ہم خود ہی ڈکلیئر کر دیں

  منگل‬‮ 18 اپریل‬‮ 2017  |  0:01
ہجوم ہاسٹل تک پہنچا‘ گیٹ توڑے‘ اندر داخل ہوا‘ کمرے کا دروازہ توڑا اور کونے میں دبکے‘ سمٹے نوجوان کو دبوچ لیا‘ وہ ’’میں نے نہیں کیا‘ میں نے نہیں کیا‘‘ کی دہائی دیتا رہا لیکن ہجوم اسے ٹھڈے‘ مکے اور تھپڑ مارنے لگا‘ ہجوم میں ایک پستول بردار بھی تھا‘ پستول بردار نے سلگتی تڑپتی گولیاں اس کے ڈرے سہمے جسم میں اتار دیں‘ وہ تڑپنے لگا‘ وہ تڑپتا رہا اور ہجوم اسے مارتا رہا‘ وہ اس مار‘ اس تڑپ کے دوران زندگی کی سرحد عبور کر گیا لیکن ہجوم کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا‘ وہ لوگ اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے اور لاش کو ٹھڈے ‘مکے‘ لاٹھیاں اور پتھر مار رہے تھے‘ وہ لاش کو گھسیٹتے بھی رہے‘ لاش کے کپڑے پھٹ گئے‘ وہ ’’الف ننگا‘‘ ہو گیا لیکن ہجوم کے غصے کی آگ نہ بجھی‘ لوگوں نے پتھر‘ اینٹیں اور روڑے جمع کئے اور وہ اس کے چہرے‘ اس کے سر کا قیمہ بنانے لگے‘ لاش زمین پر پڑی تھی اور لوگ اللہ اکبر‘ اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے‘ میں اس سے آگے دیکھ سکا اور نہ ہی پڑھ سکا‘ میرا معدہ ابل کر میرے منہ میں آ گیا اور میں قے کرتے کرتے بے ہوش ہو گیا۔ دنیا میں دو جگہیں بہت مقدس ہوتی ہیں‘ درس گاہیں اور عبادت گاہیں‘ انسان پہلی جگہ سے خدا کو جانتا ہے اور دوسری جگہ بیٹھ کر یہ اس سے مخاطب ہوتا ہے شاید اسی لئے جنگوں کے دوران بھی سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں محفوظ اور مسجدیں‘ چرچ اور مندر کھلے رہتے ہیں‘ تاریخ کا دعویٰ ہے معاشرے اس وقت ختم ہو جاتے ہیں جب ان کی درس گاہوں اور عبادت گاہوں سے امن رخصت ہو جاتا ہے اور ہماری یہ دونوں مقدس جگہیں عرصہ ہوا بے امن ہو چکی ہیں‘ ہم 20 سال سے‘ مسجدوں‘ امام بارگاہوں اور درگاہوں سے لاشیں اٹھا رہے ہیں اور ہم اب تعلیمی اداروں سے بھی انسانی باقیات اکٹھی کر رہے ہیں‘ ہماری یہ سفاکی اگر لاشوں تک محدود رہتی تو شاید ریاست کا بھرم بچ جاتا لیکن جب نمازی مسجد میں نمازیوں کے ہاتھوں اور طالب علم یونیورسٹی میں طالب علموں کے ہاتھوں مارے جانے لگیں توپھر بھرم بچتا ہے اور نہ ہی ریاست اور ہم یہ حد کراس کر چکے ہیں‘ ہم نے 1980ء میں امریکا سے ڈالر اینٹھنے کیلئے جو فصل بوئی تھی وہ فصل اب جھاڑ جھنکار بن کر ہماری گلیوں‘ ہمارے محلوں اور ہمارے شہر
پھیل چکی ہے‘ ہم میں سے اب ہر شخص (نعوذ باللہ ‘ نعوذ باللہ) خدا بن چکا ہے اور یہ جھوٹا خدا جہاں چاہتا ہے اور جس وقت چاہتا ہے یہ میدان حشر سجا کر بیٹھ جاتا ہے اور کسی کو اس کا ہاتھ روکنے کی ہمت نہیں ہوتی‘ ہم سب (نعوذ باللہ) مفتی بھی ہیں‘ ولی بھی ہیں اور امام بھی ہیں اور ہم بعض اوقات پورا اسلام بھی ہو جاتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ گناہ گاروں کا حساب کائنات کے خاتمے کے بعد حشر کے دن کرے گا لیکن ہم یہ حساب روز لیتے ہیں ‘ہم گناہ گاروں کو باقاعدہ سزا بھی دیتے ہیں اور ریاست دور بیٹھ کر ہماری خدائی کا تماشہ دیکھتی رہتی ہے‘ ہمارے ملک میں 1990ء سے لے کر 2017ء تک 65 لوگ مردان یونیورسٹی کے طالب علم مشال کی طرح ہجوم کے ہاتھوں مارے گئے‘ ان تمام لوگوں پر توہین مذہب‘ توہین اسلام اور توہین رسالت کا الزام تھا‘ یہ الزام بھی لوگوں نے لگایا تھا‘ الزام کے مدعی بھی لوگ تھے‘ پولیس بھی لوگ تھے‘ عدالت بھی لوگ بنے اور آخر میں جلاد بھی لوگ بن گئے اور ریاست آج تک ان 65 لوگوں کے کسی جج‘ کسی مفتی اور کسی جلاد کو سزا نہیں دے سکی‘ ریاست نے آج تک اللہ اور رسول کے نام پر قتل کرنے والے کسی شخص کا حساب نہیں کیا اور یہ ہیں ہم اور یہ ہے ہماری ریاست۔ میں مشال کی ہرگز ہرگز وکالت نہیں کرتا‘ میں یہ مان لیتا ہوں وہ گناہ گار تھا‘ وہ گستاخ تھا اور وہ شعائر اسلام کا مذاق بھی اڑاتا تھا لیکن کیا اس کے بعد ہجوم کو ایک شخص کو کمرے سے نکال کر سرعام قتل کرنے اور لاش کی بے حرمتی کی اجازت مل جاتی ہے؟ اگر ہاں تو پھر ہم یہ سلوک صرف گستاخ کے ساتھ کیوں کرتے ہیں‘ اسلام میں کافر اور مرتد کی سزا بھی یہی ہے اور آپ اگر سر پر ٹوپی رکھ کر سامنے دیکھیں تو آپ کو آدھا ملک کافر نظر آئے گا اور آپ اگر پگڑی باندھ کر ٹوپی والوں کو دیکھیں تو آپ کو وہ بھی دائرہ اسلام سے باہر نظر آئیں گے اور جو چند لاکھ لوگ کافر ہونے سے بچ جائیں گے وہ غدار نکل آئیں گے چنانچہ پھر ہم ہاتھ میں تلوار لے کر پورے ملک کو ذبح کیوں نہیں کر دیتے‘ ہم پورے ملک کو مشال کیوں نہیں بنا دیتے تاکہ سارے کافر‘ سارے مرتد اور سارے غدار ایک ہی بار ختم ہو جائیں‘ ہم اگر مردان یونیورسٹی کے دو تین ہزار طالب علموں کے ردعمل کو مذہبی غیرت سمجھتے ہیں تو پھر ہمیں داعش‘ القاعدہ اور طالبان کو بھی قبول کر لینا چاہیے‘ یہ لوگ بھی یہی کر رہے ہیں‘ یہ بھی دوسروں کو گستاخ‘ کافر اور غدار سمجھ کر ان کے گلے کاٹ رہے ہیں‘ یہ بھی انہیں سرعام قتل کر رہے ہیں چنانچہ مردان یونیورسٹی کے طالب علموں اور داعش‘ القاعدہ اور طالبان میں کیا فرق ہے؟ شاید وہ لوگ ریاست سے دور پہاڑوں اور جنگلوں میں بیٹھ کر وار کرتے ہیں اور ہم لوگ شہروں میں رہ کر ریاست کی نظروں کے سامنے مشال جیسے نوجوانوں کو عبرت کی نشانی بنا رہے ہیں‘ ہم اگر اس ’’انصاف‘‘ پر خاموش رہتے ہیں تو پھر ہم پانامہ کیس کے فیصلے کیلئے عدالت کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں‘ ہم آگے بڑھ کر خود ہی فیصلہ کیوں نہیں سنا دیتے‘ ہم مشال کی طرح مجرموں کو سڑکوں پر کیوں نہیں گھسیٹ لیتے تاکہ قوم اپنی آنکھوں سے فوری اور مکمل انصاف کا معائنہ کر سکے اور ہم اس انصاف کی ویڈیو بنا کر پوری دنیا کو دکھا سکیں۔ آپ یہ بات پلے باندھ لیں یہ ایک شخص کی موت نہیں‘ یہ پورے سماج‘ یہ پوری ریاست کی موت ہے‘ ہم سب مشال کے ساتھ مر چکے ہیں اور ہجوم نے مرنے کے بعد ہماری لاش کو ننگا بھی کیا اور پتھروں سے ہمارا سر بھی کچل دیا‘ ہم سب ختم ہو گئے ہیں اور ان سب میں ہمارا آئین‘ ہماری پارلیمنٹ‘ ہماری حکومتیں‘ ہماری عدالتیں‘ ہماری پولیس اور ہمارا معاشرہ سب شامل ہیں‘ ہمارے وہ علماء کرام بھی اس میں شامل ہیں جو آج تک قوم کو مذہب کی اصل روح سے متعارف نہیں کرا سکے‘ جو قوم کو یہ نہیں بتا سکے مذہب شریعت سے شروع ہوتا ہے اور عشق رسولؐ پر ختم ہوتا ہے‘ یہ عشق رسولؐ سے شروع ہو کر شریعت پر ختم نہیں ہوتا‘ جو قوم کو یہ نہیں بتا سکے شریعت 80 فیصد حقوق العباد اور 20 فیصد حقوق اللہ ہے‘ ہماری پانچ نمازوں کا کل دورانیہ 40 منٹ بنتا ہے‘ ہم اگر پچاس سال نمازیں پڑھیں تو ہم پوری زندگی میں اوسطاً سات لاکھ 30 ہزار منٹ عبادت کرتے ہیں اور ہماری یہ عبادت اس وقت تک اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتی ہم جب تک ان سات لاکھ 30 ہزار منٹوں کو دو کروڑ 52 لاکھ منٹوں کے حقوق العباد کی سپورٹ نہ دے دیں‘ ہم مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے ہم جب تک مومن نہ ہو جائیں اور ہم مومن اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک ہمارے ہاتھ‘ پاؤں اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ نہ ہوجائیں‘ ہمارے رسولؐ نے پوری زندگی جھوٹ نہیں بولا‘ گالی نہیں دی‘ کسی کو نفرت اور حقارت سے نہیں دیکھا‘ کسی کو زخمی نہیں کیا‘ کسی سے انتقام نہیں لیا‘ کم نہیں تولا‘ ملاوٹ نہیں کی‘ ہمسائے کو تکلیف نہیں دی‘ پوری زندگی آنکھ اٹھا کر سینہ تان کر نہیں چلے‘ منافقوں تک سے نفرت نہیں کی‘ لوگوں کو ہمیشہ معاف کیا‘ وعدے کی پابندی کی‘ معاہدہ نہیں توڑا‘زیادتی نہیں کی‘ ظلم نہیں کیا‘ عورتوں کی عزت کی‘ بچوں سے پیار کیا‘ بزرگوں کا احترام کیا‘ وہ پوری زندگی آہستہ بولے‘ زیادہ سنا‘ کم کہا‘ پوری زندگی کفایت کی‘ خیرات کی اور صدقہ دیا‘ پوری زندگی خرچ کیا‘ امانت داری کی‘ دیانتداری کی اور صداقت رکھی اور کبھی گواہی نہیں چھپائی اور کبھی مصلحت کو اصولوں کے آڑے نہیں آنے دیا چنانچہ ہم جب تک اپنے رسولؐ کے ان اصولوں پر عمل نہیں کرتے ہم اس وقت تک عاشق رسولؐ نہیں ہو سکتے‘ ہم گالی اور گولی کے ساتھ اور اور ہم نفرت‘حقارت اور ظلم کے ساتھ عشق رسولؐ کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں اور ہم حقوق العباد کے بغیر حقوق اللہ کے دعوے دار کیسے ہو سکتے ہیں؟ کاش ہمارے علماء نے ہمیں بتایا ہوتا تم اچھے امتی بن جاؤ‘ تم اچھے مسلمان بن جاؤ گے اور جس دن تم اچھے مسلمان بن جاؤ گے تم اس دن عاشق رسولؐ بھی ہو جاؤ گے‘ کاش یہ لوگ بولے ہوتے‘ کاش انہوں نے معاشرے کو اسلام کی اصل تصویر دکھائی ہوتی تو آج یہ واقعہ پیش نہ آیا ہوتا‘ ہم آج اپنے آپ سے شرمندہ نہ ہوتے۔ یہ ریاست مشال کے ساتھ ہی مر چکی ہے‘ ہم اگر اسے دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ریاست کا قانون‘ ریاست کا انصاف اور ریاست کی رٹ زندہ کرنا ہوگی اور ہم اگر یہ نہیں کر پاتے تو پھر ہمیں خود اپنے منہ سے اس ریاست کو فیل ڈکلیئر کر دینا چاہیے‘ ہمیں خود اپنے ہاتھوں سے اس ملک کا پرچم لپیٹ دینا چاہیے‘ کیوں؟ کیونکہ ریاستیں جب مشال جیسے لوگوں کو نہ بچا سکیں تو پھر ریاستیں ریاستیں نہیں رہتیں‘ یہ جنگل بن جاتی ہیں‘ ایسے جنگل جن میں بڑے ریوڑوں کو چھوٹے ریوڑوں کو نگلنے کیلئے کسی قانون‘ کسی قاعدے کی ضرورت نہیں ہوتی‘ جن میں تعداد‘ پنجے اور دانت قانون ہوتے ہیں جن کے دانت لمبے اور پنجے مضبوط ہوں گے اور جن کی تعداد زیادہ ہو گی‘ وہ جنگل کے مالک ہوں گے‘ باقی سب جانور ان کی انا کی تسکین ہوں گے یا پھر ان کا بریکٹ فاسٹ‘ لنچ اور ڈنر ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

0

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔