کیا اسلام آباد بھی نہیں

  جمعرات‬‮ 7 ستمبر‬‮ 2017  |  0:01

سعودی عرب میں قربانی کے دو سسٹم ہیں‘ پہلاسسٹم‘ لوگ منڈی جاتے ہیں‘ قربانی کا جانور پسند کرتے ہیں‘ امراء”چھترے“ خریدتے ہیں‘ یہ مہنگے ہوتے ہیں‘ مڈل کلاس سوڈان کے بکرے خریدتی ہے اور غرباءآسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بکرے خریدتے ہیں یا پھر یہ لوگ گائے اور اونٹ میں حصہ ڈال لیتے ہیں‘ حکومت نے ملک کے تمام شہروں‘ قصبوں اور دیہات میں جدید سلاٹر ہاﺅس بنا رکھے ہیں‘ پورے سعودی عرب میں سلاٹر

ہاﺅسز کے نرخ طے ہیں‘ یہ 20 ریال (562 روپے) لیتے ہیں اور آدھ گھنٹے میں بکرے یا گائے کی صاف ستھری بوٹیاں گاہک کے حوالے کر دیتے ہیں‘ سلاٹر ہاﺅس کا درجہ حرارت اور صفائی مثالی ہوتی ہے‘آپ یقینا جانتے ہیں جانوروں کاگوشت چار سینٹی گریڈ سے اوپر یا نیچے دونوں حالتوں میں خراب ہو جاتا ہے‘سعودی عرب کے سلاٹر ہاﺅسز کا درجہ حرارت چار سینٹی گریڈ ہوتا ہے چنانچہ گوشت صحت مند اور فریش رہتا ہے‘ عملہ گاہکوں کو گوشت باقاعدہ پلاسٹک کے تھیلوں میں پیک کر کے دیتا ہے‘ جانوروں کی آلائشیں‘ چربی اورخون سلاٹر ہاﺅس میں تلف کر دیا جاتا ہے‘ جانوروں کی باقیات معاشرے کو خراب کرتی ہیں‘ بیمار کرتی ہیں اور نہ ہی ان سے جعلی گھی اور کوکنگ آئل بنتا ہے‘ دوسرا سسٹم‘ سعودی عرب نے اسلامی بینک سے مل کر قربانی کی آن لائین سروس شروع کر دی ہے‘ آن لائین سروس میں دنبے اور بکرے کی قیمت طے ہے‘ آپ 120 امریکی ڈالر‘ 92 یوروز‘450 ریال یا پھر بارہ ہزار پاکستانی روپوں میں جانور خرید سکتے ہیں‘ یہ جانور مختلف سلاسٹر ہاﺅسز میں موجود ہوتے ہیں‘ جوں ہی صارف کی رقم ٹرانسفر ہوتی ہے‘ سلاٹر ہاﺅسز وہ جانور ذبح کر دیتے ہیں اور صارف کو قربانی کی آن لائین اطلاع کر دیتے ہیں‘ جانور کی آلائشیں سلاٹر ہاﺅس میں تلف ہو جاتی ہیں اورگوشت جہاز کے ذریعے مختلف اسلامی ملکوں کے غرباءکو بھجوا دیا جاتا ہے‘ یہ

سروس 2009ءمیں شروع ہوئی‘ یہ اب تک ایک کروڑ 96 لاکھ 50 ہزار جانور قربان کر چکی ہے‘ اس سال بھی اس سروس کے ذریعے ساڑھے سات لاکھ جانوروں کی قربانی ہوئی۔میں یہاں دوبئی کی مثال بھی دوں گا‘ دوبئی حکومت نے ال مویشی کے نام سے ایک موبائل فون ایپ بنا رکھی ہے‘ دوبئی کے ہزاروں لوگ اس ایپ پر جانور پسند کرتے ہیں‘ رقم ادا کرتے ہیں اور وہ جانور حکومت کے سلاٹر ہاﺅس میں ذبح کر دیا جاتا ہے اور بات ختم۔

دوبئی حکومت عوام کو گھروں میں قربانی کی اجازت نہیں دیتی‘

دوبئی کا کوئی قصاب اگر کسی گھر میں جانور ذبح کرتا پکڑا جائے تو اسے دو ہزار درہم جرمانہ بھی ہوتا ہے اور اس کا لائسنس بھی منسوخ ہو جاتا ہے۔یہ دونوں مثالیں ہم سے بہتر اسلامی ملکوں کی ہیں‘ سعودی عرب ہمارے دونوں مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ کا نگران ہے‘ دوبئی بھی ہم سے زیادہ اچھا اسلامی ملک ہے‘ یہ دونوں ملک اگر عوام کو گھروں میں قربانی سے روک سکتے ہیں‘ یہ اگر قربانی کے جدید ترین ذرائع استعمال کر رہے ہیں تو ہم کیوں نہیں کرتے؟

ہم اللہ کے فرض کو صفائی‘ سہولت اور تقدس کے ساتھ ادا کیوں نہیں کرتے اور ہماری حکومت اس ایشو سے الگ کیوں ہے؟ یہ بات وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال اور وزیر مذہبی امور سردارمحمد یوسف تینوں کو سوچنا ہوگی۔ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا ہم نے اپنے بابرکت ترین مذہبی تہوار کو اصراف‘ بیماری اور بدنظمی کا عظیم شاہکار بنا دیا ‘ ہمیں ماننا ہوگا ہم نے اس سال بھی ایک کروڑ 20 لاکھ جانوروں کی قربانی دی‘ ان جانوروں کی مالیت 300 ارب روپے تھی‘

عوام نے 200 ارب روپے کی شاپنگ بھی کی یوں ہماری یہ عید 500 ارب روپے میں مکمل ہوئی‘ میں اس عمل کو غلط نہیں سمجھتا‘ اس سے معاشرے میں رقم سرکولیٹ ہوتی ہے‘غریب عوام کو فائدہ ہوتا ہے لیکن ملک میں قربانی کے بعد کیا ہوتا ہے‘ قوم کو اس معاشی سرکولیشن کا کیا کیا نقصان اٹھاناپڑتا ہے یہ انتہائی افسوس ناک ہے‘ ہم ہرسال سوا کروڑ جانور گلیوں‘ چوکوں اور گٹڑوں کے قریب ذبح کرتے ہیں‘ جانوروں کا خون پوری گلی کو گندہ کرتا ہے‘ گوشت بھی زمین اور نالی کے قریب بنایا جاتا ہے‘

یہ گوشت کسی بھی طرح انسانی صحت کےلئے مفید نہیں ہوتا‘ ہم جانوروں کی آلائشیں‘ آنتیں اور چربی بھی سڑک پر پھینک دیتے ہیں‘ یہ آلائشیں ماحول کو بھی گندہ کرتی ہیں اور مفاد پرست لوگ انہیں پگھلا کر ان سے بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل بھی بناتے ہیں‘ یہ آئل بھی صحت کےلئے اچھا نہیں ہوتا‘ قربانی کے جانوروں کی آنتیں ہاٹ ڈاگ اور ساسیجز میں بھی استعمال ہوتی ہیں‘ عوام ساسیجز اور ہاٹ ڈاگ کے نام پر یہ گند بھی کھاتے ہیں‘ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے عید کے تیسرے دن لاہور سے 48 ہزار اور فیصل آباد سے 25 ہزار لیٹر جعلی گھی اور کوکنگ آئل برآمد کیا‘

یہ آئل جانوروں کی چربی سے بنایا جا رہا تھا۔ ”فیکٹری“ میں ٹنوں کے حساب سے جانوروں کی بدبو دار چربی اور آلائشیں بھی پڑی تھیں‘ ہم گرم ملک ہیں‘ ہمارے ملک میں گوشت جلد خراب ہو جاتا ہے‘ گوشت کو محفوظ کرنے کےلئے فریزر کا درجہ حرارت منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ ہونا چاہیے‘ہمارے ملک میں لوڈ شیڈنگ اور فریج اور فریزر اکٹھے ہونے کی وجہ سے یہ درجہ حرارت ممکن نہیں چنانچہ وہ عوام جو نالی کے قریب تیار ہونے والا گوشت فریزر میں رکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں وہ بھی مستقبل میں بیماری اور گند کھاتے ہیں‘

عید کے موقع پر 80 فیصد قصائی نان پروفیشنل ہوتے ہیں‘ یہ موقع سے فائدہ اٹھانے کےلئے ٹوکا چھری لے کر نکل کھڑے ہوتے ہیں‘ یہ جانور اور گوشت دونوں کوبرباد بھی کر دیتے ہیں اور قربانی دینے والے سے دس بیس ہزار روپے بھی کھینچ لیتے ہیں‘ ہمارا معاشرہ مزید دو خوفناک مسائل کا شکار بھی ہے‘ہمارے ملک میں عید قربان کے دنوں میں گوشت جمع کرنے والا ایک مافیا بھی وجود میں آ جاتا ہے‘ یہ لوگ گوشت جمع کر کے ریستورانوں اور شادی ہالوں کو فروخت کرتے ہیں اور یوں قوم دو ماہ تک شادیوں میں بھی قربانی کا گوشت کھاتی ہے‘

ہم لوگ قربانی کے گوشت کو برکت سمجھ کر اتنا کھا جاتے ہیں کہ ہم ہسپتال پہنچ جاتے ہیں‘ عید قربان پر ہسپتالوں میں جگہ نہیں ملتی‘ پاکستان میں ہر سال عیدالاضحیٰ کے بعد دل کے مریضوں میں دس فیصد اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کا سبب صرف اور صرف گوشت ہوتا ہے‘ یہ سارے مسائل حل کےلئے حکومت کی توجہ کے طالب ہیں۔ہماری حکومت اگر تھوڑی سی توجہ دے دے‘ یہ قربانی کے معاملے کو بھی کنٹرول میں لے لے تو عوام اور معاشرہ دونوں بچ جائیں گے‘ مذہبی امور کے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف متحرک انسان ہیں‘

یہ حج اور عمرے کے تمام ایشوز ختم کر چکے ہیں‘ ہمیں حج کے دوران اب وہ مسائل نظر نہیں آتے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے زمانے میں دکھائی دیتے تھے‘ سردار یوسف کو چاہیے یہ اب قربانی کو بھی اپنا ٹاسک بنا لیں‘ یہ علماءکرام کو بٹھائیں اور سعودی عرب اور دوبئی جیسا کوئی صاف ستھرا حل نکال لیں‘ یہ صارفین کی آن لائین سروسز سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘حکومت قربانی کی ایپس بنوائے اور یہ ایپس ملک کے مختلف دارالعلوم کے حوالے کر دے‘ آن لائین قربانی کی تمام سکیمیں آئی ٹی فرموں کے ساتھ مل کر علماءکرام چلائیں‘

حکومت اس کے ساتھ ہی یہ اعلان کر دے ملک میں دو سال بعد کوئی قربانی گھر یا گلی میں نہیں ہو گی‘عوام کو قربانی کےلئے سلاٹر ہاﺅس جانا ہوگا‘ حکومت پرائیویٹ سیکٹر کو دعوت دے‘ بینکوں کو آگے لے کر آئے‘اسلامی بینک کی خدمات حاصل کرے‘ ترکی کی مدد لے اور ملک میں جدید ترین سلاٹر ہاﺅسز بنوادے‘ ان سلاٹر ہاﺅسز کو سبسڈی دی جائے‘ قربانی کے نرخ طے کر دیئے جائیں اور یوں عوام آن لائین جانور خریدیں اور سلاٹر ہاﺅس کے حوالے کر دیں‘

سلاٹر ہاﺅس کے لوگ جانور کو ذبح کر کے مشینوں پر گوشت بنائیں‘ آلائشیں سلاٹر ہاﺅس کے اندر ہی جلا دی جائیں اور گوشت قربانی کرنے والوں کے حوالے کر دیا جائے‘ حکومت گوشت کی تقسیم کا نظام بنا سکتی ہے‘ یہ غرباءاور مستحقین کی فہرست بنائے‘ رضا کاروں کی خدمات حاصل کرے اور یہ رضا کار سلاٹر ہاﺅسز سے گوشت جمع کر کے ضرورت مندوں کے گھروں تک پہنچا دیں یوں ہم یہ مسئلہ ایک دو برسوں میں مستقل طور پر حل کر لیں گے‘

آپ غور فرمائیے یہ ہماری کتنی بڑی بدقسمتی ہے عید قربان گزرتی ہے اور ہم مہینوں اس کے نتائج بھگتتے رہتے ہیں‘ ہماری گلیوں اور بازاروں سے دو دو ماہ تعفن نہیں جاتا‘ ہم عید اور عید کے بعد مہینوں بیمار اور آلودہ گوشت کھاتے ہیں اور ہمیں کوکنگ آئل میں جانوروں کی چربی اور آلائشیں پگھلا کر کھلا دی جاتی ہیں اور ہم اگر ان تمام عذابوں سے بچ بھی جائیں تو بھی ہم اپنی اوقات سے زیادہ گوشت کھا کر ہسپتالوں میں جا گرتے ہیں‘ ملک میں ہر سال اللہ کے نام پر منافع خوری اور قصاب بازی کا خوفناک سلسلہ بھی شروع ہوتا ہے‘

بکرے اونٹ کی قیمت میں فروخت ہوتے ہیں اور اونٹ پلازوں کے ریٹس میں بکتے ہیں اور کوئی ان کا ہاتھ تک نہیں روکتا‘ یہ سلسلہ اب بند ہو جانا چاہیے‘حکومت کو آگے آنا چاہیے‘ یہ سب سے پہلے اسلام آباد میں ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کرے اور یہ اس کے بعد اس پراجیکٹ کو پورے ملک میں پھیلا دے‘ کیا حکومت وفاقی دارالحکومت یعنی ایک شہر کو بھی قربانی کا ماڈل سٹی نہیں بنا سکتی‘ کیا یہ اسلام آباد کو بھی قربانی کے معاملے میں سعودی عرب یا دوبئی نہیں بنا سکتی‘کیا ہماری حکومت میں اتنی کیپسٹی بھی نہیں‘ ہم ٹرمپ کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہم نہ کریں لیکن کیا ہم جانوروں کی آلائشوں سے بھی نہیں نبٹ سکتے‘کیا ہم میں اتنی اہلیت بھی نہیں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں