اقتدار مضبوط کرنے کے لیے ترک صدرایردوآن نے تْرک فضائیہ کمزور کر دی،صورتحال تشویشناک،پاکستان سے مدد طلب کرلی گئی

  منگل‬‮ 19 فروری‬‮ 2019  |  22:02

دبئی (این این آئی)جولائی 2016ء کو ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے بعد صدر طیب ایردوآن نے اقتدار پراپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے اپنی مسلح افواج بالخصوص فضائیہ کو کمزور کردیا۔امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد حکومت نے ایف 16 جنگی طیاروں کے 300 ماہر ہوا باز ملازمت سے فارغ کردیے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ہوازوں کی ملازمت سے برطرفی نےترک فضائیہ میں قحط الرجال پیدا کردیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سولہ جولائی 2016ء کے بعد حکومت نے مخالفین


کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن شروع کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں ترک شہریوں، فوجیوں، صحافیوں حتیٰ کہ فضائیہ کے پائلٹوں اور دیگر عہدیداروں کو پابند سلاسل کردیا گیا۔اس دوران ترک صدر نے کم سے کم 300 ایسے ہوابازوں کو ملازمت سے نکالا جو ایف 16 طیاروں کے ماہر اور تربیت یافتہ ہواباز تھے۔جریدہ نیشنل انٹرسٹ کے مطابق صدرطیب ایردوآن نے فوج میں اپنے مخالفین کو چن چن کر ملازمت سے فارغ کیا اور ہر اس شخص کو ملازمت سے نکال دیا گیا جو کسی بھی طرح حکومت کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔اس تطہیری عمل میں طیب ایردوآن اپنی فضائیہ کو تین سو ماہر ہوابازوں سے محروم کر بیٹھے حالانکہ ایک پائلٹ کی تربیت مکمل کرنے پر کم سے کم نصف ملین ڈالر خرچ آتا ہے۔فضائیہ میں تربیت یافتہ افراد کی کمی دور کرنے اور نئے ہوابازوں کی تربیت کے لیے ترک صدر نے امریکا سے مدد مانگی مگر دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث امریکا نے عملہ ترکی بھیجنے سے انکار کردیا جس کے بعد ترکی نے پاکستان سے بھی مدد مانگی ہے۔ پاکستانی فوج بھی ایف 16 طیارے استعمال کرتی ہے۔

loading...