اوپر اٹھنا پڑے گا‘ ہمیں دل بڑا کرنا پڑے گا‘ ہمیں چودھری نثار اور میاں شہباز شریف کی بات سننا ہو گی‘ یہ غلط نہیں کہہ رہے‘یہ دونوں دوسری بار میاں نواز شریف کی غلطیوں کا تاوان ادا کریں گے‘ یہ زیادتی ہے‘ یہ ظلم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں