ترک وطن کا مجوزہ عالمی معاہدہ بیلجیم کی حکومت کو لے ڈوبا

  پیر‬‮ 10 دسمبر‬‮ 2018  |  12:10

برسلز(این این آئی)ترک وطن سے متعلق اقوام متحدہ کا مجوزہ لیکن متنازعہ عالمی معاہدہ اپنے منظور کیے جانے سے پہلے ہی یورپی ملک بیلجیم کی حکومت کو لے ڈوبا ۔ اس آئندہ معاہدے کے باعث برسلز میں مخلوط اکثریتی حکومت اقلیتی حکومت بن کر رہ گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملکی وزیر اعظم چارلس مشیل اقوام متحدہ کے ترک وطن سے متعلق اپنی نوعیت کے اس پہلے عالمی معاہدے کے حامی ہیں، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر تارکین وطن اور مہاجرین کے حقوق کا تحفظ ہے۔لیکن چارلس مشیل کی مخلوط حکومت میں شامل فلیمش قوم پسندوں کا

نیا فلیمش اتحاد( این وی اے) اس مجوزہ عالمی معاہدے کا مخالف ہے۔ اسی لیے اس پارٹی نے ملکی وزیر اعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مراکش نہ جائیں، جہاں آئندہ ہفتے کے اوائل میں عالمی ادارے کے اس نئے معاہدے کی منظوری دی جانا ہے۔لیکن وزیر اعظم مشیل اپنے حکومتی اتحادیوں کا یہ مطالبہ ماننے پر تیار نہیں تھے، جس کے بعد اس پارٹی نے حکمران اتحاد کے لیے اپنی تائید واپس لینے اور حکومت سے اپنے اخراج کا اعلان کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چارلس مشیل کی اکثریتی حکومت یکدم ایک اقلیتی حکومت میں بدل گئی، جسے اب برسلز کی ملکی پارلیمان میں کوئی اکثریت حاصل نہیں رہی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں