دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں

  جمعہ‬‮ 9 جون‬‮ 2017  |  22:27
یہ 1996ء کی ایک سرد دوپہر تھی‘ شکاگو لا ء سکول کے ٹھنڈے کوریڈور تھے اور وہ ان برآمدوں میں آہستہ آہستہ چل رہا تھا‘ اس کے ایک ہاتھ میں بریف کیس تھا‘ دوسرے ہاتھ میں فائلیں تھیں اور اس نے یہ فائلیں سینے پر رکھ کر انہیں ہاتھ سے دبا رکھا تھا‘ اس کے چہرے پر فکر کی کئی لکیریں بکھری تھیں‘وہ اس عالم میں سٹاف روم میں داخل ہوا‘ اس کے زیادہ تر کولیگز کافی کے مگ اٹھا کر ایک دوسرے سے گپ شپ کررہے تھے۔اس نے کمرے کا جائزہ لیا‘ اس کا دوست کھڑکی کے پاس اکیلا کھڑا تھا ‘ اس نے فائلیں اور بریف کیس میز پر رکھا‘ اوور کوٹ کھونٹی پر لٹکایا اور مسکراتا ہوا دوست کے پاس پہنچ گیا‘ دوست نے مسکرا کر پوچھا ’’آج کا دن کیساگزرا؟‘‘ اس نے گرم جوشی سے جواب دیا ’’گڈ‘‘ اس کا دوست ماہر نفسیات تھا اور وہ شکاگو لاء سکول میں مجرموں کی نفسیات پڑھاتا تھا‘ وہ فوراً اس کی کشمکش تک پہنچ گیا ’’تم کیا سوچ رہے ہو‘‘ اس کے دوست نے اس سے براہ راست پوچھ لیا‘ وہ مسکرایااور بڑے یقین سے بولا ’’میں نے امریکہ کا صدر بننے کا فیصلہ کر لیا ہے‘‘ اس کے دوست کے پیٹ سے ایک قہقہہ ابلا لیکن اس نے قہقہے کو حلق میں روک لیا‘ وہ اپنے دوست کی نفسیات سے واقف تھا‘ وہ جانتا تھا یہ قہقہہ ان کی دوستی میں دراڑ ڈال دے گاچنانچہ دوست نے فوراً کھڑکی سے باہر دیکھا اور مسکرا کر کہا ’’ آج سردی کچھ زیادہ نہیں؟‘‘ اس نے دوست کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا‘ دوست کی نظریں کھڑکی سے پھسلتی ہوئی واپس اس کے چہرے پر آئیں‘ دوست نے غور سے اس کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا ’’آر یوسیرئس‘‘ اس نے اثبات میں سرہلایا اور بولا ’’پاگل پن کی حد تک سیرئس‘‘ اس کے دوست نے اس کا ہاتھ پکڑا‘ دونوں کھڑکی سے چند قدم پیچھے ہٹے اور کرسیوں پر آ کر بیٹھ گئے۔نفسیات دان دوست نے چند لمحے سوچا اور پھر ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں بولا ’’ میں تمہارے آئیڈیے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا‘‘ اس نے پوچھا ’’کیوں‘‘ وہ بولا ’’اس کی تین وجوہات ہیں‘ نمبر ون تمہاری رنگت‘ تم سیاہ فام ہو اور امریکہ کی تاریخ میں صدر تورہا دور آج تک کوئی سیاہ فام کسی کلیدی عہدے تک نہیں پہنچ سکا۔ نمبر ٹو‘ تمہارا والد مسلمان تھا‘ تمہارا سوتیلا والد بھی مسلمان تھا
اور امریکہ ابھی اتنا لبرل نہیں ہوا کہ وہ تمہارا یہ جرم معاف کر دے اور نمبر تھری تمہارے خاندان میں آج تک کوئی سیاستدان نہیں گزرا چنانچہ میں یہ سمجھتا ہوں انسان کو کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جس کا اسے تجربہ نہ ہو‘جس میں کامیابی کے امکانات کم ہوں اور جس کی پہلے کوئی مثال بھی موجود نہ ہو‘‘ اس کا دوست خاموش ہوگیا‘ اس نے غور سے دوست کی بات سنی اور اس کے بعد بولا ’’میرے پاس بھی اپنے اس فیصلے کی تین وجوہات ہیں۔ نمبر ون‘ امریکہ تبدیل ہو رہا ہے‘ امریکہ کے 80فیصد لوگ مڈل کلاس ہیں‘ ان میں سے اکثریت گوروں کی ہے اور مجھے ان گوروں کی آنکھوں میں اپنے لئے ہمدردی محسوس ہوتی ہے‘ اس ہمدردی کی وجہ پانچ سو سال کا وہ جبر ہے جو گوروں نے میرے رنگ اور میری نسل سے روا رکھا‘امریکہ کا مڈل کلاس گورا آج اس زیادتی پر شرمندہ ہے ‘ میں اس شرمندگی کا فائدہ اٹھاسکتا ہوں ‘‘وہ رکا‘ اس نے سوچا اور دوبارہ بولا ’’میں نے تاریخ کا بڑے غور سے مطالعہ کیا‘ مجھے تاریخ نے بتایا‘ دنیا میں کسی قوم کا صبر کبھی ضائع نہیں جاتا‘ اس ملک کے سیاہ فاموں نے پانچ سو سال تک صبر کیا‘ مجھے محسوس ہوتا ہے اب اس صبر کے نتیجے کا وقت آ چکا ہے اور میں اس وقت کا فائدہ اٹھاسکتا ہوں۔ نمبرٹو‘ میرا کالا رنگ اور میرے والد کا مسلمان ہونا میری سب سے بڑی طاقت ہے‘ میں اپنی کمزوریوں سے واقف ہوں چنانچہ میں اپنی کمزوری کوبڑی آسانی سے اپنی قوت بناسکتا ہوں اور نمبر تھری‘ میں یہ سمجھتا ہوں انسان قدرت کی واحد مخلوق ہے جس کیلئے دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں‘جس انسان نے سمندر میں اترنے اور ہواؤں اور فضاؤں میں تیرے کا فن سیکھ لیا‘ جس نے خلئے کے اندر کی دنیا جان لی اس انسان کیلئے امریکہ کا صدر بننا زیادہ مشکل نہیں‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ دوست نے چند لمحے سوچا اور اس کے بعد پوچھا ’’تم مجھے اپنی کوئی پانچ خوبیاں بتاؤ‘‘ وہ چند لمحے خاموش رہا اور اس کے بعد بولا ’’میری پہلی خوبی‘ میں ہارنے کے بعد حوصلہ نہیں ہارتا۔ دوسری خوبی میں جب کوئی کام شروع کرتا ہوں تو پھر اس میں وقفہ نہیں آنے دیتا ۔ میری تیسری خوبی‘ میں عام لوگوں کی نفسیات سمجھتا ہوں‘ میں ان کے جذبات‘ احساسات اور ضروریات کو سمجھتا ہوں۔ میری چوتھی خوبی اخلاص ہے‘میں نے آج تک کسی کو دھوکہ نہیں دیا‘ میں نے کبھی وعدہ نہیں توڑا‘ میں نے کبھی صلے کو سامنے رکھ کر نیکی نہیں کی اور میری پانچویں خوبی امید ہے‘ میں برے سے برے حالات میں بھی امیدکو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ میرے دوست میرے بارے میں کہتے ہیں اسے اگر تنور میں بھی پھینک دیا جائے تو یہ اپنے پسینے سے آگ بجھانے کی کوشش شروع کر دے گا‘‘ وہ خاموش ہوگیا‘ اس کے دوست نے چند لمحے سوچا اور اس کے بعد بولا ’’میں تمہیں ایک چھٹی خوبی کا تحفہ دینا چاہتا ہوں‘‘ وہ خاموشی سے اس کی طرف دیکھنے لگا‘دوست بولا ’’میں نے دنیا کے تمام بڑے لیڈروں میں ایک مشترکہ خوبی دیکھی‘ یہ تمام لوگ مسکراہٹ اور سنجیدگی کے استعمال کے ماہر تھے‘ یہ ایک منٹ میں مسکرا بھی سکتے تھے اور اسی منٹ میں ان کے چہرے پر موت جیسی سنجیدگی بھی آجاتی تھی‘ تم نے جس دن سنجیدگی اور مسکراہٹ کا استعمال سیکھ لیا‘ تم کامیاب لیڈر ثابت ہو گے‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ اپنی سیٹ سے اٹھا‘ اس کے سامنے جھکا اور مسکرا کر بولا ’’میں آپ کی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں مسٹر پریذیڈنٹ‘‘۔شکاگولاء سکول کا یہ استاد بارک حسین اوباما تھا‘اس نے 1996ء میں ایک ناممکن کام کا بیڑا اٹھایا‘ وہ تمام ملاقاتیوں سے پوچھتا تھا ’’تم امریکہ کو کیسا دیکھنا چاہتے ہو‘‘ 90فیصد لوگ جواب دیتے تھے ’’ہم امریکہ کو تبدیل ہوتادیکھنا چاہتے ہیں‘‘ اس کا اگلا سوال ہوتا تھا ’’تمہاری نظر میں امریکہ کے صدر کو کیسا ہونا چاہئے‘‘ اس کے جواب میں بھی نوے فیصد لوگ کہتے تھے ’’ایسا شخص جو امریکہ کو ہر سطح پر تبدیل کر دے‘‘ اس نے ان دونوں سوالوں کے جوابوں کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیا‘ وہ تبدیلی کا لیڈربن گیا‘ اس نے 1996ء میں ایلینائس سٹیٹ سے سینیٹر کا الیکشن لڑا اور جیت گیا‘سینٹ میں اس نے ایسے قوانین پاس کرائے جن کا اثربراہ راست عام شہری پر ہوا‘جس سے اس کی شہرت میں اضافہ ہوا‘اس کی یادداشت بڑی شاندار تھی ‘ اس نے امریکہ کے تمام چھوٹے بڑے صحافیوں کے نام رٹ لئے‘ وہ امریکہ کا واحد سیاستدان تھا جو پریس کانفرنس میں صحافیوں کو ان کے نام سے پکارتا تھا اور وہ ان کے خاندان تک سے واقف تھا۔ 2004ء میں اس نے قومی سینٹ کا الیکشن لڑا اور وہ امریکہ کی تاریخ کا پانچواں سیاہ فام سینیٹر بن گیا‘ سینٹ میں پہنچ کر اس نے اٹھارہ‘ اٹھارہ گھنٹے کام کیا‘ اس کو سینٹ کی تمام کارروائی‘ ایشوز کی بیک گراؤنڈز اور آئینی دفعات کی تفصیلات تک ازبر ہوتی تھیں‘اس کی اس محنت کا یہ نتیجہ نکلا وہ امریکہ کے گیارہ طاقتور ترین سینیٹرز میں شمار ہونے لگا‘ 2007ء میں اس نے خود کو صدارتی امیدوار ڈکلیئر کر دیا‘ امریکہ کے تمام صدارتی امیدوار انتخابی مہم کیلئے امیروں سے چندے لیتے ہیں لیکن اس نے چندہ جمع کرنے کی مہم غریبوں سے شروع کی‘ اس نے عوام سے پانچ ڈالر سے 200ڈالر تک امداد کی درخواست کی‘ نتیجہ حیرت انگیز نکلا‘ اس نے چھ ماہ میں 58ملین ڈالر جمع کرلئے‘ یہ امریکی تاریخ میں ریکارڈ تھا۔جنوری 2008ء میں اس نے ایک ماہ میں 36ملین 80ہزار ڈالر جمع کئے یہ بھی ریکارڈ تھا اور اس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبول ترین امیدوار ہیلری کلنٹن کو بھی صدارتی دوڑسے باہر نکال دیا‘ یہ بھی ایک ریکارڈ تھا۔باراک حسین اوباما 4نومبر 2008ء کو امریکہ کا نیا صدر منتخب ہو گیا‘ اس نے 5 نومبر کی شام شکاگو میں قوم سے پہلاخطاب کیا‘ اس خطاب میں اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر نعرہ لگایا ’’دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں‘‘اور اس کے ساتھ ہی شکاگو کی پوری فضا گونج اٹھی ’’دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں‘‘ اوباما نے سچ کہا ‘واقعی دنیا میں کوئی چیز نا ممکن نہیں‘ بس حوصلہ‘ امید‘ محنت‘ اخلاص اور وژن چاہئے اور ایک سیاہ فام انسان صرف بارہ سال میں دنیا کی واحد سپر پاور کا صدربن جاتا ہے‘ باراک حسین اوباما دنیا کے ان تمام نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہے جو مشکل کو ناممکن سمجھتے ہیں‘ جنہیں اپنی ذات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین نہیں‘ جو خود کو حقیر اور کمزور سمجھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

0

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔