بھارت، لیچی کھانے سے بیمار ہو کر ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 118 ہوگئی

  جمعرات‬‮ 20 جون‬‮ 2019  |  12:00

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کی ریاست بہار میں دماغی بخار کے نتیجے میں یکم جون سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 118 تک پہنچ گئی جس کی ایک وجہ لیچی کو قرار دیا جارہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بہار کے ضلع مظفر پور کا مرکزی ہسپتال رواں ماہ کے آغاز سے اب تک دماغی بخار کی وبا پھوٹنے کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ڈاکٹر بچوں کی ہلاکت کی خبر کی وجوہات کی تصدیق نہیں کر رہے۔تاہم ایک نظریہ ہے کہ لیچی میں پایا جانے والا زہریلا مواد غریب خاندانوں کے ان بچوں کو متاثر


کر رہا ہے جو رات میں کھانا کھائے بغیر سوتے ہیں۔سری کرشنا میڈیکل کالج اور ہسپتال (ایس کے ایم سی ایچ) میں اس وقت 100 سے زائد بچے زیر علاج ہیں اور بستروں کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں اسی ہسپتال کے کاریڈور میں کھڑے پریشان حال والدین میں 25 سالہ دلیپ ساہنی بھی شامل تھے جو ایک مزدور ہیں، وہ اپنی ساڑھے 4 سالہ بیٹی مسکان کو بیمار پڑنے کے صرف 24 گھنٹے بعد ہسپتال لائے تھے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز جب بچی کی والدہ نے صبح 11 بجے اسے جگانے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ اور پاؤں سخت تھے اور جبڑے جڑے ہوئے تھے۔دلیپ ساہنی نے کہا کہ ہم اسے کیجریوال ہسپتال لے کر گئے جہاں رات کو ڈاکٹروں نے ہمیں بچی کو سری کرشنا میڈیکل کالج اور ہسپتال لے جانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ ’ہم علی الصبح بچی کو یہاں لے کر آئے لیکن اس کی حالت بگڑتی چلی جارہی ہے۔بچی کے والد سے بات چیت کے کچھ دیر بعد ہی معلوم ہوا کہ مسکان بھی اس بیماری کا شکار ہو کر چل بسی۔بھارت کی مشرقی ریاست کے والدین ایکیوٹ انسیفلائٹس سینڈروم نامی بخار کی وبا پھیلنے سے پریشان ہیں، جو صحت کے شعبے میں بحران کی صورتحال اختیار کرگیا ۔ایکیوٹ انسیفلائٹس سینڈروم دماغی سوزش ہے، اس مرض کی علامات دماغ کے متاثرہ حصے کی بنیاد پر تبدیل ہوسکتی ہیں، عام طور پر سر درد، بخار، ذہنی الجھن اور جھٹکے لگنا شامل ہیں۔اس بیماری کو بہار میں مقامی زبان میں چمکی بخار کہا جاتا ہے۔حکام کے مطابق رواں ماہ کے آغاز سے لے کر اب تک 118 بچے اس مرض کا شکار ہو کر ہلاک ہوچکے ہیں۔دلیپ ساہنی نے کہا کہ تین بچوں کو پالنا بہت مشکل کام ہے لیکن اپنی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں، وہ ایک صحتمند بچی تھی۔انہوں نے کہا کہ مسکان نے اس رات لیچی نہیں کھائی تھی تھی، اس نے 10 دن پہلے یہ پھل کھایا تھا۔بہار کی آبادی 10 کروڑ کے قریب ہے جو آج کل ہیٹ ویو کا شکار بھی ہے اور اب تک درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ ہونے کی وجہ سے 197 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق ہر ایک لاکھ افراد کے لیے تقریبا 2 ہیلتھ ورکرز موجود ہیں جبکہ بھارت کے دیگر علاقوں میں اتنے افراد کے لیے9 ہیلتھ ورکرز ہیں۔سری کرشنا میڈیکل کالج اور ہسپتال میں بچوں کے ڈاکٹر سری کانت پرساد نے کہا کہ ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے ہم بچوں کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی اس حوالے سے بات نہیں کرتا کہ بیمار بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کتنی راتوں سے نہیں سوئے، کوئی ان بچوں کی بات نہیں کر رہا جن کا علاج ہوچکا ہے۔ڈاکٹر سری کانت پرساد نے شکوہ کیا کہ ہسپتالوںاور ڈاکٹروں کو مورد الزام ٹھہرانا آسان ہے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بہار میں ایکیوٹ انسیفلائٹس سینڈروم پہلی دفعہ نہیں پھیلا لیکن 2014 سے ہلاکتوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جب 355 بچے ہلاک ہوئے تھے، گزشتہ برس اس بیماری سے 33 افراد ہلاک ہوئے۔ڈاکٹر کے مطابق ایسا اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ بچے انتہائیغریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور والدین اس بات کا خیال نہیں کر پاتے کہ بچوں نے کھانا کھایا ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ بچے دھوپ میں گھومتے ہیں اور گلی سڑی یا کچی لیچی کھاتے ہیں اور خالی پیٹ سوجاتے ہیں، ایسا کرنے سے خون میں شوگر لیول میں اچانک کمی آتی ہے جس وجہ سے جھٹکے لگتے ہیں، بے ہوشی میں اعضا ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔

موضوعات:

loading...