نوٹ چھوٹے کر لیں

  جمعہ‬‮ 30 دسمبر‬‮ 2016  |  0:01

بلوچستان حکومت نے 2015-16ءکے بجٹ میں میونسپل کونسلوں کےلئے 6 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی‘ یہ گرانٹ مشیر خزانہ خالد ہمایوں لانگو نے منظور کرائی‘ خالد لانگو38سال کا نوجوان سیاستدان تھا‘ یہ بلوچستان کے ضلع قلات سے تعلق رکھتا ہے ‘ یہ 14 اکتوبر 2013ءکو بلوچستان کا مشیر خزانہ بنا‘ یہ 6 ارب روپے کی گرانٹ صوبے کی 726 کونسلوں میں خرچ ہونی تھی‘

نیب کوئٹہ کو مارچ2016ءمیں اطلاع ملی وزارت خزانہ نے گرانٹ میں سے 2 ارب31 کروڑ روپے صرف دو کونسلوں میونسپل کونسل خالق آباد اور میونسپل کونسل مچھ میں خرچ کر دیئے ہیں‘ نیب کے کان کھڑے ہوگئے‘ سیکرٹ انکوائری ہوئی‘ پتہ چلا‘ خالد لانگو نے یہ دونوں کونسلیں چیف آفیسر سلیم شاہ کے حوالے کر رکھی ہیں‘ سلیم شاہ سیکرٹری خزانہ مشتاق احمد رئیسانی کو گرانٹ کےلئے درخواست دیتا ہے اور سیکرٹری خزانہ لوکل ڈیپارٹمنٹ کو بائی پاس کر کے رقم براہ راست سلیم شاہ کے اکاﺅنٹ میں ٹرانسفر کر دیتا ہے‘ سلیم شاہ مختلف ترقیاتی سکیمیں بنا کر یہ رقم ٹھیکیدار سہیل مجید شاہ کو دے دیتا ہے اور سہیل مجید شاہ خالد ہمایوں لانگو کا فرنٹ مین ہے‘ یہ لوگ اس طرح دو ارب 31 کروڑ روپے خرد برد کر چکے ہیں‘ نیب نے مزید تحقیقات کیں تو پورا گینگ سامنے آ گیا‘ گینگ میں مشیر خزانہ خالد لانگو‘ سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی‘ خالق آباد اور مچھ میونسپل کونسل کا چیف آفیسر سلیم شاہ‘ ٹھیکیدار سہیل مجید شاہ‘ ایکس ای این طارق علی اور اکاﺅنٹنٹ ندیم اقبال سمیت بے شمار بے نام لوگ شامل تھے‘ نیب کے اہلکاروں نے 6 مئی کو سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر پر چھاپہ مارا اور 65 کروڑ روپے اور سوا تین کلو سونا برآمد کر لیا‘ ملک میں آج تک کسی سرکاری افسر کے گھر سے اتنی بڑی برآمدگی نہیں ہوئی ‘ مشتاق رئیسانی نے جرم بھی تسلیم کر لیا اور ساتھیوں کے نام بھی دے دیئے‘ نیب نے 9 مئی کو فرنٹ مین سہیل شاہ کو بھی گرفتار کرلیا‘ خالد لانگو نے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی‘ یہ ضمانت 25 مئی کو منسوخ ہو گئی‘ نیب نے اسے بھی گرفتار کر لیا‘

میونسپل چیف آفیسر سلیم شاہ اور اکاﺅنٹنٹ ندیم اقبال بھی گرفتار ہو گئے یوں سارا ریکٹ نیب کے قبضے میں آگیا‘ مجرموں کی گرفتاری کے بعد پتہ چلا خالد ہمایوں لانگو پاکستان کا چالاک ترین کرپٹ شخص تھا‘ لانگو کا پورے ملک میں کوئی اکاﺅنٹ ہے اور نہ ہی

جائیداد‘ یہ سہیل مجید اور اس کے بے نام دوستوں کے ذریعے کام چلاتا تھا‘ سہیل مجید اس کا حصہ پراپرٹی میں انویسٹ کر دیتا تھا‘ یہ پراپرٹی بکتی چلی جاتی اور آخر میں رقم غائب ہو جاتی تھی‘ مشتاق رئیسانی اپنا حصہ کیش کی شکل میں وصول کرتا تھا‘ یہ کیش ہنڈی کے ذریعے باہر چلی جاتی تھی جبکہ باقی لوگ اپنے حصے بے نام اکاﺅنٹوں میں ڈال دیتے تھے‘ خالد لانگو گینگ کا چیف تھا اور باقی تمام لوگ اس کے کارندے۔

نیب کے پاس کرپشن کی رقم پکڑنے کے بعد تین آپشن ہوتے ہیں‘ پہلا آپشن وی آر (والنٹیئر ریٹرن) تھا‘ نیب مجرم کو تحقیقات کے شروع میں سہولت دیتا تھا‘ یہ چار ماہ کے اندر کرپشن کی رقم سود سمیت واپس کر دے‘ نیب رقم وصول کرنے کے بعد کیس بند کر دیتا تھا تاہم مجرم کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری رہتی تھی‘ عدالت نے سردست وی آر کی سہولت معطل کر رکھی ہے‘ دوسرا آپشن پلی بارگین ہے‘ نیب تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مجرم کو لوٹی ہوئی رقم سود سمیت واپس کرنے کا ایک اور موقع دیتا ہے‘ مجرم مان جائے تو نیب پلی بارگین کے بعد اسے رہا کر دیتا ہے لیکن باقی سزائیں جن میں نوکری سے برخواستگی‘ الیکشن نہ لڑ سکنا اور قرضہ نہ لے سکنا وغیرہ وغیرہ برقرار رہتی ہیں ‘یہاں یہ بھی یاد رہے پلی بارگین کی اجازت عدالت دیتی ہے‘ نیب اپنے طور پر یہ فیصلہ نہیں کر سکتا اور تیسرا آپشن قانونی کارروائی ہے‘ نیب مجرم کا مقدمہ بنا کر عدالت میں پیش کر دیتا ہے‘ یہ تینوں آپشنز قانونی ہیں اور یہ باقاعدہ نیب کے آرڈیننس کا حصہ ہیں‘

نیب عموماً وی آر اور پلی بارگین کو ترجیح دیتا ہے‘ کیوں؟ پہلی وجہ ہمارے جسٹس سسٹم کی خرابیاں ہیں‘ہماری عدالتوں میں قتل کے فیصلے بھی مجرموں کے انتقال کے بعد ہوتے ہیں‘ ہمارا قانون کہتا ہے‘ عدالت جب تک مقدمے کا فیصلہ نہ کر دے حکومت ضبط شدہ پراپرٹی‘ رقم اور زیورات استعمال نہیں کر سکتی چنانچہ نیب ضبط شدہ مال صندوقوں میں بند کر کے گوداموں میں رکھ دیتا ہے‘ نیب کے پاس 2001ءسے کرنسی‘ زیورات‘ پرائز بانڈز اور پراپرٹی کی شکل میں اربوں روپے پڑے ہیں‘ نیب 16 سال سے ان کی حفاظت کر رہا ہے‘ یہ رقم مقدمات کے فیصلوں تک سرکاری خزانے میں جا سکتی ہے اور نہ ہی استعمال ہو سکتی ہے اور مقدمے 16 سال سے چل رہے ہیں‘آپ کمال دیکھئے رقم گوداموں میں پڑی ہے‘ مجرم ضمانت پر عیاشی کر رہے ہیں اور نیب عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہا ہے‘ دوسری وجہ مجرم ہیں‘ پاکستان میں مجرم سمارٹ‘ بااثر اور امیر ہوتے ہیں‘ ملک کا عدالتی نظام انہیں سوٹ کرتا ہے‘ یہ مہنگے وکیل کرتے ہیں‘ اثرورسوخ استعمال کرتے ہیں‘ قانون کو مینیج کرتے ہیں اور جال توڑ کر نکل جاتے ہیں اور تیسری وجہ محدود وسائل ہیں‘ نیب سرکاری ادارہ ہے‘

وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں چنانچہ کیس کی تیاری‘ عدالتوں کی سماعت اور بھاگ دوڑ پر اس کا بے تحاشہ وقت اور سرمایہ خرچ ہو جاتا ہے‘ یہ کتنے پراسیکیوٹر بھرتی کر لے گا‘ یہ کتنے مقدمے قائم کر لے گا اور یہ کتنی دیر عدالتوں میں دھکے کھا لے گا‘ آپ خود فیصلہ کر لیجئے چنانچہ نیب وی آر اور پلی بارگین کو ترجیح دیتا ہے‘ یہ لوگ رقم وصول کرتے ہیں اور سرکاری خزانے میں جمع کرا دیتے ہیں‘ حکومت رقم استعمال کر لیتی ہے اور نیب اور عدالتیں مقدموں کے تھکا دینے والے عمل سے بچ جاتی ہیں‘ اب سوال یہ ہے کیا پلی بارگین غلط ہے؟ میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتا لیکن میں اتنا جانتا ہوں امریکا کے 90 فیصد مقدمے جیوری کی بجائے پلی بارگین کے ذریعے سیٹل ہوتے ہیں اور یہ قانون کینیڈا‘ برطانیہ‘ بھارت‘ آسٹریلیا‘ جرمنی‘ اٹلی اور فرانس میں بھی موجود ہے۔

ہم واپس مشتاق رئیسانی کے کیس کی طرف آتے ہیں‘ مشتاق رئیسانی اور سہیل مجید نے پلی بارگین کی‘ کرپشن دو ارب 31 کروڑ کی تھی‘ پلی بارگین سوا تین ارب روپے میں ہوئی‘ پلی بارگین کے بعد یہ رقم بلوچستان کے خزانے میں جمع ہو گئی‘ صوبہ یہ رقم اب جائز جگہ پر خرچ کر سکتا ہے‘ سہیل مجید اور مشتاق رئیسانی پلی بارگین کے بعد خالد ہمایوں لانگو کے خلاف سلطانی گواہ بن گئے ہیں‘ خالد لانگو کو اب ان گواہوں کی وجہ سے سزا ہو جائے گی‘ ہم فرض کرتے ہیں مشتاق رئیسانی اور سہیل مجید کو پلی بارگین کی سہولت نہیں ملتی تو کیا ہوتا؟ یہ سوا تین ارب روپے بھی گوداموں کا حصہ بن جاتے‘ خالد لانگو کا ملک میں کوئی اکاﺅنٹ اور کوئی پراپرٹی نہیں‘ نیب اس سے کوئی ریکوری نہ کر سکتا‘ یہ صاف بچ جاتا‘ عدالت اسے رہا کر دیتی اور پیچھے رہ جاتے مشتاق رئیسانی اور سہیل مجیدیہ بھی سال چھ ماہ میں ضمانت پر رہا ہو جاتے چنانچہ کیا فائد ہوتا؟ ہمیں اس سلسلے میں خیبر پختونخواہ کے اسلحہ سکینڈل کی مثال سامنے رکھنی چاہیے‘ سابق آئی جی کے پی کے ملک نوید 25 کروڑ میں پلی بارگین کرنا چاہتا تھا‘ نیب نے انکار کر دیا‘ ملک نوید نے دو کروڑ روپے وکلاءپر خرچ کئے اور ضمانت پر رہا ہو گیا‘ یہ اور اس کے ساتھی مجرم آج کل آزاد پھر رہے ہیں۔

ہم اگر ملک سے واقعی کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں چند بڑے فیصلے کرنا ہو ںگے‘ ہمیں اپنا جوڈیشل سسٹم ٹھیک کرنا ہو گا‘ ملک میں چھ ماہ سے زائد کوئی مقدمہ نہیں چلنا چاہیے‘ آر ہو یا پار ہو‘ فیصلہ بہرحال چھ ماہ میں آ جانا چاہیے‘ اس سے تحقیقاتی اداروں پر بھی لوڈ کم ہوجائے گا‘ عدالتوں کو بھی ریلیف ملے گا اور عوام بھی سکھ کا سانس لیں گے‘ نیب ہو یا ایف آئی اے وہ جو بھی رقم ریکور کرے وہ سرکاری خزانے میں جمع کرا دی جائے یوں رقم کی حفاظت کا جھنجٹ بھی ختم ہو جائے گا اور ریاست یہ رقم خرچ بھی کر سکے گی‘ عدالت فیصلے کے بعد وہ رقم خزانے سے منگوا کر بے شک حق دار کے حوالے کر دے‘ آپ ملک سے پانچ ہزار اور ہزار روپے کے نوٹ بھی ختم کر دیں‘

امریکا میں سب سے بڑا نوٹ سو ڈالر اور برطانیہ میں پچاس پاﺅنڈ ہے‘ یہ ملک چھوٹے نوٹوں کے باوجود ترقی یافتہ ہیں‘ ہم نے پانچ ہزار کا نوٹ کیوں بنا رکھا ہے؟ آپ یقین کریں یہ نوٹ رشوت کا سب سے بڑا سورس ہے‘ ملک میں اگر سب سے بڑا نوٹ پانچ سو روپے کا ہوتا تو سہیل مجید مشاق رئیسانی کو ایک ارب روپے رشوت دے سکتا تھا اور نہ ہی یہ 65 کروڑ روپے گھر میں چھپا سکتا تھا‘ دونوں کو نوٹ لانے اور لے جانے کےلئے ٹرک کی ضرورت پڑ جاتی اور یوں یہ دوسروں کی نظروں میں آ جاتے‘ آپ آج نوٹ چھوٹے کر لیں ملک میں کل کرپشن کم ہو جائے گی‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ دنیا کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیجئے‘ دنیا کا ہر وہ ملک جس میں نوٹ چھوٹے ہیں وہاں کرپشن کم ہے اور جہاں نوٹ بڑے ہیں وہاں کرپشن میں اضافہ ہوتاچلا جا رہا ہے اور آخری تجویز آپ پلی بارگین ختم کرنا چاہتے ہیں‘ آپ بے شک کر دیں لیکن آپ اس سے پہلے جوڈیشل سسٹم کی خرابیاں دور کر لیں ورنہ ہم دوسرے پرندے کے لالچ میں ہاتھ میں پکڑے پرندے سے بھی محروم ہو جائیں گے‘ ہم لانگو جیسے لوگوں کو سزا نہیں دے سکیں گے اور مشتاق رئیسانی جیسے لوگ بھی بچ جائیں گے‘ کیا ہم یہ چاہتے ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

0

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔