زندہ کتابیں

  اتوار‬‮ 6 اگست‬‮ 2017  |  0:01

ہم انسانوں کے پاس تین قسم کی لائبریریاں ہونی چاہئیں‘کتابوں کی لائبریری‘ سیاحت کی لائبریری اور زندہ انسانوں کی لائبریری‘میں سب سے پہلے کتابوں کی لائبریری کی طرف آتا ہوں‘ کتابیں ہمارا سرمایہ ہوتی ہیں‘ آپ کتابوں کو دوست بنا لیں آپ کو کسی دنیاوی دوست کی ضرورت نہیں رہے گی‘ میراذاتی تجربہ ہے دنیا کی کوئی کتاب فضول نہیں ہوتی‘ بری سے بری کتاب بھی آپ کو کچھ نہ کچھ ضرور دے کر جائے گی‘ یہ آپ کو

کم از کم یہ ضرور بتا جائے گی بری کتابیں لکھی کیسے جاتی ہیں‘میں سمجھتا ہوں انسان اگر خوش حال اور صحت مند ہو تو پھر اسے اللہ اور کتاب کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت نہیں‘ میں اپنا زیادہ تر وقت کتابوں اور اللہ کے ذکر میں گزارتا ہوں‘ میں جہاں بیٹھتا ہوں میرے دائیں بائیں کتابیں ہوتی ہیں اور یہ کتابیں میرے دن کو رات اور رات کو دن میں بدلتی رہتی ہیں‘ کتابیں انسان کی پہلی لائبریری ہوتی ہیں‘ دوسری لائبریری سیاحت ہے‘سیاحت جاننے‘ سمجھنے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے‘ آپ زندگی میں کچھ نہ کریں آپ صرف سفر کرنا شروع کر دیں‘ آپ چند دنوں میں سمجھ دار‘ سیانے اور پڑھے لکھے ہو جائیں گے‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے قطب جنوبی سے قطب شمالی تک اپنی زمین دیکھنے کا موقع دیا‘ میں چار چار دنوں میں دنیا دیکھتا چلا جا رہا ہوں‘ یہ اللہ کا خصوصی کرم ہے۔ میرے اکثر دوست پڑھ کر سفر کرتے ہیں‘ یہ جہاں جا رہے ہیں یہ پہلے اس کے بارے میں تمام معلومات جمع کرتے ہیں اور پھر وہاں جاتے ہیں‘ میرا طریقہ واردات ذرا مختلف ہے‘ میں پہلے وہاں جاتا ہوں اور پھر واپس آ کر اس کے بارے میں پڑھتا ہوں یوں وہ جگہ اور اس سے متعلق تمام چیزیں میرے حافظے کا حصہ بن جاتی ہیں‘ میں اگر کسی مجبوری کی وجہ سے ملک سے باہر نہ جا سکوں تو میں پاکستان کے اندر کسی تاریخی مقام پر نکل جاتا ہوں‘ میں صدیوں کا جاہل ہوں‘ نالائق بھی ہوں

اور کم عقل بھی‘ میں اگر سفر نہ کرتا یا پھر میری کتابوں سے دوستی نہ ہوتی تو شاید میں اب تک بے عقلی اور جہالت کی کسی چٹان کے نیچے آ چکا ہوتا‘ میں قصہ پارینہ بن چکا ہوتا چنانچہ یہ کتابیں اور سیاحت ہے جس نے مجھے زندہ رکھا‘ جس نے مجھے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت

دی اور آخری لائبریری زندہ انسان ہیں‘ بندے کو تجربے بندے کا پتر بناتے ہیں اور بندے کا ہر پتر انسان ہوتا ہے‘ میں دلچسپ‘ فن کار‘ ہنر مند اور کامیاب لوگوں کی تلاش کی لت میں بھی مبتلا ہوں‘

میں سمجھتا ہوں دنیا میں صرف دو قسم کے لوگ ہیں‘ دلچسپ اور بور‘ میں دلچسپ لوگوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہوں‘ یہ دلچسپ لوگ بھی لائبریری ہیں اور میں نے عملی زندگی کے تمام سبق زندہ انسانوں کی اس لائبریری سے سیکھے ہیں مثلاً میرے ایک بزرگ دوست ہوتے تھے شیخ عبدالحفیظ‘ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا‘ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت دے‘ وہ کہا کرتے تھے‘ ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں‘ اس میں کسی کے ساتھ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے چنانچہ آپ ہر وقت ہر قسم کی بری خبر کیلئے تیار رہیں‘

میں روز لوگوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ ہوتا دیکھتا ہوں اور مجھے شیخ صاحب یاد آ جاتے ہیں‘ میرے ایک بزرگ دوست ہمیشہ دو کرسیاں چھوڑ کر بیٹھتے تھے‘ میں نے ان سے وجہ پوچھی‘ انہوں نے جواب دیا‘ آپ اگر کسی کے گھریا کسی کے دفتربیٹھے ہیں تو آپ شروع کی کرسیاں صاحب خانہ اور صاحب خانہ کے ذاتی مہمانوں کیلئے چھوڑ کر بیٹھیں‘ آپ اور میزبان دونوں خفت سے بچ جائیں گے اور آپ اگر کسی عوامی جگہ پر بیٹھے ہیں تو آپ کبھی پہلی قطار میں نہ بیٹھیں کیونکہ میں نے ہمیشہ پہلی قطار میں بیٹھے لوگوں کو اپنے سے زیادہ بااختیار لوگوں کیلئے جگہ خالی کرتے دیکھا اورپہلی قطار میں بیٹھا شخص جب اٹھتا ہے تو پھر اسے آخری قطار یا پھر سیڑھیوں میں جگہ ملتی ہے‘

آپ اگر اس سلوک سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کوشش کریں آپ پہلی یا دوسری قطار میں نہ بیٹھیں‘ آپ تیسری چوتھی قطار میں بیٹھیں‘آپ اپنی کرسی پر قائم رہیں گے‘ میرے ایک بزرگ دوست زندگی میں ہمیشہ دوسرے نمبر پر رہے‘ وہ انتہائی باصلاحیت شخص تھے لیکن وہ پوری زندگی کسی محکمے کے سربراہ نہیں بنے‘ حکومت نے کئی بار کوشش کی لیکن وہ صاف انکار کر دیتے تھے‘ میں نے وجہ پوچھی‘ ان کا جواب تھا دنیا کے زیادہ تر لوگ پہلی پوزیشن کیلئے کوشش کرتے ہیں‘

آپ اگر پہلی پوزیشن پرہیں تو آپ کیلئے یہ پوزیشن زیادہ دیر تک سنبھالنا مشکل ہو جائے گا چنانچہ آپ ہمیشہ باس کی کرسی خالی چھوڑ دیں‘ آپ کی عزت اور انا دونوں بچ جائیں گی‘وہ کہا کرتے تھے ہمیشہ نمبر ٹو رہو‘ کارکردگی بری ہو گی تو زیادہ سے زیادہ تیسرے نمبر پر چلے جاؤ گے‘ کوشش کر کے دوبارہ نمبر ٹو ہو جاؤ گے لیکن اگر آپ پہلے نمبر پر چلے گئے تو ذرا سی ہوا چلے گی اور آپ اڑ کر زیرو پر چلے جاؤ گے‘وہ کہا کرتے تھے”میں نے پوری زندگی نمبر ون کو ذلیل ہوتے دیکھا‘

میری زندگی میں ایک بھی ایسی مثال نہیں جس میں نمبر ون عزت کے ساتھ گھر گیا ہو جبکہ میں نے اپنی زندگی کے تمام نمبر ٹو کو فیئرویل کے ساتھ رخصت ہوتے دیکھا‘ یہ ہمیشہ تالیوں کی گونج میں ریٹائر ہوئے“ میرے ایک بزرگ دوست کہتے تھے‘ اللہ کے علاوہ کوئی کسی کو کچھ نہیں دے سکتا چنانچہ صرف اس اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلاؤ جس کے سامنے بادشاہوں کی جھولیاں بھی پھیلی رہتی ہیں‘ انسان تو گدا ہیں‘ گدا گداؤں کو کیا دیں گے‘ وہ کہا کرتے تھے‘ آپ کے پاس آخر میں نیکی اور خاندان کے سوا کچھ نہیں بچتا چنانچہ نیکی کرنے اور خاندان کو ساتھ لے کر چلنے کا کوئی موقع ضائع نہ کریں‘

وہ کہا کرتے تھے‘ مشکل وقت دشمن پر بھی ہو تو اس کا ساتھ دو‘ تم کبھی خسارے میں نہیں رہو گے‘ وہ کہتے تھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عاجز انسان کے گارنٹر ہیں‘ عاجزی اختیار کرو تمہاری عزت محفوظ رہے گی‘ وہ کہتے تھے‘ نہ لو‘ نہ دو پوری زندگی خوش حال رہو گے‘ میں نے وضاحت چاہی‘ فرمایا‘ میں نے آج تک کسی شخص کو قرض لے کر خوش حال اور کسی کوقرض دے کر خوش نہیں دیکھا چنانچہ کسی سے ادھار لو اور نہ کسی کو ادھار دو زندگی اچھی گزرے گی‘

میں نے پوچھا ”لیکن اگر آپ کا کوئی دوست عزیز مالی مشکل کا شکار ہو تو پھر؟“ فرمایا ”آپ اپنی استطاعت کے مطابق فوراً اس کی مدد کردیں لیکن یہ مدد ادھار یا قرض نہیں ہونی چاہیے“ میرے ایک بزرگ دوست کہا کرتے تھے‘ آپ کا جو دوست لوگوں میں بیٹھ کر آپ کی خامیاں بیان کرے یا آپ کو مشورے دے وہ شخص ہرگز ہرگز آپ کا دوست نہیں‘ وہ آپ کا حاسد ہے‘ آپ اس سے فوراً کنارہ کش ہو جائیں‘وہ کہا کرتے تھے جو شخص وعدے اور وقت کا پابند نہ ہو آپ اس پر کبھی اعتبار نہ کریں‘

وہ شخص آپ کو کسی بڑی مصیبت میں پھنسا دے گا‘ وہ کہا کرتے تھے وہ شخص جو اپنا اور اپنے اہل خانہ کا خیال نہیں رکھتا وہ کبھی کسی کا خیال نہیں رکھ سکتا‘ کیوں؟ کیونکہ جو شخص اپنا اور اپنوں کا نہیں ہو سکا وہ کسی کا کیا ہو گا؟ وہ کہا کرتے تھے‘ دنیا میں بے ایمان سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں ہو تا‘ کیوں؟ کیونکہ وہ شخص یہ حقیقت نہیں جانتا عزت‘ رزق اور اقتدار اللہ کی امانت ہے‘ یہ جسے چاہے اور جب چاہے دے دے اور جس سے جب چاہے واپس لے لے چنانچہ اللہ کی امانت میں بے ایمانی‘ توبہ توبہ اس سے بڑی بے وقوفی کیا ہوگی؟ میرے ایک بزرگ دوست کہتے تھے کھانا وہ جو آپ نے کھا لیا‘

کپڑا وہ جو آپ نے پہن لیا‘ خوشی وہ جو آپ نے محسوس کر لی اور بستر وہ جس پر آپ نے سو لیا باقی سب ہندسے اور بیلنس شیٹس ہیں اور یہ ہندسے اور یہ بیلنس شیٹس آپ کے کسی کام نہیں آئیں گی‘ وہ کہا کرتے تھے‘ گھر خواہ چھوٹا ہو لیکن بستر نرم‘ کھانا گرم اور بیڈروم روشن‘ ہوادار اور موسم کے مطابق ہونا چاہیے‘ یہ گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں گرم ہونا چاہیے‘ وہ کہا کرتے تھے‘ کاروبار اور بچوں پر جتنی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں کریں آپ کو کبھی گھاٹا نہیں پڑے گا‘

وہ کہا کرتے تھے‘ ہمسائے اچھے ہیں تو کٹیا میں بھی سکھ ملے گا اور اگر ہمسائے اچھے نہیں ہیں تو پھر محل بھی بیچ کر چل پڑو‘ آپ کو اس میں خوشی اور سکھ نہیں مل سکتا اور وہ کہا کرتے تھے‘ وہ ملازمت کبھی نہ کرو جو دل‘ دماغ اور ضمیر پر بوجھ محسوس ہو‘ کیوں؟ کیونکہ وہ ملازمت کبھی نہ کبھی چلی جائے گی لیکن آپ زندگی بھر بیمار رہیں گے۔یہ زندہ کتابیں میرا اصل اثاثہ ہیں‘ یہ ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہیں‘ میں نے ان سے سیکھا‘ عاجز رہو‘ معاون رہو‘ دوسروں کے کام آؤ‘ فیملی کے ساتھ رہو‘

وعدہ نہ توڑو‘ قانون نہ توڑو‘ وقت کی پابندی کرو‘ فطرت سے محبت کرو اور اللہ سے ڈرو‘ میں نے سیکھا اگر آسمان والا آپ کے ساتھ ہے تو پھر زمین والے آپ کا کچھ نہیں بگا ڑ سکتے‘ میں نے سیکھا‘ دنیا میں محنت سے بڑا کوئی استاد اور ہنر سے بڑی کوئی سفارش نہیں‘ میں نے سیکھا دنیا میں عاجزی سے بڑی کوئی طاقت اور برداشت سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں‘ میں نے سیکھا دنیا میں وقت سے بڑی کوئی دوا نہیں اور میں نے سیکھا‘ انسان کے پاس پیسہ کم نہیں ہونا چاہیے لیکن زیادہ بالکل نہیں ہونا چاہیے‘کیوں؟ کیونکہ کم ہو گا تو عذاب ہو گا اور زیادہ ہو گا تو حساب ہو گا اور انسان عذاب سے تو بچ جاتا ہے لیکن حساب سے نہیں بچتا۔ میں روزانہ ایسی زندہ کتابوں میں رہتا ہوں‘ آپ بھی زندہ کتابیں تلاش کریں‘ آپ بھی اچھی اور سکھی زندگی گزاریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں