فلسطین میں صہیونی ریاست کا وجود ناسور اور باطل ہے: حماس

  ہفتہ‬‮ 3 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  11:55

غزہ(این این آئی) حماس نے کہاہے کہ ارض فلسطین میں صہیونی ریاست کا وجود ناسور اور باطل ہے جسے اکھاڑ پھینکنے تک فلسطینی قوم کی تحریک جاری رہے گی ،عالمی برادری اور عالم اسلام فلسطینیوں کی تحریک آزادی کی حمایت کرے۔حماس کی طرف سے بدنام زمانہ’اعلان بالفور‘ کے 101 سال پورے ہونے کی مناسبت جاری ایک بیان میں صہیونی ریاست کے وجود کو باطل قرار دیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کوایک قانونی ریاست کے طورپر تسلیم کرنا ناممکن ہے۔حماس اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے تمام طریقے اختیار کرنے کی پالیسی پر قائم ہے۔ ہمارا پر زور


مطالبہ ہے کہ عالمی برادری فلسطینی عوام کے حق واپسی اور غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے جاری تحریک کی حمایت کی جائے تاکہ صہیونی ریاست کے خلاف فلسطینیوں کی تحریک کوموثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سرزمین فلسطین میںیہودیوں کیلئے قومی وطن کے قیام کے حوالے سے بدنام زمانہ ’اعلان بالفور‘ باطل فیصلہ تھا۔ فلسطینی قوم نے آج تک اسے قبول نہیں کیا اور کبھی قبول نہیں کریگی۔ اعلان بالفورکو ہوئے ایک سو ایک سال کے بعد آج بھی فلسطینی قوم کے خلاف عالمی استعمار کی سازشیں جاری ہیں۔ قضیہ فلسطین کا تشخص مٹانے کیلئے امریکی اور صہیونی گٹھ جوڑ آج بھی سرگرم ہے۔ صہیونی امریکی گٹھ جوڑ فلسطینی قوم کے تاریخی اور مسلمہ حقوق کی نفی کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔حماس نے کہاہے کہ ہم باربار یہ واضح کرچکے ہیں کہ فلسطین پر صہیونی ریاست کاوجود باطل اور غیرآئینی ہے۔ فلسطینی قوم کو قابض اور غاصب طاقت کے خلاف مزاحمت کے تمام وسائل کے استعمال کا حق حاصل ہے۔

موضوعات:

loading...