Javed

یوگوسلاویہ

  جمعہ‬‮ 7 اپریل‬‮ 2017  |  0:01
صبح کا وقت تھا‘ سات بج کر 30منٹ ہوئے تھے‘ پرائیویٹ وین لاہور کی بیدیاں روڈ پر آئی‘ محفوظ پورہ کے سی این جی سٹیشن پر رکی‘ گیس بھروائی اور دس منٹ تک سٹیشن پر رکی رہی‘ وین روانہ ہوئی تو ایک مشکوک موٹر سائیکل نے پیچھا شروع کر دیا‘ موٹر سائیکل پر دو نوجوان سوار تھے‘ ڈرائیور نے گاڑی روکی اور گاڑی کا کوئی پرزہ لینے کےلئے سپیئر پارٹس کی دکان میں چلا گیا‘ موٹر سائیکل سے پچھلا نوجوان اترا اور گاڑی کی طرف چل پڑا‘ موٹر سائیکل سوار وہاں سے غائب ہو گیا‘ نوجوان آہستہ آہستہ چلتا ہوا گاڑی کے پاس پہنچا‘ خوف ناک دھماکہ ہوا اور فضا دھوئیں‘ بارود اور خون کی بو سے آلودہ ہو گئی‘لوگ چند لمحوں کےلئے بہرے ہو گئے‘ فضا چھٹی تو وہاں لاشوں کے چیتھڑے‘زخمیوں کی ہاہاکار اور شیشوں کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے ۔یہ واقعہ 5 اپریل 2017ءکی صبح پیش آیا‘ وین میں 18 لوگ سوار تھے جن میں پاک فوج کے جوان اوراساتذہ شامل تھے‘ یہ لوگ مردم شماری کی ڈیوٹی کےلئے جا رہے تھے اور بیدیاں روڈ پر خودکش حملہ آور کا نشانہ بن گئے‘ حملے میں پاک فوج کے پانچ جوان اور دو سویلین شہری شہید اور 18 لوگ زخمی ہو گئے‘ چار گاڑیوں کو آگ لگ گئی اور چھ عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا‘ پنجاب حکومت کو حملہ آور کی اطلاع تھی‘ خفیہ اداروں نے دو ہفتے قبل اطلاع دے دی تھی‘ عرفان نام کا ایک نوجوان کرولا گاڑی پر لاہور میں داخل ہو چکا ہے‘ یہ مردم شماری کی ٹیموں کو نشانہ بنائے گا‘ عرفان کی تصویریں بھی ریلیز کر دی گئی تھیں لیکن قبل از وقت وارننگ کے باوجود یہ واردات بھی ہوئی اور سات لوگ بھی شہید ہوئے‘ کیوں؟ ہم سردست یہ سوال سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں اور ایک بڑی تصویر پر غور کرتے ہیں۔ دنیا کے زیادہ تر ملک مختلف نسلوں‘ قبیلوں‘ زبانوں‘ ثقافتوں اور عقیدوں کا مجموعہ ہوتے ہیں‘ یہ گروپ اکائیاں کہلاتی ہیں اور یہ تمام اکائیاں مل کر ایک قوم یا ایک ملک بنتی ہیں‘ آپ امریکا کی مثال لے لیجئے‘ امریکا 50 ریاستوں کا مجموعہ ہے‘یہ 50 مختلف ریاستیں مل کر ایک امریکا بنتی ہیں‘ برطانیہ 1921ءتک چار اکائیوں کا مجموعہ تھا‘ آئر لینڈ 1921ءمیں الگ ہو گیا‘ برطانیہ اب ویلز‘ سکاٹ لینڈ اور برٹش تین بڑی اکائیوں کا ملک ہے‘ چین میں اس وقت 56 نسلی اور ثقافتی گروپ ہیں‘ یہ تمام گروپ مل کر چین بنتے

(کالم جاری ہے)

36ریاستیں ہیں‘ یہ ساری ریاستیں مل کر بھارت بنتی ہیں اور پاکستان چار صوبوں‘ ایک آزاد کشمیر اور ایک گلگت بلتستان کا مجموعہ ہے‘ یہ چھ علاقے مل کر پاکستان کہلاتے ہیں‘ ان چھ علاقوں کی زبانیں‘ ثقافتیں اور روایات ایک دوسرے سے یکساں مختلف ہیں‘ یہ تقسیم پوری دنیا میں موجود ہے‘ سوال یہ ہے ملک اس تقسیم اور اس فرق کے ساتھ ایک ملک کیسے بنتے ہیں؟ یہ فیصلہ سات ادارے کرتے ہیں‘ یہ ادارے مختلف اکائیوں کو آپس میں جوڑتے ہیں‘ پہلا ادارہ سٹیٹ بینک ہوتا ہے‘ سٹیٹ بینک پورے ملک کےلئے ایک کرنسی بھی جاری کرتا ہے اور ملکی معیشت کے توازن پر بھی نظر رکھتا ہے‘دوسرا ادارہ زبان ہوتی ہے‘ ایک زبان پورے ملک کو ایک بناتی ہے‘ تیسرا ادارہ مواصلات کا محکمہ ہوتا ہے‘ملک کو ریلوے‘ سول ایوی ایشن اور نیشنل ہائی وے ایک بناتی ہے‘ چوتھا ادارہ پرائمری تعلیم کا قومی سلیبس ہوتا ہے‘یکساں نظام تعلیم اور یکساں سلیبس ملک کو ایک بناتا ہے‘ پانچواں ادارہ نیشنل میڈیا ہوتا ہے‘ یہ میڈیا پوری قوم کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھتا ہے ‘ چھٹا ادارہ ایف بی آر ہوتا ہے‘ یہ قومی سطح پر ٹیکس جمع کرتا ہے اور ساتواں اور آخری ادارہ فوج ہوتی ہے‘فوج ملک کا استحکام بھی ہوتی ہے اور سب سے بڑی بائینڈنگ فورس بھی‘ ملک میں جب تک فوج امریکن آرمی‘ برٹش آرمی‘انڈین آرمی اور پاکستانی آرمی رہتی ہے‘ ملک اس وقت تک ایک رہتا ہے‘ یہ جس دن سوویت آرمی سے رشین آرمی‘ پولش آرمی اور ازبک آرمی بن جاتی ہے اس دن ملک ٹوٹ جاتا ہے‘ ہماری تاریخ میں بھی 1971ءمیں یہی ہوا تھا‘ بھارت نے پاک فوج کے مقابلے میں بنگلہ آرمی (مکتی باہنی) بنا دی تھی‘ لاکھوں بنگالی نوجوان اس بنگلہ فوج میں شامل ہو گئے تھے اور یوں ملک ٹوٹ گیا تھا‘ہم اب پاکستان کے ان سات اداروں کا تجزیہ کرتے ہیں‘ کیا ہمارا سٹیٹ بینک مضبوط ہے‘ جی نہیں‘یہ اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ یہ ہنڈی کا کاروبار بھی نہیں روک پاتا‘ ڈالر کب اوپر چلا جاتا ہے اور کب نیچے آ جاتا ہے سٹیٹ بینک نہیں جانتا‘ وفاقی اور صوبائی حکومتیں برسوں پہلے سٹیٹ بینک کی رٹ سے نکل چکی ہیں‘ یہ قرضے تک لینے سے پہلے سٹیٹ بینک سے نہیں پوچھتیں‘ دوسرا‘ کیا اردو واقعی ہماری قومی زبان ہے؟ جی نہیں‘ یہ بدقسمتی سے نوکروں کی زبان بن چکی ہے‘ ہمارا سارا دفتری نظام انگریزی میں ہے‘

(کالم جاری ہے)

ہمارا چیف جسٹس تک انگریزی میں حلف اٹھاتا ہے‘ ملک میں 26 زبانیں رائج ہیں اور ایک زبان بولنے والا دوسرے کی زبان نہیں سمجھتا‘ہم 70 برسوں میں قومی زبان کو صوبائی دھاروں میں بھی شامل نہیں کر سکے‘ تیسرا‘ کیا مواصلات کے محکموں میں جان ہے؟ جی نہیں‘ ان اداروں کی قبروں پر دو دو گز لمبی گھاس اگ چکی ہے‘ پی آئی اے آخری سانسیں لے رہا ہے‘ ریلوے گالی بن چکا ہے اورنیشنل ہائی وے اتھارٹی کی اتھارٹی کو ختم ہوئے دہائیاں گزر چکی ہیں‘ چوتھا کیا ہمارا پرائمری سلیبس ایک ہے؟ جی نہیں ملک میں تعلیم کے چار نظام چل ہیں اور یہ چاروں ایک دوسرے سے متصادم ہیں‘ رہی سہی کسر 18ویں ترمیم نے پوری کر دی‘تعلیم صوبوں میں منتقل ہو گئی اور ہر صوبے نے اپنا الگ سلیبس بنا لیا‘ بات ختم۔ پانچ‘ کیا میڈیا قومی ہے؟ توبہ توبہ‘ ریڈیو پاکستان اورپی ٹی وی قبرستان بن چکے ہیں جبکہ پرائیویٹ میڈیا خوفناک حد تک کمرشل ہے‘ یہ اشتہارات تک بھارتی چلاتا ہے‘ چھ‘ کیا ایف بی آر میں جان ہے؟ جی نہیں ملک میں 20 کروڑ لوگ ہیں لیکن ٹیکس صرف دس لاکھ لوگ دیتے ہیں‘ ایف بی آر کو پانامہ لیکس کے بعد بھی ملک کے بااثر لوگوں کو نوٹس جاری کرنے کی ہمت نہیں ہوئی‘ یہ آج تک اپنے ملازمین کے اثاثوں کی پڑتال نہیں کر سکا اور آخر میں فوج آتی ہے۔فوج ہمارا آخری قومی ادارہ بچا ہے‘ یہ ہمارا ”لاسٹ ڈیفنس“ ہے لیکن ہم اس ڈیفنس کو بھی اپنے ہاتھوں سے تباہ کر رہے ہیں‘ ہم اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کر رہے ہیں جو اپنے باقی چھ اداروں کے ساتھ کیا‘ فوج نے چار مارشل لاﺅں‘ 1971ءکی جنگ ‘کارگل وار اور دو مئی کے آپریشن کی وجہ سے خوفناک نقصان اٹھایا‘ باقی کسر ہم اب پوری کر رہے ہیں‘ ہم فوج کو ہر اس جگہ گھسا رہے ہیں جہاں یہ بدنام بھی ہو سکتی ہے‘ کنٹرورشل بھی ہو سکتی ہے اور ناکام بھی ہو سکتی ہے‘ آپ ملک میں اس وقت فوج کی تعیناتی دیکھ لیجئے‘لائین آف کنٹرول پر فوج‘ ورکنگ باﺅنڈری پر فوج‘ پنجاب سے کچھ تک فوج‘سیاچن پر فوج‘ گلگت اور بلتستان میں فوج‘ فاٹا میں فوج‘ افغان سرحد پر فوج‘ ایرانی سرحدوں پر فوج‘ بلوچستان میں فوج‘ کراچی میں فوج‘ کے پی کے میں فوج اور اب پنجاب میں بھی فوج‘ یہ مستقل تعیناتیاں ہیں‘ آپ عارضی تعیناتیاں بھی دیکھیں‘ بارشوں میں فوج‘ زلزلوں میں فوج‘ آتشزدگی میں فوج‘ روڈ ایکسیڈنٹ میں فوج‘ دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد بھی فوج‘ الیکشن میں فوج‘ مردم شماری میں فوج‘ پولیومہم کے دوران فوج‘ کرکٹ میچ کے دوران فوج‘ پارلیمنٹ ہاﺅس‘ وزیراعظم ہاﺅس اور ایوان صدر کی سیکورٹی پر فوج‘ملک کے تمام ائیر پورٹس پر فوج‘ عیدوں اور عاشوروں پر فوج اور ملک کے تمام وی وی آی پیز کے ساتھ فوج‘ آپ نے کبھی سوچا فوج کے اس ”اوور ایکسپوژر“ کا کیا نتیجہ نکل رہا ہے؟ ہم جب شہروں کے اندر سے فوجیوں کی لاشیں اٹھائیں گے تو دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟ اور ہم جب فوج کو عام حالات میں اتنا تھکا دیں گے تو یہ جنگوں میں کیا کرے گی‘ہم نے کبھی سوچا؟ ہم شہادتوں پر نازاں ہیں‘ ہم فخر کرتے ہیں‘ ہمیں فخر کرنا بھی چاہیے‘ یہ لوگ ملک کےلئے جان دے رہے ہیں‘ ہم ان کے احسان مند ہیں لیکن کیا دنیا بھی ہماری بہادری کو بہادری اور ہماری قربانی کو قربانی سمجھتی ہے؟ جی نہیں‘یہ اسے ہماری نااہلی گردان رہی ہے‘ ہم نے دس برسوں میں پوری دنیا میں سب سے زیادہ افسروں اور جوانوں کی لاشیں اٹھائیں‘ یہ لاشیں ہماری ٹریننگ اور ہماری اہلیت پر سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہیں چنانچہ آپ فوج کو بچائیں‘ اسے شہروں میں خراب نہ کریں‘ اس سے سول ڈیوٹی نہ لیں‘ ہمارے باقی چھ ڈیفنس ختم ہو چکے ہیں‘ یہ آخری دفاع بچا ہے‘ آپ اسے بچائیں کیونکہ جس دن اس دفاع کی مٹھی ڈھیلی پڑ گئی یہ ملک چھ حصوں میں تقسیم ہو جائے گا‘ ہم یوگوسلاویہ کی طرح بکھر جائیں گے ‘ ہمارے بیرونی اور اندرونی دشمن ہمیں تیزی سے اس طرف دھکیل رہے ہیں‘ خدا کےلئے آنکھیں کھولیں۔نوٹ: میرے 21 مارچ کے کالم ”بیورو کریسی کیوں محروم ہے“ پر دو سینئر افسروں کا رد عمل آیا‘ پولیس آفیسر اقبال دارا کا کہنا ہے یہ اسلحہ سکینڈل میں ہرگز ملوث نہیں تھے‘ یہ سکینڈل کے پی کے کا تھا اور یہ کبھی کے پی کے پولیس کا حصہ نہیں رہے‘ یہ درست فرما رہے ہیں جبکہ 20 گریڈ کی محترمہ عشرت مسعود نے اپنے وکیل کے ذریعے رابطہ کیا‘ ان کا دعویٰ ہے ان کی پروموشن پہلے ہوئی تھی اور معطلی کا آرڈر بعد میں آیا تھا‘ میں اس وضاحت پر دونوں کا شکر گزار بھی ہوں اور غلطی پر شرمندہ بھی۔ قارئین نوٹ فرما لیں۔

صبح کا وقت تھا‘ سات بج کر 30منٹ ہوئے تھے‘ پرائیویٹ وین لاہور کی بیدیاں روڈ پر آئی‘ محفوظ پورہ کے سی این جی سٹیشن پر رکی‘ گیس بھروائی اور دس منٹ تک سٹیشن پر رکی رہی‘ وین روانہ ہوئی تو ایک مشکوک موٹر سائیکل نے پیچھا شروع کر دیا‘ موٹر سائیکل پر دو نوجوان سوار تھے‘ ڈرائیور نے گاڑی روکی اور گاڑی کا کوئی پرزہ لینے کےلئے سپیئر پارٹس کی دکان میں چلا گیا‘ موٹر سائیکل سے پچھلا نوجوان اترا اور گاڑی کی طرف چل پڑا‘

موٹر سائیکل سوار وہاں سے غائب ہو گیا‘ نوجوان آہستہ آہستہ چلتا ہوا گاڑی کے پاس پہنچا‘ خوف ناک دھماکہ ہوا اور فضا دھوئیں‘ بارود اور خون کی بو سے آلودہ ہو گئی‘لوگ چند لمحوں کےلئے بہرے ہو گئے‘ فضا چھٹی تو وہاں لاشوں کے چیتھڑے‘زخمیوں کی ہاہاکار اور شیشوں کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے ۔یہ واقعہ 5 اپریل 2017ءکی صبح پیش آیا‘ وین میں 18 لوگ سوار تھے جن میں پاک فوج کے جوان اوراساتذہ شامل تھے‘ یہ لوگ مردم شماری کی ڈیوٹی کےلئے جا رہے تھے اور بیدیاں روڈ پر خودکش حملہ آور کا نشانہ بن گئے‘ حملے میں پاک فوج کے پانچ جوان اور دو سویلین شہری شہید اور 18 لوگ زخمی ہو گئے‘ چار گاڑیوں کو آگ لگ گئی اور چھ عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا‘ پنجاب حکومت کو حملہ آور کی اطلاع تھی‘ خفیہ اداروں نے دو ہفتے قبل اطلاع دے دی تھی‘ عرفان نام کا ایک نوجوان کرولا گاڑی پر لاہور میں داخل ہو چکا ہے‘ یہ مردم شماری کی ٹیموں کو نشانہ بنائے گا‘ عرفان کی تصویریں بھی ریلیز کر دی گئی تھیں لیکن قبل از وقت وارننگ کے باوجود یہ واردات بھی ہوئی اور سات لوگ بھی شہید ہوئے‘ کیوں؟ ہم سردست یہ سوال سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں اور ایک بڑی تصویر پر غور کرتے ہیں۔

دنیا کے زیادہ تر ملک مختلف نسلوں‘ قبیلوں‘ زبانوں‘ ثقافتوں اور عقیدوں کا مجموعہ ہوتے ہیں‘ یہ گروپ اکائیاں کہلاتی ہیں اور یہ تمام اکائیاں مل کر ایک قوم یا ایک ملک بنتی ہیں‘ آپ امریکا کی مثال لے لیجئے‘ امریکا 50 ریاستوں کا مجموعہ ہے‘یہ 50 مختلف ریاستیں مل کر ایک امریکا بنتی ہیں‘ برطانیہ 1921ءتک چار اکائیوں کا مجموعہ تھا‘ آئر لینڈ 1921ءمیں الگ ہو گیا‘ برطانیہ اب ویلز‘ سکاٹ لینڈ اور برٹش تین بڑی اکائیوں کا ملک ہے‘ چین میں اس وقت 56 نسلی اور ثقافتی گروپ ہیں‘ یہ تمام گروپ مل کر چین بنتے ہیں‘

بھارت میں 36ریاستیں ہیں‘ یہ ساری ریاستیں مل کر بھارت بنتی ہیں اور پاکستان چار صوبوں‘ ایک آزاد کشمیر اور ایک گلگت بلتستان کا مجموعہ ہے‘ یہ چھ علاقے مل کر پاکستان کہلاتے ہیں‘ ان چھ علاقوں کی زبانیں‘ ثقافتیں اور روایات ایک دوسرے سے یکساں مختلف ہیں‘ یہ تقسیم پوری دنیا میں موجود ہے‘ سوال یہ ہے ملک اس تقسیم اور اس فرق کے ساتھ ایک ملک کیسے بنتے ہیں؟ یہ فیصلہ سات ادارے کرتے ہیں‘ یہ ادارے مختلف اکائیوں کو آپس میں جوڑتے ہیں‘ پہلا ادارہ سٹیٹ بینک ہوتا ہے‘ سٹیٹ بینک پورے ملک کےلئے ایک کرنسی بھی جاری کرتا ہے اور ملکی معیشت کے توازن پر بھی نظر رکھتا ہے‘

دوسرا ادارہ زبان ہوتی ہے‘ ایک زبان پورے ملک کو ایک بناتی ہے‘ تیسرا ادارہ مواصلات کا محکمہ ہوتا ہے‘ملک کو ریلوے‘ سول ایوی ایشن اور نیشنل ہائی وے ایک بناتی ہے‘ چوتھا ادارہ پرائمری تعلیم کا قومی سلیبس ہوتا ہے‘یکساں نظام تعلیم اور یکساں سلیبس ملک کو ایک بناتا ہے‘ پانچواں ادارہ نیشنل میڈیا ہوتا ہے‘ یہ میڈیا پوری قوم کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھتا ہے ‘ چھٹا ادارہ ایف بی آر ہوتا ہے‘ یہ قومی سطح پر ٹیکس جمع کرتا ہے اور ساتواں اور آخری ادارہ فوج ہوتی ہے‘

فوج ملک کا استحکام بھی ہوتی ہے اور سب سے بڑی بائینڈنگ فورس بھی‘ ملک میں جب تک فوج امریکن آرمی‘ برٹش آرمی‘انڈین آرمی اور پاکستانی آرمی رہتی ہے‘ ملک اس وقت تک ایک رہتا ہے‘ یہ جس دن سوویت آرمی سے رشین آرمی‘ پولش آرمی اور ازبک آرمی بن جاتی ہے اس دن ملک ٹوٹ جاتا ہے‘ ہماری تاریخ میں بھی 1971ءمیں یہی ہوا تھا‘ بھارت نے پاک فوج کے مقابلے میں بنگلہ آرمی (مکتی باہنی) بنا دی تھی‘ لاکھوں بنگالی نوجوان اس بنگلہ فوج میں شامل ہو گئے تھے اور یوں ملک ٹوٹ گیا تھا‘

ہم اب پاکستان کے ان سات اداروں کا تجزیہ کرتے ہیں‘ کیا ہمارا سٹیٹ بینک مضبوط ہے‘ جی نہیں‘یہ اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ یہ ہنڈی کا کاروبار بھی نہیں روک پاتا‘ ڈالر کب اوپر چلا جاتا ہے اور کب نیچے آ جاتا ہے سٹیٹ بینک نہیں جانتا‘ وفاقی اور صوبائی حکومتیں برسوں پہلے سٹیٹ بینک کی رٹ سے نکل چکی ہیں‘ یہ قرضے تک لینے سے پہلے سٹیٹ بینک سے نہیں پوچھتیں‘ دوسرا‘ کیا اردو واقعی ہماری قومی زبان ہے؟ جی نہیں‘ یہ بدقسمتی سے نوکروں کی زبان بن چکی ہے‘ ہمارا سارا دفتری نظام انگریزی میں ہے‘ ہمارا چیف جسٹس تک انگریزی میں حلف اٹھاتا ہے‘ ملک میں 26 زبانیں رائج ہیں اور ایک زبان بولنے والا دوسرے کی زبان نہیں سمجھتا‘

ہم 70 برسوں میں قومی زبان کو صوبائی دھاروں میں بھی شامل نہیں کر سکے‘ تیسرا‘ کیا مواصلات کے محکموں میں جان ہے؟ جی نہیں‘ ان اداروں کی قبروں پر دو دو گز لمبی گھاس اگ چکی ہے‘ پی آئی اے آخری سانسیں لے رہا ہے‘ ریلوے گالی بن چکا ہے اورنیشنل ہائی وے اتھارٹی کی اتھارٹی کو ختم ہوئے دہائیاں گزر چکی ہیں‘ چوتھا کیا ہمارا پرائمری سلیبس ایک ہے؟ جی نہیں ملک میں تعلیم کے چار نظام چل ہیں اور یہ چاروں ایک دوسرے سے متصادم ہیں‘ رہی سہی کسر 18ویں ترمیم نے پوری کر دی‘

تعلیم صوبوں میں منتقل ہو گئی اور ہر صوبے نے اپنا الگ سلیبس بنا لیا‘ بات ختم۔ پانچ‘ کیا میڈیا قومی ہے؟ توبہ توبہ‘ ریڈیو پاکستان اورپی ٹی وی قبرستان بن چکے ہیں جبکہ پرائیویٹ میڈیا خوفناک حد تک کمرشل ہے‘ یہ اشتہارات تک بھارتی چلاتا ہے‘ چھ‘ کیا ایف بی آر میں جان ہے؟ جی نہیں ملک میں 20 کروڑ لوگ ہیں لیکن ٹیکس صرف دس لاکھ لوگ دیتے ہیں‘ ایف بی آر کو پانامہ لیکس کے بعد بھی ملک کے بااثر لوگوں کو نوٹس جاری کرنے کی ہمت نہیں ہوئی‘ یہ آج تک اپنے ملازمین کے اثاثوں کی پڑتال نہیں کر سکا اور آخر میں فوج آتی ہے۔

فوج ہمارا آخری قومی ادارہ بچا ہے‘ یہ ہمارا ”لاسٹ ڈیفنس“ ہے لیکن ہم اس ڈیفنس کو بھی اپنے ہاتھوں سے تباہ کر رہے ہیں‘ ہم اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کر رہے ہیں جو اپنے باقی چھ اداروں کے ساتھ کیا‘ فوج نے چار مارشل لاﺅں‘ 1971ءکی جنگ ‘کارگل وار اور دو مئی کے آپریشن کی وجہ سے خوفناک نقصان اٹھایا‘ باقی کسر ہم اب پوری کر رہے ہیں‘ ہم فوج کو ہر اس جگہ گھسا رہے ہیں جہاں یہ بدنام بھی ہو سکتی ہے‘ کنٹرورشل بھی ہو سکتی ہے اور ناکام بھی ہو سکتی ہے‘ آپ ملک میں اس وقت فوج کی تعیناتی دیکھ لیجئے‘

لائین آف کنٹرول پر فوج‘ ورکنگ باﺅنڈری پر فوج‘ پنجاب سے کچھ تک فوج‘سیاچن پر فوج‘ گلگت اور بلتستان میں فوج‘ فاٹا میں فوج‘ افغان سرحد پر فوج‘ ایرانی سرحدوں پر فوج‘ بلوچستان میں فوج‘ کراچی میں فوج‘ کے پی کے میں فوج اور اب پنجاب میں بھی فوج‘ یہ مستقل تعیناتیاں ہیں‘ آپ عارضی تعیناتیاں بھی دیکھیں‘ بارشوں میں فوج‘ زلزلوں میں فوج‘ آتشزدگی میں فوج‘ روڈ ایکسیڈنٹ میں فوج‘ دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد بھی فوج‘ الیکشن میں فوج‘ مردم شماری میں فوج‘ پولیومہم کے دوران فوج‘ کرکٹ میچ کے دوران فوج‘ پارلیمنٹ ہاﺅس‘ وزیراعظم ہاﺅس اور ایوان صدر کی سیکورٹی پر فوج‘

ملک کے تمام ائیر پورٹس پر فوج‘ عیدوں اور عاشوروں پر فوج اور ملک کے تمام وی وی آی پیز کے ساتھ فوج‘ آپ نے کبھی سوچا فوج کے اس ”اوور ایکسپوژر“ کا کیا نتیجہ نکل رہا ہے؟ ہم جب شہروں کے اندر سے فوجیوں کی لاشیں اٹھائیں گے تو دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟ اور ہم جب فوج کو عام حالات میں اتنا تھکا دیں گے تو یہ جنگوں میں کیا کرے گی‘ہم نے کبھی سوچا؟ ہم شہادتوں پر نازاں ہیں‘ ہم فخر کرتے ہیں‘ ہمیں فخر کرنا بھی چاہیے‘ یہ لوگ ملک کےلئے جان دے رہے ہیں‘ ہم ان کے احسان مند ہیں لیکن کیا دنیا بھی ہماری بہادری کو بہادری اور ہماری قربانی کو قربانی سمجھتی ہے؟ جی نہیں‘

یہ اسے ہماری نااہلی گردان رہی ہے‘ ہم نے دس برسوں میں پوری دنیا میں سب سے زیادہ افسروں اور جوانوں کی لاشیں اٹھائیں‘ یہ لاشیں ہماری ٹریننگ اور ہماری اہلیت پر سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہیں چنانچہ آپ فوج کو بچائیں‘ اسے شہروں میں خراب نہ کریں‘ اس سے سول ڈیوٹی نہ لیں‘ ہمارے باقی چھ ڈیفنس ختم ہو چکے ہیں‘ یہ آخری دفاع بچا ہے‘ آپ اسے بچائیں کیونکہ جس دن اس دفاع کی مٹھی ڈھیلی پڑ گئی یہ ملک چھ حصوں میں تقسیم ہو جائے گا‘ ہم یوگوسلاویہ کی طرح بکھر جائیں گے ‘ ہمارے بیرونی اور اندرونی دشمن ہمیں تیزی سے اس طرف دھکیل رہے ہیں‘ خدا کےلئے آنکھیں کھولیں۔

نوٹ: میرے 21 مارچ کے کالم ”بیورو کریسی کیوں محروم ہے“ پر دو سینئر افسروں کا رد عمل آیا‘ پولیس آفیسر اقبال دارا کا کہنا ہے یہ اسلحہ سکینڈل میں ہرگز ملوث نہیں تھے‘ یہ سکینڈل کے پی کے کا تھا اور یہ کبھی کے پی کے پولیس کا حصہ نہیں رہے‘ یہ درست فرما رہے ہیں جبکہ 20 گریڈ کی محترمہ عشرت مسعود نے اپنے وکیل کے ذریعے رابطہ کیا‘ ان کا دعویٰ ہے ان کی پروموشن پہلے ہوئی تھی اور معطلی کا آرڈر بعد میں آیا تھا‘ میں اس وضاحت پر دونوں کا شکر گزار بھی ہوں اور غلطی پر شرمندہ بھی۔ قارئین نوٹ فرما لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

loading...

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔