مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے کے بعد سفید فام آسٹریلوی دہشتگرد کا اگلا ٹارگٹ کیا تھا؟گرفتار برینٹن نے دوران تفتیش سب کچھ اگل گیا

  اتوار‬‮ 24 مارچ‬‮ 2019  |  16:24

کرائسٹ چرچ (این این آئی)نیوزی لینڈ میں 15 مارچ کو کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں نمازیوں کوشہید کرنے والا دہشت گرد مسجد سے متصل بچوں کے ایک نرسنگ مرکز کو بھی نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے کے باعث وہ اپنے تیسرے ٹارگٹ میں ناکام رہا۔عرب ٹی وی کے مطابق دوران تفتیش دہشت گرد سے ملنے والی معلومات میں بتایا گیا کہ النور مسجد سے متصل النور چلڈرن نرسنگ کیئرسینٹر تھا جس میں کئی بچے موجود تھے۔یہ نرسنگ اسکول اردن سے تعلق رکھنے والے اردنی شہری علیان مشید کی اہلیہ چلا رہی تھیں۔ دہشتگردی کے واقعے


کے بعد وہ اسکول بند ہے۔دریں اثنا نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد النور پندرہ مارچ کے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے دینی سرگرمیوں کے لیے بند تھی۔ یہ مسجد عبادت کے لیے دوبارہ کھول دی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق النور مسجد کے دوبارہ کھولے جانے کے موقع پر تین ہزار مقامی شہریوں نے کرائسٹ چرچ کی گلیوں میں مارچ کیا۔ اسے مارچ آف لَو کا نام دیا گیا۔ اس مارچ کا مقصد جہاں پندرہ مارچ کے دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے پچاس مسلمان نمازیوں کو یاد کرنا تھا وہیں اس کا مقصد اس مسجد کے دوبارہ کھولے جانے پر اظہار احترام بھی تھا۔کرائسٹ چرچ کی النور مسجد کے دوبارہ کھولے جانے پر مقامی شہریوں کے جذبات و احساسات کی ملکی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے تعریف کی ہے۔اس مارچ میں لوگوں نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، اْن پرمسلمانوں کو خوش آمدید، نسل پرستوں کو نہیں،اْس (حملہ آور) نے تقسیم کرنے کی کوشش کی لیکن سب متحد و مضبوط ہو گئے جیسے جملے درج تھے۔ اس مارچ کے شرکاء زیادہ وقت خاموشی سے چلتے رہے اور بعض لوگ مقامی ماؤری باشندوں کا امن کا ایک گیت دھیمی آواز میں گنگناتے رہے۔ یہ مارچ مجموعی طور پر اپنے ساتھ سوگوار فضا لیے ہوئے تھا۔

موضوعات:

loading...