کوئی ایک گاؤں

  منگل‬‮ 27 دسمبر‬‮ 2016  |  21:05

ڈاکٹر قیوم سومرو جیل کے ڈاکٹر تھے‘ یہ جیل میں آصف علی زرداری کی خدمت کرتے تھے‘ یہ خدمت دوستی میں تبدیل ہوئی اور یہ ان کے اسٹاف میں شامل ہو گئے‘ یہ قید کے دوران زرداری صاحب کی میڈیا مینجمنٹ کرتے تھے‘ یہ اس زمانے میں عرفان صدیقی کے قریب تھے‘ جیل حکام جب آصف علی زرداری کو پیشی کے لیے عدالت میں لاتے تھے تو ڈاکٹر قیوم سومرو عرفان صدیقی کو عدالت لے جاتے تھے‘ یہ انھیں زرداری صاحب کے ساتھ عدالت کے کسی کونے میں بٹھا دیتے تھے‘ میاں صاحبان اس وقت جدہ میں تھے‘ عرفان صدیقی آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان رابطے کی تار بن گئے۔یہ ان کا پیغام ان کو پہنچاتے اور ان کا فرمان ان تک پہنچا دیتے تھے‘ عرفان صدیقی نے ڈاکٹر قیوم سومرو کو ایک دن میرے پاس بھجوا دیا‘ یہ میرا ڈاکٹر قیوم اور زرداری صاحب سے پہلا رابطہ تھا‘ ڈاکٹر صاحب مجھے اس کے بعد ملتے رہے‘ یہ رابطہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد ختم ہو گیا‘ میری ڈاکٹر قیوم سومرو سے 2008ء سے 2013ء کے درمیان صرف دو ملاقاتیں ہوئیں‘ ایک ملاقات ان کے گھر میں ہوئی اور دوسری ایوان صدر میں‘ پہلی ملاقات 2010 ء کے دسمبر میں ہوئی‘ حکومت محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے انتظامات کر رہی تھی‘ ٹیلی ویژن چینلز پر محترمہ کے حوالے سے پیکیجز چل رہے تھے اور اخبارات میں اشتہارات شائع ہو رہے تھے۔میں ڈاکٹر قیوم سومرو کے گھر پہنچا تو چند لمحوں کے لیے گیٹ پر رک گیا‘ مجھے 2007ء کی وہ دوپہر یاد آ گئی جب محترمہ بے نظیر بھٹو کا قافلہ آخری مرتبہ یہاں سے گزر رہا تھا اور پارٹی کے وہ تمام ’’قائدین‘‘ جو اس وقت میری بہن‘ میری بہن کا ورد کررہے ہیں وہ اس سڑک اور اس فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر محترمہ کی گاڑی کی طرف ہاتھ ہلا رہے تھے اور محترمہ اور ان کے درمیان بلٹ پروف شیشہ حائل تھا‘ وہ شاید ان کی طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھیں‘ میں نے اندر جا کر ڈاکٹر قیوم سومرو کو یہ واقعہ سنایا۔ڈاکٹر قیوم سومرو نے مزید خوفناک انکشاف کر دیا‘ ان کا کہنا تھا‘ محترمہ کا تابوت سی ون تھرٹی کے ذریعے اسلام آباد سے لاڑکانہ پہنچایا گیا ‘ میں اس طیارے میں موجود تھا‘ محترمہ بے نظیر بھٹو کا تابوت طیارے کے فرش پر پڑا تھا جب کہ ہم سب لوگ سیٹوں پر

بیٹھے تھے‘ جہاز نے اڑان بھری‘ میں نے لوگوں کی طرف دیکھا‘ لوگ ایک دوسرے سے گپ شپ کر رہے تھے‘ میں نے ایک بار پھر تابوت کی طرف دیکھا اور اس کے بعد دوبارہ لوگوں کی طرف دیکھا اور مجھے وہ تمام واقعات یاد آ گئے جن میں یہ لوگ محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملاقات کے لیے دروازے پر کھڑے رہتے تھے اور محترمہ سے ان کی ملاقات نہیں ہوتی تھی۔محترمہ اپنے بے شمار ’’بھائیوں‘‘ کے نام سے بھی واقف نہیں تھیں‘ یہ لوگ ان کے سامنے کھانسنے کی جرأت بھی نہیں کرتے تھے لیکن پھر ایک ہی دن میں کیا سے کیا ہو گیا؟ محترمہ تابوت میں تھیں‘ تابوت فرش پر تھا اوریہ لوگ تابوت سے چند انچ کے فاصلے پر سیٹوں پر بیٹھے تھے‘ ڈاکٹر قیوم سومرو کے بقول ’’میں نے سوچا ‘کیا ہم لوگ محترمہ کی زندگی میں یہ گستاخی کر سکتے تھے‘ میں نے فوراً کانوں کو ہاتھ لگایا اور زور سے استغفار پڑھی‘‘ ڈاکٹر قیوم سومرو کا کہنا تھا ’’یہ ہے انسان اور یہ ہے انسان کی اوقات‘‘۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت کے دو پہلو تھے‘ کرشمہ اور جنگ‘ وہ بلاشبہ کرشماتی شخصیت کی مالک تھیں‘ وہ چند لمحوں میں دنیا کا فوکس حاصل کر لیتی تھیں‘ وہ بہادر بھی تھیں‘ وہ پوری زندگی مردانہ وار لڑتی رہیں‘ وہ جنرل ضیاء الحق سے بچتی تھیں تو غلام اسحاق خان کے ساتھ لڑائی شروع ہو جاتی تھی‘ وہ وہاں سے نکلتی تھیں تو میاں نواز شریف سامنے کھڑے ہو جاتے تھے‘ وہ ان کے ساتھ سیٹلمنٹ کرتی تھیں تو فاروق بھائی سردار فاروق لغاری بن جاتے تھے‘ وہ ان سے نکلتی تھیں تو جنرل پرویز مشرف خوف بن کر نازل ہو جاتے تھے اور وہ ان کو سیٹل کرتی تھیں تو وہ خاندانی مسائل کا شکار ہو جاتی تھیں۔وہ بیک وقت خوش قسمت اور بدقسمت واقع ہوئی تھیں‘ والد کو پھانسی ہو گئی‘ دو بھائی قتل ہو گئے‘ والدہ شدید علیل تھیں اور آصف علی زرداری کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہیں تھے‘ یہ ان کی بدقسمتی تھی‘ وہ ان تمام مسائل کے سامنے ڈٹی رہیں‘ وہ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتی رہیں‘ وہ مسائل کے باوجود اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں‘ یہ کوئی چھوٹا اعزاز نہیں تھا‘یہ ان کی خوش قسمتی تھی لیکن آخر میں کیا نتیجہ نکلا‘ بھاگ دوڑ اور اس لڑائی کا کیا رزلٹ نکلا؟ایک تابوت اور وہ بھی سی ون تھرٹی کے فرش پر پڑا تھا اور وہ تمام لوگ جن کی طرف محترمہ آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتی تھیں وہ سیٹوں پر بیٹھے تھے‘ یہ عبرت کا پہلا مقام تھا‘ دوسرا مقام عبرت پاکستان پیپلزپارٹی ثابت ہوئی‘ پاکستان پیپلز پارٹی 2008ء سے 2013ء تک حکومت میں رہی‘ یہ وفاق میں حکمران تھی اور سندھ‘ بلوچستان اور کے پی کے میں ان کی اتحادی حکومتیں تھیں‘ یہ لوگ پانچ سال ’’آل ان آل‘‘ رہے‘ یہ ’’آل ان آل‘‘ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی دین تھا‘ اگر محترمہ نہ ہوتیں یا وہ قربانی نہ دیتیں تو اگلی حکومت بھی ق لیگ بناتی اور چوہدری پرویز الٰہی وزیراعظم ہوتے۔یہ محترمہ کی شہادت تھی جس نے آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو تخت پر بٹھا دیا لیکن پارٹی نے محترمہ کو کیا دیا؟ پارٹی نے دو کمال کیے‘ پارٹی نے راولپنڈی میں ایوب خان کے بنائے سول اسپتال کا نام تبدیل کیا اور اسے بے نظیر بھٹو سے منسوب کر دیا‘ انگریزوں کے دور کے ائیر پورٹ کو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ائیر پورٹ بنا دیا اور اور بس۔ پارٹی اگر محترمہ کے نام پر ایک نیا اسپتال اور ایک نیا ائیرپورٹ بنا دیتی تو بھی کمال ہوتا لیکن یہ کمال تو دورپارٹی نے پرانے سائن بورڈ اتارے اور ان کی جگہ نئے سائن بورڈ لگا دیے اورفرض مکمل ہو گیا‘ کیا محترمہ بے نظیر بھٹو اس سلوک کو ڈیزرو کرتی تھیں؟ کیا دنیا کی کرشماتی لیڈر کے ساتھ یہ ہونا چاہیے تھا؟آپ تیسرا المیہ ملاحظہ کیجیے‘ پاکستان پیپلز پارٹی پانچ برسوں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے اصل قاتلوں کا تعین بھی نہیں کر سکی‘ محترمہ نے اپنی ای میل میں جن لوگوں پر شک کا اظہار کیا تھا‘ وہ جن لوگوں کو اپنے لیے خطرہ قرار دیتی رہیں ان کی جماعت نے ان کے ساتھ اتحاد بھی بنایا اور انھیں حکومت میں بھی شامل کیا‘ پارٹی جنرل پرویز مشرف سے حلف بھی اٹھاتی رہی اور گارڈ آف آنر بھی پیش کرتی رہی‘محترمہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟۔چلیے ہم مان لیتے ہیں پاکستان جیسے ملکوں میں سیاسی قتلوں کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا لیکن کیا پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام سے چند نئے اسپتال اور چند نئے اسکول بھی نہیں بنا سکتی تھی اور کیا یہ نئے یتیم خانوں کی بنیاد بھی نہیں رکھ سکتی تھی؟ ہم یہ بھی مان لیتے ہیں یہ بیس کروڑ لوگوں کا ملک ہے اور کسی ایک حکومت کے لیے اتنے بڑے ملک کو مسائل سے نکالنا آسان نہیں لیکن کیا حکومت کراچی کو بھی محترمہ بے نظیر بھٹو کا شہر نہیں بنا سکتی تھی؟گڑھی خدا بخش بھٹو کا گاؤں اور لاڑکانہ بھٹو خاندان کا ضلع ہے‘ آپ اس ضلع اور اس گاؤں کی حالت دیکھ لیجیے‘ لوگ بھٹو کے گاؤں میں بھی بے روزگار ہیں‘ لوگوں کو وہاں بھی تعلیم اور صحت کی سہولتیں دستیاب نہیں ‘ لوگ وہاں بھی گندہ پانی پی رہے ہیں اور وہاں کی سڑکیں بھی ٹوٹی پھوٹی ہیں‘ کیاآپ ایک ضلع اور ایک گاؤں بھی ٹھیک نہیں کر سکتے تھے؟ آپ آج بے نظیر بھٹو کی برسی کی تقریبات میں گڑھی خدا بخش کی حالت دیکھ لیجیے گا بھٹو کا خاندان اور بھٹو کے وارث اپنے گاؤں کی حالت کیوں نہیں بدل سکے‘ اس کا جواب کون دے گا؟کیا آپ گڑھی خدا بخش میں دوبئی جیسا ایک بھی ایسا محلہ آباد نہیں کر سکتے تھے جس میں محترمہ اور ان کا خاندان بیس برسوں سے مقیم ہے‘کیا آپ لاڑکانہ کے کسی ایک محلے کو بھی وہ ساری سہولتیں فراہم نہیں کر سکتے تھے جو محترمہ کو لندن میں دستیاب تھیں اور کیا آپ کراچی کی کسی ایک سڑک کو بھی نیویارک کی ویسی سڑک نہیں بنا سکتے تھے جس پر محترمہ اور ان کے بچوں کو گارڈز کی ضرورت نہیں پڑتی تھی؟آپ قوم کو کیا جواب دیں گے؟پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت آج بھی گڑھی خدا بخش میں فرانس کا منرل واٹر پی کر قوم کو مستقبل کے خواب دکھا ئے گی‘ کاش کوئی ان سے پوچھ لے آپ نے پہلے کیا تارے توڑ لیے تھے جو آپ2018ء کا انتظار کر رہے ہیں‘ آپ اگر سچے ہیں تو آپ 2018ء سے پہلے کوئی ایک گلی‘ کوئی ایک سڑک‘ کوئی ایک شہر اور کوئی ایک گاؤں ٹھیک کر دیں قوم ننگے پاؤں آپ کے پیچھے چل پڑے گی اور آپ اگر یہ نہیں کر پاتے تو پھر پارٹی کو الیکشن لڑنے کے لیے ایک اور شہادت کی ضرورت ہو گی‘ وہ شہادت مل گئی تو پارٹی الیکشن لڑ لے گی اور اگر نہ ملی تو سندھ بھی پارٹی کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں