پاکستان میں انسانی حقوق کے محافظوں کو ڈیجیٹل خطرات لاحق کس طرح نشانہ بنایا جانے لگا؟ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ جاری

  بدھ‬‮ 16 مئی‬‮‬‮ 2018  |  16:56

اسلا م آ با د(آن لائن) حقو ق انسا نی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے محافظوں کو بھی خطرات لاحق ہونے لگے اور باقاعدہ ڈیجیٹل حملوں کی مہم کے ذریعے انہیں نشانہ بنایا جانے لگا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی چار ماہ کی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے محافظوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے اور اسپائی ویئر کے ذریعے ان کے موبائل اور کمپیوٹر کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔اس حوالے سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ ‘ انسانی حقوق کی نگرانی، پاکستان میں

انسانی حقوق کے محافظوں کو ڈیجیٹل خطرات’ میں بتایا گیا کہ کس طرح حملہ کرنے والوں نے پاکستانی انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کو پھنسانے کے لیے جعلی آن لائن شناخت اور سوشل میڈیا پروفائل بنائیں، اس کے علاوہ کس طرح ان کی نگرانی کی اور انہیں سائبر کرائم کا نشانہ بنایا۔اس حوالے سے ایمنسٹی انٹرنشیل میں عالمی معاملات کی ڈائریکٹر شریف السید علی کا کہنا تھا کہ ‘ ہم نے حملہ آوروں کے ایک وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لیے نفیس اور سنجیدہ طریقہ کار کا استعمال کرتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ یہ حملہ آور کارکنوں کو دھوکا دینے کے لیے بڑی چالاکی سے جعلی پروفائل بناتے تھے اور پھر کارکنوں کی الیکٹرونک ڈیوائسز پر اسپائی ویئر سے حملہ کرتے تھے، اس کے علاوہ ان کی نگرانی کرتے، دھوکا دیتے اور یہاں تک کہ انہیں جسمانی تحفظ پر بھی سمجھوتہ کرنا پڑتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ حملہ آور متاثرہ افراد کا پاسورڈ معلوم کرنے کے لیے فیس بک اور گوگل کے لوگ ان صفحات کا استعمال کرتے تھے اور پاکستان میں پہلے ہی انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کے لیے بہت مشکلات تھی جبکہ یہ عملخطرے کی گھنٹی ہے کہ ان کے کاموں پر کس طرح آن لائن حملہ کیا جارہا۔اس رپورٹ میں سول سوسائٹی کی ایک مشہور کارکن دیم سعیدہ کی کیس پر روشنی ڈالی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ان کے ایک دوست اور سماجی کارکن رضا محمد خان کو 2 دسمبر 2017 کو جبری طور گمشدگی کا شکار ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد دیپ سعیدہ کی جانب سے رضا خان کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا اور لاہور ہائیکورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی،جس کے بعد انہیں مشکوک پیغامات موصول ہوئے، جس میں رضا خان کے محفوظ ہونے سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشل کی تحقیقات میں بتایا گیا کہ افغان خاتون ثناء4 حلیمی کے نام سے ایک فیس بک صارف نے دیم سعیدہ سے میسنجر کے ذریعے مسلسل رابطہ کیا اور تعارف میں بتایا کہ وہ دبئی میں رہتی ہے اور اقوام متحدہ میں کام کرتی ہے۔افغان خاتون کا دعویٰ کرنے والی اس صارف نے دیم سعیدہ کو بتایا کہ اس کے پاسرضا خان کے حوالے سے کچھ معلومات ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے اپنی پروفائل سے ایک لنک بھیجا، جس میں ایک وائرس ‘ اسٹیلتھ ایجنٹ’ موجود تھا اور اگر وہ اس لنک کو کھولا جاتا تو ان کا موبائل متاثر ہوسکتا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے اداروں کا ماننا تھا کہ یہ پروفائل جعلی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ اس کے ذریعے دیم سعیدہ کا ای میل ایڈریس بھی جاننے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد انہیں ای میل پراسپائی ویئر موصول ہونے لگے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کو اپنی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ پاکستان میں موجود انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو اسی طرح کے طریقوں سے نشانہ بنایا گیا اور کئی مرتبہ ایسے لوگوں نے خود انسانی حقوق کے کارکن ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔اس حوالے سے دیم سعیدہ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا کہ ‘ جب بھی میں اپنی ای میل کھولتی ہوں میں ڈر جاتی ہوں، اور میں بہت برا محسوس کر رہی ہوں کیونکہ میں اپنا کام جاری رکھنے کے قابل نہیں ہوں’۔رپورٹ مین بتایا گیا کہ گزشتہ کچھ ماہ میں اس بات کو دیکھا گیا کہ صحافیوں، بلاگرز، پر امن مظاہرین اور سول سوسائٹی کے اہم لوگوں اور سرگرم کارکنوں کو دھمکیوں، پر تشدد کارروائیوں اور جمری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں