گٹھڑی کھل جائے گی

  اتوار‬‮ 23 جولائی‬‮ 2017  |  0:01

ہم 15 جولائی کو استنبول میں تھے‘ طیب اردگان کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کو سال پورا ہو چکا تھا اور ترک قوم اس دن کو قومی تہوار کی طرح منا رہی تھی‘ حکومت نے تین دن کیلئے میٹرو‘ پبلک بس سروس اور فیری سروس فری کر دی تھی‘ پورا شہر اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہا تھا‘ میٹرو ٹرینیں کھچا کھچ بھری تھیں‘ فیریز پر بھی تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اور عوام بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر تھے‘ ہم جدھر دیکھتے تھے

سر ہی سر نظر آتے تھے‘ بچے‘ جوان‘ بوڑھے اور خواتین غرضیکہ پورا شہر باہر تھا‘ لوگوں نے جھنڈے لپیٹ رکھے تھے‘ خواتین اور بچوں نے ماتھوں پر جھنڈے پینٹ کرا لئے تھے اور نوجوان ڈھول تاشے لے کر سڑکوں پر تھے‘ یہ جہاں چاہتے تھے کھڑے ہو کر ڈھول بجانا شروع کردیتے تھے اور لوگ جمع ہو کر ناچنے گانے لگتے تھے‘ عوام نے طیب اردگان کی تصویریں بھی اٹھا رکھی تھیں‘ شہر کا سب سے بڑا فنکشن سلطان فاتح کے علاقے میں تھا‘ سلطان محمد فاتح نے 20 سال کی عمر میں 1453ء میں استنبول فتح کیا تھا‘ مسلمان استنبول کیلئے آٹھ سو سال لڑتے رہے مگر اللہ نے سلطان محمد کو فتح یاب کیا اور یہ اعزاز ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سلطان محمد فاتح کے نام ہو گیا‘ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق جنتی ہیں‘ سلطان فاتح نے اپنی زندگی میں ایک شاندار مسجد‘ مدرسہ اور اپنا مقبرہ بنوایا تھا‘ یہ 1481ء میں انتقال کے بعد اس مقبرے میں مدفون ہوئے‘ ان کی بیگمات اور بچے بھی وہاں دفن ہوتے رہے یوں مقبرے کے گرد محلہ آباد ہوتاچلا گیا‘ یہ محلہ اب سلطان فاتح کہلاتا ہے‘ استنبول کی سٹی حکومت نے 15 جولائی کی فتح کے جشن کیلئے سلطان فاتح کا علاقہ منتخب کیا‘ ہم ہوٹل سے نکل کر سلطان فاتح کیلئے پیدل چل پڑے لیکن رش اور امان اللہ کی کمر کی تکلیف کی وجہ سے چلنا دشوار تھا چنانچہ ہم نے ٹیکسی لے لی‘ ٹیکسی میں سفر کرتے ہوئے معلوم ہوا‘ عوام صرف گلیوں تک محدود ہیں‘ یہ لوگ ”جوش جشن“ میں سڑکوں پر نہیں آئے‘ عام شاہراہیں کھلی ہیں اور

ٹریفک رواں دواں ہے‘ یہ ترکوں کی سمجھ داری کی دلیل تھی‘ ہمارے ملک میں الٹ ہوتا ہے‘ ہم ہمیشہ سڑک بند کر کے جشن مناتے ہیں‘ سلطان فاتح میں لاکھوں لوگ جمع تھے لیکن وہاں کسی قسم کی

بدنظمی‘ ہلڑ بازی اور ہنگامہ آرائی نہیں تھی‘ پکنک جیسا ماحول تھا‘ لوگ کھا رہے تھے‘ پی رہے تھے اور خوشیاں منا رہے تھے‘ ہم عوام کے اندر سے گزر کر سلطان فاتح کی مسجد تک چلے گئے‘ کسی جگہ کوئی سیکورٹی بھی دکھائی نہیں دی‘ صدر طیب اردگان انقرہ سے تقریر کر رہے تھے‘

مجمعے کے سامنے سکرینیں لگی تھیں‘ لوگ تقریر سن رہے تھے اور اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے‘ ہم سلطان فاتح کے بعد مرمرا کے ساحل پر آگئے‘ فیری لی اور استنبول کے ایشیائی ساحل پر چلے گئے‘ استنبول دنیا کا واحد شہر ہے جو آدھا یورپ اور آدھا ایشیا میں آتا ہے‘ شہر کے دونوں حصوں کے درمیان سمندر ہے‘ تین پل یورپ کو ایشیا سے ملاتے ہیں‘ دونوں حصوں کے درمیان فیری سروس بھی چلتی ہے اور حکومت نے زیر سمندرٹیوب بچھا کر دونوں حصوں کو ٹرین کے ذریعے بھی آپس میں ملا دیا ہے‘

ہم فیری کے ذریعے ایشیائی حصے میں اترگئے‘ فیری میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اور ایشیائی حصے میں بھی عوام سڑکوں پر تھے‘ یہ بھی جشن منا رہے تھے‘ ہم جدھر دیکھتے تھے لوگ ہی لوگ تھے‘ ہم رات دیر گئے تک باہر رہے لیکن شہر اس وقت بھی جاگ رہا تھا‘ ریستوران‘ کافی شاپس‘ چائے خانے اور گلیاں آباد تھیں‘ لوگ جشن فتح کو انجوائے کر رہے تھے۔طیب اردگان اس جشن فتح کے حق دار ہیں‘ یہ لوئر مڈل کلاس سے اوپر آئے‘ 1994ء میں استنبول کے میئر بنے اور یورپ کے بیمار ترین شہر کو صاف‘ محفوظ اور صحت مند بنادیا‘

عوام نے ان کی پرفارمنس دیکھ کر انہیں فوج کی مخالفت کے باوجودمارچ 2003ء میں وزیراعظم بنا دیا‘ طیب اردگان نے اس کے بعد کمال کر دیا‘ جی ڈی پی میں 64 فیصد اور اکنامک گروتھ میں 43 فیصد اضافہ کیا‘ آئی ایم ایف کے سارے قرضے ادا ہو گئے‘ ریزروز 26 بلین سے 92 بلین ڈالر ہو گئے‘ مہنگائی میں 23 فیصد کمی آئی‘ ائیرپورٹ 26 سے 50 ہو گئے‘ ساڑھے تیرہ ہزار کلو میٹر نئی ایکسپریس وے بنیں‘ فاسٹ ٹرین بن گئی‘ پورا ریلوے بدل دیا‘ بجلی‘ گیس اور پانی پورا کر دیا‘ یونیورسٹیاں 86 سے ایک سو 86 ہو گئیں‘ایک ڈالر میں 222 لیرے آتے تھے‘

طیب اردگان نے ایک ڈالر دو لیرے کے برابر کر دیا اور عوام کو مفت تعلیم‘ مفت علاج‘ مفت روزگار اور مفت انصاف بھی ملنے لگا لہٰذا اردگان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقبول سے مقبول تر ہوتے چلے گئے‘ یہ دین دار بھی ہیں‘ دل آویز طرز میں تلاوت کرتے ہیں‘ ترکی کو دوبارہ عالم اسلام کا مرکز بنانا چاہتے ہیں‘ فحاشی‘ عریانی‘ منشیات اور جرائم بھی ختم کر چکے ہیں اور یہ مسلمانوں کو متحد بھی دیکھنا چاہتے ہیں‘ یہ پرفیکٹ تھے بس ان کی زندگی میں ایک رکاوٹ تھی‘

فوج ان کے اسلامی عزائم کو مشکوک نظروں سے دیکھتی تھی‘ طیب اردگان آگاہ تھے چنانچہ انہوں نے افواج کے تمام سربراہوں کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا لیکن فوج نے اس کے باوجود 15 جولائی 2016ء کو طیب اردگان کے خلاف بغاوت کر دی‘ یہ اس رات مرمریز کے ساحلی علاقے میں خاندان کے ساتھ چھٹیاں منا رہے تھے‘ فوجی بغاوت ہوئی‘ اردگان کے دوستوں نے انہیں یونان چلے جانے کا مشورہ دیا لیکن یہ نہایت بہادری سے اپنی پناہ گاہ سے نکلے‘ ڈالمیان ائیر پورٹ پہنچے‘

طیارے میں سوار ہوئے اور استنبول پہنچ گئے‘ پائلٹ نے اندھیرے میں ڈوبے ائیر پورٹ پر لینڈنگ کی‘ یہ باہر نکلے اور عوام نے نعروں سے زمین اور آسمان برابر کر دیئے لیکن فوجی بغاوت اس وقت تک 265 لوگوں کو نگل چکی تھی‘ لوگوں نے ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر جان دے دی تھی‘ یہ واقعی کمال تھا اور اس کمال نے ثابت کردیا لوگ ترکی میں جمہوریت بھی چاہتے ہیں اور طیب اردگان کو بھی۔ طیب اردگان اس محبت کو ڈیزرو بھی کرتے تھے‘

یہ حقیقتاً لیڈر ہیں لیکن بدقسمتی سے بغاوت کی ناکامی کے بعدترکی میں جو کچھ ہوا اس نے ملک کے سماجی اعصاب توڑ دیئے‘ حکومت نے 2575 ججز اور پراسیکیوٹرز‘7 ہزار463فوجی اہلکار‘168 جرنیل اور ایڈمرل‘ 208سول سرونٹس‘ 1504 ڈاکٹرز اور 10732 پولیس اہلکار گرفتار کر لئے جبکہ 15200 سرکاری اور21 ہزار نجی اساتذہ کو معطل کر دیا‘ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی پابندی لگا دی گئی اور غیر ملکی طاقتوں کو بھی للکارنا شروع کر دیا‘ یہ ٹرینڈ خطرناک ہے‘ یہ آنے والے دنوں میں ترکی کیلئے تباہ کن ثابت ہو گا۔

یہ جشن بھی سول اور ملٹری ریلیشن شپ کیلئے ٹھیک نہیں تھا‘ یہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی فوج کو مزید ”ڈی مورلائز“ کرے گا‘ فوج خود کو کمزور اور کمتر محسوس کرے گی‘ عوام اس وقت بھی فوج کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں‘ ترک فوجی جوں ہی سڑکوں پر نکلتے ہیں یہ عوام کی طرف نہیں دیکھتے‘ یہ مجمعے میں بھی جانے سے کتراتے ہیں‘ فوج کے اعتماد میں یہ کمی ترکی کو نقصان پہنچائے گی‘ ہم اسلامی ملکوں کو دو حقیقتیں پلے باندھ لینی چاہئیں‘

دنیا کا کوئی ملک فوج کے بغیر بچ نہیں سکتا اور جمہوریت کے بغیر چل نہیں سکتا‘ یہ دونوں ترقی‘ امن اور خوش حالی کے ستون ہیں‘ دنیا کا کوئی ملک اگر کسی قوم کو نقصان پہنچانا چاہے تو وہ فوج یا جمہوریت دونوں میں سے کوئی ایک ستون گرا دے‘ وہ ملک چند دنوں میں صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا‘ دنیا کے سات اسلامی ملکوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اہمیت حاصل کی‘ ترکی‘ پاکستان‘ ایران‘ مصر‘ عراق‘ شام اور ملائیشیاجبکہ لیبیا آہستہ آہستہ سر اٹھا رہا تھا‘ ان ملکوں کے ساتھ کیا ہوا؟

عراق کو المیہ بنا دیا گیا‘ لیبیا زخم بن گیا‘ مصر میں فوج اور جمہوریت آمنے سامنے ہیں‘ شام کی شام ہو چکی ہے جبکہ ملائیشیا کی اینٹیں گر رہی ہیں اور پیچھے رہ گئے ترکی‘ ایران اور پاکستان‘ یہ تینوں مضبوط افواج کے مالک ہیں‘ ایران کو 35 برسوں سے کسی نہ کسی جنگ میں الجھا کر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ترکی اور پاکستان میں فوج اور سیاستدانوں کو لڑایا جا رہا ہے‘ یہ ٹرینڈ خطرناک ہے‘ ترکی اور پاکستان دونوں مختلف قومیتوں‘ نسلوں‘ زبانوں اور مسلکوں کا مجموعہ ہیں‘

یہ دونوں مجموعے جمہوریت اور فوج کی رسی سے بندھے ہیں‘ یہ رسی جس دن کھل گئی‘ یہ دونوں ملک اس دن چھوٹے چھوٹے ”وار زون“ میں تقسیم ہو جائیں گے‘ طیب اردگان ترکی اور میاں نواز شریف پاکستان میں غلطی کر رہے ہیں‘ یہ دونوں فوج اور عوام کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑا کر رہے ہیں‘ یہ سکیم اگر خدانخواستہ کامیاب ہو گئی تو یہ دونوں لیڈر بچیں گے اور نہ ہی ملک‘ عوام بھی دربدر ہو جائیں گے چنانچہ احتیاط لازم ہے‘ آخروہ لیڈر ہی کیا جو اپنے ماتحت اداروں کو ساتھ لے کر نہ چل سکے‘

اردگان اور نواز شریف اگر اپنی فوج کو اپنی حب الوطنی کا یقین نہیں دلا سکتے تو پھر یہ لیڈر کس چیز کے ہیں‘ قوم ان لوگوں کو بابائے قوم کیوں سمجھے؟ نواز شریف اور اردگان دونوں کو یہ سیکھنا ہو گا فوج اور جمہوریت دونوں ترقی کیلئے لازم وملزوم ہیں‘ آپ دونوں کو ساتھ لے کر چلیں گے تو ملک چلے گا ورنہ گٹھڑی راستے ہی میں کھل جائے گی‘ ہر چیز بکھر جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں