بنگلہ دیش : طالبہ کو زندہ جلائے جانے کے دلخراش واقعے کے خلاف احتجاج جاری

  ہفتہ‬‮ 20 اپریل‬‮ 2019  |  12:16

ڈھاکا(این این آئی )بنگلہ دیش کے ایک مدرسے میں نصرت جہاں رفیع نامی لڑکی کو تیل چھڑک کے آگ لگائے جانے کے وحشیانہ اقدام کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج گزشتہ روز بھی جاری رہا، مظاہرین نے فوری طور پر نصرت جہاں کے قاتلوں کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا،میڈیارپورٹس کے مطابق جنسی ہراسیت کے خلاف بات کرنے کی اس کی جرات کے پانچ دن بعد ہی اس کو زندہ جلا دینے اوراس دوران جو کچھ ہوا اس نے بنگلہ دیش کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ اور دنیا کی توجہ جنوبی ایشیا کے اس قدامت پسند


ملک میں جنسی طور پر ہراساں کی جانے والی خواتین کے سنگین حالات پر مرکوز کروائی ہے۔نصرت نے مقامی پولیس سٹیشن میں اپنا بیان دیا کہ اس کو پولیس سٹیشن میں محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے انتہائی برے تجربات کو یاد کر سکے۔ مگر اس کے برعکس اس کے بیان کی ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر نے اپنے موبائل پر ویڈیو بنائی۔پولیس نے نصرت جہاں کو تیل چھڑک کر زندہ جلانے کے الزام میں 17 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ آگ لگنے سے نصرت کا 80 فی صد جسم جل چکا تھا مگر اس نے جاتے جاتے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا جس نے مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی مزید آسان بنا دی ہے۔خیال رہے کہ دو ہفتے قبل 19 سالہ نصرت جہاں نے اپنے مدرسے کے ہیڈ ماسٹر کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی درخواست دی تھی، جس کے بعد اسے بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ وزیراعظم حسینہ واجد نے نصرت جہاں کے قاتلوں کو کٹہرے میں لانے کا عہد کیا ہے مگر اس کے باوجود ملک بھر میں اس وحشیانہ فعل کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ۔

موضوعات:

loading...