پرہیز گار

  اتوار‬‮ 11 جون‬‮ 2017  |  0:01

محلے کے تمام لوگ پرہیز گار تھے‘ گلی کے دونوں سروں پر مسجدیں تھیں‘ یہ دونوں مسجدیں رات تک آبادی رہتی تھیں‘ مولوی صاحب ہر نماز کے بعد درس دیتے تھے اور ہم تمام نمازی پورے احترام کے ساتھ یہ درس سنتے تھے‘ محلے کے تمام لوگ مہذب‘ دین دار اور صلح جو بھی تھے‘ میں اس وقت ایک مذہبی جماعت میں شامل تھا‘ ہم نوجوان مسجد میں درود وسلام پڑھتے تھے‘ ہم نعت خوانی بھی کرتے تھے اور گیارہویں شریف کا

ختم بھی دیتے تھے‘ ہم نوجوانوں نے مخصوص رنگ کی ٹوپیاں بنوا رکھی تھیں‘ یہ ہمارا شناختی نشان تھیں‘ یہ ٹوپیاں دیکھ کر محلے کا ہرشخص ہماری عزت کرتا تھا‘ ہم نے محلہ ایکشن کمیٹی بھی بنا رکھی تھی‘ یہ کمیٹی محلے کا نظم ونسق بھی دیکھتی تھی‘ محلے میں آنے جانے والوں پر نظر بھی رکھتی تھی اور صفائی ستھرائی‘ پانی اور بجلی کا انتظام بھی کرتی تھی‘ یہ کمیٹی مسجدوں کا بندوبست بھی چلاتی تھی۔ہمارے محلے کے تمام معاملات درست چل رہے تھے‘ محلے میں امن تھا‘ شانتی تھی‘ پردہ تھا‘ حیاءتھی اور امن تھا‘ ہم لوگ خوش تھے لیکن پھر ہمارے محلے کو نظر لگ گئی‘ میں آج بھی اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو میں سکتے میں چلا جاتا ہوں‘ میں کسی کام کے قابل نہیں رہتا اور مجھے سکتے سے نکلنے میں بڑی دیر لگ جاتی ہے‘ وہ کیا نظر تھی‘ وہ کیا واقعہ تھا؟ وہ واقعہ ایک ٹرک تھا‘ ایک شام گلی میں ایک ٹرک آیا‘ محلے کے واحد خالی گھر کے سامنے رکا‘ ٹرک سے لوگ اترے‘ گھر کا مقفل دروازہ کھولا اور گھر کا سامان اتارنے لگے‘ سامان میں اس زمانے کی تمام سہولتیں شامل تھیں‘ بڑے بڑے فریج‘ بڑے سائز کے رنگین ٹیلی ویژن‘ واشنگ مشینیں‘ غیر ملکی قالین‘ پردے‘ صوفے اور آرام دہ بیڈ‘ ملازم سامان اتارتے رہے اور محلے دار کنکھیوں سے دیکھتے رہے‘ ملازم سامان اتارنے کے بعد گھر سیٹ کرنے لگے‘ وہ تین دن آتے رہے‘ سامان سیٹ کرتے رہے‘

چوتھے دن ایک بڑی سی گاڑی گلی میں داخل ہوئی‘ ڈرائیور نے پچھلا دروازہ کھولا‘ ایک الٹرا ماڈرن خاتون گاڑی سے اتری‘ نظریں گھما کر محلے کو دیکھا اور گھر کے اندر داخل ہو گئی‘ ڈرائیور گاڑی سمیت واپس چلا گیا‘ بس اس خاتون کا آنا تھا پورے محلے کا امن اور اخلاقیات برباد ہو گئیں۔وہ عورت بدکردار تھی‘ وہ ساری رات جاگتی تھی‘ اونچی آواز میں میوزک سنتی تھی‘

گھر کے اندر سے اس کے ناچنے‘ گانے اور اچھلنے کودنے کی آوازیں آتی تھیں‘ شام کے بعد بڑے بڑے لوگ بڑی بڑی گاڑیوں میں آتے تھے‘

گاڑیاں گلی میں کھڑی کرتے تھے اور اندر چلے جاتے تھے‘ وہ دیر تک اندر رہتے تھے‘ وہ جاتے تھے تو وہ خاتون افیون کھا کر بے سدھ سو جاتی تھی‘ مجھے یقین ہے آپ مجھ سے پوچھیں گے ”مجھے کیسے پتہ چلا وہ خاتون افیون کھاتی تھی“ یہ بات محلے کے لوگوں کو فیقے نے بتائی تھی‘ فیقا افیون فروش تھا‘ وہ روزانہ شام کے وقت اس کے گھر آتا تھا‘ گھنٹی بجاتا تھا‘ ایک زنانہ ہاتھ دروازے سے باہر آتا تھا‘ فیقے کو رقم پکڑاتا تھا اور افیون کی پڑیا لے کر اندر غائب ہو جاتا تھا‘

وہ بدکردار خاتون ہماری عبادت پر بھی اثر انداز ہونے لگی‘ ہماری مسجد اس کے گھر کے بالکل ساتھ تھی‘ ہم جس وقت مسجد میں درودوسلام کی محفل لگاتے تھے عین اس وقت اس کے گھر سے میوزک کی آوازیں آنے لگتی تھیں‘ ہم ڈسٹرب ہو جاتے تھے‘ ہم لوگ محلے کی بچیوں کے خراب ہونے کے خدشات کا شکار بھی تھے‘ ہمارا خیال تھا یہ عورت یہاں رہی تو ہماری مائیں‘ بہنیں اس کے رنگ میں رنگ جائیں گی‘ ہم محلے والے ایک دن اکٹھے ہوئے اور تھانے چلے گئے اور خاتون کے خلاف ایس ایچ او کو تحریری درخواست دے دی‘

ایس ایچ او بھلا انسان تھا‘ اس نے ہم سے ”برائی“ کا وہ اڈہ ختم کرنے کا وعدہ کر لیا‘ ہم لوگ مطمئن ہو گئے‘ ہم چند دن تک چھاپے کا انتظار کرتے رہے لیکن پولیس نہ آئی‘ ہم یاددہانی کےلئے ایس ایچ او کے پاس چلے گئے‘ ایس ایچ او نے ہم سے معذرت کر لی‘ ہم نے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا ”یہ خاتون بہت بااثر ہے‘ مجھے آئی جی نے روک دیا ہے“ ہم مایوس ہو کر واپس آ گئے‘ ہم اکثر رات کے وقت پولیس کے اعلیٰ افسروں کو بھی اس گھر میں آتے جاتے دیکھتے تھے‘

وہاں ایم این اے اور ایم پی ایز بھی آتے تھے اور بڑی بڑی کاروباری شخصیات بھی‘ ہم ان لوگوں کا راستہ روکنا چاہتے تھے لیکن ان کا مرتبہ‘ ان کا رتبہ اور ان کا کروفر ہمارے ہاتھ روک لیتا تھا لیکن پھر ایک دن ہمارا صبر جواب دے گیا۔وہ شب برات تھی‘ ہم مسجد میں نوافل ادا کر رہے تھے‘ اچانک اس گھر سے شور کی آوازیں آنے لگیں‘ دروازے کھلنے‘ بند ہونے اور ٹکرانے کی آوازیں آئیں اور پھر دھاڑ کی آواز سے گھر کا گیٹ کھلا اور وہ خاتون گلی میں آ گئی‘ وہ خاتون نشے سے چور اور الف ننگ تھی‘

وہ گھر کی دہلیز پر کھڑی تھی اور ایک مرد اسے بازو سے اندر کی طرف کھینچ رہا تھا‘ مرد نے اپنا چہرہ چادر میں چھپا رکھا تھا‘ وہ شاید اپنا چہرہ محلے والوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا تھا‘ گھر کے اندر سے تیز میوزک کی آوازیں بھی آ رہی تھیں‘ یہ منظر ہمارے لئے ناقابل برداشت تھا‘ ہم نمازی اکٹھے ہوئے‘ ہم نے لاٹھیاں‘ ہاکیاں‘ بیٹ اور وکٹیں جمع کیں‘ مولوی صاحب کو اپنا قائد بنایا‘ ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور سرفروشی کا عزم کر کے مسجد سے باہر آ گئے‘ ہم تیس چالیس نمازی تھے‘

ان نمازیوں کی قیادت مولوی صاحب فرما رہے تھے جبکہ ہر اول دستہ ہم ٹوپی برداروں پر مشتمل تھا‘ ہم گھر کے گیٹ پر پہنچے اور ہاکیوں اور وکٹوں کے ساتھ گیٹ بجانا شروع کر دیا‘ اندر میوزک چل رہا تھا چنانچہ ساری آوازیں اندر نہیں جا رہی تھیں‘ہم پوری طاقت سے ہاکیاں اور وکٹیں گیٹ پر برسانے لگے‘ شور کی آواز اندر جانے لگی‘ گھر کے اندر پہلے میوزک کی آواز بند ہوئی اور پھر چند لوگ کھڑکیوں سے جھانک کر دیکھنے لگے‘ وہ آتے تھے‘ ذرا سا پردہ ہٹاتے تھے‘ ہمیں دیکھتے تھے اور اندر غائب ہو جاتے تھے‘

اندر سے خاتون کے قہقہوں کی آوازیں بھی آ رہی تھیں‘ وہ شاید نشے میں دھت تھی‘ ہمارا غصہ بڑھ گیا‘ ہم زیادہ شدت کے ساتھ گیٹ پر ہاکیاں برسانے لگے‘ اندر موجود لوگوں نے جب محسوس کیا ہم گیٹ توڑ دیں گے تو ایک صاحب نے حوصلہ کیا‘ وہ ڈرتے ڈرتے دروازے تک آیا اور ہم سے اس بدتمیزی کی وجہ پوچھنے لگا‘ ہم اسے ماں بہن کی گالیاں دینے لگے‘ وہ اندر کی طرف بھاگا‘ ہم نے گیٹ کو دھکا دیا‘ گیٹ ٹوٹ کر اندر گر گیا اور ہم اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے اندر داخل ہو گئے‘

بھاگتے ہوئے شخص نے اندر کا دروازہ بھی بند کر دیا‘ ہم نے وہ دروازہ بھی توڑ دیا‘ ہم یوں اندر پہنچ گئے‘ اندر ایک ہولناک منظر ہمارا منتظر تھا‘ وہ خاتون سٹریچر پر بندھی تھی‘ فرش پر خون بکھرا تھا اور وہ ہزیانی کیفیت میں قہقہہ لگا رہی تھی‘ اس کے سرہانے ایک مرد کھڑا تھا‘ وہ مرد بھی میرا بیٹا صبر‘ میرا بیٹا صبر کا ورد کرتا جاتا تھا اور روتا جاتا تھا‘ ہم یہ منظر دیکھ کر سکتے میں آگئے‘ تھوڑی دیر بعد کمروں سے تین چار مزید لوگ نکلے اور وہ بھی اس خاتون کے پاس کھڑے ہو گئے‘

خاتون نے سٹریچر پر پڑے پڑے قہقہہ لگایا‘ خون کی الٹی کی اور ہمارے سامنے دم توڑ دیا‘ ہم پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے‘ مردوں میں موجود ایک صاحب نے مولوی صاحب کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی طرف چل پڑا‘ ہم بھی چپ چاپ ان کے ساتھ باہر آ گئے‘ وہ صاحب دہلیز پر کھڑے ہوئے اور ہمیں ایک ہولناک کہانی سنائی۔وہ خاتون لاہور کے ایک رئیس خاندان سے تعلق رکھتی تھی‘ وہ کینسر کی آخری سٹیج کی مریضہ تھی‘ وہ شدید تکلیف میں مبتلا تھی‘

وہ تکلیف میں تڑپتی تھی اور تڑپتے تڑپتے کپڑے تک اتار دیتی تھی‘ گھر میں بوڑھے والد اور والدہ تھے‘ وہ بیٹی کی تکلیف برداشت نہیں کر پاتے تھے لہٰذا بیٹی والدین کو تکلیف سے بچانے کےلئے اس محلے میں آ گئی‘ وہ محلے کو اپنی چیخوں سے بچانے کےلئے رات کو اونچی آواز میں میوزک چلا دیتی تھی‘ وہ میوزک اس کی تکلیف کا پردہ تھا جبکہ افیون اس کے درد کا علاج تھی‘ وہ افیون کھا کر بے سدھ ہو جاتی تھی‘ اس کے گھر آنے والے تمام لوگ اس کے رشتے دار تھے‘

وہ اس کی دیکھ بھال کےلئے رات کے وقت وہاں آ جاتے تھے‘ خاتون کو اس رات خوفناک دورہ پڑا‘ وہ خون کی الٹیاں کرنے لگی‘ اس نے تڑپتے تڑپتے کپڑے پھاڑ دیئے اور باہر نکل گئی‘ اسے اندر کھینچنے والا اس کا بھائی تھا‘ اس نے اپنا منہ اس لئے چادر میں چھپا رکھا تھا کہ اس کی بہن برہنہ تھی‘ وہ اپنی نظروں کو چھپائے رکھنا چاہتا تھا اور خاتون اس لئے قہقہے لگا رہی تھی کہ اسے درد سے بچانے کےلئے دگنی مقدار میں افیون دے دی گئی تھی اور وہ نشے کے عالم میں قہقہے لگاتے دم توڑ گئی‘

ہم سب یہ سن کر شرمندہ ہو گئے‘ ہم نے ڈنڈے ہاکیاں پھینکیں اور اپنے گھروں کو لوٹ گئے‘ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے مجھے ہر اس پرہیز گاری سے نفرت ہو چکی ہے جس میں مجھے دوسرے لوگ بے ایمان اور گناہ گار نظر آتے ہیں‘ میں جب بھی کسی کے منہ سے کسی کے گناہوں کا ذکر سنتا ہوں‘ مجھے وہ خاتون یاد آ جاتی ہے اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے میرا معدہ میرے حلق میں الٹ جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

0

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔