ایک بار پھر میمو

  جمعرات‬‮ 16 مارچ‬‮ 2017  |  21:26

آپریشن کی منظوری سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے دی۔جلال آباد کے امریکی ائیر بیس پر چار ہیلی کاپٹر تیار کھڑے تھے‘ دو بلیک ہاک تھے اور دو چنیوک‘ ہیلی کاپٹروں میں 25 کمانڈوز سوار تھے‘ یہ چاروں ہیلی کاپٹر یکم مئی 2011ءرات گیارہ بج کر دس منٹ پر جلال آباد سے اڑے اور دس منٹ میں پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے‘ ہیلی کاپٹروں کی حفاظتکےلئے امریکی طیاروں نے افغان حدود میں پروازیں شروع کر دیں‘ہیلی کاپٹرزدریائے کابل کے اوپر پرواز کرتے ہوئے چکدرہ آئے‘ وہاں سے کالا ڈھاکہ کے گاﺅں کندر حسن زئی پہنچے‘ دو ہیلی کاپٹر وہیں رک گئے اور دو آگے روانہ ہو گئے‘ یہ دونوں ہیلی کاپٹر 12 بج کر 30 منٹ پر بلال کالونی ایبٹ آباد پہنچ گئے‘ کمانڈوز رسیوں کی مدد سے اسامہ بن لادن کے گھر اترے‘ دو حصوں میں تقسیم ہوئے‘ آدھے انیکسی کی طرف چلے گئے اور آدھے لادن کمپاﺅنڈ میں داخل ہو گئے‘ اسامہ بن لادن نے کلاشنکوف اٹھا لی اور الماری سے ہینڈ گرنیڈ نکال لیا‘ کمانڈوز نے گولی چلا دی‘ اسامہ 12 بج کر 39 منٹ پر گولیوں کا نشانہ بن گئے‘ ان کی اہلیہ ایمل زخمی ہو گئی‘ کمانڈوز کے دوسرے دستے نے انیکسی میں اسامہ کے صاحبزادے خالد بن اسامہ‘ مدد گار ابو احمد الکویتی‘ کویتی کے بھائی ابرار اور ان کی اہلیہ بشریٰ کو گولیوں سے اڑا دیا‘ بارہ بج کر 53 منٹ پر اسامہ بن لادن کی موت کی تصدیق ہوئی‘کمانڈوز نے کمپاﺅنڈ میں موجود کمپیوٹرز‘ فائلیں‘ کتابیں‘ ڈائریاں اور سی ڈیز تھیلوں میں بھریں اور واپسی کےلئے تیار ہو گئے‘ ایک بج کر چھ منٹ پر ہیلی کاپٹر واپس آئے‘ ایک ہیلی کاپٹر کی دم گھر کی باﺅنڈری وال سے ٹکرا گئی‘ دھماکہ ہوا اور مقامی آبادی جاگ گئی‘ لوگوں کو پشتو میں بتایا گیا ”آپ پیچھے ہٹ جائیں‘ سپیشل آپریشن ہو رہا ہے‘ آپ کو گولی مار دی جائے گی“ لوگ واپسبھاگ گئے‘ کمانڈوز دوسرے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئے‘متاثرہ ہیلی کاپٹر کو بم سے اڑا دیا گیا‘ ہیلی کاپٹر روانہ ہو گئے‘ دھماکے کی آواز سے پولیس اور فوج کے اہلکار متوجہ ہو گئے‘ یہ لوگ ایک بج کر 15 منٹ پر وہاں پہنچے‘ یہ گھر میں داخل ہوئے‘ زخمی خاتون کو عربی بولتے دیکھا‘ وہاں لاشیں بھی تھیں‘ خاتون سے انکوائری کی‘ پتہ چلا بیڈ روم میں اسامہ یمنی کا خون بکھرا ہوا ہے‘ 2بج کر 7 منٹ

پر لیفٹیننٹ کرنل (نام غالباً عابد تھا) نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فون پر اطلاع دے دی‘ آرمی چیف نے ائیر چیف کو فون کیا‘ ائیر چیف نے ہائی الرٹ جاری کر دیا‘ اس عمل میں 43 منٹ خرچ ہو گئے‘ ہمارے ایف 16 اڑے لیکن امریکی ہیلی کاپٹرز اس دوران کالا ڈھاکہ میں ری فیولنگ کر کے جلال آباد واپس پہنچ چکے تھے‘ آرمی چیف نے رات تین بجے وزیراعظم اور سیکرٹری خارجہ کو اطلاع دے دی‘ صبح پانچ بجے ایڈمرل مائیک مولن نے جنرل کیانی کو فون کیا اور آپریشن کی تصدیق کر دی‘ آرمی چیف نے صبح 6 بج کر 45 منٹ پر صدر آصف علی زرداری کو ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا۔یہ 36 منٹ کا آپریشن پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بن گیا‘ ہمارے نظام کی چار خوفناک خامیاں دنیا کے سامنے آ گئیں‘ وہ خامیاں کیا تھیں؟ پہلی خامی‘ دنیا کا موسٹ وانٹیڈ پرسن آٹھ سال تک پاکستان کے حساس علاقے میں چھپا رہا‘ اس نے اس دوران شادیاں بھی کیں‘ بچے بھی پیدا کئے اور یہ مکمل زندگی بھی گزارتا رہا اور پاکستان کے کسی ادارے کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ‘دوسری خامی‘ امریکی ہیلی کاپٹر افغانستان سے پاکستان آئے‘ کنٹونمنٹ ایریا میں آپریشن کیا اور بحفاظت واپس چلے گئےاور ہمیں علم نہ ہو سکا‘ میرا خدشہ ہے اگر بلال کالونی میں امریکی ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش نہ آتا تو شاید ہمیں مائیک مولن کے فون سے پہلے اس آپریشن کی اطلاع نہ ہوتی‘ تیسری خامی‘ ہم اطلاع کے 43 منٹ بعد تک ایف سولہ طیارے نہیں اڑا سکے اور چوتھی خامی ہمارا سسٹم امریکی ہیلی کاپٹروں کی پرواز کا اندازہ نہیں کر سکا‘وہ آئے‘ آپریشن کیا اور واپس چلے گئے‘ ہمارے حساس اداروں کو محسوس ہوا امریکا کو ہمارے کسی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے کی مدد حاصل تھی‘ یہ آپریشن مقامی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا‘ یہ احساس کیوں پیدا ہوا ؟اس کی بھی کئی وجوہات تھیں‘ مثلاً ایبٹ آباد افغانستان سے دور اور مشکل علاقہ ہے‘ یہاں آپریشن مکمل ریکی کے بغیر ناممکن تھا اور ریکی کی سہولتیں طاقتور لوگوں کی مدد کے بغیر مشکل تھیں‘آپریشن سے قبل ہیلی کاپٹروں کے راستے میں آنے والے اونچے درختوں کی شاخ تراشی اور کٹائی کی گئی‘ یہ کٹائی کس نے کرائی‘ یہ سوال اہم تھا‘ آپریشن کے وقت ایبٹ آباد کی بجلی بند کر دی گئی‘ یہ بجلی کس نے بند کرائی‘ کالا ڈھاکہ میں ہیلی کاپٹروں کےلئے پٹرول کا بندوبست کیا گیا تھا‘یہ بندوبست بھی آسان کام نہیں تھا اور ہیلی کاپٹروں کےلئے محفوظ ترین روٹ کا تعین بھی انسانی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا‘ یہ سوال اہم تھے‘ہمارے اداروں نے ان سوالوں کے جواب تلاش کرنا شروع کئے تو دو نام سامنے آ گئے‘ پہلا شخص شکیل آفریدی تھا‘یہ شخص خیبرایجنسی میں میڈیکل انچارج تھا‘ اس نے اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کےلئے بلال کالونی میں پولیو کی جعلی مہم چلائی‘ جعلی ورکرز لادن کے گھر داخل کرائے‘ خون کا نمونہ لیا اور نمونے نے لادن کی موجودگی کی تصدیق کر دی‘امریکیوں نے بلال کالونی میں لادن کے گھر کے نزدیک کرائے پر گھر بھی لیا‘ یہ وہاں سے لادن کے گھر کی نگرانی کرتے رہے‘ شکیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا‘ آفریدی نے اپنا جرم تسلیم کر لیا‘ دوسرا نام امریکا میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کا تھا‘ حسین حقانی 2002ءسے امریکا میں رہ رہے تھے‘ یہ اس دوران امریکا کے ان اداروں اور تھنک ٹینکس میں کام کرتے رہے جنہیں سی آئی اے فنڈنگ کرتی تھی‘صدر آصف علی زرداری نے امریکی خواہش پر انہیں اپریل 2008ءمیں سفیر بنادیا‘ یہ پاکستان مخالف امریکی بل ”کیری لوگر بل“ کے خالق بھی سمجھے جاتے تھے‘ یہ آصف علی زرداری اور سی آئی اے کے انتہائی قریب تھے‘ یہ ایک طرف صدر سے براہ راست رابطے میں رہتے تھے اور یہ دوسری طرف ڈائریکٹر سی آئی اے لیون پنیٹا کو بھی ڈائریکٹ فون کر لیتے تھے‘ پاکستان کے حساس ادارے ان کے کردار سے مطمئن نہیں تھے‘حسین حقانی کے خلاف خفیہ تحقیقات شروع ہوئیں تو انکشافات پر انکشافات ہوتے چلے گئے‘ امریکا میں پاکستانی سفارت خانے کے ملٹری اتاشی نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا‘ وہ انتہائی پڑھے لکھے اور ایماندار افسر تھے‘ وہ ملٹری اتاشی بننے سے قبل شوکت عزیز اور یوسف رضا گیلانی کے ملٹری سیکرٹری رہے تھے (یہ اس وقت لیفٹیننٹ جنرل ہیں اور یہ ایک اہم کور کی کمانڈ کر رہے ہیں)‘یہ معلومات جمع کرتے رہے اور پاکستان بھجواتے رہے‘ معلومات انتہائی حساس تھیں ‘یہ ای میل یا سفارتی بیگ پر اعتماد نہیں کر سکتے تھے چنانچہ انہوں نے تمام ثبوت ہاتھ سے لکھےاور براہ راست جنرل پاشا اور جنرل کیانی کو پہنچادئیے‘ انکشافات خوفناک تھے اور یہ ثابت کرتے تھے امریکا نے کس طرح پاکستان میں جاسوسی کا نیٹ ورک بنایا‘امریکی جاسوسوں کو کس طرح ویزے جاری کئے گئے‘ یہ لوگ کس طرح حساس آلات پاکستان لاتے رہے‘ خیبر پختونخواہ کی حکومت کے کس کس عہدیدار نے ان کی مدد کی‘ وفاق کا کون کون سا وزیر‘ ایوان صدر کا کون کون سا کارندہ اور وزیراعظم کے سٹاف کا کون کون سا رکن ان لوگوں کے ساتھ ملا ہوا تھا‘ کس مذہبی سیاسی جماعت کے لوگ ان کے رابطے میں تھے اور کس نے کتنی رقم وصول کی اور وہ رقم کس اکاﺅنٹ میں رکھی گئی‘ یہ انکشافات ثابت کرتے تھے اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن سول حکومت کی مرضی اور منشاءکے مطابق ہوا تھا اور حکومت آپریشن میں شامل تھی۔فوج نے یہ تمام معلومات صدر آصف علی زرداری کے سامنے رکھ دیں‘ صدر پریشان ہو گئے اور صدر کو محسوس ہوا فوج کسی بھی وقت انہیں گرفتار کر لے گی‘ یہ خوف حسین حقانی تک پہنچا‘حسین حقانی نے اپنے دوست منصور اعجاز کو اعتماد میں لیا‘ دونوں نے مائیک مولن کےلئے چھوٹا سا مضمون ڈیزائن کیا‘ منصور اعجاز نے یہ مضمون مائیک مولن کو پہنچا دیا‘پیغام میں درج تھا ”فوج دو مئی کے آپریشن کی وجہ سے ناراض ہے‘ یہ سویلین حکومت پر قبضہ کرنا چاہتی ہے‘ آپ جنرل کیانی کو روکیں“ مائیک مولن کو یہ بھی کہا گیا ”پاکستان فوج افغان مسئلے کی ذمہ دار ہے“۔ حسین حقانی‘ منصور اعجاز اور مائیک مولن کے درمیان یہ رابطے بلیک بیری کے ذریعے ہوئے تھے‘ یہ پیغام پاکستان میں بعد ازاں میمو سکینڈل کہلایا‘یہ میمو بھی جنرل کیانی اور جنرل پاشا کے نوٹس میں آگیا‘ پاکستان کے چند محب وطن لوگوں نے منصور اعجاز کو غیرت دلائی‘ یہ ضمیر کے دباﺅ میں آئے اور انہوں نے 10 اکتوبر 2011ءکو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں اپنے مضمون میں ”اعتراف جرم“ کر لیا یوں حقائق سامنے آ گئے‘ صدر آصف علی زرداری کے پاس اب بچاﺅ کا کوئی ذریعہ نہیں تھا‘ زرداری صاحب نے میاں نواز شریف سے مدد مانگ لی‘ یہ مدد فوج کے نوٹس میں آ گئی‘آرمی چیف نے میاں نواز شریف کو سارے حقائق بتا دیئے‘ میاں نواز شریف نے مدد کے بجائے خم ٹھونک کر آصف علی زرداری کے خلاف میدان میں اترنے کا فیصلہ کرلیا‘ حکومت نے شدید دباﺅ میں حسین حقانی کو پاکستان طلب کیا اور 22 نومبر کو ان سے استعفیٰ لے لیا‘میاں نواز شریف 23 نومبر 2011ءکو کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ گئے اور میمو سکینڈل کی تحقیقات کےلئے رٹ دائر کر دی‘ عدالت نے پٹیشن سماعت کےلئے منظور کر لی۔ملکی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن پارٹی کے سربراہ‘ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنے کسی سفیر کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں جواب جمع کرائے‘ سپریم کورٹ نے حسین حقانی کا نام ای سی ایل پر ڈالا اور تحقیقات کےلئے تین رکنی عدالتی کمیشن بنا دیا‘ کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تھے ‘ کمیشن نے 11 جون 2012ءکو رپورٹ پیش کر دی‘ رپورٹ میں میمو کو حقیقت اور اس حقیقت کا خالق حسین حقانی کو قرار دیا گیا‘ کمیشن نے لکھا‘حسین حقانی سفیر کی حیثیت سے پاکستان سے سالانہ 20 لاکھ ڈالر(دو ملین) تنخواہ لیتے تھے لیکن ان کی وفاداریاں امریکا کے ساتھ تھیں‘ حسین حقانی نے پاکستان میں رہنا تک پسند نہیں کیا‘ ملک میں ان کی کوئی جائیداد تھی اور نہ ہی بینک بیلنس‘ یہ ہمیشہ امریکا کو پاکستان پر ترجیح دیتے رہے‘ میمو لکھنے کی وجہ پاکستان کی سویلین حکومت کو امریکا کا دوست ظاہر کرنا تھا اور یہ ثابت کرنا تھا ایٹمی پھیلاﺅ روکنے کا کام صرف سویلین حکومت کر سکتی ہے‘ پاکستانی سفیر نے میمو کے ذریعے امریکا کو پاکستان میں نئی سیکورٹی ٹیم بنانے کی ترغیب بھی دی اوریہ اس ممکنہ سیکورٹی ٹیم کا سربراہ (وزیراعظم) بننا چاہتے تھے چنانچہ کمیشن یہ سمجھتا ہے حسین حقانی نے اس میمو کے ذریعے آئین کی خلاف ورزی کی ‘ آپ یہ رپورٹ جہاں سے بھی پڑھیں آپ کو حسین حقانی امریکی ایجنٹ اور پاکستان کے مخالف دکھائی دیں گے‘ آپ کو محسوس ہو گا امریکا نے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے‘ ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور 2 مئی 2011 کے آپریشن کےلئے پاکستان کے سفیر کو استعمال کیا اور یہ اپنی رضا اور رغبت کے ساتھ استعمال ہوئے اوراگر یہ 2010ءاور 2011ءمیں امریکا کی مدد نہ کرتے‘ یہ ریمنڈ ڈیوس جیسے کانٹریکٹرز اور بلیک واٹر جیسی سیکورٹی ایجنسیوں کو ویزے جاری نہ کرتے‘ یہ اگر امریکی انتظامیہ کو ان لوگوں کے بارے میں بریفنگ نہ دیتے جنہیں پاکستان میں خریدا جا سکتا تھا‘ ترغیب دی جا سکتی تھی یا پھر دبایا جا سکتا تھا تو امریکا کبھی اسامہ بن لادن تک پہنچ پاتا اور نہ ہی یہ 2 مئی جیسا آپریشن کر پاتا چنانچہ یہ حسین حقانی تھے جنہوں نے عہدے‘ پیسے اور تھپکی کے لالچ میں پاکستان سے غداری کی اور اغداری سے صدر آصف علی زرداری‘ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی‘ میاں نواز شریف‘ جنرل کیانی اور جنرل پاشا سمیت ملک کے زیادہ تر مقتدر لوگ واقف تھے‘یہ حقائق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری اور تین رکنی عدالتی کمیشن کے نوٹس میں بھی تھے لیکن حسین حقانی اس کے باوجود31 جنوری 2012ءکو ملک سے باہر بھی چلے گئے اور ان کے خلاف کوئی فیصلہ بھی نہیں آیا‘ کیوں؟ شاید امریکا کا دباﺅ تھا اور اس دباﺅ نے ایک ایک کر کے حسین حقانی کے خلاف اٹھنے والی تمام آوازیں خاموش کرا دیں‘وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افتخار محمد چودھری نے اپنی ترجیحات بدل لیں‘ جنرل پاشا اور جنرل کیانی ریٹائر ہو گئے‘ یوسف رضا گیلانی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا‘ آصف علی زرداری حسین حقانی کے دوست اور مدد گار تھے اورپیچھے رہ گئے میاں نواز شریف تو یہ 2013ءمیں اقتدار میں آگئے اور یہ آتے ہی فوج کو اپنے صفحے پر لانے کی کوشش میں مصروف ہو گئے‘یہ کوشش انہیں دھرنوں تک لے گئی اور یہ ببانگ دہل یہ کہنے پر مجبور ہو گئے میں نے میمو سکینڈل میں آصف علی زرداری کے خلاف فریق بن کر غلطی کی تھی‘ یوں یہ ایشو تاریخ کی پچھلی‘ اندھی اور سیلن زدہ کوٹھڑی میں دفن ہوتا چلا گیا‘ عدالت ‘فوج اور پارلیمنٹ تینوں نے میمو سکینڈل فراموش کر دیا‘ آصف علی زرداری مدت پوری کر کے دوبئی میں بیٹھ گئے اور حسین حقانی امریکا میں اپنی ”جمع پونجی“ سے لطف اندوز ہونے لگے۔یہ ایشو شاید قوم کے حافظے سے بھی محو ہو جاتا لیکن حسین حقانی نے 10 مارچ کو واشنگٹن پوسٹ میں مضمون لکھ کر اپنا ہی گڑھا مردہ دوبارہ زندہ کر دیا‘ مضمون کا عنوانYes, the Russian ambassador met Trump’s team. So? That’s what we diplomats do.(جی‘ روسی سفیر نے ٹرمپ کی ٹیم سے ملاقات کی‘ تو کیا ہوا؟ہم سفیر یہ کرتے رہتے ہیں)تھا‘ حسین حقانی نے اس مضمون میں انکشاف کیا‘ میں نے سویلین قیادت کی اجازت سے پاکستان میں اسامہ بن لادن کی تلاش کیلئے سی آئی اے کے اہلکاروں کو مدد دی تھی‘ حسین حقانی نے اعتراف کیا میں نے صدر باراک حسین اوبامہ کی الیکشن مہم کے دوران چند اہم لوگوں سے تعلقات استوار کئے‘ یہ لوگ الیکشن جیتنے کے بعد اوبامہ کی نیشنل سیکورٹی کا حصہ بن گئے‘ میں نے ان کی درخواست پر پاک فوج سے بالا بالا سی آئی اے کی مدد کی‘ میں نےیہ مدد پاکستان کی سویلین قیادت (صدر اور وزیراعظم) کی اجازت سے کی‘ حسین حقانی نے لکھا‘ میری وجہ سے امریکی حکومت نے پاکستان کے خفیہ اداروں اور فوج کی مدد کے بغیر اسامہ بن لادن کو تلاش کر لیا‘ امریکا کو فوج اور خفیہ اداروں پر اسلامی انتہا پسندوں سے ہمدردی کا شک تھا‘صدر آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی چاہتے تھے پاکستان طالبان کی حمایت ختم کرے‘ بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی سے فوج کا کردار ختم ہو‘ یہ اس سلسلے میں امریکا سے مدد چاہتے تھے۔ حسین حقانی کے اس اعتراف نے ساری کہانی کھول کر رکھ دی‘یہ ثابت ہو گیا پاکستان پیپلزپارٹی نے امریکیوں کو بے شمار سہولتیں فراہم کیں‘ امریکا نے ان سہولتوں کی بنیاد پر پاکستان میں جاسوسی کا خوفناک نیٹ ورک بنا یا‘ یہ نیٹ ورک جہاں اسامہ بن لادن کے گرد گھیرا تنگ کرتا رہا یہ وہاں پاکستان کے انتہائی حساس علاقوں میں بھی گھس گیا یہاں تک کہ امریکا نے جب اپنے ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد بھجوائے تو ہمارا فضائی نظام انہیں ”ٹریس“ کر سکا اور نہ ہی ہمارا زمینی نظام انہیں دیکھ سکا‘ یہ ہیلی کاپٹر کالا ڈھاکہ میں اترتے اور پرواز کرتے رہے ‘یہ وہاں ری فیولنگ بھی کراتے رہے اور ہمیں کانوں کان خبر نہ ہوئی‘کیوں؟ وجہ بہت آسان تھی‘امریکا نے جہاں پاکستانی سفیراور سول حکومت کو ہاتھ میں لے رکھا تھاوہاں اس نے ملک میں جاسوسوں کا جال بھی بچھا دیا‘ یہ جاسوس اسلام آباد میں پولیس‘ ریٹائر فوجی افسروں اور اعلیٰ سابق بیورو کریٹس کے گھروں میں بیٹھے تھے‘ یہ اپنے مالک مکان سے معلومات بھی لیتے تھے اور پناہ بھی۔ امریکی جاسوسوں نے ان گھروں میں بم پروف کمرے بنا رکھے تھے‘ یہ فضائی آلات بھی ساتھ لے کر آئے تھے اور یہ لوگ جلال آباد سے ایبٹ آباد تک زمینی روٹ بھی بنا چکے تھے چنانچہ یہ دومئی کو مکھن کے بال کی طرح آئے اور مکھن کے بال کی طرح نکل گئے اور ہمیں کانوں کان خبر نہ ہوئی۔میں سمجھتا ہوں حسین حقانی کے اعتراف کے بعد خاموشی کی کوئی گنجائش نہیں بچی‘ سپریم کورٹ آف پاکستان کو فوری نوٹس لینا چاہیے‘ میمو سکینڈل کی رپورٹ نکالنی چاہیے‘ صدر آصف علی زرداری‘ یوسف رضا گیلانی‘ میاں نواز شریف‘ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو طلب کرنا چاہیے‘ حسین حقانی کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کرنےچاہئیں‘ کیس کی نئے سرے سے تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کو کڑی سزا دینی چاہیے‘حسین حقانی کے خلاف پارلیمانی کمیشن بھی بننا چاہیے‘ یہ کمیشن حسین حقانی کو غدار قرار دے‘ دوسرا‘ وقت آ چکا ہے ہم سفارت جیسے اہم عہدوں کےلئے کرائی ٹیریا بنائیں اور اس کرائی ٹیریا پرمکمل عمل کیا جائے‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں برطانیہ اور امریکا دونوں اہم ملکوں میں ایسے لوگوں کو سفیر بنایاگیا تھاجن کاپاکستان میں کوئی سٹیک نہیں تھا‘ واجد شمس الحسن مدتوں پہلے برطانیہ شفٹ ہو چکے تھے‘ یہ جون 2008ءمیں وہیں سے سفیر بنا دیئے گئے‘ یہ دوران سفارت کبھی پاکستان تشریف نہیں لائے‘ یہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد بھی دوماہ اور چودہ دن سفیر رہے‘ شنید ہے آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف سے درخواست کی تھی اور میاں صاحب نے اپنے سابق اتحادی کی درخواست پر واجد شمس الحسن کو مزید دو ماہ دے دیئے تھے‘ واجد صاحب استعفے کے بعد بھی پاکستان تشریف نہیں لائے‘حسین حقانی نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں مشیر اطلاعات بننے کی کوشش کی‘ یہ ناکام ہو ئے اور یہ امریکا ”جلاوطن“ ہو گئے‘یہ2008ءمیں امریکی اثرورسوخ کی وجہ سے سفیر بن گئے‘ سفارت انجوائے کی‘ امریکیوں کو ”نوازہ“ ای سی ایل تڑوائی“ امریکا گئے اوریہ اب ڈونلڈ ٹرمپ کی نظروں میں آنے کےلئے پاکستان مخالف مضامین لکھ رہے ہیں چنانچہ حسین حقانی ہوں یا واجد شمس الحسن یہ غیرملکی تھے‘ یہ غیرملکی ہیں اور یہ غیرملکی رہیں گے‘ پاکستان ان کا ملک تھا اور نہ ہی ہو گا‘ پاکستان میں ان کی ایک چپہ زمین ہے اور نہ ہی اکاﺅنٹ لہٰذا ہم اگر ملک کو غداروں سے بچاناچاہتے ہیں تو پھر ہمیں حسین حقانی جیسے لوگوں کے خلاف قانون سازی کرنا ہو گی‘ یہ لوگ کسی قیمت پر اعلیٰ عہدوں تک نہیں پہنچے چاہئیں‘ ہم نے اگر آج قانون نہ بنایا‘ ہم نے اگر آج ایسے لوگوں کا راستہ نہ روکا تو یہ لوگ کسی بھی وقت ہمارا ایٹمی پروگرام امریکا کے حوالے کر دیں گے‘ ہیلی کاپٹر آئیں گے اور ہمارا نیو کلیئر پروگرام تباہ کر کے واپس چلے جائیں گے‘ ہم اگر ایسے سانحوں سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں میمو سکینڈل دوبارہ کھولنا ہوگا‘ ہمیں ذمہ داروں کو سزا دینی ہو گی‘ یہ معاملہ اب ناﺅ اور نیور کے فیز میں داخل ہو چکا ہے‘ ہم نے اگر اب بھی دیر کر دی تو ہم وقت کے بیلنے میں پس جائیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں