Javed

سیٹھی صاحب آپ بھی لگے رہیں

  جمعہ‬‮ 3 مارچ‬‮ 2017  |  0:01
پہلی بات۔پی ایس ایل کا فائنل بہرحال لاہور میں ہونا چاہیے‘ کرکٹ پاکستان کا پرائیڈ ہے اور یہ پرائیڈ ہمیں ہرحال میں واپس چاہیے۔ہمیں یہ بات اپنی اپنی دیوار پر لکھ لینی چاہیے ہمارے چار پرائیڈ ہیں اور دنیا 30 برسوں سے ان چاروں پرائیڈز کو نشانہ بنا رہی ہے‘ہمارا پہلا پرائیڈ ایٹم بم ہے‘ ہم دنیا کی واحد نیوکلیئر اسلامی ریاست ہیں‘ دنیا ہمارے اس پرائیڈ کو ہضم نہیں کر پا رہی چنانچہ یہ تیس برسوں سے ہمارے اس اثاثے کو نشانہ بنا رہی ہے‘ ہم نے اسے بچانا ہے‘ ہمارا دوسرا پرائیڈ ہماری فوج ہے‘ ہماری فوج نامساعد حالات کے باوجود دنیا کی پانچ بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے‘ ہماری فوج میں جنرل یحییٰ خان اور جنرل پرویز مشرف کے غلط فیصلوں کے باوجود آج تک دراڑ نہیں آئی‘ یہ آج تک سلامت‘ یہ آج تک قائم ہے‘ دشمن 30 برسوں سے اس فوج کو توڑنے‘ بدنام کرنے اور عوام کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ یہ کوشش اب آخری فیز میں داخل ہو چکی ہے‘ ہمارے دشمنوں نے گہری سازش کے ذریعے ہماری فوج کو پورے ملک میں پھیلا دیا‘ ہماری فوج کا ایک حصہ پاک بھارت سرحد پر تعینات ہے‘ دوسرا حصہ توپ خانے سمیت پاک افغان بارڈر پر برسرپیکار ہے‘ ہماری فوج کا ایک بازو ضرب عضب میں مصروف ہے‘ دوسرا ردالفساد میں لگا ہے‘ تیسرا کراچی کا گند صاف کر رہا ہے اور چوتھا مون سون میں سیلاب‘ سردیوں میں برفانی تودوں‘ گرمیوں میں خشک سالی‘ آتش زدگی میں آگ اور بم دھماکوں میں شہروں اور قصبوں میں خوف کا مقابلہ کررہا ہے‘ ہمارے دشمن نے ہماری متحد فوج کو پورے ملک میں پھیلا دیا ‘ ہمارے عوام بھی پانامہ کیس اور ڈان لیکس کی تحقیقات سے لے کر الیکشن اور مردم شماری تک ملک کے سارے اہم کام فوج سے لینا چاہتے ہیں‘ دشمن کا خیال ہے یہ کش مکش پاک فوج کو تھکا دے گی‘ہم نے اپنی فوج کو بھی تھکاوٹ سے بچانا ہے۔ ہمارا تیسرا پرائیڈ ہماری ہمت‘ ہمارا ناقابل شکست حوصلہ ہے‘ ہمارے خطے میں 35 سال سے جنگ چل رہی ہے‘ ہم افغانستان کے بعد خطے کے دوسرے بڑے ”وکٹم“ ہیں‘ ہم دس سال سے خوفناک دہشت گردی کے شکار بھی ہیں‘ امریکا میں ایک نائین الیون ہوا‘ امریکا اپنا پورا سسٹم بدلنے پر مجبور ہو گیا‘ ہم دس سال سے روزانہ نائین الیوان بھگت رہے ہیں‘ ہمارے ستر ہزار

(کالم جاری ہے)

رہے ہیں‘ ہمارے ستر ہزار لوگ شہید ہو چکے ہیں‘ فوج کے چھ ہزار جوان اور افسر بھی شہید ہو ئے‘ ہم نے پولیس کے تین ہزار سات سو اہلکاروں کی لاشیں اٹھائیں‘ ان میں 87 افسر تھے‘ ہم نے 110 بلین ڈالر کا نقصان سہا‘ ہمارے عوام دس برسوں سے خوف کے کمبل میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہم اس کے باوجود زندہ بھی ہیں اور ترقی بھی کر رہے ہیں‘

ہم نے اس کے باوجود سی پیک جیسے منصوبے بھی شروع کئے اور ہم نے اقتصادی تعاون تنظیم کی شاندار سربراہی کانفرنس بھی کی‘ ہمارے دشمن ہماری اس ہمت‘ اس سپرٹ کو بھی توڑنا چاہتے ہیں‘ یہ ہمارے اس پرائیڈ پر بھی تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں اور کرکٹ ہمارا چوتھا پرائیڈ ہے۔

ہم پاکستانی عید کے چاند پر متفق نہیں ہوتے‘ ہم سال کے بارہ ماہ بلوچی‘ سندھی‘ پنجابی‘ پٹھان‘ شیعہ‘ سنی‘ بریلوی اور اہلحدیث رہتے ہیں لیکن جوں ہی کرکٹ کا میچ شروع ہوتا ہے ہم فوراً پاکستانی بن جاتے ہیں‘ ہم فرقہ‘ زبان اور نسل سمیت عصبیت کی ساری دیواریں گرا دیتے ہیں‘ کرکٹ ہماری یونٹی‘ ہمارے قومی اتفاق رائے کی علامت ہے‘ ہم خواہ فوجی عدالتوں اور ڈان لیکس کے ایشو پر ایک صفحے پر نہ ہوں لیکن ہم کرکٹ کے ایشو پر ہمیشہ ایک صفحے پر ہوتے ہیں‘

پاکستانی شیعہ کرکٹ کے ایشوپر شیعہ اور سنی سنی نہیں رہتا‘ یہ پاکستانی ہو جاتے ہیں‘ دشمن ہمارے اس پرائیڈ کو بھی مسلسل نشانہ بنا رہے ہےں‘ یہ پاکستان کا وہ صفحہ ہی پھاڑ دینا چاہتے ہیں جس پر پوری قوم اکٹھی ہو جاتی ہے‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ پاکستان کرکٹ کی دس برسوں کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو 3 مارچ 2009ءکو لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے سے لے کر خالد لطیف اور شرجیل خان کے تازہ ترین سکینڈل تک پاکستان کی کرکٹ دشمن کے نشانے پر نظر آئے گی‘

ہمارے کھلاڑیوں کے ہاتھ سے چائے کا کپ پھسل جائے تو دنیا اسے تیسری عالمی جنگ بنا دیتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت اپنا پورا کرکٹ بورڈ فارغ کر دے تو بھی یہ خبر خبر نہیں ہوتی اور ہمارے کھلاڑی باتھ روم جائیں تو بکی وہاں پہنچ جاتے ہیں اور یہ خبر میڈیا کی ”ہاٹ نیوز“ بن جاتی ہے‘ ہمیں ماننا ہوگا ہم سے ہمارا یہ پرائیڈ بھی چھینا جا رہا ہے‘

پاکستانی کرکٹ کو کنٹرورشل بنایا

(کالم جاری ہے)

جا رہا ہے اور یہ اتنی ہی بڑی سازش ہے جتنی بڑی ہمارے جوہری پروگرام کے خلاف 35 برسوں سے ہو رہی ہے چنانچہ ہمیں دیوار پر لکھ لینا چاہیے ہم اپنے نیو کلیئر پروگرام‘ اپنی فوج‘ اپنے جذبے اور اپنی کرکٹ پر کبھی کمپرومائز نہیں کریں گے‘ یہ ہمارے پرائیڈ ہیں اور ہم ان پرائیڈز کی ہر قیمت پر حفاظت کریں گے‘ ہمیں ماننا ہو گا پانچ مارچ کو لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کے دن ملک میں کرکٹ کی واپسی شروع ہو جائے گی اور یہ واپسی ہماری یونٹی میں اضافہ کرے گی چنانچہ ہمیں یہ فائنل ہر صورت میں لاہور میں کرانا چاہیے خواہ ہمیں اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

دوسری بات‘ یہ ساری حقیقتیں‘ یہ سارے پرائیڈ اپنی جگہ لیکن ہمیں اپنی یہ خامی بھی ماننا ہو گی ہم منصوبہ بندی کے جوہر سے عاری قوم ہیں‘ ہمیں ٹیک آف کے بعد پتہ چلتا ہے ہم جہاز میں پٹرول بھرنا بھول گئے تھے‘ ہمیں ماﺅنٹ ایوریسٹ کے درمیان پہنچ کر یاد آتا ہے ہم اپنا سلیپنگ بیگ کیمپ میں چھوڑ آئے ہیں اور ہم سمندر میں چھلانگ لگانے کے بعد سوچتے ہیں ہمیں تو تیراکی آتی ہی نہیں‘

یہ ہماری قومی عادت ہے اور ہمیں یہ عادت ہر شعبے اور ہر محکمے میں دکھائی دیتی ہے‘آپ میڈیکل کے شعبے کو لے لیجئے‘ ملک میں 60سال میں27 میڈیکل کالج تھے‘ آصف علی زرداری کے دور میں ڈاکٹر عاصم کی مہربانی سے یہ تعداد 102 ہو گئی‘ یہ میڈیکل کالج دھڑا دھڑ ڈاکٹر پیدا کر رہے ہیں چنانچہ آپ کو ہر روز ینگ ڈاکٹرز او پی ڈی بند کر کے سڑکوں پر نعرے لگاتے دکھائی دیتے ہیں‘

ہم نے منصوبہ بندی کے بغیر ملک میں نئی یونیورسٹیاں بھی بنا دیں‘ ملک میں 53 لاکھ اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگاروں کا مجمع لگ گیا تو ہمیں پتہ چلا ہمارے پاس نوکریوں کا بندوبست نہیں چنانچہ آج حالت یہ ہے ملک کی 89جیلوں میں ساڑھے چھ ہزار ایم اے پاس مجرم بند ہیں‘ اڈیالہ جیل میں 39 ایم اے اور 289 بی اے قید ہیں‘ یہ تمام لوگ پڑھے لکھے مجرم ہیں اور یہ خوفناک جرائم کی خوفناک سزائیں بھگت رہے ہیں‘

ہم نے 2003ءمیں گاڑیوں کی لیزنگ شروع کی‘ ملک میں گاڑیوں کا سیلاب آ گیا‘ کراچی شہر میں اس وقت 38 لاکھ گاڑیاں ہیں اور ان میں روزانہ 900 گاڑیوں کا اضافہ ہو رہا ہے‘ ملک میں 2016ءمیں ایک لاکھ 65 ہزار نئی گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں‘ ہمیں سکیم کے 12 سال بعد معلوم ہوا ہماری سڑکیں اتنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں چنانچہ آپ آج کسی شہر میں نکل جائیں آپ وہاں ٹریفک میں پھنس جائیں گے‘

ہم نے اسی طرح شوکت عزیز کے دور میں ٹیلی ویژن‘ ائیر کنڈیشنر اور فریج کی ڈیوٹی کم کر دی‘ پورے ملک نے یہ ساری سہولتیں خرید لیں تو ہم بجلی کے شدید بحران کا شکار ہو گئے‘ ہم اب پچھلے دس برسوں سے بجلی پوری کر رہے ہیں‘ میں آپ کو ایسی بیسیوں مثالیں دے سکتا ہوں‘ یہ مثالیں ثابت کریں گی ہم منصوبہ بندی کو گناہ سمجھتے ہیں‘ ہم فصل بونے سے پہلے کاٹنا چاہتے ہیں چنانچہ ہم مسائل در مسائل کا شکار بھی ہوتے جا رہے ہیں اور ہم خفت اور بے عزتی کی کرچیاں بھی چن رہے ہیں۔

ہم نے اس بدنظمی اور لیک آف پلاننگ کی تازہ ترین مثال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے فائنل میں بھی دیکھی‘ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کی انتظامیہ نے پانچ مارچ کو لاہور میں فائنل میچ کا اعلان کیا‘ اجازت بھی مل گئی‘ سیکورٹی کا بندوبست بھی ہو گیا‘ فوج بھی ایکٹو ہو گئی اور ٹکٹ بھی بک گئے لیکن پھر اچانک غیر ملکی کھلاڑیوں‘ کمنٹیٹرز‘ ایمپائرز اور براڈکاسٹرز نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا‘

لوک رائٹ نے بڑی خوفناک ٹویٹ لکھی‘ اس نے لکھا ”میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘ میں ایک میچ کےلئے اپنی جان رسک میں نہیں ڈال سکتا“ یہ ٹویٹ اور کھلاڑیوں کا یہ انکار چوٹ پر ٹھڈا ثابت ہوا اور ہم پوری دنیا میں ننگے ہو گئے‘ہمیں فائنل کو لاہور کی طرف موڑنے سے قبل کھلاڑیوں کی رائے ضرور لینی چاہیے تھی‘

یہ اگر راضی ہو جاتے تو ہم فائنل لاہور میں کرا لیتے اور اگر یہ حامی نہ بھرتے تو ہم باقی میچز کی طرح فائنل بھی دوبئی میں کرا لیتے‘ کیا فرق پڑ جاتا‘ قوم فائنل بھی ٹیلی ویژن پر دیکھ لیتی‘ ہمیں اپنے منہ پر خود تھپڑ مارنے کی کیا ضرورت تھی‘ کیا نجم سیٹھی اور شہریار خان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود ہے؟

یقینا ہو گا کیونکہ ہم میں سے ہر شخص کے پاس ہر ناکام احمق کی طرح بے شمار جواز‘ لاکھوں جواب موجود ہوتے ہیں‘ ہم جوابات کے خزانے سے لبالب بھرے رہتے ہیں چنانچہ میری سیٹھی صاحب سے درخواست ہے آپ بھی لگے رہیں‘ آپ بھی کیک رس چائے میں ڈبو کر کھاتے رہیں‘ آپ کی طرف کوئی نظر نہیں اٹھائے گا‘ آپ سے کوئی نہیں پوچھے گا‘ ہم پاکستانی غلطیوں کےلئے بنے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ہم سے یہ صلاحیت نہیں چھین سکتی۔

پہلی بات۔پی ایس ایل کا فائنل بہرحال لاہور میں ہونا چاہیے‘ کرکٹ پاکستان کا پرائیڈ ہے اور یہ پرائیڈ ہمیں ہرحال میں واپس چاہیے۔ہمیں یہ بات اپنی اپنی دیوار پر لکھ لینی چاہیے ہمارے چار پرائیڈ ہیں اور دنیا 30 برسوں سے ان چاروں پرائیڈز کو نشانہ بنا رہی ہے‘ہمارا پہلا پرائیڈ ایٹم بم ہے‘ ہم دنیا کی واحد نیوکلیئر اسلامی ریاست ہیں‘ دنیا ہمارے اس پرائیڈ کو ہضم نہیں کر پا رہی چنانچہ یہ تیس برسوں سے ہمارے اس اثاثے کو نشانہ بنا رہی ہے‘

ہم نے اسے بچانا ہے‘ ہمارا دوسرا پرائیڈ ہماری فوج ہے‘ ہماری فوج نامساعد حالات کے باوجود دنیا کی پانچ بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے‘ ہماری فوج میں جنرل یحییٰ خان اور جنرل پرویز مشرف کے غلط فیصلوں کے باوجود آج تک دراڑ نہیں آئی‘ یہ آج تک سلامت‘ یہ آج تک قائم ہے‘ دشمن 30 برسوں سے اس فوج کو توڑنے‘ بدنام کرنے اور عوام کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ یہ کوشش اب آخری فیز میں داخل ہو چکی ہے‘ ہمارے دشمنوں نے گہری سازش کے ذریعے ہماری فوج کو پورے ملک میں پھیلا دیا‘ ہماری فوج کا ایک حصہ پاک بھارت سرحد پر تعینات ہے‘ دوسرا حصہ توپ خانے سمیت پاک افغان بارڈر پر برسرپیکار ہے‘ ہماری فوج کا ایک بازو ضرب عضب میں مصروف ہے‘ دوسرا ردالفساد میں لگا ہے‘ تیسرا کراچی کا گند صاف کر رہا ہے اور چوتھا مون سون میں سیلاب‘ سردیوں میں برفانی تودوں‘ گرمیوں میں خشک سالی‘ آتش زدگی میں آگ اور بم دھماکوں میں شہروں اور قصبوں میں خوف کا مقابلہ کررہا ہے‘ ہمارے دشمن نے ہماری متحد فوج کو پورے ملک میں پھیلا دیا ‘ ہمارے عوام بھی پانامہ کیس اور ڈان لیکس کی تحقیقات سے لے کر الیکشن اور مردم شماری تک ملک کے سارے اہم کام فوج سے لینا چاہتے ہیں‘

دشمن کا خیال ہے یہ کش مکش پاک فوج کو تھکا دے گی‘ہم نے اپنی فوج کو بھی تھکاوٹ سے بچانا ہے۔ ہمارا تیسرا پرائیڈ ہماری ہمت‘ ہمارا ناقابل شکست حوصلہ ہے‘ ہمارے خطے میں 35 سال سے جنگ چل رہی ہے‘ ہم افغانستان کے بعد خطے کے دوسرے بڑے ”وکٹم“ ہیں‘ ہم دس سال سے خوفناک دہشت گردی کے شکار بھی ہیں‘ امریکا میں ایک نائین الیون ہوا‘ امریکا اپنا پورا سسٹم بدلنے پر مجبور ہو گیا‘

ہم دس سال سے روزانہ نائین الیوان بھگت رہے ہیں‘ ہمارے ستر ہزار لوگ شہید ہو چکے ہیں‘ فوج کے چھ ہزار جوان اور افسر بھی شہید ہو ئے‘ ہم نے پولیس کے تین ہزار سات سو اہلکاروں کی لاشیں اٹھائیں‘ ان میں 87 افسر تھے‘ ہم نے 110 بلین ڈالر کا نقصان سہا‘ ہمارے عوام دس برسوں سے خوف کے کمبل میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہم اس کے باوجود زندہ بھی ہیں اور ترقی بھی کر رہے ہیں‘

ہم نے اس کے باوجود سی پیک جیسے منصوبے بھی شروع کئے اور ہم نے اقتصادی تعاون تنظیم کی شاندار سربراہی کانفرنس بھی کی‘ ہمارے دشمن ہماری اس ہمت‘ اس سپرٹ کو بھی توڑنا چاہتے ہیں‘ یہ ہمارے اس پرائیڈ پر بھی تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں اور کرکٹ ہمارا چوتھا پرائیڈ ہے۔

ہم پاکستانی عید کے چاند پر متفق نہیں ہوتے‘ ہم سال کے بارہ ماہ بلوچی‘ سندھی‘ پنجابی‘ پٹھان‘ شیعہ‘ سنی‘ بریلوی اور اہلحدیث رہتے ہیں لیکن جوں ہی کرکٹ کا میچ شروع ہوتا ہے ہم فوراً پاکستانی بن جاتے ہیں‘ ہم فرقہ‘ زبان اور نسل سمیت عصبیت کی ساری دیواریں گرا دیتے ہیں‘ کرکٹ ہماری یونٹی‘ ہمارے قومی اتفاق رائے کی علامت ہے‘ ہم خواہ فوجی عدالتوں اور ڈان لیکس کے ایشو پر ایک صفحے پر نہ ہوں لیکن ہم کرکٹ کے ایشو پر ہمیشہ ایک صفحے پر ہوتے ہیں‘

پاکستانی شیعہ کرکٹ کے ایشوپر شیعہ اور سنی سنی نہیں رہتا‘ یہ پاکستانی ہو جاتے ہیں‘ دشمن ہمارے اس پرائیڈ کو بھی مسلسل نشانہ بنا رہے ہےں‘ یہ پاکستان کا وہ صفحہ ہی پھاڑ دینا چاہتے ہیں جس پر پوری قوم اکٹھی ہو جاتی ہے‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ پاکستان کرکٹ کی دس برسوں کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو 3 مارچ 2009ءکو لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے سے لے کر خالد لطیف اور شرجیل خان کے تازہ ترین سکینڈل تک پاکستان کی کرکٹ دشمن کے نشانے پر نظر آئے گی‘

ہمارے کھلاڑیوں کے ہاتھ سے چائے کا کپ پھسل جائے تو دنیا اسے تیسری عالمی جنگ بنا دیتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت اپنا پورا کرکٹ بورڈ فارغ کر دے تو بھی یہ خبر خبر نہیں ہوتی اور ہمارے کھلاڑی باتھ روم جائیں تو بکی وہاں پہنچ جاتے ہیں اور یہ خبر میڈیا کی ”ہاٹ نیوز“ بن جاتی ہے‘ ہمیں ماننا ہوگا ہم سے ہمارا یہ پرائیڈ بھی چھینا جا رہا ہے‘

پاکستانی کرکٹ کو کنٹرورشل بنایا جا رہا ہے اور یہ اتنی ہی بڑی سازش ہے جتنی بڑی ہمارے جوہری پروگرام کے خلاف 35 برسوں سے ہو رہی ہے چنانچہ ہمیں دیوار پر لکھ لینا چاہیے ہم اپنے نیو کلیئر پروگرام‘ اپنی فوج‘ اپنے جذبے اور اپنی کرکٹ پر کبھی کمپرومائز نہیں کریں گے‘ یہ ہمارے پرائیڈ ہیں اور ہم ان پرائیڈز کی ہر قیمت پر حفاظت کریں گے‘ ہمیں ماننا ہو گا پانچ مارچ کو لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کے دن ملک میں کرکٹ کی واپسی شروع ہو جائے گی اور یہ واپسی ہماری یونٹی میں اضافہ کرے گی چنانچہ ہمیں یہ فائنل ہر صورت میں لاہور میں کرانا چاہیے خواہ ہمیں اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

دوسری بات‘ یہ ساری حقیقتیں‘ یہ سارے پرائیڈ اپنی جگہ لیکن ہمیں اپنی یہ خامی بھی ماننا ہو گی ہم منصوبہ بندی کے جوہر سے عاری قوم ہیں‘ ہمیں ٹیک آف کے بعد پتہ چلتا ہے ہم جہاز میں پٹرول بھرنا بھول گئے تھے‘ ہمیں ماﺅنٹ ایوریسٹ کے درمیان پہنچ کر یاد آتا ہے ہم اپنا سلیپنگ بیگ کیمپ میں چھوڑ آئے ہیں اور ہم سمندر میں چھلانگ لگانے کے بعد سوچتے ہیں ہمیں تو تیراکی آتی ہی نہیں‘

یہ ہماری قومی عادت ہے اور ہمیں یہ عادت ہر شعبے اور ہر محکمے میں دکھائی دیتی ہے‘آپ میڈیکل کے شعبے کو لے لیجئے‘ ملک میں 60سال میں27 میڈیکل کالج تھے‘ آصف علی زرداری کے دور میں ڈاکٹر عاصم کی مہربانی سے یہ تعداد 102 ہو گئی‘ یہ میڈیکل کالج دھڑا دھڑ ڈاکٹر پیدا کر رہے ہیں چنانچہ آپ کو ہر روز ینگ ڈاکٹرز او پی ڈی بند کر کے سڑکوں پر نعرے لگاتے دکھائی دیتے ہیں‘

ہم نے منصوبہ بندی کے بغیر ملک میں نئی یونیورسٹیاں بھی بنا دیں‘ ملک میں 53 لاکھ اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگاروں کا مجمع لگ گیا تو ہمیں پتہ چلا ہمارے پاس نوکریوں کا بندوبست نہیں چنانچہ آج حالت یہ ہے ملک کی 89جیلوں میں ساڑھے چھ ہزار ایم اے پاس مجرم بند ہیں‘ اڈیالہ جیل میں 39 ایم اے اور 289 بی اے قید ہیں‘ یہ تمام لوگ پڑھے لکھے مجرم ہیں اور یہ خوفناک جرائم کی خوفناک سزائیں بھگت رہے ہیں‘

ہم نے 2003ءمیں گاڑیوں کی لیزنگ شروع کی‘ ملک میں گاڑیوں کا سیلاب آ گیا‘ کراچی شہر میں اس وقت 38 لاکھ گاڑیاں ہیں اور ان میں روزانہ 900 گاڑیوں کا اضافہ ہو رہا ہے‘ ملک میں 2016ءمیں ایک لاکھ 65 ہزار نئی گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں‘ ہمیں سکیم کے 12 سال بعد معلوم ہوا ہماری سڑکیں اتنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں چنانچہ آپ آج کسی شہر میں نکل جائیں آپ وہاں ٹریفک میں پھنس جائیں گے‘

ہم نے اسی طرح شوکت عزیز کے دور میں ٹیلی ویژن‘ ائیر کنڈیشنر اور فریج کی ڈیوٹی کم کر دی‘ پورے ملک نے یہ ساری سہولتیں خرید لیں تو ہم بجلی کے شدید بحران کا شکار ہو گئے‘ ہم اب پچھلے دس برسوں سے بجلی پوری کر رہے ہیں‘ میں آپ کو ایسی بیسیوں مثالیں دے سکتا ہوں‘ یہ مثالیں ثابت کریں گی ہم منصوبہ بندی کو گناہ سمجھتے ہیں‘ ہم فصل بونے سے پہلے کاٹنا چاہتے ہیں چنانچہ ہم مسائل در مسائل کا شکار بھی ہوتے جا رہے ہیں اور ہم خفت اور بے عزتی کی کرچیاں بھی چن رہے ہیں۔

ہم نے اس بدنظمی اور لیک آف پلاننگ کی تازہ ترین مثال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے فائنل میں بھی دیکھی‘ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کی انتظامیہ نے پانچ مارچ کو لاہور میں فائنل میچ کا اعلان کیا‘ اجازت بھی مل گئی‘ سیکورٹی کا بندوبست بھی ہو گیا‘ فوج بھی ایکٹو ہو گئی اور ٹکٹ بھی بک گئے لیکن پھر اچانک غیر ملکی کھلاڑیوں‘ کمنٹیٹرز‘ ایمپائرز اور براڈکاسٹرز نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا‘

لوک رائٹ نے بڑی خوفناک ٹویٹ لکھی‘ اس نے لکھا ”میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘ میں ایک میچ کےلئے اپنی جان رسک میں نہیں ڈال سکتا“ یہ ٹویٹ اور کھلاڑیوں کا یہ انکار چوٹ پر ٹھڈا ثابت ہوا اور ہم پوری دنیا میں ننگے ہو گئے‘ہمیں فائنل کو لاہور کی طرف موڑنے سے قبل کھلاڑیوں کی رائے ضرور لینی چاہیے تھی‘

یہ اگر راضی ہو جاتے تو ہم فائنل لاہور میں کرا لیتے اور اگر یہ حامی نہ بھرتے تو ہم باقی میچز کی طرح فائنل بھی دوبئی میں کرا لیتے‘ کیا فرق پڑ جاتا‘ قوم فائنل بھی ٹیلی ویژن پر دیکھ لیتی‘ ہمیں اپنے منہ پر خود تھپڑ مارنے کی کیا ضرورت تھی‘ کیا نجم سیٹھی اور شہریار خان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود ہے؟

یقینا ہو گا کیونکہ ہم میں سے ہر شخص کے پاس ہر ناکام احمق کی طرح بے شمار جواز‘ لاکھوں جواب موجود ہوتے ہیں‘ ہم جوابات کے خزانے سے لبالب بھرے رہتے ہیں چنانچہ میری سیٹھی صاحب سے درخواست ہے آپ بھی لگے رہیں‘ آپ بھی کیک رس چائے میں ڈبو کر کھاتے رہیں‘ آپ کی طرف کوئی نظر نہیں اٹھائے گا‘ آپ سے کوئی نہیں پوچھے گا‘ ہم پاکستانی غلطیوں کےلئے بنے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ہم سے یہ صلاحیت نہیں چھین سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

loading...

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔