وزیراعظم اس پر بھی توجہ دیں

  جمعرات‬‮ 15 جون‬‮ 2017  |  0:01

بڑا بیٹا بیڈ پر لیٹا تھا‘ اس کے بازو میں نلکی لگی تھی اور وہ نلکی خون کی تھیلی سے منسلک تھی‘ خون قطرہ قطرہ بچے کے جسم میں داخل ہو رہا تھا‘ دوسرا بیٹا اس کی گود میں تھا‘ خاتون نے بتایا وہ سندھ کے کسی دور دراز گاﺅں سے تعلق رکھتی ہیں‘ شادی ہوئی‘ اللہ تعالیٰ نے بیٹا عنایت کیا‘ بچہ شروع میں پیلا تھا‘ ڈاکٹروں نے خون کی کمی بتائی‘ بچے کو خون لگوایا‘ بچہ صحت مند ہو گیا لیکن وہ ایک ماہ بعد دوبارہ لاغر اور زرد ہو

گیا‘ وہ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس گئیں‘ ٹیسٹ ہوئے ‘پتہ چلا بچہ تھیلیسیمیا جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے‘ خاتون اور اس کا خاوند تھیلیسیمیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے‘ بچے کی بیماری نے آہستہ آہستہ انہیں ڈاکٹر بنا دیا‘ یہ لوگ بچے کو پہلے قریبی شہر سے خون لگواتے رہے‘خون مہنگا تھا‘ خاوند مزدوری کرتا تھا‘ ایک مزدور کےلئے مہینے میں ساڑھے تین ہزار روپے میں خون کی بوتل لگوانا آسان نہیں تھا چنانچہ یہ لوگ اسلام آباد آ گئے‘ یہ پہلے جمیلہ فاﺅنڈیشن سے مفت خون لگواتے رہے‘یہ بعد ازاں بیت المال کے سنٹر میںآ گئے‘ جمیلہ فاﺅنڈیشن گلوبل فارما کے چیئرمین خواجہ اسد نے قائم کی ‘ یہ فاﺅنڈیشن ملک بھر سے خون جمع کرتی ہے اور یہ خون بعد ازاں تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کو مفت لگایا جاتا ہے‘ تھیلیسیمیا کے بچوں کو صرف خون نہیں چاہیے ہوتا‘ یہ عمر بھر ادویات کے محتاج بھی ہوتے ہیں‘ بچے کے جسم میں آئرن جمع ہو جاتا ہے‘ آئرن کو نکالنے کےلئے پیٹ میں پمپ بھی لگایا جاتا ہے اور ادویات بھی دی جاتی ہیں‘یہ ادویات مہنگی ہیں‘ بچوں کو ماہانہ دس ہزار روپے سے 40 ہزار روپے مالیت کی ادویات درکار ہوتی ہیں‘ جمیلہ فاﺅنڈیشن بچوں کو مفت ادویات بھی دیتی ہے‘ فاﺅنڈیشن ہر ماہ 700بچوں کو خون لگاتی ہے‘ یہ خاتون بچے کو شروع میں جمیلہ فاﺅنڈیشن سے خون لگواتی تھی‘ اس دوران بیت المال نے ایف نائین پارک میں تھیلیسیمیا سنٹر

بنا لیا‘ یہ اب بیٹے کو یہاں لے آتی ہیں‘ میں نے خاتون سے پوچھا ”بچے کتنے ہیں؟“ خاتون نے بتایا ”چار بچے ہیں“ میں نے پوچھا ”ان میں تھیلیسیمیا کے مریض کتنے ہیں“ خاتون نے بتایا ”پہلا بیٹا اور آخری بیٹا مریض ہیں‘ درمیان میں دو بیٹیاں ہیں‘ یہ دونوں نارمل ہیں“ میں نے پوچھا ”کیا آپ نے بچوں کی پیدائش سے قبل

ٹیسٹ نہیں کرایا تھا“ خاتون نے بتایا ”میں نے بیٹیوں کے وقت ٹیسٹ کرائے تھے لیکن میں آخری بچے کے وقت گاﺅں میں تھی‘ میں وہاں ٹیسٹ نہ کرا سکی چنانچہ چھوٹا بچہ بھی تھیلیسیمیا کا شکار نکلا“ خاتون کے چھوٹے بچے کی عمر آٹھ ماہ تھی‘

وہ ماں کی گود میں سو رہا تھا لیکن وہ بچہ بھی خون کی سپلائی اور ادویات کا محتاج تھا۔ہم لوگ عید کے شو کی تیاری کےلئے تھیلیسیمیا سنٹر گئے تھے‘ سنٹر میں 25 بیڈ تھے‘ ہر بیڈ پر مختلف عمر کے بچے لیٹے تھے اور انہیں خون لگایا جا رہا تھا‘ بیت المال کے ایم ڈی بیرسٹر عابد وحید شیخ نے بتایا یہ سنٹر بیگم کلثوم نواز شریف نے بنوایا تھا‘ سنٹر میں پانچ سو مریض رجسٹرڈ ہیں‘ روزانہ 20 بچوں کو خون لگایا جاتا ہے‘ بیت المال کل دو ہزار آٹھ سو مریض بچوں کو خون اور ادویات فراہم کررہا ہے‘

زیادہ تر بچوں کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ہوتا ہے‘ سنٹر کے عملے نے بتایا‘ تھیلیسیمیا دو قسم کا ہوتا ہے‘ تھیلیسیمیا مائینر اور تھیلیسیمیا میجر‘ تھیلیسیمیامائینرکے مریض کیریئر ہوتے ہیں‘ یہ مریض مرض کیری کر رہا ہوتا ہے‘ اسے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن ایک مائینر جب دوسرے مائینر کے ساتھ شادی کرتا ہے تو ان کے بچے تھیلیسیمیا میجر کے مریض ہو جاتے ہیں‘ یہ بچے خون اور علاج کے محتاج ہوتے ہیں‘ ملک میں ایک کروڑ لوگ تھیلیسیمیا مائینر کے مریض ہیں‘25 لاکھ لوگ سامنے آ چکے ہیں‘ 75 لاکھ لوگ خودکش حملہ آوروں کی طرح خاموش پھر رہے ہیں جبکہ سوا لاکھ مریض خون اور ادویات کے محتاج ہیں‘

یہ مرض انتہائی خوفناک اور مہنگا ہے‘ بچے کو شروع میں مہینے میں ایک بار اور بعد ازاں چار چار بار خون لگتا ہے‘ ادویات اس کے علاوہ ہیں لیکن یہ بچے اس کے باوجود بمشکل 25 سال تک حیات رہ پاتے ہیں‘ ہم نے اس دن سنٹر میںتھیلیسیمیا کے دو درجن بچے دیکھے‘ ہر بچہ معصوم اور ذہین تھا‘ بالخصوص بچیاں زندگی سے بھرپور تھیں‘ ہم انہیں دیکھ کر ہرگز یہ اندازہ نہیں کر سکتے تھے یہ بے چاریاں تھیلیسیمیا جیسے مرض کا شکار ہیں‘ یہ دوسروں کے خون کی محتاج ہیں اور یہ بڑی ہو کر کبھی ازدواجی زندگی نہیں گزار سکیں گی‘

یہ اپنے گھروں میں آباد نہیں ہو سکیں گی‘ یہ مظلوم بچے معاشرے کی بے حسی اور سنگ دلی کی خوفناک مثال ہیں‘ ان بچوں کے والدین اگر شادی سے قبل اپنا بلڈ ٹیسٹ کرا لیتے اور یہ تھیلیسیمیا مائینر کے مریض نکلنے کے بعد آپس میں شادی نہ کرتے‘ یہ لوگ اگر شادی کے بعد بھی اپنا ٹیسٹ کرا لیتے تو یہ بچے تھیلیسیمیا سے بچ سکتے تھے‘ علماءکرام کے باقاعدہ فتوے موجود ہیں والدین حمل کے دوران ٹیسٹ کرائیں اور اگر بچہ معذور یا کسی ایسے موذی مرض کا شکار نکلے جس کا علاج ممکن نہیں تو حمل ساقط کرا دیں‘

یہ والدین اگر ان فتوﺅں کی مدد بھی لے لیتے تو بھی یہ اور ان کے بچے اس تکلیف سے بچ جاتے لیکن ہم لوگ کیونکہ جہالت کے بحرالکاہل ہیں‘ ہم نے کیونکہ قسم کھا رکھی ہے ہم نے غلطی سے بھی کوئی صحیح کام نہیں کرنا چنانچہ ملک میں ہر سال تھیلیسیمیا کے چھ ہزار بچوں کا اضافہ ہو رہا ہے‘ ایک ایک گھر میں ایسے چار چار بچے موجود ہیں‘ میں نے ایک بیڈ پر ایک بہن بھائی کو دیکھا‘ دونوں کو بلڈ لگ رہا تھا جبکہ معذور دادا بیڈ کے ساتھ بیٹھا تھا‘ یہ بزرگ مہینے میں دو بار آزاد کشمیر سے اسلام آباد آتے ہیں‘

بیرسٹر عابد وحید شیخ نے ایک ایسی فیملی کی کہانی بھی سنائی جس کے تین بچے تھیلیسیمیا کے شکار ہیں‘ باپ بچوں کے علاج کا خرچ برداشت نہ کر سکا‘ اس نے خودکشی کر لی اور اب ماں بچوں کو خون لگوانے کےلئے در در ٹھوکریں کھا رہی ہے‘ ہم لوگ سنٹر سے نکلنے لگے تو ایک بچی نے ہمیں روک کر پیغام دیا ”آپ والدین کو میری طرف سے پیغام دیں آپ خدا کےلئے ٹیسٹ کرا لیا کریں‘ یہ دنیا ہم جیسے بچوں کےلئے اچھی نہیں‘ ‘میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔وزیراعظم اگر تھوڑی سی مہربانی فرمادیں‘ یہ اگر پانامہ لیکس سے بچنے کے صدقے چند اقدامات کر دیں تو تھیلیسیمیا کے بچے باعزت زندگی بھی گزار سکتے ہیں اور ان کی تعداد میں بھی کمی ہو سکتی ہے‘

حکومت شادی کےلئے میڈیکل سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دے‘ نکاح نامے کا آخری صفحہ میڈیکل سرٹیفکیٹ پر مشتمل ہونا چاہیے‘ نکاح کے خواہاں لوگ مولوی صاحب سے نکاح نامہ لیں‘ لیبارٹری میں خون کے نمونے دیں‘ لیبارٹری یہ صفحہ پر کرے‘ اس پر دستخط کرے اور اپنی مہر لگائے‘مولوی صاحب اس کے بعد نکاح پڑھائیں‘ ملک میں جو مولوی سرٹیفکیٹ کے بغیر نکاح پڑھائے اسے سخت سزا دی جائے اور اگر لیبارٹری کا رزلٹ غلط نکلے تو لیبارٹری بند کر دی جائے اور مالک کو دس سال قید کی سزادے دی جائے‘

میڈیکل سرٹیفکیٹ کو شناختی کارڈ‘ ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ کا حصہ بھی بنا دیا جائے‘ نادرا امیدوار کو ایک نمبر جاری کرے‘ امیدوار لیبارٹری کو خون کا نمونہ دے‘نادرا کا دیا ہوا نمبر لکھوائے‘ لیبارٹری امیدوار کا رزلٹ براہ راست نادرا کو بھجوا دے اور نادرا اس رزلٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا دے‘ ملک میں خون دینا بھی لازمی قرار دے دیا جائے‘ ملازمین سرکاری اور غیر سرکاری نوکریوں کی ہر پروموشن سے قبل خون کا عطیہ دیں‘ ملک کی تمام اسمبلیوں کے ارکان سال میں ایک ایک بار خون دینے کے پابند ہوں‘

مذہبی اجتماعات مثلاً بارہ ربیع الاول اور دس محرم کو بھی خون کے عطیات دیئے جائیں‘ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے اجتماعات میں لاکھوں لوگ جمع ہوتے ہیں‘ ان میں سے اگر ایک فیصد لوگ بھی خون عطیہ کر دیں تو تھیلیسیمیا کے ہزاروں بچوں کی جان بچ جائے گی‘ مولانا طارق جمیل اور مولانا الیاس قادری سے بھی درخواست ہے آپ اپنے ہر اجتماع میں خون کے عطیات جمع کرنے کا بندوبست کیا کریں بالخصوص رمضان کے مہینے میں کیونکہ رمضان میں لوگ خون نہیں دیتے اور یوں یہ بچے مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں‘ والدین خون خریدنے اور دوسرے ملکوں سے برآمد کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور وزیراعظم مہربانی فرما کر ”بون میرو ٹرانسپلانٹ“ مفت کر دیں‘

حکومت اخراجات برداشت کرے تا کہ یہ بچے جلد سے جلد بحال ہو جائیں‘ میری سیاسی جماعتوں سے بھی درخواست ہے آپ کسی ایک مرض کی ذمہ داری اٹھا لیں‘ آپ اس مرض کے بارے میں آگہی مہم بھی چلائیں اور مریضوں کا مفت علاج بھی کرائیں‘ یہ کوشش ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدل دے گی‘ ہمارے سیاستدان اگر پانامہ کی ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں تو یہ تھیلیسیمیا جیسے امراض کی ذمہ داری کیوں نہیں اٹھا سکتے؟ مجھے یہ سوال کل تھیلیسیمیا کے ہر مریض بچے کی آنکھوں میں لکھا ہوا نظر آیا تھا۔

نوٹ: ملک کے نامور دانشور اور کالم نگار منو بھائی سندس فاﺅنڈیشن کے نام سے تھیلیسیمیاکے بچوں کےلئے ادارہ چلارہے ہیں‘ یہ فاﺅنڈیشن آپ کے صدقات‘ خیرات اور زکوٰة کی منتظر ہے‘ آپ یہ عطیات فیصل بینک کے اکاﺅنٹ 0465005180111005 اور الائیڈبینک کے اکاﺅنٹ 0010012282530015میں جمع کرا سکتے ہیں‘ فاﺅنڈیشن کے فون نمبر 042-37422131-2 ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں