پتھروں کے دیس میں

  اتوار‬‮ 9 اپریل‬‮ 2017  |  0:01

دیوتاؤں کے دیوتا زیوس نے دنیا کی ساری مصیبتیں ایک مرتبان میں جمع کیں اور یہ مرتبان دیوتا پرومیتھیس کے حوالے کر دیا‘ زیوس نے دیوتا پرومیتھیس کو حکم دیا خبردار یہ مرتبان کسی قیمت پر نہیں کھلنا چاہیے‘ یہ اگر کھل گیا تو پوری دنیا مصیبتوں کا گھر بن جائے گی‘ پرومیتھیس نے مرتبان لیا اور وہ مرتبان پینڈورا کے حوالے کر دیا‘ پینڈورا دنیا کی پہلی خاتون تھی‘

وہ خاتون دیوتاؤں کی محبوب ہستی تھی‘ ایتھنا نے اسے کپڑے پہننے کا گر سکھایا تھا‘ اپھاروڈائیٹ (Apharodite) نے اسے خوبصورتی دی تھی‘ا پالو نے اسے موسیقی کا فن ودیعت کیا تھا اور ہرمس نے اسے بولنے کی صلاحیت عنایت کی تھی یوں پینڈورا ہر لحاظ سے ایک مکمل عورت تھی‘ پرومیتھیس نے پینڈورا کو حکم دیا ”آپ کسی قیمت پر یہ مرتبان نہیں کھولو گی“ پینڈورا نے وعدہ کر لیا لیکن وہ ایک متجسس روح تھی‘ وہ ایک دن اپنی فطرت سے مجبور ہوگئی اور اس نے مرتبان یا باکس کا تالہ کھول دیا‘ باکس میں دنیا بھر کے مسائل‘ وبائیں اور مصیبتیں بند تھیں‘ وہ سب آناً فاناً باہر نکل گئیں‘ پینڈورا نے گھبرا کر باکس بند کر دیا اور رونا شروع کر دیا‘ پرومیتھیس واپس آیا تو پینڈورا اس سے رو رو کر معافی مانگنے لگی‘ وہ دونوں باکس کے قریب کھڑے تھے‘ باکس کے اندر سے انہیں ”کھولو کھولو‘ مجھے بھی نکالو“ کی آوازیں آنے لگیں‘ پرومیتھیس نے پینڈورا کو باکس کھولنے کا حکم دیا لیکن پینڈورا نے گھبرا کر انکار کر دیا‘ پرومیتھیس نے اسے بتایا‘ باکس سے ساری مصیبتیں باہر آ چکی ہیں‘ باکس میں اب صرف ہوپ (امید) بند ہے‘ تم اسے بھی رہائی دے دو‘ یہ اب مصیبت زدہ لوگوں کا واحد سہارا ہے‘ پینڈورا نے دوبارہ باکس کھول دیا‘ صندوق سے چھوٹی سی مکھی اڑ کر باہر آ گئی‘ وہ مکھی ہوپ (امید) تھی‘ امید بھی پینڈورا کے اسی صندوق میں بند تھی جس سے ہزاروں مصیبتوں نے جنم لیاتھا۔

امید ہزاروں سال تک سینکڑوں ہزاروں مصوروں اور مجسمہ سازوں کا موضوع رہی‘ دنیا جہاں کے آرٹس نے امید کو پینٹ کیا لیکن برطانوی مصور جارج فریڈرک واٹس نے کمال کر دیا‘ جارج فریڈرک واٹس نے 1886میں ہوپ کے نام سے ایک شاندار پینٹنگ بنائی‘ واٹس کی پیٹنگ میں ایک نوجوان لڑکی کرہ ارض پر بیٹھی ہے‘یہ لڑکی امید ہے‘ امید کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں‘ وہ انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ہے‘ اس کے ہاتھ میں

بربط ہے‘

بربط کے سارے تار ٹوٹ چکے ہیں لیکن وہ اس حالت میں بھی ایک تار کا بربط بجا رہی ہے اور اس ایک تار کے نغمے آسمان کی طرف پرواز کر رہے ہیں‘ جارج فریڈرک واٹس کی اس تصویر نے دکھوں کی شکار دنیا کو پیغام دیا ”امید کبھی مایوس نہیں ہوتی‘ اس کے سارے کپڑے پھٹ جائیں‘ اس کے پاؤں میں چھالے پڑ جائیں اور خواہ اس کے بربط کے تمام تار ٹوٹ جائیں لیکن یہ اس کے باوجود خوشی اور شکر کا نغمہ گاتی رہتی ہے‘

یہ میدان میں ڈٹی رہتی ہے“ جارج واٹس کی اس تصویر نے پوری دنیا کو متاثر کیا‘ ماہرین فن نے بہت جلد اسے شاہکار کا درجہ دے دیا‘ یہ شاہکار اتنا طاقتور تھا کہ پکاسو جیسا فن کار بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا‘ پکاسو نے 1903ء میں جارج واٹس کی امید کے پیٹرن پر ”دی اولڈ گٹارسٹ“ بنائی لیکن یہ پینٹنگ ”امید“ کے مقابلے میں دس فیصد پذیرائی بھی حاصل نہ کر سکی‘ جارج واٹس کی ”امید“ کو دوسری جنگ عظیم میں کرشماتی مقبولیت حاصل ہوئی‘

جنگ کے آخر میں پورے یورپ میں کروڑوں لاشیں پڑی تھیں‘ شہر کے شہر ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے‘ لوگ گھروں سے نکلتے تھے تو انہیں راستوں میں ہزاروں معذور ملتے تھے اور وہ معذور روٹی کے ایک نوالے کیلئے دوسروں کے پاؤں چاٹنے کیلئے تیار ہو جاتے تھے‘ چرچل نے اس نازک وقت میں قوم کو ڈپریشن سے نکالنے کیلئے کیلئے ”امید“ کا سہارا لیا‘ حکومت نے جارج واٹس کی پینٹنگ نکالی اور یہ تصویر لندن کی آرٹ گیلری میں لگا دی‘

لوگ آتے‘ امید کو بربط بجاتے دیکھتے اور ان کی امید کی خشک ٹہنیوں پر کونپلیں پھوٹ پڑتیں‘ وہ مایوسی سے باہر آ جاتے ہیں‘ جارج واٹس کی ”امید“ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اہل برطانیہ کو مایوسی سے نکالنے میں بہت اہم کردار ادا کیا‘ یہ تصویر بعد ازاں امریکا میں بھی بہت مقبول ہوئی۔

ہم یہ داستان یہاں روکتے ہیں اور ایک دوسری داستان کی طرف آتے ہیں۔

یہ 1990ء کا کوئی اتوار تھا‘ شکاگو کے ٹرینٹی یونائیٹڈ چرچ میں اتوار کی سروس ہو رہی تھی‘ پادری جرمیاہ رائٹ نے قربان گاہ کے سامنے جارج واٹس کی ”امید“ کی ایک کاپی لگائی اور حاضرین کو وہ پینٹنگ دکھا کر کہا ”یہ دیکھئے یہ لڑکی حلئے سے ہیروشیما کی تباہ حال بچی دکھائی دیتی ہے لیکن اس نے اس کے باوجود کس بے باکی کے ساتھ بربط اٹھا رکھا ہے‘ بربط کا صرف ایک تار سلامت ہے‘ یہ تار بھی کسی وقت ٹوٹ جائے گا لیکن یہ اس کے باوجود اسے بجانے سے باز نہیں آ رہی ہے‘

یہ پرامید لڑکی امید ہے‘ یہ امید بد سے بدتر حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتی‘ کاش ہم مایوس لوگ اس تصویر کو اپنا مقصد حیات بنا لیں‘ ہم اس لڑکی کی طرح مایوسی کے آخری کنارے پر کھڑے ہو کر بھی بربط کا ایک تار بجاتے رہیں‘کاش ہم تبدیلی کی امید کو ہاتھ سے نہ جانے دیں“ پادری نے آخر میں کہا ”یہ تصویر ”Aduacity of Hope“ (امید کی بے باکی) ہے‘ آئیے ہم بھی امید کے معاملے میں اتنے ہی بے باک ہو جائیں“ چرچ کے ہال میں اس وقت ایک سیاہ فام پروفیسر بیٹھا تھا‘

وہ پروفیسر ایک کنفیوزڈ شخص تھا‘ وہ زندگی کو انڈرسٹینڈ نہیں کر پا رہا تھا‘ جارج واٹس کی تصویر اور فادر رائٹ کی گفتگو اس پروفیسر کے دل میں ترازو ہو گئی اور اس نے چرچ کے سخت بینچ پر بیٹھے بیٹھے دنیا کی تاریخ بدلنے کا فیصلہ کر لیا‘ امریکا کی دو سو سال کی تاریخ میں کوئی سیاہ فام شخص صدارت کے عہدے تک نہیں پہنچا تھا‘ امریکی کسی کالے کو وائیٹ ہاؤس میں برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں تھے‘ اس سیاہ فام پروفیسر نے چرچ میں بیٹھے بیٹھے امریکا کا پہلا کالا صدر بننے کا فیصلہ کر لیا‘

وہ اٹھا اور سیدھا سیاست میں داخل ہو گیا‘ وہ چلتا چلا گیا‘ وہ آگے بڑھتا چلا گیا‘ راستے میں جہاں کوئی رکاوٹ آتی‘ اس نے جارج واٹس کی ”امید“ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے آپ سے کہا ”نیگرو ابھی تو بربط کے سارے تار باقی ہیں اور تم مایوس ہو گئے“ یہ فقرہ اسے توانائی دیتا‘ وہ اٹھ کر بیٹھ جاتا‘ مایوسی کی گرد جھاڑتا اور آگے چل پڑتا‘ وہ چلتا رہا‘ چلتا رہا یہاں تک کہ وہ 20 جنوری 2009ء کو امریکا کا پہلا کالا صدر بن گیا‘

اس نے واقعی دنیا کی تاریخ بدل دی‘جی ہاں آپ درست سوچ رہے ہیں‘ وہ سیاہ فام پروفیسر امریکی صدر باراک حسین اوبامہ تھا‘ وہ اوبامہ جس نے اپنی سیاہ رنگت اور غربت کے باوجود دو بار امریکا کا صدر بن کر دنیا کو حیران کر دیا‘ آپ اگر صدر اوبامہ کی پوری زندگی کا تجزیہ کریں تو آپ کو اس میں دو چیزیں ملیں گی‘ وہ دو چیزیں امید اور تبدیلی ہیں۔ یہ پوری زندگی امید کے ذریعے تاریخ کے دھارے کو تبدیل کرتے رہے‘ تبدیلی اور امید یہ دونوں الیکشن میں ان کے نعرے بھی تھے‘

یہ جب بھی مایوس ہوتے تھے‘ یہ اپنے آپ سے پوچھتے تھے ”نیگرو کیا تمہارے اندر اب بھی امید باقی ہے“ جواب ہمیشہ ہاں میں آتا تھا چنانچہ یہ مایوسی کو جھٹک کر آگے چل پڑتے تھے اور یہ جب بھی کوئی کام شروع کرتے تھے تو یہ اپنے آپ سے پوچھتے تھے کیا یہ کام لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لائے گا“ جواب اگر ہاں ہوتا تھا تو یہ ”لیٹس سٹارٹ اٹ“ کا نعرہ لگا کر وہ کام شروع کر دیتے تھے اور اگر جواب ناں آتا تھا تو یہ وہ کام کرنے سے انکار کر دیتے تھے‘

یہ ہمیشہ جارج واٹس کی تصویر ”امید“ کو اپنی اس کایا کلپ کا کریڈٹ دیتے رہے‘ آپ صدر اوبامہ کی بائیو گرافی بھی دیکھ لیجئے‘ اس کا نام ”The Audacity Of Hope“ ہے‘ یہ نام جارج واٹس کی امید اور فادر رائٹ کی معرکۃ الآراء تقریر کا حوالہ ہے۔ ہم یہ داستان بھی یہاں روکتے ہیں اور ایک تیسری داستان کی طرف آتے ہیں۔

میں نے چند دن قبل سوشل میڈیا پر ایک تصویر دیکھی‘ یہ تصویر 4 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں بنائی گئی تھی‘تصویر میں بھٹو کے جیالے وحشیوں کی طرح کھانے پر ٹوٹ رہے تھے‘ یہ اس نوعیت کی پہلی تصویر نہیں‘ آپ کو پاکستان مسلم لیگ ن سے لے کر پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف سے جماعت اسلامی کی تقریبات تک آپ کو ہر تقریب میں عوام کھانے پر ٹوٹتے نظر آئیں گے‘یہ کیا ہے؟

یہ تصویریں ہماری غربت کا خوفناک ثبوت ہیں‘ یہ ثابت کرتی ہیں ہم ابھی تک لوگوں کی کھانے کی ضرورت پوری نہیں کر سکے‘ ہمارے عوام آج بھی معدے کی آخری تہہ تک بھوکے ہیں اور یہ لوٹ کر بھی کھانا کھا جاتے ہیں‘ میں یہ تصویریں دیکھ کر حیران ہوتا ہوں اور اکثر سوچتا ہوں جارج واٹس کی ایک فرضی تصویر نے سیاہ فارم باراک اوبامہ کو دنیا کی تاریخ بدلنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن ہمارے لیڈر کس قدر سنگ دل ہیں‘ یہ روز غربت کی ہزاروں اصلی تصویریں دیکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے ضمیر پر جوں تک نہیں رینگتی‘

یہ اس کے باوجود خوف خدامحسوس نہیں کرتے‘ یہ اس کے باوجود لوگوں کی حالت بدلنے کا ارادہ نہیں کرتے‘ کیوں؟ شاید یہ لوگ اندر سے پتھر ہو چکے ہیں‘ ایک ایسا پتھر جس پر تصویریں خواہ کتنی ہی اصل کیوں نہ ہوں یہ اثر نہیں کرتیں‘ شاید ہم پر انسانوں کی بجائے پتھر حکمران ہیں اور شاید ہم ان پتھر دل حکمرانوں کو ڈیزرو بھی کرتے ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ ہم سب بھی پتھر ہیں اور پتھروں کے دیس میں ہیرے حکمران نہیں ہوتے‘ ٹاٹ کے پردوں میں ہمیشہ ٹاٹ کے پیوند لگتے ہیں اور لوہے کو ہمیشہ لوہے سے جوڑا جاتا ہے لہٰذا جیسے ہم ہیں ہمارے لیڈر بھی ویسے ہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں