جنرل صاحب وہ پاکستان نہ دیکھ سکے

  منگل‬‮ 18 اگست‬‮ 2015  |  0:01

جنرل حمید گل سے پہلی ملاقات 1994ءمیں ہوئی اور آخری 2015ءکے مئی میں۔ ملک کے ممتاز کالم نگار ہارون الرشید کا جنرل صاحب سے قریبی تعلق تھا‘ یہ جنرل صاحب کو کھینچ کر راولپنڈی پریس کلب لے آئے‘ یہ ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل صاحب کی پہلی عوامی تقریب تھی‘ پریس کلب میں بیس بائیس صحافی تھے‘ میں اس وقت جونیئر صحافی تھا‘ اخبار میں سب ایڈیٹر تھا‘ ہارون الرشید مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ افغانستان کا جہاد ختم ہو چکا تھا‘ مجاہدین روس سے فارغ ہو کر اب ایک دوسرے کی کھوپڑیوں کے مینار بنا رہے تھے اور طالبان کا انقلاب آہستہ آہستہ قندہار میں سر اٹھا رہا تھا‘ افغانستان کے جہاد نے ملک میں علماءکرام‘ مولوی حضرات‘ کالم نگاروں اور فوجیوں کا ایک لشکر پیدا کیا تھا‘ یہ لوگ افغان وار کو اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز سمجھتے تھے‘ ان کا خیال تھا مجاہدین پہلے روس کو شکست دیں گے‘ پھر کشمیر آزاد کرانے کےلئے غزوہ ہند شروع کریں گے‘ پھر مسلم امہ کو اکٹھا کریں گے اور پھر پوری دنیا میں اسلامی پرچم لہرا دیں گے‘ یہ لوگ اپنے خیالات میں جذباتی تھے اور یہ عموماً جذبات کی رو میں وہ بنیادی حقائق بھی فراموش کر بیٹھتے تھے جنہوں نے 1990ءمیں دنیا کی شکل بدل دی‘ مثلاً یہ بھول جاتے تھے سوویت یونین کی 80 فیصد آبادی عیسائی ہے اور امریکی اور یورپی عیسائی روس کے عیسائیوں سے نظریاتی جنگ نہیں لڑ رہے‘ یہ معیشت کی جنگ ہے اور جب بھی معیشت کی یہ جنگ نظریات میں تبدیل ہو گی‘ امریکی عیسائی اپنے روسی بھائی کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا اور روسی عیسائی امریکی عیسائی کے کندھے سے کندھا جوڑ لے گا اور دنیا نے آٹھ برس بعد یہ منظر دیکھا‘ افغانستان کے طالبان نے جب سابق جہاد کو مسلمان عیسائی جنگ میں تبدیل کیا تو روس نے امریکا اور نیٹو کو بھرپور سپورٹ دی‘ یہ لوگ یہ بھی بھول گئے کسی شخص کو رائفل پکڑانا آسان لیکن اس کے ہاتھ سے رائفل واپس لینا مشکل ہوتا ہے‘ پاکستان نے امریکا سے اسلحہ لے کر افغانوں کو دے تو دیا لیکن ان لوگوں سے یہ اسلحہ واپس کون لے گا؟ یہ کسی نے نہیں سوچا چنانچہ افغان وار کے بعد امریکی اسلحے نے افغانستان کو بھی تباہ کیا‘ پاکستان کو بھی زخمی کیا‘ سنٹرل ایشیا کو بھی برباد کیا اور عربوں کو بھی پریشان رکھا‘ یہ لوگ یہ بھی بھول گئے افغانستان کی جنگ جب

ختم ہو گی تو وہ دس لاکھ مجاہدین کہاں جائیں گے جنہیں بندوق چلانے اور جنگلوں اور صحراﺅں میں بھٹکنے کے سوا کچھ نہیں آتا‘ یہ لوگ یہ بھی فراموش کر بیٹھے تھے اس جنگ نے کبھی نہ کبھی ختم ہونا ہے اور یہ لوگ یہ بھی بھول گئے اگر یہ جنگ ختم ہو گئی یا افغان وار کے کپتان اور ”آرکی ٹیکٹ“ جنرل ضیاءالحق شہید ہو گئے تو پاکستان کی صورتحال کیا ہو گی اور پھر یہی ہوا‘ جنرل ضیاءالحق 19 جرنیلوں کے ساتھ17 اگست 1988ءکو شہید ہو گئے اور پسماندگان میں وہ صحافی اور دانشور بھی چھوڑ گئے جو آج بھی جلال آباد کے بارڈر پر کھڑے ہو کر انقلاب کا راستہ دیکھ رہے ہیں‘ جنرل ضیاءکے حادثے اور شہادت کے وقت جنرل حمید گل آئی ایس آئی کے ڈی جی تھے‘ جنرل ضیاءالحق کے حادثے کی انکوائری ان پر پڑ گئی‘ جنرل صاحب نے دن رات ایک کر دیئے اور یہ ان سرکاری‘ غیر سرکاری اور سیاسی مجرموں تک پہنچ گئے جو ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سانحے کے ذمہ دار تھے لیکن جنرل حمید گل کو بھی رپورٹ مرتب ہونے سے قبل آئی ایس آئی سے فارغ کر دیا گیا اور وہ تمام میجر‘ کرنل اور بریگیڈیئرز بھی ٹرانسفر کر دیئے گئے جو اس رپورٹ پر کام کر رہے تھے‘ کیوں؟ جنرل حمید گل نے پوری زندگی اس کیوں کا جواب نہیں دیا‘ وہ جنرل ضیاءالحق کے قاتلوں کے پاکستانی ہینڈلرز کا نام بھی دل میں لے کر اس مٹی میں دفن ہو گئے جس میں جنرل ضیاءالحق اور ان کے ساتھی اتر گئے تھے‘ تاہم وہ یہ ضرور بتایا کرتے تھے ”جنرل اسلم بیگ نے جنرل ضیاءالحق کی شہادت کے بعد مجھے پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا حکم دیا اور میں نے اس حکم کی بجاآوری میں نو سیاسی جماعتوں کو اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے جھنڈے تلے اکٹھا کر دیا‘ ہم غلام مصطفی جتوئی کو وزیراعظم بنانا چاہتے تھے‘ ہمیں بے نظیر بھٹو کسی قیمت پر قابل قبول نہیں تھیں لیکن بے نظیر بھٹو کامیاب ہو گئیں‘ ہمارے گھوڑے ناکام ہو گئے لیکن ہم نے ہار نہ مانی‘ ہم نے میاں نواز شریف کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ بنا دیا اور اس نے محترمہ کو آرام سے حکومت نہ کرنے دی“۔ یہ بہت بعد کی باتیں ہیں‘ ہم ابھی 1994ءمیں ہیں۔ جنرل حمید گل 1994ءمیں راولپنڈی پریس کلب آئے‘ وہ صحافیوں کو تحریک طالبان کے بارے میں اپنی رائے دینا چاہتے تھے‘ ان کا خیال تھا تحریک طالبان کو پاکستان اور امریکا دونوں کی سپورٹ حاصل ہے اور یہ لوگ بہت جلد پورے افغانستان پر قابض ہو جائیں گے‘ ان کا خیال تھا یہ گیس پائپ لائین‘ افغانستان کی معدنیات اور ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا امریکی منصوبہ ہے اور یہ منصوبہ ایک بار پھر خطے کو جنگ میں دھکیل دے گا‘ مجھے ان کے خیالات سن کر محسوس ہوا وہ طالبان کے حامی نہیں ہیں‘ شاید اس کی وجہ امریکا اور جنرل نصیر اللہ بابر تھے‘ جنرل حمید گل امریکا کی طرف سے اچانک جنگ بندی‘ افغانوں اور پاکستان کو بے مراد چھوڑنے اور افغان جنگ میں شریک پاکستانی اور افغان کمانڈروں کےلئے دروازے بند کرنے پر امریکا سے ناخوش تھے‘ وہ جنرل نصیر اللہ بابر کے کردار پر بھی ناراض تھے‘ میں اس وقت کیونکہ ایک عام‘ جونیئر اور گم نام صحافی تھا چنانچہ اس دن میرا ان سے تعارف نہ ہو سکا‘ جنرل صاحب سے پہلی باقاعدہ ملاقات 1997ءمیں ہوئی‘ مجھے صدیق راعی صاحب انکل نسیم انور بیگ کے گھر لے گئے‘ انکل ایک شاندار صوفی منش انسان تھے‘ انکل نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی میز پر بٹھا لیا‘ انکل نسیم انور بیگ نے زندگی کا بڑا حصہ پیرس میں گزارا تھا‘ وہ یونیسکو میں ملازم تھے‘ وہ بے اولاد تھے‘ آنٹی اختر کا انتقال ہو چکا تھا‘ وہ شام کو گھر پر محفل لگاتے تھے‘ اسلام آباد کی کریم انکل کے گھر آتی تھی اور وہاں رات گئے تک گفتگو چلتی تھی‘ انکل نے مجھے روز کا مہمان بنا لیا‘ میں نے 1997ءمیں انکل نسیم بیگ پر کالم لکھا‘ مجھے اس کالم پر پہلی بار جنرل حمید گل کا فون آیا‘ وہ انکل سے ملنا چاہتے تھے‘ میں انہیں بیگ صاحب کے گھر لے گیا اور یوں ان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا‘ یہ سلسلہ مئی 2015ءتک جاری رہا‘ جنرل حمید گل میں بے شمار خوبیاں تھیں‘ خامیاں صرف دو تھیں‘ ان کی پہلی خامی میڈیا میں زندہ رہنے کی کوشش تھی‘ وہ میڈیا میں ”ان“ رہنا چاہتے تھے‘ میڈیا کی اپنی مجبوریاں ہیں‘ یہ صرف منفی چیزیں بیچتا ہے چنانچہ جنرل صاحب اکثر اوقات میڈیا کی مجبوریوں کے ہاتھوں شکست کھا جاتے تھے‘ ان کی دوسری خامی ان کا مخصوص نقطہ نظر تھا‘ وہ دنیا کے ہر ایشو کو ہندو‘ مسلمان‘ عیسائی اور یہودی کے پس منظر میں دیکھتے تھے جبکہ دنیا 2000ءاور 2010ءمیں مکمل تبدیل ہو چکی تھی‘ دنیا اب اپنے دائیں بائیں موجود اقوام کو ہنر‘ صلاحیت‘ معیشت‘ قانون اور انسانی حقوق کی نظر سے دیکھتی ہے‘ روس 1990ءتک امریکا کا سب سے بڑا دشمن تھا لیکن 2000ءمیں یہ امریکا کا سب سے بڑا دوست تھا‘ امریکا 1995ءتک چین کو خطرناک ترین ملک سمجھتا تھا لیکن چین 2010ءمیں امریکا کا سب سے بڑا معاشی اتحادی تھا‘ سعودی عرب اور عراق دونوں کی رگوں میں عرب خون ہے لیکن سعودی عرب نے امریکا کی مدد سے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی‘ سعودی عرب کی تہذیب کی جڑیں یمن میں گڑی ہیں لیکن سعودی عرب نے 2015ءمیں یمن کے خلاف پوری دنیا سے فوجی مدد مانگ لی‘ یہ کیا ہے؟ یہ بدلتی ہوئی دنیا کے نئے رنگ ہیں لیکن جنرل صاحب یہ رنگ تسلیم کرنے کےلئے تیار نہیںتھے‘ ان دو فکری خامیوں کے علاوہ جنرل صاحب میں خوبیاں ہی خوبیاں تھیں‘ وہ ایک مکمل پنجابی بزرگ تھے‘ اللہ تعالیٰ نے جب انہیں استطاعت دی تو انہوں نے اپنے گاﺅں کے تمام غریب لوگوں کو پکے گھر بنوا کر دیئے‘ سادہ طبیعت کے انسان تھے‘ بے باک بھی تھے‘ جھوٹ نہیں بولتے تھے‘ وقت کے پابند تھے‘ شہد بہت استعمال کرتے تھے‘ وہ بتایا کرتے تھے‘ میں ہر سال ایک من شہد خریدتا ہوں‘ اپنے خاندان کو بھی کھلاتا ہوں اور دوستوں اور رشتے داروں کو بھی بھجواتا ہوں‘ ساگ بہت پسند تھا‘ واک اور ایکسرسائز بھی کرتے تھے‘ پچھلے چار پانچ سال سے بیڈروم کے اندر ہی ایکسرسائز کر لیا کرتے تھے‘ بیگم سے بے انتہا محبت تھی‘ پوری زندگی جہاں گئے بیگم کو ساتھ لے کر گئے‘ کتابیں پڑھتے تھے‘ مارکیٹ میں آنے والی تمام نئی کتابیں خریدتے‘ پڑھتے اور ان کے حوالے دیتے‘ پاکستان سے عشق تھا‘ کشمیر کو ہر حال میں آزاد دیکھنا چاہتے تھے‘ حافظ سعید کا بہت احترام کرتے تھے‘ روزانہ 10 اخبار پڑھتے تھے‘ ٹیلی ویژن بھی دیکھتے تھے‘ کھیتی باڑی سے دلچسپی تھی‘ سیالکوٹ میں چالیس سال قبل زمین خریدی‘ بیٹا آج کل اس میں کاشت کاری کرتا ہے‘ یہ کاشت کاری واحد انکم تھی‘ چھوٹے بیٹے کو سیاست میں دلچسپی ہے‘ جنرل صاحب کو بیٹے کا یہ شوق پسند نہیں تھا‘ میاں برادران سے میاں شریف کے دور سے بہت اچھے تعلقات تھے‘ میاں نواز شریف سے خوش نہیں تھے‘ میاں شہباز شریف کو بہت پسند کرتے تھے‘ جنرل پرویز مشرف کو شروع میں پسند کرتے تھے لیکن پھر ان سے اتنے نالاں ہو گئے کہ یونیفارم پہن کر ججز تحریک میں شریک ہو گئے‘ آخری سانس تک متحرک رہے‘ ریٹائرڈ فوجیوں کی ایکس سروس مین سوسائٹی بنائی‘ یہ سوسائٹی اکثر اوقات اجلاس کرتی تھی‘ جنرل صاحب ان اجلاسوں میں ملکی معاملات پر بے دھڑک رائے دیتے تھے‘ حکومت نے جن انکشافات کی بنیاد پر مشاہد اللہ کی گوشمالی کی اور ان سے ان کی وزارت واپس لے لی‘ یہ تمام انکشافات جنرل حمید گل نے آج سے چار ماہ قبل میرے سامنے کئے‘ یہ ایشو ایکس سروس مین سوسائٹی میں بھی اٹھایا گیا‘ جنرل صاحب چاہتے تھے ”یہ انکشافات تحقیق طلب ہیں اور ان کےلئے باقاعدہ کمیشن بننا چاہیے“ جنرل صاحب نے جب یہ ساری داستان سنائی تو میں نے ان سے کہا ” سر یہ اس آئی جے آئی کی ایکسٹینشن نہیں جس کی بنیاد آپ نے رکھی تھی“ وہ میرے ریمارکس پر خلاف معمول ہنس پڑے‘ وہ مجھے کئی بار مری بھی لے کر گئے‘ مری میں ان کی چالیس پچاس کنال زمین ہے‘ اس پر انہوں نے چھوٹا سا گھر بنا رکھا ہے‘ جنرل صاحب کو پھولوں اور پودوں کا شوق تھا چنانچہ انہوں نے وہاں سینکڑوں قسم کے پودے لگا رکھے ہیں۔ جنرل حمید گل ایک مکمل شخصیت تھے‘ ایکٹو‘ مہربان‘ دانشور اور مثبت۔ وہ غصے میں بھی آتے تھے لیکن بہت جلد ٹھنڈے ہو جاتے تھے‘ غصہ دل میں نہیں رکھتے تھے‘ جنرل راحیل شریف کو سچا سپاہی سمجھتے تھے اور کہا کرتے تھے ” یہ پاکستان کو مذہبی اور سیاسی دونوں قسم کے دہشت گردوں سے آزاد کرا دے گا‘ کاش میں وہ پاکستان دیکھ سکوں“۔ افسوس! جنرل صاحب وہ پاکستان نہ دیکھ سکے‘ وہ ہفتے کی رات دس بجے ہم سے جدا ہو گئے‘ ہم سب کو یتیم کر گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔