کولمبو : بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد 290 ہو گئی، 500 زخمی

  پیر‬‮ 22 اپریل‬‮ 2019  |  10:15

کولمبو (این این آئی) سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ایئرپورٹ کے قریب ملنے والا دیسی ساختہ پائپ بم ناکارہ بنا دیا گیا، گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد 290 ہو گئی اور 500 زخمی ہیں۔ بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے شبے میں 24 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، ملک میں خطرے کی سطح کا جائزہ لینے کے لئے سیکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا۔افواہوں پرقابو پانے کے لیے سوشل میڈیا پر عارضی پابندی لگا دی گئی۔سری لنکا کے گرجاگھروں اور ہوٹلوں میں بدترین دہشت گردی، ہلاک افراد کی


تعداد 290 ہو گئی، پانچ سو سے زائد زخمی ہیں۔ رات گئے کولمبو ائیرپورٹ کے قریب دیسی ساختہ پائپ بم برآمد ہوا جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔ سری لنکن فورسز نے گزشتہ روز بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے شبہے میں 24 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ دھماکوں کے بعد ملک بھر میں جو کرفیو نافذ کیا گیا تھا اسے پیر کی صبح چھ بجے ختم کر دیا گیا۔ملک میں خطرے کی سطح کا جائزہ لینے کے لئے سیکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب۔ افواہوں کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔ بم دھماکوں میں مرنے والے غیرملکیوں میں بھارت، برطانیہ، چین ، جاپان، ڈنمارک اور ترکی کے شہری بھی شامل ہیں۔ سری لنکا کے وزیرِاعظم رانیل وکرما سنگھے کا کہنا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں کو ممکنہ حملوں کے بارے میں اطلاع تھی۔سب سے پہلے دھماکوں کی اطلاع اتوار کی صبح نو بجے کے قریب ملی جب کولمبو اور اس کے علاوہ دیگر دو شہروں، نیگمبو اور بٹّی کالؤا میں تین گرجا گھروں میں دھماکے ہوئے۔اس کے علاوہ دارالحکومت کولمبو میں تین ہوٹلوں دی شینگریلا، سینامن گرانڈ اور کنگز بری کو نشانہ بنایا گیا۔پولیس نے جب ان دھماکوں کے ذمہ داران کی تلاش شروع کی تو مزید دو دھماکوں کی اطلاع ملی۔ان میں سے ایک جنوبی کولمبو میں چڑیا گھر کے نزدیک ہوا جبکہ دوسرا دیماتاگوڈا نامی علاقے میں پولیس کے ایک چھاپے کے دوران ہوا جس میں تین پولیس اہلکار بھی مارے گئے۔ ان دھماکوں کے بعد پولیس نے اب تک 24 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں دھماکوں میں سے کچھ خودکش حملے بھی تھے۔اتوار کی شب ایک پریس کانفرنس میںسری لنکا کے وزیراعظم رانیل وکرماسنگھے کا کہنا تھا کہ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہییں کہ ممکنہ حملوں کے بارے میں انٹیلیجنس رپورٹس پر کیوں کارروائی نہیں کی گئی۔انھوں نے کہا نہ ہی انھیں اور نہ ہی ان کے کسی وزیر کو ممکنہ حملوں کے بارے میں اطلاعات سے آگاہ کیا گیا تھا۔تاہم انھوں نے کہا کہ اس وقت ترجیح حملہ آوروں کی گرفتاری ہے۔حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ پرسکون رہیں۔اور ان دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں۔سری لنکا کے وزیرِ دفاع روان وجیوردھنے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کسی ایک گروہ کا ہاتھ لگتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم ہر اس انتہاپسند گروپ کے خلاف تمام ضروری کارروائی کریں گے جو ہمارے ملک میں کام کر رہا ہے۔ ہم ان کے پیچھے جائیں گے چاہے وہ جس بھیمذہبی انتہا پسندی کے پیروکار ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ جو بھی مجرم اس بدقسمت دہشت گرد کارروائی میں ملوث ہیں ہم انھیں جتنا جلد ممکن ہو گرفتار کر لیں گے۔پیرس میں ایفل ٹاور کے سامنے درجنوں افراد جمع ہوئے اور شمعیں جلا کر مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا، اس موقع پر ایفل ٹاور کی روشنیاں بجھا دی گئیں۔

موضوعات:

loading...